Baaghi TV

Tag: چین

  • چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    چین کا افغانستان کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کے منصوبوں کا باضابطہ اعلان

    بیجنگ:چینی سفیر نے افغانستان کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کردیا جو طالبان کی حکومت میں کاروبار کرنے کے لیے عالمی سطح پر کسی ملک کی جانب سے توثیق ہے ۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل میں طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی سفارت کار وینگ یو نے اسی لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم 22 جون کے زلزلے کے ریلیف کی مد میں دی جائے گی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے لیے ہنگامی امداد کے علاوہ گزشتہ سال سیاسی تبدیلی اور زلزلے کے بعد ہمارے پاس اقتصادی تعمیرِ نو کے طویل المدتی منصوبے ہیں، جس میں تجارت کو ترجیح دی جائے گی۔ بعدازاں، سرمایہ کاری اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

    طالبان حکومت کو تا حال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    اس حوالے سے مغربی ممالک کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پابندیاں اسی صورت میں ہٹائی جا سکتی ہیں جب یہ گروپ ہماری شرائط پورا کرے جن میں خواتین اور لڑکیوں کو حقوق دینا شامل ہے۔

    Advertisement

    مغربی ممالک کی جانب سے افغانستان پر عائد پابندیوں میں غیرملکی اربوں ڈالر کے ذخائر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔

    مغربی بینکوں میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وینگ یو کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ سمجھتا ہے کہ یہ پیسہ افغانستان کے عوام کا ہے، چین ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں

    پریس کانفرنس کے موقع پر چینی سفیر وینگ یو کا کہنا تھا کہ کان کنی کے دو بڑے منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں، جس میں جنوبی افغانستان میں تانبے کی ایک کان ‘میس عینک’ بھی شامل ہے، اس کے حقوق چین کی سرکاری کمپنی کے پاس ہیں، جس کا معاہدہ گزشتہ افغان حکومت کے ساتھ ہوا تھا۔افغانستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، جس میں لوہے اور تانبے کے بڑے ذخائر بھی شامل ہیں۔

    یاد رہے، چین کے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، وہ اپنے بڑے منصوبے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ پر سرمایہ کاری کے حوالے سے ہمسایہ ممالک میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ کی پریس کانفرنس میں چین کے نیشنل انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کے انچارج نے کہا کہ 2017سے 2021 تک ، چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم 27 ٹریلین سے 45 ٹریلین تک پہنچ گیا، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کے کل جی ڈی پی کا تناسب انتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہو گیا ہے۔

    “جدت نئی تبدیلیاں لاتی ہے، اور ڈیجیٹل نئے انداز کا رہنما ہے” کے موضوع پر پانچویں ڈیجیٹل چائنا کنسٹرکشن سمٹ 23 سے 24 جولائی تک صوبہ فوجیان کے شہر فو زو میں منعقد ہو گی ۔

    “چینی وزارتِ خارجہ اطلاعات کے مطابق پانچ جولائی کوحکومت سندھ اور پاکستان کےمحکمہِ انسداد دہشت گردی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے اہم ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ “بلوچ لبریشن فرنٹ” اور “بلوچ لبریشن آرمی” جیسے کئی دہشت گرد گروپ اپنے رابطے مضبوط کر رہے ہیں، اور ان کے پیچھے غیر ملکی قوتیں ہو سکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چیاؤ لی جیان نے چھ جولائی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ، کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت پر بھرپور توجہ دیتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ فی الحال اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ پاکستان سچائی کا پتہ لگائے گا اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی ۔

    عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    بیجنگ:“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    چاند پرقبضہ نہیں کررہے:ناسا امریکی آلہ کارنہ بنے:چین

    بیجنگ : چین نے پیر کو ناسا کے سربراہ بل نیلسن کے اس انتباہ کو ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے طور پر مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بیجنگ فوجی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر چاند پر ’قبضہ‘ کر سکتا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ خلا میں قوموں کی برادری کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ چین نے گذشتہ دہائی میں اپنے خلائی پروگرام کی رفتار تیز کرتے ہوئے چاند پر سائنسی تحقیق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین نے 2013 میں اپنی پہلی چاند پر بغیر عملے کے لینڈنگ کی تھی اور توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کے لیے طاقت ور راکٹ لانچ کیے جائیں گے۔

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    نیلسن نے ہفتے کو جرمن اخبار بِلڈ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمیں بہت فکر مند ہونا چاہیے کہ چین چاند پر اتر رہا ہے اور کہہ رہا ہے اب یہ ہمارا ہے اور تم اس سے دور رہو۔

    امریکی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے چین کے خلائی پروگرام کو ایک فوجی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دوسروں سے آئیڈیاز اور ٹیکنالوجی چرائی۔ تاہم چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے حقائق کو نظر انداز کیا ہو اور چین کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بات کی ہو

     

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    انہوں نے چین کی عام اور معقول بیرونی خلا کی کوششوں کے خلاف مسلسل ایک مہم چلائی اور چین اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ تبصروں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ خلا میں انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو فروغ دیا اور اس کے ہتھیار بنانے اور خلا میں کسی بھی ہتھیار کی دوڑ کی مخالفت کی ہے۔ ناسا اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024 میں چاند کے گرد چکر لگانے اور 2025 تک قمری جنوبی قطب کے قریب عملے کے ساتھ لینڈنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    چین اس دہائی میں کسی وقت چاند کے قطب جنوبی پر بغیر عملے کے مشن بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی  پروفیسر کا انکشاف

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    ایک امریکی پروفیسر نے عالمی وبا کورونا کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ وائرس چینی لیبارٹری سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا۔

    باغی ٹی وی : امریکی پروفیسرجیفری ساکس کا کہنا ہےکہ کورونا وائرس چینی مرکز نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا اور یہ وائرس امریکا کی بائیوٹیکنا لوجی لیب میں تیار کیا گیا۔

    پروفیسر جیفری ساکس کورونا وبا کے ماخذ پر 2 برس سے تحقیقات کررہے تھے-

    رواں برس 27 مئی کو جاری کی گئی پروفیسر جیفری ساکس اور نیل ایل ہیریسن نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ووہان میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کے لیے خصوصی طور پر چین کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے، امریکی حکام نے وبائی امراض کے حالات پیدا کرنے میں امریکی سائنسی تحقیقی اداروں کی تحقیق کو شھپا دیا تھا پھر بھی اگر کورونا وائرس واقعی کسی لیب سے آیا ہے تو، امریکا کا قصوروار ہونا تقریباً یقینی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جب امریکی صدر جو بائیڈن نےریاستہائے متحدہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی سے کورونا وبا کی اصلیت کا تعین کرنے کو کہا تو اس کے نتیجے کو غیر معمولی طور پر کم کیا گیا لیکن اس کے باوجود حیران کن تھا۔ ایک صفحے کے خلاصے میں، انٹیلی جنس کمیونٹی نے واضح کیا کہ وہ اس امکان کو رد نہیں کر سکتا کہ SARS-CoV-2 (وائرس جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے) لیبارٹری سے نکلا ہے۔

    کورونا کیسز میں اضافہ: ڈومیسٹک پروازوں، ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کےدوران…

    لیکن امریکیوں اور دنیا کے لیے اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا ایک اضافی نکتہ ہے جس پر آئی سی خاموش رہا: اگر یہ وائرس واقعتاً لیبارٹری کی تحقیق اور تجربات کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، تو یہ تقریباً یقینی طور پر امریکی بائیو ٹیکنالوجی اور جانکاری کے ساتھ بنایا گیا تھا کہ اسے کس طرح دستیاب کیا گیا تھا۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ کوویڈ 19 کی ابتداء کے بارے میں مکمل سچائی جاننے کے لیے، ہمیں نہ صرف چین کے ووہان میں پھیلنے والی وباء کی مکمل، آزاد تحقیقات کی ضرورت ہے، بلکہ امریکہ کی متعلقہ سائنسی تحقیق، بین الاقوامی رسائی، اور ٹیکنالوجی کے لائسنسنگ کی بھی ضرورت ہے۔

    کورونا وبا ختم نہیں ہوئی ہجوم والی جگہوں پر شہری احتیاط کریں ،قومی ادارہ صحت

    کولمبیا یونیورسٹی میں یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ڈی ساکس، کولمبیا یونیورسٹی میں سنٹر فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے حل نیٹ ورک کے صدر ہیں۔

    وہ اقوام متحدہ کے تین سیکرٹری جنرل کے مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں، اور فی الحال سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے تحت SDG ایڈووکیٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں ان کی لکھی گئی کتابوں میں غربت کا خاتمہ، دولت مشترکہ، پائیدار ترقی کا دور، نئی امریکی معیشت کی تعمیر، ایک نئی خارجہ پالیسی: امریکی استثنیٰ سے پرے، اور حال ہی میں، عالمگیریت کا دور شامل ہیں جیفری ساکس کو ٹائم میگزین 2 بار دنیاکے 100بااثر افرادکی فہرست میں شامل کرچکا ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا- سینیٹرز مرزا محمد آفریدی، مشاہد حسین سید، نصیب اللّہ بازئی، دوست محمد خان، شہادت اعوان، کے علاوہ سینیٹر مشتاق احمد بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے-سیکریٹری وزارت ریلوے، سی ای او پاکستان ریلوے، آئی جی پی ریلوے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    سینیٹر مشتاق احمد نے اجلاس میں ریلوے پٹرولرز کی برطرفیوں کا معاملہ اٹھایا انہوں نے کہا یہ لوگ 15-20 سال تک ریلوے کی خدمت کر چکے ہیں اب ان کے ساتھ یہ زیادتی ظلم ہے ان سے روزگار نہیں چھیننا چاہئے ان کو بحال کر کے مستقل کیا جائے  سیکریٹری وزارت ریلوے نے کہا کہ سروسز کو مستقل کرنا ان کے اختیار میں نہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ان کومستقل کرنے کا اختیار رکھتی ہے- وزارت ریلوے کے حکام نے بتایا کہ اب ان ڈیلی ویجرز کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے حکام نے بتایا کہ گورنمنٹ ریگولائریزیشن کے حوالے سے کوئی پالیسی اگر بناتی ہے تو تب ہی ان کو مستقل کیا جا سکتا ہے معاملے پر طویل بحث کے بعد کمیٹی نے نکالے جانے والے ریلوے پٹرولرز کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ڈیلی ویجرز ملازمین میں زخمی یا شہید ہونے والوں کو مستقل ملازمین کی طرز پر سہولیات دینے کی ہدایات جاری کیں۔

    وزارت ریلوے کے حکام نے ریلوے کی گزشتہ تین سالوں میں لیز کی گئی زمین کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیں -پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی زمین 1 لاکھ، 68 ہزار 858 ایکڑ ہے جس میں ریلوے کی کل لیز کردہ زمین 10 ہزار 772 ایکڑ ہے-9291 ایکڑ زراعت کیلئے، 955 ایکڑ رہائش کیلئے، 221 ایکڑ کمرشل اور 305 ایکڑ دیگر کیلئے لیز کی گئی ہے-حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں ریلوے نے کل 4779 ایکڑ کی زمین لیز پر دی ہے، جس میں پشاور 112 ایکڑ، راولپنڈی میں 621 ایکڑ، لاہور میں 1344 ایکڑ، مغل پور ہ میں 2.1 ایکڑ، ملتان میں 2425 ایکڑ، سکھر میں 79 ایکڑ،کراچی میں 191 ایکڑ اور کوئٹہ میں 5 ایکڑ زمین لیز پر گزشتہ تین سالوں میں دی گئی۔

    کمیٹی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج پاکستان ریلوے کوئٹہ کے تحت بھرتی کئے گئے 10 سب انجینئرز کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا-حکام نے بتایا کہ ان سب انجینئرز کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا- اس کے بعد ایک ایک سال کی توسیع دی جا رہی ہے-انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو نہیں فارغ کیا جائے گا-ان ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے پاس ہے اور ان کو مستقل کرنے کیلئے عمر کی حد بھی بڑھ گئی ہے-سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ وزیراعظم کو عمر کی حد میں چھوٹ دینے کیلئے سمری بھیجی جاسکتی ہے-جس کے بعد کمیٹی نے سینیٹر مشاہد حسین سید کی تجویز پر فیصلہ کیا کہ چیئرمین کمیٹی اور وزارت ریلوے کی جانب سے ان سب انجینئرز کو عمر کی حد میں چھوٹ دینے کے حوالے سے ایک سمری وزیراعظم کو لکھ کر کابینہ سے منظور کی جائے-

    ایم ایل-منصوبہ کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ 1172 کلو میٹر پر محیط یہ منصوبہ ملک میں ایک انقلاب برپا کرے گا-سینیٹر مشاہد حسین سید کے سوال پرسیکریٹری ریلوے نے بتایا کہ کچھ سیکیورٹی ، غیر یقینی صورتحال اور گزشتہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے بیانات کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی کل لاگت اب تاخیر کے باعث 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی ہے-منصوبہ 7 سال میں مکمل ہوگا اب کراچی سرکلر ریلوے کو بھی ایم ایل-ون میں شامل کردیا گیا ہے-سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایم ایل-ون ملک کی تقدیر بدل دے گا-انہوں نے وزارت ریلوے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایم ایل-ون کو سپورٹ کرنا چاہئے اور الزام تراشیوں اور بیان بازیوں سے اجتناب کرنا چاہئے-

    کمیٹی نے وزارت ریلوے کے کردار کو سراہا اور ان کی مکمل حمایت کرنے کاعزم کیا-کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایم ایل ون منصوبہ شروع کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرے-کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں انقلاب لائے گا اور پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا

    رپورٹ، ممتاز اعوان
    @MumtaazAwan

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے یورپی ڈویژن کے ڈائریکٹر وانگ لو تھونگ نے جی سیون اور نیٹو سمٹ میں چین سے متعلقہ امور کے حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف نیٹو کا” اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ” دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو” سے مقابلہ کرنے کے لیے جی 7 کے پیش کردہ ” عالمی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ پارٹنرشپ” منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے منصوبے ایک دوسرے کے مقابل یا الگ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ہم آہنگ بنایا جانا چاہیے۔ چین کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو جغرافیائی سیاسی مفادات کے حصول کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    وانگ لو تھونگ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں سننے میں آیا ہے کہ چین کے خلاف نیٹو کا ایک “اقتصادی ورژن” بنایا جائے گا ۔ یہ عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور بہت خطرناک بھی ہو گا

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ تائیوان تنازعے سے متعلق امریکا نے چین پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، مستقبل میں چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ تائیوان پر چین کے فوری حملے کا تو کوئی امکان نہیں ہے لیکن امریکا نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

    جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ چین، تائیوان پر حملے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں چین کی جانب سے تائیوان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا تائیوان پر حملہ کرنا ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔

    خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک علیحدہ ریاست مانتا ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔

    ادھرہانگ کانگ کے قریب سمندری طوفان چابا کی زد میں آکر ایک بحری جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے جس کے بعد سے عملے کے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    یہ واقعہ 2 جولائی کو پیش آیا تھا اور ہانگ کانگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفانی لہروں کی وجہ سے عملے کے لاپتہ27 افراد کے بچنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔

    سمندری طوفان کے دوران 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور طوفانی لہروں کے نتیجے میں فوجنگ 001 نامی جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد عملے کے 3 افراد کو بچا لیا گیا تھا مگر 27 افراد اب بھی گمشدہ ہیں۔

    ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے عملے کو بچانے کے لیے 4 طیارے، 6 ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جبکہ 36 رکنی ریسکیو ٹیم سرچ آپریشن پر کام کر رہی ہے۔حکام نے بتایا کہ ان 27 افراد کی زندگی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ وقت بہت زیادہ ہوچکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں مگر خراب موسم کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہورہا ہے۔

  • سنکیانگ: قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی کے موضوع پر سیمینار

    سنکیانگ: قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی کے موضوع پر سیمینار

    بیجنگ:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے پچاسویں اجلاس کے آن لائن ضمنی اجلاس میں “سنکیانگ میں مختلف قومیتوں کے حقوقِ معاش کا تحفظ اور بہتر زندگی ” کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ،چین،پاکستان،برازیل اور کیمرون سمیت دیگر ممالک کے ماہرین اور دانشوروں نے سنکیانگ میں حقوقِ معاش اور انسانی حقوق کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات کے ہیومن رائٹس ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسچینج سینٹر کے ڈائریکٹر زوو فینگ نے کہا کہ چین کے سنکیانگ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے عوام کو اولین اہمیت دینے والے تصور پر عمل کیا ہے، جس سے تمام قومیتوں کے لوگ اصلاحات اور ترقی کے ثمرات سے استفادہ کر سکتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مسلسل نئی پیش رفت جاری رہتی ہے۔لیکن بعض ممالک نے سنکیانگ سے متعلق جھوٹ پھیلایا اور یک طرفہ پابندی لگاکر عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کو نقصان پہنچایا ہے۔عالمی برادری کو انسانی حقوق کے عالمی انتظام و انصرام کو مشترکہ طور پر فروغ دینا چاہیئے اور بنی نوع انسان کا ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

    سنکیانگ سے متعلقہ مسائل کو امریکہ کی طرف سے بڑھاوا دینے کے بارے میں، پیکنگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ایکسچینج اینڈ انڈرسٹینڈنگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر وانگ دونگ کا خیال ہے کہ امریکہ کا “انسانی حقوق” کا کارڈ کھیلنے کا قلیل مدتی مقصد اپنی پارٹی کی داخلی کشمکش اور اقتدار پر قبضے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ہے، جب کہ اس کی طویل مدتی حکمت عملی کا مقصد چین کو نئی سرد جنگ کا ہدف بنانا ہے تاکہ چین کو دبانے اورامریکہ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے “اخلاقی حمایت” مل سکے گی۔سیینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کی پاکستانی ریسرچر زون احمد کا کہنا ہے کہ چین کی حاصل کردہ کامیابی ،خاص طور پر سنکیانگ کی ترقی اور کامیابیاں ، ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ایک مثال ہیں۔

    ہانگ کانگ کی مادر وطن کو واپسی کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے “چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے ” کے تحت برطانیہ پرہانگ کانگ کیباشندوں کی “تاریخی ذمہ داری “ہے اور “ہانگ کانگ سے دست بردار نہ ہونے ” کا مضحکہ خیز سیاسی شو کیا ہے۔یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ” سابق سامراج” اس حقیقت کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ ان کی وہ “سلطنت جس میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا”تھا، ایک مدت سے ختم ہو چکی ہے اور وہ ابھی تک ہانگ کانگ سمیت چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی اور برطانوی حکومتوں نے دسمبر 1984 میں چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ بیان کے مطابق یکم جولائی 1997 کو ہانگ کانگ کی مادر وطن میں واپسی کے بعد، برطانیہ کے پاس ہانگ کانگ پر اختیار، حکمرانی یا نگرانی کا کوئی حق نہیں ہے، یعنی اب برطانیہ کو ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ اب ہانگ کانگ دنیا کی سب سے آزاد معیشت، ایک بین الاقوامی مالیاتی و تجارتی مرکز اور شپنگ سینٹر ہے۔ 25 سال قبل مادر وطن میں واپسی کے بعد سے، ہانگ کانگ کی ترقیاتی کامیابیاں سب پر عیاں ہیں۔ “ایک ملک، دو نظام” کو بے حدکامیابی حاصل ہوئی ہے جو کہ پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے۔

    آج ہانگ کانگ کے معاشرے میں، ملک اور ہانگ کانگ سے محبت کرنا عوامی استصوابِ رائے بن چکا ہے اب برطانوی سامراج کی جانب سے یہاں بگاڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ برطانیہ میں سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کی برطانیہ سے الگ ہونے کی آوازیں بے حد بلند ہو چکی ہیں ۔بورس جانسن حکومت کا یہ دعوی کہ وہ “ہانگ کانگ سے دست بردار نہیں ہوگا ” صرف داخلی تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، لیکن ایسا کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ہانگ کانگ چین کا ہانگ کانگ ہے اور اس کا برطانیہ سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ادھر چین کی تین بڑی ایئر لائنز، چائنا سدرن ،ایئر چائنا اور چائنا ایسٹرن نے اعلان کیا کہ تینوں کمپنیز نے ایئربس کے ساتھ طیاروں کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ جس کے مطابق A320NEO سیریز کے کل 292طیارے خریدے جائیں گیاور خریداری کی کل رقم 37 اعشاریہ257 بلین امریکی ڈالر، یعنی تقریبا 249 اعشاریہ1 بلین یوآن تک پہنچ جائے گی۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تینوں ایئر لائنز نے کہا کہ ہوائی جہازوں کی یہ خریداری ،کمپنی کے “14ویں پانچ سالہ منصوبے” کے ترقیاتی منصوبے اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق ہے۔کمپنی کو سول ایوی ایشن انڈسٹری کے مستقبل کی ترقی پر اعتماد کی بنیاد پر،پہلے سے ہی صلاحیت بڑھانے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ایئربس نے ایک بیان جاری کیا کہ یہ نئے آرڈرز ، ایئربس پر چینی صارفین کے مضبوط اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ چائنا ایئرلائنز کی مارکیٹ کی مثبت بحالی اور خوشحال مستقبل کا مظہر ہیں ۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے اس حوالے سے کہا کہ جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باعث امریکی طیاروں کی برآمدات کامحدود ہونا مایوس کن ہے ، کمپنی نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور چین نتیجہ خیز بات چیت جاری رکھیں گے۔

  • ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ایسےآثارمل رہےہیں کہ چین پہلےچاند پرقبضہ کرے گاپھردنیا پرحکمرانی:ناسا سربراہ

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے جرمن اخبار”بلڈ: کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چین کےمون مشن کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ بیجنگ چاندپرقبضہ کرکے دنیا پراپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے،

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے دلیل دی کہ چینی خلائی تحقیق ہر ایک کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ ایک دن بیجنگ مبینہ طور پر چاند پر اترے گا اور کہے گا کہ "اب یہ ہمارا ہے اور تم دور رہو”۔

    ناسا کے سربراہ اور سابق امریکی سیاست دان نے دعویٰ کیا کہ چینی مون مشن "فوجی” ہوں گے، اور یہ کہ بیجنگ اپنے چاند کے اڈے کو دوسرے ممالک کے مصنوعی سیاروں کو مار گرانے کے لیے استعمال کرے گا۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    جہاں نیلسن نے چاند پر متعدد آلات بھیجنے کے بعد خلائی تحقیق میں چین کی مجموعی پیشرفت کی تعریف کی، اس نے فوری طور پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیشرفت کو کم کرنے کی کوشش کی کہ یہ ٹیکنالوجی بیجنگ نے مبینہ طور پر دوسرے ممالک سے "چوری” کی ہے۔

    ناسا کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ذہن میں کن ممالک کی ٹیکنالوجی چوری کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی دعوے کی پشت پناہی کے لیے کوئی ثبوت پیش کیا۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری طرف چین نے کہا ہے کہ وہ 2025 تک نہ صرف خلابازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس سلسلے میں روس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے 2035 تک وہاں قدم جمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کے بھی اسی طرح کے منصوبے ہیں، جن میں قمری اڈے اور زمین کے سیٹلائٹ کے گرد چکر لگانے والا خلائی اسٹیشن دونوں کا قیام شامل ہے۔ مؤخر الذکر کو ایندھن بھرنے اور خلائی جہاز کو مریخ کی طرف بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ناسا کے کراس ہیئرز میں ایک اور منزل ہے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    ظاہری طور پر نہ تو امریکہ اور نہ ہی چین نے فوجی مقاصد کے لیے قمری سٹیشن کے استعمال کی بات کی ہے، حالانکہ بعض امریکی فوجی منصوبے یہ بتاتے ہیں کہ خلا میں جنگی کوششیں بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

  • روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    بیجنگ:روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ،اطلاعات ہیں کہ ایک جرمن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک کلب BRICS مغربی اکثریتی گروپ آف سیون (G7) کا مقابلہ کرے۔ اس مقصد کے لیے، بیجنگ اور ماسکو بظاہر اس گروپ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے دیگر تین شرکاء برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ ہیں۔

    بدھ کے روز ایک رپورٹ میں، فرینکفرٹر آلگیمین زیتونگ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے خلاف روس کے حملے کے آغاز اور مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے، ماسکو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط اور بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابقہ ​​G8 سے نکالے جانے کے بعد، کریملن نے مبینہ طور پر برسوں سے برکس کو G7 کے متبادل میں تبدیل کرنے کی امید کو پروان چڑھایا ہے۔ جرمن اخبار کے مطابق، کریملن نے اب ان کوششوں کوتیز کر دیا ہے۔

    پیر کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا کہ دو اور ممالک، ارجنٹائن اور ایران نے گروپ میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔ اپنے ٹیلیگرام چینل پر، سفارت کار نے حوالہ دیا کہ یہ اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس سوچ رہا تھا کہ دنیا میں روس اورچین کا راستہ کس طرح روکا جائے

    قبل ازیں، تہران اور بیونس آئرس دونوں کے حکام نے اپنے ممالک کی مکمل رکن بننے کی خواہش کی تصدیق کی تھی۔

    ٹیلیگرام پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے روسی سینیٹر الیکسی پشکوف جو پہلے ریاست ڈوما میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ "اگرچہ برکس اس کا اعلان نہیں کرتا ہے، لیکن یہ ایک متبادل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہاں تک کہ کاؤنٹر ویٹ بھی ہے ۔ مستقبل میں G7 کے لیے کیونکہ یہ غیر مغربی دنیا کے سرکردہ ممالک کو متحد کرتا ہے۔

    پشکوف نے ایران اور ارجنٹائن کی شامل ہونے کی خواہش کو "ایک پیش رفت کے طور پر بیان کیا، کیونکہ یہ نہ صرف روس کو الگ تھلگ کرنے کی مغرب کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ غیر مغربی دنیا کی اعلیٰ ترین اقتصادی-سیاسی تنظیم کو بھی وسیع کرتا ہے”۔

    دریں اثنا، روس کی RIA نووستی نیوز ایجنسی کے حوالے سے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں مزید دس ممالک برکس میں شامل ہو سکتے ہیں، جن میں میکسیکو، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔

    رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گروپ کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو ظاہر کرنے کے لیے چین نے 13 مہمان ممالک کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا ہے۔ ان ممالک میں مصر، فجی، الجزائر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں۔

    جرمن اخبارکا کہنا ہے کہ روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلے کی تصدیق چینی صدرکے بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں صدر نے برکس کو امریکہ کی زیر قیادت اتحادوں کے برعکس، ایک انسداد پراجیکٹ اور ایک "بڑا خاندان” قرار دیا،

    جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے سربراہی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ برکس کے تمام رکن ممالک نے گروپ کو بڑھانے کے خیال کی حمایت کی ہے، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ اس معاملے پر مکمل طور پر ایک صفحے پر نہیں ہیں،بھارت کی شمولیت کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں

  • دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    بیجنگ :چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں “شنگھائی تعاون تنظیم: تاریخ، موجودہ صورتحال اور امکانات” گول میز کانفرنس میں بذریعہ ویڈیو شرکت کی اور تقریر کی۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔چین شنگھائی اسپرٹ کو بھرپور طریقے سے فروغ دینے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کی قریبی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    تنظیم کی ترقی کے بارے میں وانگ ای نے یہ تجاویز پیش کیں کہ تنظیم کے اتحاد اور تعاون کو مضبوط کریں، خطرات اور چیلنجوں سے نمٹیں، ایک مضبوط حفاظتی باڑ بنائیں، لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائیں ،باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھائیں، بہتر زندگی کے لیے خطے کے لوگوں کی امنگوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیں اور انصاف کو برقرار رکھیں اور عالمی طرز حکمرانی کو بہتر بنائیں۔

    چینی وزارت دفاع کے ترجمان ٹین کھہ فی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حال ہی میں، ریاستی کونسلر اور وزیر دفاع وی فنگ حہ نے شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن کے ساتھ بات چیت کی۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ دونوں فوجوں کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کرنا چاہیے،

    اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مواصلات کو برقرار رکھنا چاہیے، دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو بڑھانا چاہیے، اور تنازعات اور اختلافات کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس وقت دونوں فوجوں کے درمیان تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں، ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کی زیرو سم ذہنیت کو ترک کرے، اور دونوں فوجوں کے تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں پن بجلی کے پہلے منصوبے کو مکمل طور پر کمرشل آپریشن میں ڈال دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں کام جاری ہے تاکہ توانائی بحران پرجلد سے جلد قابوپالیا جائے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تر جمان نے رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستان میں بجلی کی کمی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کیا جائے گا بلکہ پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

    پاکستان میں توانائی کی تعمیر اور اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ عالمی کاربن نیوٹرل اہداف کے حصول میں بھی مدد دے گا اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نیا کردار ادا کرے گا۔