Baaghi TV

Tag: چین

  • امریکہ ، چین کے اعلی سفارت کاروں نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ، اختلافات کو ظاہر کیا

    امریکہ ، چین کے اعلی سفارت کاروں نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ، اختلافات کو ظاہر کیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور امریکہ اور چین کے تعلقات کو کشیدہ کرنے والے متعدد اہم امور پر بات کرنے کے بعد ، اعلی امریکی اور چینی سفارت کاروں نے ہفتے کے روز ممالک کے مابین پہلے بڑے تبادلے میں بات کی۔

    چین کے اعلی سفارتکار یانگ جیچی اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فون پر دونوں ملکوں کے مابین کشیدہ اپور پر دوطرفہ تعلقات میں تبادلہ خیال کیا ، خاص طور پر ایوغر اقلیت کے گھر سنکیانگ کی صورتحال جس پر مغرب کے ساتھ ساتھ کئی ممالک مثلا ہانگ کانگ اور تائیوان نے بھی شدید تنقید کی جاتی ہے، پر بات کی-

    ان دونوں بیانات نے ان ممالک کے مختلف مقام پر کھڑے ہونے کی تصدیق کی ، جو ہانگ کانگ میں تجارت سے لے کر بیجنگ کے کریک ڈاؤن کے معاملات پر تصادم کرتے رہے ہیں ، جو خود حکومت والے جمہوری تائیوان کے لئے امریکی حمایت میں اضافہ کرتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے تعلقات گذشتہ چند سالوں میں مزید ​​کم ہوچکے ہیں ، جس کے ایک حصے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی تھی اور اس پر کورونا وائرس وبائی بیماری کا الزام عائد کیا تھا جس سے عالمی سطح پر 20 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بلنکن نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا "چین تایوان آبنائے سمیت پورے بحر الکاہل میں استحکام کو خطرہ بنانے کی کوششوں کے لئے جوابدہ ہے-"انہوں نے کہا کہ ریاست ہائے متحدہ کے محکمہ کے بیان کے مطابق ، ریاستہائے متحدہ سنکیانگ ، تبت ، اور ہانگ کانگ سمیت انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے لئے کھڑا رہے گا۔ یانگ نے کہا کہ اس وقت ، "چین-امریکہ تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں۔” ریاستہائے شنہوا نیوز ایجنسی کے حوالے سے ان کا یہ بیان نقل کیا گیا کہ ، "چینی حکومت کی امریکہ کے بارے میں پالیسی نے ہمیشہ اعلی درجے کے استحکام اور تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔”

    انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ "وقفہ وقفہ سے کی گئی غلطیوں کو دور کریں اور عدم تنازعہ ، عدم تصادم ، باہمی احترام ، اور جیت کے تعاون کے جذبے کو برقرار رکھنے اور تعاون پر توجہ دینے ، اختلافات کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ فروغ دینے کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کریں۔ چین امریکہ سے صحت مند اور مستحکم ترقی تعلقات چاہتا ہے.” سنہوا کی خبر کے مطابق ، چینی فریق نے کہا کہ سنکیانگ ، ہانگ کانگ اور تبت سخت داخلی معاملات ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔یانگ نے تائیوان کے مسئلے کو "امریکہ اور چین کے مابین” انتہائی حساس ، انتہائی اہم اور بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے ماتحت ، ریاستہائے مت .حدہ نے خود ساختہ جزیرے کے ساتھ اسلحہ کی فروخت اور سرکاری تبادلے میں اضافہ کیا ، جس کا دعویٰ ہے کہ اگر ضرورت ہو توچین اسے طاقت کے ذریعے دوبارہ اپنا حصہ بنا لے گا۔ سن 2020 میں ، چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر جزیرے کی طرف لڑاکا طیارے روانہ کیے ، جس سے ہراساں کرنے کی اہدافی مہم کو آگے بڑھایا گیا۔ یانگ نے اس ہفتے کے شروع میں جب ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین تعلقات کے بارے میں با اثر امریکی قومی کمیٹی سے بات کی تھی تو انھوں نے مثبت لہجہ ظاہر کیا تھا-۔

