Baaghi TV

Tag: چین

  • کیا ادھر تم، ادھر ہم کا فیصلہ ہو چکا؟ وزیر خارجہ کا سوال

    کیا ادھر تم، ادھر ہم کا فیصلہ ہو چکا؟ وزیر خارجہ کا سوال

    کیا ادھر تم، ادھر ہم کا فیصلہ ہو چکا؟ وزیر خارجہ کا سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ اپوزیشن کی سیاسی ضرورت ہے،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والےمفادات کے تحفظ کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،جب اپوزیشن والوں کے مفادات پورے ہوگئے تو علیحدہ ہو جائیں گے، اپوزیشن احتجاج کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ‘ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں ،اپوزیشن ملکی مفادات کو مد نظر رکھے ،قوم جانتی ہے پی ڈی ایم بنانے والے اور توڑنے والے کون ہیں ، قائد حزب اختلاف کی سیٹ کیلئے دھوکہ کس نے کیا؟ قوم سب جانتی ہے ، 22 اور23مارچ کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا،افغانستان، فلسطین ‘ اسلام فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوگی،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ادھر تم، ادھر ہم کا فیصلہ ہو چکا ہے؟ اگر ادھر تم ادھر ہم کا فیصلہ کرلیا تو ہم دونوں جماعتوں کا مقابلہ کریں گے، تاثر یہ سامنے آ رہا ہے کہ ن لیگ سندھ میں داخل نہیں ہوگی،یہ بھی تاثر ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ دورہ کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ دورہ چین کی کامیابی کا مظہر ہے،وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران بہت نشستیں ہوئیں، چینی صدر سے ملاقات انتہائی جامع نوعیت کی تھی، وزیراعظم اور وفد کی تھنک ٹینکس کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں،افغانستان سے متعلق چین کے ساتھ مشاورت رہی ہے، مارچ کے آخر میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا اجلاس بیجنگ میں بلایا جائے گا، اجلاس میں افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ بھی مدعو کیے جائیں گے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اسپائیلرز ، سی پیک کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے امن دشمن قوتوں نے سی پیک پر کام کرنے والے انجینئرز کو نشانہ بنایا تھا،یہ اسپائیلرز اپنی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، بی جے پی سرکار کی منفی پالیسیاں ہندوستان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہیں، ہندوستان میں ایک بہت بڑا طبقہ بی جے پی کی سوچ کے برعکس سوچ رہا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ بی جے پی سرکار نے ہمیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے،روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے،

    اور مولانا فضل الرحمان نے سی پیک روٹ کا افتتاح کر دیا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی خالد منصور نے کہا ہے کہ دورہ چین پرسی پیک کے حوالے سے بھی بات ہوئی ، وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات میں مختلف امور پرگفتگو کی

    خالد منصورکا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایم ایل ون پراجیکٹ سے متعلق گفتگوبھی کی،وزیراعظم اور چینی صدر کی ملاقات مثبت رہی سرمایہ کاری سے متعلق سازگار ماحول پید اکرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں،وزیراعظم نے 20سے زائد اجلاسوں کی صدارت کی ،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے ،وزیراعظم نے چینی قیادت سے آئی ٹی اور ریسر چ کے شعبوں میں تعاو ن پر بات کی چینی سرمایہ کاروں نے وزیراعظم مران خان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا،سی پیک ون ونڈو آپریشن کے پیچھے میں کھڑا ہوں،ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے تو وزیر اعظم آفس بھی موجود ہے، وزیراعظم نے زراعت سے متعلق بھی تعاون پرگفتگو کی ،چینی سرمایہ کاروں کو سی پیک اٹھارٹی میں بلایا،سی پیک کے تحت منصوبوں کے لیے ای سی سی نے 100 بلین منظور کیے ،50 بلین دےدیاگیا باقی 50 بلین اسی ماہ دیا جا ئےگا،

    خالد منصور کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اور چینی صدر کی ملاقات مثبت رہی ،کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ منصوبے کیلئے کے پی ٹی چینی کمپنی کیساتھ ملکر کام کریگی،چین کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ منصوبے پر ساڑھے 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے،کراچی کی مچھر کالونی جدید ترین رہائشی منصوبے میں تبدیل ہوگی، چینی کمپنیاں پاکستان میں موبائل فونز کے سپئرپارٹس بھی تیار کریں گی،چائنا الیکٹرک کمپنی مزید پاور پلانٹ میں 2 سے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے،چینی کمپنی نے وزیراعظم کے 50لاکھ گھروں کے منصوبہ میں کام کرنے کی دلچسپی ظاہر کی،چینی کمپنی پہلے5 ہزار گھر وزیراعظم کے منصوبے کے مطابق شروع کرے گی،

    قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دورہ کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ دورہ چین کی کامیابی کا مظہر ہے،وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران بہت نشستیں ہوئیں، چینی صدر سے ملاقات انتہائی جامع نوعیت کی تھی، وزیراعظم اور وفد کی تھنک ٹینکس کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں،افغانستان سے متعلق چین کے ساتھ مشاورت رہی ہے، مارچ کے آخر میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا اجلاس بیجنگ میں بلایا جائے گا، اجلاس میں افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ بھی مدعو کیے جائیں گے اسپائیلرز ، سی پیک کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے امن دشمن قوتوں نے سی پیک پر کام کرنے والے انجینئرز کو نشانہ بنایا تھا،یہ اسپائیلرز اپنی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، بی جے پی سرکار کی منفی پالیسیاں ہندوستان کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہیں،ہندوستان میں ایک بہت بڑا طبقہ بی جے پی کی سوچ کے برعکس سوچ رہا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ بی جے پی سرکار نے ہمیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے،روس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے،

    اور مولانا فضل الرحمان نے سی پیک روٹ کا افتتاح کر دیا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

  • چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی      حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :‘چین کےصدر سے ملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین کےصدرشی جن پنگ سےملاقات شاندار رہی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر سےملاقات کی فوٹیج کےساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی ہم نے اسٹرٹیجک اوراقتصادی تعلقات کومزیدفروغ دینےپر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ ملاقات میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تیزی لانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ دونوں عالمی رہنماؤں کی ملاقات بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں ہوئی، اکتوبر 2019میں وزیراعظم کے دورہ چین کےبعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم عمران خان نے اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چینی قیادت کو مبارکباد دی اور چین کے نئے قمری سال پر چینی عوام کے لئےنیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کو چینی میڈیا بہت اہم قراردے رہا ہے اور یہ توقع کی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی ، خارجہ اور اقتصادی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں ، چینی صدر وزیراعظم عمران خان کی گفتگو سُن کر بہت ہی متاثر ہوئے ہیں

  • وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کیا ہوئیں راز کی باتیں؟اعلامیہ جاری ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کیا ہوئیں راز کی باتیں؟اعلامیہ جاری ہوگیا

    اسلام آباد/ بیجنگ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم آفس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2019 میں وزیراعظم کے دورہ چین کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں 24 ویں اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی، اور چینی نئے قمری سال پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین پاکستان کا ثابت قدم ساتھی، بہترین حامی اور آئرن برادر ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی آزمائشوں کا مقابلہ کیا، دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے میں شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی اور قومی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے میں امن و استحکام کی عکاس ہے

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا، اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی مسلسل حمایت اور مدد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی سے بہت فائدہ اٹھایا۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن سے عالمی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات ناقابل تسخیر چیلنجز ہیں، ان چیلنجز سے صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے بھارت کےغیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی ہندوتوا ذہنیت، ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفاد کے تمام امور پر پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کو فروغ دے گا، اور دونوں رہنماوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے میں افغان عوام کی فوری مدد کرے۔ پاک چین سربراہان نے صنعتی تعاون، خلائی تعاون، اور ویکسین کے تعاون پر مشتمل متعدد معاہدوں پر دستخط کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

  • وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر،   مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    بیجنگ: وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیراعظم ،قطری امیر،مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں ان سے چینی وزیراعظم ،امیر قطر،مصری ارو ازبک صدرسمیت بڑے بڑے عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ ملاقاتیں اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہیں‌

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

     

    فواد چودھری نے مزید لکھا کہ دونوں ملاقاتوں میں کشمیر اور افغانستان گفتگو کے اہم موضوعات رہے، چین پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم

     

     

     

    عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، وزیراعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

     

     

     

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تزویراتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

    وزیراعظم عمران خان دورہ چین کے دوران دارالحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چائنہ انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمینز سے آن لائن ملاقات کی۔ آن لائن ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کےشعبے کی بہتری اورسرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔

     

     

    دوسری جانب دورے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب جا رہاہے، چین کے صدر اور وزیراعظم سے معاشی، تجارتی تعاون پر بات ہوگی۔

    اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصری صدر عبد الفتح السیسی اور قطری امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملاقات کی۔

     

     

     

    وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں ازبک صدر سے ملاقات ہوئی، سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پرملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

     

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان شراکت داری کے فروغ کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو فعال کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیےبراہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا، دونوں رہنماوں کاعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    اُدھر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہماری چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہو رہی ہیں جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود ان کی براہ راست بات بھی سن رہےہیں اور جو نکات وہ اٹھارہے ہیں ان کا جواب اور تمام وزارتوں کو اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے احکامات جاری بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چینی وزیراعظم لی سے ملاقات بھی کررہے ہیں اور پاکستان جن شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے درخواست کررہا ہے ان پر بھی غور ہو گا ۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتوار کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان یہی نکات اٹھائیں گے ۔امید ہے کہ اس دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی کل چین کے صدرشی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی، چین نے ہمیشہ ہرمشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری

    بیجنگ : کئی ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود، بیجنگ سرمائی اولمپکس کی رنگارنگ مقابلے جاری،اطلاعات کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کا آغاز رنگارنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا، جس میں کئی ممالک کے سربراہ شریک ہوئے۔

    سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ازبکستان کے صدر اور دیگر ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

    کوویڈ-19 کے خطرات کے باوجود سخت قواعد کے ساتھ سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا، اس کے علاوہ امریکا سمیت متعدد ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

    سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے جن ممالک نے افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے سرکاری نمائندے نہیں بھیجے ان میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سرفہرست ہیں۔

    افتتاحی تقریب کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے چیئرمین تھامس بیچ کے برڈز نیسٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوتے ہی ہوا جہاں گیمز میں شریک 91 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔

    بیجنگ سرمائی اولمپکس کے ڈائریکٹر ژینگ یمو ہیں جنہوں نے بیجنگ سمر گیمز 2008 کے انتظامات بھی کیے تھے۔

    افتتاحی تقریب میں 3 ہزار فنکاروں نے سرمائی اولمپکس میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو بیجنگ اور قریبی صوبے ہیبے کے عام فنکار تھے اور اس کا عنوان ‘اسٹوری آف سنوفلیک’ تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    بیجنگ:وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے طے پا گئے۔اور یہ سارے معاہدے پہلی ملاقات میں طئے پاگئے ابھی دو دن باقی ہیں‌، امید ہے کہ اور بھی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوں گے

    گوادر میں سٹیل ری سائیکلنگ کے لیے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا، زرعی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کے لیے چائنا مشنری انجینئرنگ کارپوریشن ایک سنٹر قائم کرے گی۔ سی ایم ای سی نے کراچی میں 2 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی اسٹوریج میں بھی دلچسپی دکھائی۔

    50 ملین ڈالر زرعی ٹیکنالوجی اور 500 ملین ڈالرز ایل این جی سٹوریج پر سرمایہ کاری ہو گی۔ چین کی ایک اور کمپنی نے فوجی فرٹیلائزر کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط کردیے۔ رائل گروپ بفلو فارم کے قیام کے لیے 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رائل گروپ دودھ کی پراسسنگ میں بھی 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ چیلنج فیشن نے 250 ملین ڈالر کی لاگت سے فری اکنامک زون کے لیے مزید 100 ایکڑ زمین خرید لی۔ اس سرمایہ کاری سے برآمدات میں سالانہ 400 ملین اضافہ ہوگا اور 20 ہزار نوکریاں پیدا ہونگی۔

    سی آر بی سی کراچی پورٹ ٹرسٹ کی شراکت سے ساڑھے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ دونوں گروپوں کے اشتراک سے کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون قائم کیا جائے گا۔ نیو سوفٹ میڈیکل سسٹم میڈیکل کے میدان میں مصنوعی ذہانت پر 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ نیو سوفٹ مزید 170 ملین ڈالر کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ہنان سن واک کنسٹرکشن گروپ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے 1 لاکھ کلومیٹر لمبی فائبر آپٹکس کیبل بچھائے گا، گلوبل سیمی کنڈکٹر گروپ 40 ملین ڈالر کی لاگت سے سکلز ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کرے گا، اس سرمایہ کاری سے ایک لاکھ سے زائد نوکری کے مواقع میسر آئیں گے۔

  • بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بیجنگ: بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے: وزیراعظم عمران خان کی چین میں پالیسی سازوں سے گفتگو ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے چینی معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات کی، اور پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے، مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، اگلے مرحلے میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زبردست مراعاتی پیشکش فراہم کر رہا ہے، بے شمار عالمی چیلنجوں کے پیش نظر دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان کا نظریہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں تصادم کے بجائے تعاون ہونا چاہیے، پاکستان نے ماضی میں بھی پل کا کردار ادا کیا تھا اور دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    قومی سلامتی کی پالیسی کا بھی ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے اقتصادی سلامتی کو بنیادی اہمیت دی ہے، یہ وژن روابط اور ترقیاتی شراکت داری پر مبنی ہے جس کے لیے پاک چین شراکت داری ناگزیر ہے۔

    امن، ترقی کے لیے پاکستان اور چین کی افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے، عالمی برادری افغانیوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑے۔

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا