Baaghi TV

Tag: چین

  • کورونانےچین جیسی عالمی طاقت کوگھٹنےٹیکنے  پرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ

    کورونانےچین جیسی عالمی طاقت کوگھٹنےٹیکنے پرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ

    بیجنگ:دنیا بھر میں جاری توانائی کے بحران نے بڑے بڑے ممالک کی چولیں ہلادی ہیں، ایک طرف تیل و گیس مہنگا ہونے سےمہنگائی کی لہر آئی ہوئی ہے، کئی امیر ملکوں سے بھی بجلی کی راشننگ کی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں، برطانیہ میں پیٹرول کے لئے لوگ گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں لوڈ شیڈنگ کی نوبت آگئی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس سے قبل چین کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی ایور گرینڈ گروپ بھی دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ گئی ہے، جسے اب چینی کمپنی سہارا دینے کےلئے کوشاں ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لاکھوں فیکٹریاں اور کارخانے بند ہیں اور بیجنگ جیسے عالمی شہر میں بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، دوسری طرف چینی حکام کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر تو قابو پالیا جائے گا لیکن کورونا کی وجہ سے تباہ حال معیشت کو سنبھالنے میں وقت لگ سکتا ہے

    ادھر کورونا نے چین جیسی عالمی طاقت کو گھٹنے ٹیکنےپرمجبورکردیا:پٹرولیم مصنوعات میں اضافے پراضافہ ،اطلاعات کے مطابق چین میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا گیا۔

    چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) کے مطابق ہفتے سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 140 یوآن (تقریباً 21.96 امریکی ڈالر) فی ٹن اور 135 یوآن فی ٹن اضافہ ہوگا۔

    قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کے تحت اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 50 یوآن فی ٹن سے زیادہ تبدیلی آتی ہے اور 10 کام کے دنوں تک اسی سطح پر رہتی ہے تو چین میں پٹرول اور ڈیزل جیسی ریفائنڈ آئل مصنوعات کی قیمتیں اسی کے مطابق ایڈجسٹ کی جائیں گی۔

    این ڈی آر سی نے کہا کہ چین کی تین بڑی آئل کمپنیوں یعنی چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن، چائنا پیٹرو کیمیکل کارپوریشن اور چائنا نیشنل آف شور آئل کارپوریشن مستحکم سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے تیل کی پیداوار کو برقرار رکھیں اور نقل و حمل کو آسان بنائیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔

  • چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

    چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لئے،بھارت کا الزام

    بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے متنازع ہمالیائی خطے میں ان کی سرحد کے قریب کئی مقامات کے نئے نام رکھ لیا ہے-

    باغی ٹی وی : کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے بھارت کا حصہ رہا ہے اور رہے گا وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے کہا کہ اروناچل پردیش میں مختلف جگہوں کے نئے نام رکھنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔

    سال 2022 کے لئے بل گیٹس کی اہم تشویش کیا ہے؟

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے کہا کہ ‘جنوبی تبت چین کے تبت خومختار خطے میں ہے اور تاریخی طور پر چین کی حدود میں ہے’ اور نئے نام دینے کا فیصلہ چین کی خودمختاری کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    چین کی وزارت شہری امور نے کہا تھا کہ زینگنان (جنوبی تبت) میں 15 جگہوں کے ناموں کو معیاری بنایا ہے اور مذکورہ علاقوں کے نام چینی میں رکھ دیئے گئے ہیں بھارت جس خطے کو اروناچل پردیش کا نام دیتا ہے، اسی خطے کو چین زینگنان کہتا ہے۔

    واضح رہے کہ انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ 1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے انڈیا اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش۔

    بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع…

    بہر حال انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

    صرف 40 منٹ جاری رہنے والی تاریخ کی مختصر ترین جنگ

    انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے سنہ 1962 کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    بھارت اور چین کے درمیان جون 2020 میں لداخ اور تبت کے علاقے میں کشیدگی کے بعد سرحدی تنازع اور تعلقات میں ڈرامائی انداز میں سردمہری آگئی ہےدونوں ممالک نے سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کردیئے اور عسکری تنصیبات لگائی ہیں جبکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہوچکے ہیں تبت صدیوں سے کبھی آزاد اور کبھی چین کے زیرانتظام رہا ہے تاہم اب تبت کا دعویٰ ہے کہ 1951 میں پرامن آزادی حاصل کرلی ہے تبت نے اپنی سرحدوں میں فوج تعینات کررکھی ہے اور چین کی جانب سے خطے کی ملکیت کے دعوے کو یکسر مسترد کرتا رہا ہے۔

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا…

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چین فوجیوں کو دماغی مفلوج کرنے کی ٹیکنا لوجی پر کام کر رہا ہے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن: ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے جنگوں کے روایتی طریقہ کار کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین جنگوں میں دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرنے کے تصور پر کام کر رہی ہے۔

    امریکی ذرایع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ چین کے ایک تحقیقی مرکز میں ایسے ہتھیار بنانے پر کام کیا جا رہا ہے جن کی مدد سے وہ دشمن ملک کے فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بجائے مفلوج کرسکیں گے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے چین کے سرکاری فوجی اخبار پی ایل اے( پیپلز لبریشن آرمی ) ڈیلی میں 2019 میں ’ فوجی برتری کے بارے میں مستقبل کے تصورات‘ کے عنوان سے شایع ہونے والی رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا ہے جس میں چین کی ’ برین وار فیئر‘ تحقیق کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر کئی سالوں سے کام ہورہا ہے۔

    ایسی ہی ایک اور رپورٹ کہا گیا ہے کہ’ جنگ دشمنوں کی لاشوں کے حصول سے نکل کر انہیں مفلوج کرنے اور ان پر کنٹرول کرنے کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔‘

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق چینی ریسرچرز ’ انسانوں کی سائیکولوجیکل اور ادارکی صلاحیتوں میں اضافے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے انسانوں اور مشینوں کو مربوط کرنے پر‘ کا مطالعہ کر چکے ہیں۔‘ جس کی مدد سے وہ دماغ کے دفاع کرنے کی صلاحیت کو دماغ پر کنٹرول اور حملے کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

    رواں ماہ کی 16 تاریخ کو ہی امریکہ محکمئہ خزانہ نے چین کی اکیڈمی برائے ملٹری سائنسز( اے ایم ایم ایس) اور اس سے محلقہ 11 ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی برآمدات کو امریکا کی قومی سلامتی اور فارن پالیسی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    محکمئہ خزانہ کی سربراہ جینا ریمنڈو کا دعوی ہے کہ چین بایو ٹیکنالوجی اور طبی جدت کو اپنے لوگوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں ایک سینئرامریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ چین انسانی کارکردگی میں اضافے اور دماغ کو مشین کے ساتھ جوڑنے کے لیے جینز میں ترمیم کررہا ہے۔تاہم چینی حکام نے امریکی اخبار کی رپورٹ اور حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ْ

  • پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    اسلام آباد: پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ(پی سی آئی) نے علاقائی اقتصادی رابطے پر ایک غیر معمولی نوعیت کا حامل 9 ملکی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع ’’بیلٹ اینڈ روڈ تعاون: عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا‘‘ تھا۔اس ویبینار میں پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کی "فرینڈز آف سلک روڈ” تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ انڈونیشیا، فلپائن اور چین کے تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس ویبینار میں مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ‘ایشیائی صدی’ میں تعمیر و ترقی کے لیےبی آر آئی کی ضرورت ہے اورکثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کو فروغ دینے پر زور دیا کیونکہ یہ ایشیائی ممالک کے مشترکہ مفادات کا ترجمان ہے۔ انہوں نے ثفافتی تبادلے اور مشاورت کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کی اعلیٰ معیار ی ترقی کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ 9 ممالک کے مقررین نے اپنی تقاریر میں ادارہ جاتی تعاون، ڈس انفارمیشن اور من گھڑت خبروں کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا اور ‘نئی سرد جنگ’ کے تصور کو سختی سے مسترد کیا۔

    اس ویبینار کی نظامت کے فرائض پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے ادا کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "شاہراہِ ریشم کے دیرینہ دوست پاکستان” نے 2019 میں اپنے آغاز کے بعد سےسی پیک کے ذریعے بی آر آئی سے حاصل ہونے والے فوائد اور متعدد مواقعوں کے بارے میں بہتر تفہیم اور معلومات فراہم کیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے ترقی پذیر ممالک میں انسانی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک متبادل ترقیاتی ماڈل فراہم کیا ہے جو بی آر آئی سے پہلے مغرب اور اس کے اداروں پر منحصر تھے۔ انہوں نے بی آر آئی کو عوام پر مبنی ترقی پر مبنی اتفاق رائے پر مبنی پہل کاری قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائینہ کی گزشتہ ماہ منعقد ہونے والےچھٹے مکمل اجلاس کے دوران ایک تاریخی قرارداد پاس کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا جس نے مستقبل کے لیے ایک واضح وژن فراہم کیا ہے۔

    سینیٹ کی دفاعی کمیٹی اور پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک اوربی آر آئی کے ذریعے سےعوام کو ثمرات حاصل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی کسی ملک کے خلاف نہیں اور اسے وِن -وِن تعاون ماڈل کا حامل قرار دیا کیونکہ یہ جامع ہے اور اس کا مقصد رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سال 2021 چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک اہم سال تھا کیونکہ اسے سی پی سی کی سو سالہ سالگرہ کے طور پر منایا گیا اور اسی سال چین نے غربت کا مکمل خاتمہ کیا۔ انہوں نے چین کی کووڈ- 19وبا پر قابوپانے کی کامیاب حکمت عملی اور دیگر ممالک کو اس سے بچانےکے لیے ویکسین کی فراہمی کو قابلِ تعریف دیاجس کے سبب لاکھوں انسانی جانیں بچ گئی ۔نیز انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات میں چین کی قیادت کی بھی تعریف کی۔

    اس ویبینار میں چین کی رینمن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ ییوئی نے کہا کہ کووڈ-19 وباکے بعد کا دور زندگی کو’نئے معمول’ کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس مشکل وقت میں کثیرالجہتی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور بی آر آئی کو کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے کے بہترین محرک کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کی زیرو کول پالیسی کا بھی خیرمقدم کیا جو چین نے برقرار رکھا اور اس سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچاؤمیں بھی مدد ملے گی۔

    نیپال کے "فرینڈز آف سلک روڈ کلب” کے جنرل سکریٹری کلیان راج شرما نے اس موقع پر کہا کہ بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چین اور نیپال کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور نیپال کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار اب بی آر آئی پر منحصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ ان تعلقات کو آگے بڑھانے کی تحریک16-2015 میں ہندوستان کی طرف سے غیر اعلانیہ ناکہ بندی کے بعد ملی۔

    بنگلہ دیش چائینہ سلک روڈ فورم” کے چیئرمین دلیپ باروا نے بھارت اور مغربی ممالک کی جانب سے پھیلائے جانے والے بی آر آئی مخالف پروپیگنڈے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی کو صدر شی جن پنگ کا معاشی ماسٹر اسٹروک قرار دیا جس سے ایشیا میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بی آر آئی کے بارے میں مثبت تاثر پایا جاتا ہےکیونکہ بنگلہ دیش کو اس پہل کاری کے فوائد حاصل ہونے کا آغاز ہوا ہے ۔

    اس ویبینار میں تھائی چائنیز کلچر اینڈ اکانومی ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل دارات پوچمونگکول نے کہا کہ تھائی لینڈ چین کے ساتھ اپنے تعلقات خاص طور پر بی آر آئی کے ضمن میں مزید مضبوط کر رہا ہے کیونکہ اس سے تھائی عوام فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

    شینزن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف گلوبل گورننس اینڈ ایریا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈائی یونگ ہونگ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال سبز ترقی کو آگے بڑھانے، سبز کاروباری طریقوں کو اپنانے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے کی متقاضی ہے۔ امریکہ جس ا یک قطبی دنیا کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ختم ہو رہی ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے۔ اس کثیر قطبی دنیا میں بی آر آئی انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پاتھ فائنڈر فاؤنڈیشن سری لنکا کی سینئر محقق پروفیسر گائتری ڈی زوئیسا نے اس موقع پرکہا کہ سری لنکا بی آر آئی کے اہم شراکت دار ممالک میں سے ایک ہے اور بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چینی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ چین سے 100فیصد ایف ڈی آئی کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے درمیان تعلیم، سائنس اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملائیشیا چائینہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر جی پی دوریسامی نے کہا کہ ملائیشیا کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کے پولیٹیکل بیورو ممبر آنند پرساد پوکھرل نے ٹرانس ہمالیائی ملٹی ڈائمینشنل کنیکٹیویٹی نیٹ ورک کے بارے میں بات کی جو کہ بی آر آئی کے ایک خاص حصے کے طور پر نیپال اور چین کے درمیان ایک اقتصادی راہداری ہے اور یہ نیپال کی تعمیر و ترقی کا ایک تاریخی موقع ہے۔ بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود 2017 میں دونوں ممالک کے مفاہمت ناموں پر دستخط کے بعد سے نیپال میں بی آر آئی منصوبوں کی اعلیٰ معیار ی ترقی کا سفر جاری ہے۔

    ایشیا پروگریس فورم کولمبو کےکنوینر پروفیسر کے ڈی این ویرا سنگھے نے اس دوران کہا کہ بی آر آئی شراکت دار ممالک کی اقتصادی بحالی کا موجب بنا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی جو صدیوں پرانے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    انڈونیشیائی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کی ویرونیکا ایس سرسوتی نے کہا کہ جس طرح سے چین نے عالمی وباپر قابو پایا ہے اسے دوسرے ممالک نمونہ عمل کے طور پر لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے چین اور شراکت دار ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنایا ہے۔ آسیان ممالک میں بی آر آئی کے منصوبے پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

    فلپائن-برکس اسٹریٹجک اسٹڈیز کے بانی ہرمن لارل نے چین کی ویکسین انسان دوستی کی تعریف کی جس نے وباکے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
    اس ویبینار میں شرکاء نے ڈیجیٹل شراکت داری کے ذریعے اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی بنانے پر اتفاق کیا۔ آخر میں سینیٹر مشاہد حسین نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ چین کے خلاف امریکہ کے مہمات کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال 2020 میں چین نے 1.5 ارب سمارٹ فونز،250 ملین کمپیوٹرزاور 25 ملین کاریں تیار کرتے ہوئے دنیا کے ہائی ٹیک مینوفیکچرر کے طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • "کوچ”کےغیرملکی کوچ سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے     ساتھ ساتھ ریجن کےلیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری

    "کوچ”کےغیرملکی کوچ سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے ساتھ ساتھ ریجن کےلیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری

    لاہور:”کوچ "کےغیرملکی کوچ سب سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے ساتھ ساتھ ریجن کے لیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری نے نوازشریف کے مستقبل کے حوالےسے چُھپی ہوئی بات افشاں کردی ،اطلاعات کے مطابق کڑوی مگرسچ بات کی وجہ سے مخالفین کے دلوں میں کھٹکھٹنے والے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے ایسی بات کہہ دی کہ جس کے بعد نوازلیگیوں کو بھی یقین ہونے لگا ہے

    نوازشریف کی سوشل میڈیا ٹیم کی طرف سے چند پیڈ اخبارات اور ٹی وی چینلز پرایک اسی مہم چلائی جارہی ہے جس میں‌ یہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں یہ تاثردیا جارہا ہےکہ شاید کہ نوازشریف کی ڈیل ہورہی ہے

    نوازشریف کی ہدایت پرنواز لیگی سوشل میڈیا ٹیم کی اس مہم کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نوازلیگیوں اوران کے بڑوں کو یہ معلوم ہوجانا چاہیے کہ نوازشریف اب نہ صرف پاکستان کے لیے ان فٹ ہوچکے ہیں بلکہ ریجن کےلیے بھی ان فٹ قراردیئے گئے ہیں‌

    فواد چوہدری نے اس حوالے سے اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوشخص ملکی اداروں کے گریبان پکڑے ،ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ریوے اختیار کرے وہ کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے ،اور یہی حتمی اور بلاشبہ صورت حال ہے، ان کا کہنا تھا کہ پھر ایک ایسا شخص قومی مجرم بھی اور ملک کولوٹ کراربوں ڈالرز لے کرفرارہوچکا ہے اس کو نواز لیگ تو قبول کرسکتی ہےلیکن قوم اور قومی ادارے تو یہ تصور بھی نہیں کرسکتے

    ایک اور بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے بیان میں نوازلیگ کو انہیں خودساختہ بیانات کی وجہ سے آڑے ہاتھوں لیا ہے ،ٹوئٹر پر جاری بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ جو وطن واپسی کے لیے ڈیلوں کا انتظار کررہے ہیں وہ سیاست میں بونے ہی رہیں گے۔

     

    فواد چوہدری نے کہاکہ (ن) لیگ والے بوٹ پالش کا سامان لیے کھڑے ہیں، کوئی بوٹ آگے نہیں کررہا۔

    وزیر اطلاعات کا (ن) لیگ کے حوالے سے کہنا تھا کہ آپ پاکستان کا تاریک دور ہیں اور ہواؤں کا رخ اب آپ کا نہیں، روشنی ہوجائے تو تاریکی ختم ہوجاتی ہے اورپاکستان میں یہ ہی ہوا۔

     

     

  • انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    ماہرین نے چین میں ڈائنوسار کا ایسا فوسل دریافت کیا ہے جس میں ڈائنوسار انڈے سے نکلنے کےلیے تیارتھا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق، سائنسدانوں نے چین کے شہر گینژو میں ڈائنوسار کا ایسا ایمبریو دریافت کیا ہے جس میں سے ڈائنوسار مرغی کے چوزے کی طرح انڈے سے نکلنے کو تیار تھا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا یہ ایمبریو اندازاً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قدیم ہے اندازہ ہے کہ یہ بغیر دانتوں والا ایک ’تھیروپوڈ یا اوویریپٹرسار‘ ہے جبکہ اس کا نام ’بے بی ینگلیانگ‘ رکھا گیا ہے ینگلیانگ سر سے دُم تک 10.6 انچ لمبا ہے اور یہ 6.7 انچ لمبے انڈے کے اندر موجود ہے۔ نودریافتہ فوسل کو چین کے ’ینگلیانگ اسٹون نیچرل ہسٹری میوزیم‘ میں رکھا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    اوویریپٹرسارز یعنی ’انڈہ چور چھپکلیاں‘ درحقیقت پروں والے ڈائنوسار تھے جو کریٹیشیئس دور کے اواخر، یعنی 10 کروڑ سال قبل سے چھ کروڑ 60 لاکھ سال کے درمیان، موجودہ ایشیا اور برِاعظم شمالی امریکا میں پائے جاتے تھے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس دریافت نے ارتقائی ماہرین کو ڈائنوسار اور آج کے پرندوں میں تعلق کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں فوسل کی صورت میں موجود ایمبریو خم دار صورت میں ہے جسے ’ٹکنگ‘ کہا جاتا ہے پرند وں میں ایسا انڈے سے نکلنے سے عین پہلے دیکھا جاتا ہے۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    اس سے قبل اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے تھے ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہےجو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

  • سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے،امریکی حساس اداروں کا دعویٰ

    سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے،امریکی حساس اداروں کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی حساس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے چین کی مدد سے بیلسٹک میزائل بنانا شروع کردیئے ہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی اس رپورٹ کی خبر جُمعرات کو امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ پر نشر کی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کمیٹی سمیت متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں کے امریکی حکام کو حالیہ مہینوں میں خفیہ انٹیلی جنس پر بریفنگ دی گئی ہے جس میں چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی حساس اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام سے مشرقی وسطیٰ پر منفی نتائج مرتب ہوں گے جبکہ دوسری جانب ایران سے جوہری معاہدوں کے حوالے سے بائیڈن کیلئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ…

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ماضی میں بھی چین سے بیلسٹک میزائل خریدتا آیا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب کے پاس اپنے تیار کردہ بیلسٹک میزائل ہوں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حساس اداروں کے عہدیداران بشمول وائٹ ہاؤس کی نیشل سیکورٹی کونسل کو دونوں ممالک کے مابین بیلسٹک میزائل کی منتقلی سے ماضی میں بھی خبردار کیا جاتا رہا ہے۔

    امریکہ کے مڈلبری انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں اسلحے کے ایکسپرٹ اور پروفیسر جیفری لیوس نے سی این این کو بتایا کہ حکومتی سطح پر جو تنقید ایران کے وسیع پیمانے پر بیلسٹک میزائل پروگرام پر کی جارہی ہے، اس سطح کی تنقید سعودی عرب کے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر نہیں کی جارہی۔

    فوٹو بشکریہ: سی این این
    ’سی این این‘ کی جانب سے حاصل کردہ نئی سیٹلائٹ امیجز میں اشارہ ملتا ہے کہ سعودی عرب پہلے ہی چینی مدد سے قائم کی گئی جگہ پر بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے ماہرین کے مطابق جنہوں نے تصاویر اور ذرائع کا تجزیہ کیا انہوں نے تصدیق کی کہ وہ تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس تشخیص کے مطابق پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق اہم ثبوت یہ ہے کہ یہ سہولت بیلسٹک میزائل کی تیاری سے ٹھوس ایندھن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک "آتشیں گڑھا”قائم کیا گیا ہے انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کاسٹ شدہ راکٹ انجن پروپیلنٹ کی باقیات پیدا کرتے ہیں جو ایک دھماکہ خیز خطرہ ہے ٹھوس پروپیلنٹ کی پیداواری سہولیات میں اکثر آگ کے گڑھے ہوتے ہیں جہاں بقایا ایندھن کو آگ کے ذریعے ضائع کیا جا سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکی دانشور نے کہا کہ زیر بحث تنصیب چینی مدد سے تعمیر کی گئی تھی اور انٹیلی جنس کے نئے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں چین سے حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی خریدی ہے امکان ہے کہ وہاں بنائے گئے میزائل چینی ڈیزائن کے ہیں اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیار کرنے میں مدد کے لیے دوسرے ممالک کی طرف رجوع کیا ہےجس سے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مملکت اب اس سہولت پر کون سا ہتھیاروں کا نظام بنا رہی ہے۔

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    دوسری جانب اس حوالے سے کہ چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی کوئی منتقلی ہوئی ہےپر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں سی این این کو بتایا کہ دونوں ممالک "جامع اسٹریٹجک پارٹنر” ہیں ہم ہر پہلو میں دوستانہ تعاون شعبوں بشمول فوجی تجارتی میدان میں بھی تعاون بر قراررکھیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاؤ شامل نہیں ہے۔


    درایں اثنا بحرین میں سابق امریکی سفیر ایڈم ایریلی نے ٹویٹر پر اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے لیے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا اچھا ہے وہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کر سکتا شاید اگر ہم مشرق وسطیٰ میں ایک مربوط اور مستقل پالیسی رکھتے اور اتحادیوں کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے تو ایسا نہ ہوتا۔

    سی این این نے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ماضی میں چین سے بیلسٹک میزائل خریدے ہیں لیکن تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف تین ذرائع کے مطابق وہ اب تک اپنے میزائل بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

    اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں امریکی صدر

  • کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے

    کرونا کی کئی لہریں آ چکیں اب اومیکرون نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے، کرونا کی ویکیسن سامنے آئی تو تمام ممالک نے ویکسینیشن پر زور دیا، شہریوں کو ویکسین لگوائی گئی، اب کرونا کے لئے ایک گولی بھی سامنے آئی ہے، امریکی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کورونا کی نئی دوا کی منظوری دے دی ،ایف ڈی اے کے مطابق مریض کو پیکس لووڈز گولی پانچ روز تک دن میں 2 مرتبہ استعمال کرنا ہو گی ٹیبلٹ کی شکل میں دوا کو عالمی سطح پر کورونا کے خلاف موثر قرار دیا جا رہا ہے امریکانے دوا سازکمپنی سے 5.3 ارب ڈالر کامعاہدہ کر لیا ہے ،کرونا وائرس کے خلاف پہلی گولی شدید بیماری سے محفوظ کرنے کے لیے 90 فیصد تک موثر ہے اور اسے اومیکرون کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی وبا اومیکرون اور بڑھتے ہوئے کیسز کی نئی لہر کی وجہ سے نئی پابندیاں متعارف کرا دی گئی ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کیسز کی تعداد ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جس کے بعد یورپ اور امریکا سمیت متعدد ممالک میں نئی پابندیاں متعارف کرادی گئی ہیں۔زشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکا میں پونے دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن امریکی صدر جو بائیڈن وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ 81 ہزار 264 کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ متعدد یورپی ممالک نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب کرسمس اور نئے سال کی تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔اسرائیل نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے سخت سفری پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 60سال سے زائد عمر کے افراد طبی عملے کو ویکسین کا چوتھا ڈوز لگانے کی منظوری دے دی ہے

    واضح رہے کہ چینی حکومت نے ژیان شہر کے ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق دنیا بھر کی طرح چین میں بھی اومی کرون ویرینٹ کے پھیلاو کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر چین کے شمالی شہر ژیان میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ژیان شہرکی انتظامیہ نے بدھ کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہفتے میں 2 دن ہر گھر کا صرف ایک فرد ضروری سامان کے لیے باہر نکلے گا، اس شمالی شہر میں 9 دسمبر سے اب تک 143 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