    انہوں نے دونوں کے مابین اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ، "ان پر مناسب طریقے سے قابو رکھنا اور دوطرفہ تعلقات کی مجموعی ترقی میں مداخلت کی اجازت نہ دینا بہت ضروری ہے۔” بلنکن نے خصوصی طور پر چین سے میانمار میں فوجی بغاوت کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ یانگ نے اس کے جواب میں ، اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو میانمار کے مسئلے کے مناسب حل کے لئے ایک اچھا بیرونی ماحول پیدا کرنا چاہئے۔ چین نے میانمار کی کانوں ، تیل اور گیس پائپ لائنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شریک ہے۔

  • چین کے ثقافتی سنٹر کی جانب سے تقریبات کا آغاز

    چین کے ثقافتی سنٹر کی جانب سے تقریبات کا آغاز

    اسلام آباد. پاکستان میں قائم چین کے ثقافتی سینٹر کی جانب سے، چین کے نئے سال کی سلسلہ وار ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد شروع کر دیا گیا ہے تقریبات کا آغاز گزشتہ روز ایک بڑے پروگرام سے ہوا یہ تقریبات 12 فروری تک چائنہ کلچرل سینٹر پاکستان کے آفیشل فیس بک بیج پر بھی دیکھی جاسکیں گی۔
    https://www.facebook.com/cccenterinpak/

    چین کےنئے سال کو جشن بہاراں میلہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ 4000 سال سے زیادہ ہے۔ یہ تہوار 12 ویں قمری مہینے کے آخری دن کی شام سے لے کر نئے قمری سال کے 15 ویں دن تک منایا جاتا ہے۔ چینی عوام نئے سال کو اپنے خاندان کے ساتھ مل جل کر گزارتے ہیں۔

    پاکستان میں چین کے ثقافتی سینٹر کی جانب سے مختلف آن لائن پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ہے ان میں "پیپر کٹنگ” ، "چینی نئے سال کی ورچوئل نمائش” ، "لونگ چھوان سیلادن ٹور” ، "آئس شو” اور تقافتی رقص وغیرہ شامل ہیں۔
    یہ سال پاکستان میں چائنا کلچرل سنٹر اور جنوبی چین کے صوبہ جیانگسی کے محکمہ ثقافت و سیاحت کے مابین تعاون کا سال بھی ہے۔

    اس کے علاوہ چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے، پاکستان میں چائنا کلچرل سنٹر بھی متعدد بھرپور اور متنوع ثقافتی تقریبات کی میزبانی کرے گا۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    اس وقت دنیا بھر میں چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس موضوع بحث ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس پر رپورٹنگ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرہ اگر کسی چیز سے ہے تو وہ کورونا وائرس ہے . کورونا وائرس نے چین کے ایک بڑے شہر ووہان سے جنم لیا ہے. تفصیلات کے مطابق ساؤتھ چائنہ کی سی فوڈ مارکیٹ اس وائرس کی برتھ پلیس بتائی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور چونکہ چین میں چمگادڑ، چوہے اور خرگوش وغیرہ ہر چیز ہی کھائی جاتی ہے اور عین ممکن ہے کہ جانوروں سے ہی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے. اس سے قبل ماضی میں بھی چین کے اندر کرونا سے ملتے جلتے سارس نامی وائرس سے 2002 اور 2003 میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 تھی. اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کرچکی اور جبکہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہوچکی ہے. دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پل پل کو کوریج دے رہے ہیں اورصحت کے سبھی عالمی ادارے اس جو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں. سبھی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور دیگر ممالک میں موجود چینی شہریوں کو کرونا وائرس کا منبع سمجھ کر ان کے ساتھ میل جول سے احتیاط برتی جا رہی ہے. چین کے بڑے شہروں میں ہو کا عالم ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر ووہان میں لوگ گھروں دبک کر بیٹھے ہیں.
    بظاہر تو یہ وائرس ایک آفت اور بیماری نظر آرہا ہے مگر دنیا میں کچھ حلقے اس کو صرف وبائی مرض یا خود ساختہ وائرس ماننے کو تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک بائیولوجیکل ویپن ہے جو چائنہ جیسی معاشی سپر پاور کو کنٹرول کرنے اور اس کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ اس طرح کے بائیولوجیکل ویپن یا وائرس کو استعمال کرکے مطلوبہ ملک کو تنہائی کا شکار کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے. کرونا وائرس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات بھی اس خدشے کو تقویت دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ماضی میں ایبولا، زیکا، نیپا، ایم آئی آر ایس، ڈینگی وغیرہ بیسیوں وائرسز آتے رہے جن سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں اس قدر ڈنکا نہیں بجا اور نہ ہی کسی ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جیسے چین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ووہان سمیت چین کے بڑے شہروں میں بالکل سناٹا ہے کہیں کوئی انسان نظر نہیں آتا یہ منظر بالکل دو ہزار اٹھارہ میں نیٹ فلکس کی امریکی مووی Bird Box کی طرح کا نظر آرہا ہے. اس طرح دیگر کئی پرانی انگلش موویز میں ایسے مناظر فلمائے جاتے رہے ہیں جو آجکل چین میں نظر آرہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان موویز میں بھی یہ حالات مختلف وائرسز وغیرہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں. اسی طرح چین کو معاشی حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور کار کمپنیز نے اپنے آپریشنز اور کاروبار عارضی طور پر بند کردیے ہیں جس کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کو پندرہ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ نقصان 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ چین کی برآمدات وغیرہ سبھی ہوائی اور بحری اڈوں پر رک چکی ہیں.ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کے اس شدید معاشی نقصان کا فائدہ کن کو ہوگا اور سنجیدہ حلقے اسی بنیاد پر کرونا کو چین کے حریفوں کا چین پر حیاتیاتی حملہ یا بائیولوجیکل وار قرار دے رہے ہیں اس موقف کو امریکی سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس کا عجیب و غریب انٹرویو بھی تقویت دے رہا ہے ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس انٹرویو پر ان کے مخالفین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے.
    کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے.

  • چین دنیا کوپیچھےچھوڑگیا ،30منزلہ ہوٹل 2ہفتوں میں تعمیرکردیا

    چین دنیا کوپیچھےچھوڑگیا ،30منزلہ ہوٹل 2ہفتوں میں تعمیرکردیا

    بیجنگ:چین دنیا کوپیچھےچھوڑگیا،30منزلہ ہوٹل 2ہفتوں میں تعمیرکردیا،اطلاعات کے مطابق چینی ماہرین تعمیرات نے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپوراستعمال کرتے ہوئے 30 منزلہ ہوٹل صرف 2ہفتوں میں مکمل کرکے ایک ریکارڈ قائم کردیا ہے،

    چینی ماہرین تعمیرات کی اس سحرانگیزٹیکنالوجی کے بارے میں اہم رپورٹ روسی نیوز ایجنسی رشین ٹوڈے نے شائع کی ہے، مشہورروسی نیوز ایجنسی رشین ٹوڈنے نے چینی انجنیئروں کی کاوش کی ایک نایاب وڈیوبھی جاری ہے، جس می چینی ماہرین تعمیرات جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بلاک کی صورت میں بڑی تیزی سے اس ہوٹل کی تعمیر کو مکمل کرکے دنیا کوحیران کردیتے ہیں‌

    پاک فوج کے تعاون سے بننے والے ڈراما سیریل”عہد وفا”نے بھارت میں مقبولیت…

    ذرائع کے مطابق چین آج کل نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہ صرف ایشیا میں بلکہ یورپ اور مغرب میں اپنا مقام بنا رہا ہے،اس سے پہلے بھی چینی ماہرین تعمیرات کئی ایسی عمارتیں تعمیر کرکے دنیا کو حیران کرچکا ہے

    پہلے نیا وزیراعظم آئے گاپھرترمیم ہوگی اورابوجیل سے باہرہوں گے،بلاول بھٹو

  • تبت میں مداخلت کیلئے امریکہ اقوام متحدہ کواستعمال کررہا ہے، چین

    بیجنگ :امریکہ اور چین کے درمیان پھرسفارتی جنگ تیز ہونے نظر آرہی ہے، اطلاعات کے مطابق چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، تبت میں ‘مداخلت’ کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے۔

    سیکورٹی اداروں نےبتایا کہ حافظ حمداللہ افغانی ہیں اورشہریت کے لبادے میں پاکستانی ہیں ،اعظم سواتی

    امریکہ کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براؤن بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اس پر چینی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے’۔

    بے وطن فلسطینی امریکی پارلیمنٹ کا رکن منتخب

    چین نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ‘مذہبی آزادی کی آڑ میں چین کے اندورنی معاملات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے’۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے بیجنگ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے انہیں ناکامی ہوگی اور عالمی برادری کی جانب سے بھی اس کی مخالفت ہوگی’۔

    کلاشنکوف کے موجد میخائل کلاشنکوف نے سنچری مکمل کرلی

  • جھیل میں انسان نما چہرے والی مچھلی،دیکھنے والے پریشان بھی حیران بھی

    بیجنگ : چین میں انسانی چہرے سے مشابہت رکھنے والی مچھلی نے دیکھنے والوں کو پریشان بھی کردیا اورحیران بھی ، اطلاعات کےمطابق سوشل میڈیا پرانسان نما چہرے والی مچھلی کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس نے صارفین کو حیران کردیا ہے۔آپ نے کارٹون اور اینیمیٹڈ فلموں تو انسان نما چہرے والی مچھلی یقیناً دیکھی ہوگی لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر حقیقت میں ایک ایسی مچھلی کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس کا انسان نما چہرہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنوبی چین کے شہر کنمنگ کے قریب واقع ایک گاؤں کی ہے جس کے جھیل میں موجود اس عجیب و غریب خلقت کی فوٹیج کو ایک سیاح نے اپنے کیمرے میں قید کیا۔

    9-نومبرسکھوں کی تاریخ کا بھی حصہ بن گیا تاریخ ساز کرتارپور راہداری کے افتتاح کے مناظر

    انسان نما چہرے والی مچھلی کی ویڈیو چین کی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو کر شیئر کی گئی، جس میں مچھلی کو ایک جھیل کے کنارے پانی کی سطح پر تیرتے اور سر ہلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔اس وقت سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں اس ویڈیوکو دیکھا بھی جارہاہے اور شیئر بھی کیا جارہا ہے

    سپریم کورٹ کے ہندووں کے حق میں فیصلے سے حوصلہ ملا،اسی کی تناظر میں آگے بڑھیں گے:مودی

    ویڈیو شیئر کرنے والے صارف کے مطابق مچھلی کے سر دو سیاہ نقطے ہیں جو بظاہر انسانی آنکھوں نما نظر آتے ہیں اور دو لکیریں نیچے کی جانب ہیں جو انسانی ناک جیسی لگتی ہیں جبکہ ایک لکیر انسانی منہ کی شبیہ بنا رہی تھی۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ سنہ 2010 میں ایک 44 سالہ برطانوی شہری نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس موجود مچھلی انسان نما شکل اختیار کرلی ہے۔

  • دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    بیجنگ :جنوبی ایشیا میں چین نے اپنا بھر پور کردار اداکرنا شروع کردیا ، اطلاعات کےمطابق ، نیپال کے صدر بھنڈاری نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے، دوسری طرف چین کے صدر شی جن پنگ نے نیپال کو اگلے دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

    نواز شریف نےخط میں مولانا فضل الرحمن کے لیا خاص باتیں لکھیں‌ ؟

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی جانب سے نیپال کی ترقیاتی کاموں کے لئے اگلے دو برسوں کے دوران یہ رقم میزبان ملک کو دی جائے گی،چین کے صدر شی جن پنگ نے نیپالی وزیر اعظم خادما پرساد شرمااولی سے بھی کٹھمنڈو میں ملاقات کی۔

    پہلے ڈرے نہ اب خوفزدہ ہوں گے،بھارت اپنے انجام کے لیے تیار رہے ؛فاروق حیدر

    دوسری طرف اپنے صدر کا ساتھ نبھاتے ہوئے نیپالی وزیر اعظم نے کہا کہ نیپال چین کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھر پور حمایت کرتا ہے اور ایک چین کے اصول کی حمایت پر مضبوطی سے کاربند ہے ،نیپال کسی بھی قوت کو نیپال کی سرزمین کو چین مخالف علیحدگی پسند سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔

    اھلاوسھلا:ہم پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں ، ایران

    شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین کے کسی بھی حصے میں علیحدگی کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چین کے عوام کے نزدیک کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے چین کو تقسیم کرنے کی خواہش دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔یاد رکھے کہ اس وقت چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ امریکہ اور اتحادیوں کو بہت پریشانی ہے

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab