Baaghi TV

Tag: چین

  • پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    پی سی آئی ویبینار: 9 ایشیائی ممالک نے چین کی ’ویکسین ہیومینٹیرینزم‘ کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

    اسلام آباد: پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ(پی سی آئی) نے علاقائی اقتصادی رابطے پر ایک غیر معمولی نوعیت کا حامل 9 ملکی کانفرنس کی میزبانی کی جس کا موضوع ’’بیلٹ اینڈ روڈ تعاون: عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا‘‘ تھا۔اس ویبینار میں پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کی "فرینڈز آف سلک روڈ” تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ انڈونیشیا، فلپائن اور چین کے تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس ویبینار میں مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ ‘ایشیائی صدی’ میں تعمیر و ترقی کے لیےبی آر آئی کی ضرورت ہے اورکثیر جہتی تعاون کو مضبوط بنانے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کو فروغ دینے پر زور دیا کیونکہ یہ ایشیائی ممالک کے مشترکہ مفادات کا ترجمان ہے۔ انہوں نے ثفافتی تبادلے اور مشاورت کے ذریعے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو(بی آر آئی) کی اعلیٰ معیار ی ترقی کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ 9 ممالک کے مقررین نے اپنی تقاریر میں ادارہ جاتی تعاون، ڈس انفارمیشن اور من گھڑت خبروں کا مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا اور ‘نئی سرد جنگ’ کے تصور کو سختی سے مسترد کیا۔

    اس ویبینار کی نظامت کے فرائض پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے ادا کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ "شاہراہِ ریشم کے دیرینہ دوست پاکستان” نے 2019 میں اپنے آغاز کے بعد سےسی پیک کے ذریعے بی آر آئی سے حاصل ہونے والے فوائد اور متعدد مواقعوں کے بارے میں بہتر تفہیم اور معلومات فراہم کیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے ترقی پذیر ممالک میں انسانی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک متبادل ترقیاتی ماڈل فراہم کیا ہے جو بی آر آئی سے پہلے مغرب اور اس کے اداروں پر منحصر تھے۔ انہوں نے بی آر آئی کو عوام پر مبنی ترقی پر مبنی اتفاق رائے پر مبنی پہل کاری قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائینہ کی گزشتہ ماہ منعقد ہونے والےچھٹے مکمل اجلاس کے دوران ایک تاریخی قرارداد پاس کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیا جس نے مستقبل کے لیے ایک واضح وژن فراہم کیا ہے۔

    سینیٹ کی دفاعی کمیٹی اور پاکستان چائینہ انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پیک اوربی آر آئی کے ذریعے سےعوام کو ثمرات حاصل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی کسی ملک کے خلاف نہیں اور اسے وِن -وِن تعاون ماڈل کا حامل قرار دیا کیونکہ یہ جامع ہے اور اس کا مقصد رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ سال 2021 چین کی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک اہم سال تھا کیونکہ اسے سی پی سی کی سو سالہ سالگرہ کے طور پر منایا گیا اور اسی سال چین نے غربت کا مکمل خاتمہ کیا۔ انہوں نے چین کی کووڈ- 19وبا پر قابوپانے کی کامیاب حکمت عملی اور دیگر ممالک کو اس سے بچانےکے لیے ویکسین کی فراہمی کو قابلِ تعریف دیاجس کے سبب لاکھوں انسانی جانیں بچ گئی ۔نیز انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات میں چین کی قیادت کی بھی تعریف کی۔

    اس ویبینار میں چین کی رینمن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ ییوئی نے کہا کہ کووڈ-19 وباکے بعد کا دور زندگی کو’نئے معمول’ کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اس مشکل وقت میں کثیرالجہتی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور بی آر آئی کو کثیرالجہتی کو آگے بڑھانے کے بہترین محرک کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چین کی زیرو کول پالیسی کا بھی خیرمقدم کیا جو چین نے برقرار رکھا اور اس سے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے بچاؤمیں بھی مدد ملے گی۔

    نیپال کے "فرینڈز آف سلک روڈ کلب” کے جنرل سکریٹری کلیان راج شرما نے اس موقع پر کہا کہ بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چین اور نیپال کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور نیپال کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار اب بی آر آئی پر منحصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ ان تعلقات کو آگے بڑھانے کی تحریک16-2015 میں ہندوستان کی طرف سے غیر اعلانیہ ناکہ بندی کے بعد ملی۔

    بنگلہ دیش چائینہ سلک روڈ فورم” کے چیئرمین دلیپ باروا نے بھارت اور مغربی ممالک کی جانب سے پھیلائے جانے والے بی آر آئی مخالف پروپیگنڈے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی آر آئی کو صدر شی جن پنگ کا معاشی ماسٹر اسٹروک قرار دیا جس سے ایشیا میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بی آر آئی کے بارے میں مثبت تاثر پایا جاتا ہےکیونکہ بنگلہ دیش کو اس پہل کاری کے فوائد حاصل ہونے کا آغاز ہوا ہے ۔

    اس ویبینار میں تھائی چائنیز کلچر اینڈ اکانومی ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل دارات پوچمونگکول نے کہا کہ تھائی لینڈ چین کے ساتھ اپنے تعلقات خاص طور پر بی آر آئی کے ضمن میں مزید مضبوط کر رہا ہے کیونکہ اس سے تھائی عوام فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

    شینزن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف گلوبل گورننس اینڈ ایریا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈائی یونگ ہونگ نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال سبز ترقی کو آگے بڑھانے، سبز کاروباری طریقوں کو اپنانے اور انسانی ترقی کو فروغ دینے کی متقاضی ہے۔ امریکہ جس ا یک قطبی دنیا کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ ختم ہو رہی ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے۔ اس کثیر قطبی دنیا میں بی آر آئی انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پاتھ فائنڈر فاؤنڈیشن سری لنکا کی سینئر محقق پروفیسر گائتری ڈی زوئیسا نے اس موقع پرکہا کہ سری لنکا بی آر آئی کے اہم شراکت دار ممالک میں سے ایک ہے اور بی آر آئی کے آغاز کے بعد سے چینی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ کولمبو پورٹ سٹی پروجیکٹ چین سے 100فیصد ایف ڈی آئی کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے درمیان تعلیم، سائنس اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملائیشیا چائینہ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر جی پی دوریسامی نے کہا کہ ملائیشیا کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ-لیننسٹ) کے پولیٹیکل بیورو ممبر آنند پرساد پوکھرل نے ٹرانس ہمالیائی ملٹی ڈائمینشنل کنیکٹیویٹی نیٹ ورک کے بارے میں بات کی جو کہ بی آر آئی کے ایک خاص حصے کے طور پر نیپال اور چین کے درمیان ایک اقتصادی راہداری ہے اور یہ نیپال کی تعمیر و ترقی کا ایک تاریخی موقع ہے۔ بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود 2017 میں دونوں ممالک کے مفاہمت ناموں پر دستخط کے بعد سے نیپال میں بی آر آئی منصوبوں کی اعلیٰ معیار ی ترقی کا سفر جاری ہے۔

    ایشیا پروگریس فورم کولمبو کےکنوینر پروفیسر کے ڈی این ویرا سنگھے نے اس دوران کہا کہ بی آر آئی شراکت دار ممالک کی اقتصادی بحالی کا موجب بنا ہے۔ انہوں نے چین اور سری لنکا کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالی جو صدیوں پرانے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    انڈونیشیائی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کی ویرونیکا ایس سرسوتی نے کہا کہ جس طرح سے چین نے عالمی وباپر قابو پایا ہے اسے دوسرے ممالک نمونہ عمل کے طور پر لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر آئی نے چین اور شراکت دار ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کو ممکن بنایا ہے۔ آسیان ممالک میں بی آر آئی کے منصوبے پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔

    فلپائن-برکس اسٹریٹجک اسٹڈیز کے بانی ہرمن لارل نے چین کی ویکسین انسان دوستی کی تعریف کی جس نے وباکے پھیلاؤ کو روکنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
    اس ویبینار میں شرکاء نے ڈیجیٹل شراکت داری کے ذریعے اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی بنانے پر اتفاق کیا۔ آخر میں سینیٹر مشاہد حسین نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا کہ چین کے خلاف امریکہ کے مہمات کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال 2020 میں چین نے 1.5 ارب سمارٹ فونز،250 ملین کمپیوٹرزاور 25 ملین کاریں تیار کرتے ہوئے دنیا کے ہائی ٹیک مینوفیکچرر کے طور پر امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • "کوچ”کےغیرملکی کوچ سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے     ساتھ ساتھ ریجن کےلیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری

    "کوچ”کےغیرملکی کوچ سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے ساتھ ساتھ ریجن کےلیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری

    لاہور:”کوچ "کےغیرملکی کوچ سب سُن لیں :نوازشریف پاکستان کے ساتھ ساتھ ریجن کے لیے بھی ان فٹ ہوچکے:فوادچوہدری نے نوازشریف کے مستقبل کے حوالےسے چُھپی ہوئی بات افشاں کردی ،اطلاعات کے مطابق کڑوی مگرسچ بات کی وجہ سے مخالفین کے دلوں میں کھٹکھٹنے والے وفاقی وزیرفواد چوہدری نے ایسی بات کہہ دی کہ جس کے بعد نوازلیگیوں کو بھی یقین ہونے لگا ہے

    نوازشریف کی سوشل میڈیا ٹیم کی طرف سے چند پیڈ اخبارات اور ٹی وی چینلز پرایک اسی مہم چلائی جارہی ہے جس میں‌ یہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں یہ تاثردیا جارہا ہےکہ شاید کہ نوازشریف کی ڈیل ہورہی ہے

    نوازشریف کی ہدایت پرنواز لیگی سوشل میڈیا ٹیم کی اس مہم کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نوازلیگیوں اوران کے بڑوں کو یہ معلوم ہوجانا چاہیے کہ نوازشریف اب نہ صرف پاکستان کے لیے ان فٹ ہوچکے ہیں بلکہ ریجن کےلیے بھی ان فٹ قراردیئے گئے ہیں‌

    فواد چوہدری نے اس حوالے سے اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوشخص ملکی اداروں کے گریبان پکڑے ،ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ریوے اختیار کرے وہ کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے ،اور یہی حتمی اور بلاشبہ صورت حال ہے، ان کا کہنا تھا کہ پھر ایک ایسا شخص قومی مجرم بھی اور ملک کولوٹ کراربوں ڈالرز لے کرفرارہوچکا ہے اس کو نواز لیگ تو قبول کرسکتی ہےلیکن قوم اور قومی ادارے تو یہ تصور بھی نہیں کرسکتے

    ایک اور بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے بیان میں نوازلیگ کو انہیں خودساختہ بیانات کی وجہ سے آڑے ہاتھوں لیا ہے ،ٹوئٹر پر جاری بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ جو وطن واپسی کے لیے ڈیلوں کا انتظار کررہے ہیں وہ سیاست میں بونے ہی رہیں گے۔

     

    فواد چوہدری نے کہاکہ (ن) لیگ والے بوٹ پالش کا سامان لیے کھڑے ہیں، کوئی بوٹ آگے نہیں کررہا۔

    وزیر اطلاعات کا (ن) لیگ کے حوالے سے کہنا تھا کہ آپ پاکستان کا تاریک دور ہیں اور ہواؤں کا رخ اب آپ کا نہیں، روشنی ہوجائے تو تاریکی ختم ہوجاتی ہے اورپاکستان میں یہ ہی ہوا۔

     

     

  • انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    ماہرین نے چین میں ڈائنوسار کا ایسا فوسل دریافت کیا ہے جس میں ڈائنوسار انڈے سے نکلنے کےلیے تیارتھا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق، سائنسدانوں نے چین کے شہر گینژو میں ڈائنوسار کا ایسا ایمبریو دریافت کیا ہے جس میں سے ڈائنوسار مرغی کے چوزے کی طرح انڈے سے نکلنے کو تیار تھا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا یہ ایمبریو اندازاً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قدیم ہے اندازہ ہے کہ یہ بغیر دانتوں والا ایک ’تھیروپوڈ یا اوویریپٹرسار‘ ہے جبکہ اس کا نام ’بے بی ینگلیانگ‘ رکھا گیا ہے ینگلیانگ سر سے دُم تک 10.6 انچ لمبا ہے اور یہ 6.7 انچ لمبے انڈے کے اندر موجود ہے۔ نودریافتہ فوسل کو چین کے ’ینگلیانگ اسٹون نیچرل ہسٹری میوزیم‘ میں رکھا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    اوویریپٹرسارز یعنی ’انڈہ چور چھپکلیاں‘ درحقیقت پروں والے ڈائنوسار تھے جو کریٹیشیئس دور کے اواخر، یعنی 10 کروڑ سال قبل سے چھ کروڑ 60 لاکھ سال کے درمیان، موجودہ ایشیا اور برِاعظم شمالی امریکا میں پائے جاتے تھے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس دریافت نے ارتقائی ماہرین کو ڈائنوسار اور آج کے پرندوں میں تعلق کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں فوسل کی صورت میں موجود ایمبریو خم دار صورت میں ہے جسے ’ٹکنگ‘ کہا جاتا ہے پرند وں میں ایسا انڈے سے نکلنے سے عین پہلے دیکھا جاتا ہے۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    اس سے قبل اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے تھے ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہےجو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

  • سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے،امریکی حساس اداروں کا دعویٰ

    سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے،امریکی حساس اداروں کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی حساس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے چین کی مدد سے بیلسٹک میزائل بنانا شروع کردیئے ہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی اس رپورٹ کی خبر جُمعرات کو امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ پر نشر کی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کمیٹی سمیت متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں کے امریکی حکام کو حالیہ مہینوں میں خفیہ انٹیلی جنس پر بریفنگ دی گئی ہے جس میں چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی حساس اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام سے مشرقی وسطیٰ پر منفی نتائج مرتب ہوں گے جبکہ دوسری جانب ایران سے جوہری معاہدوں کے حوالے سے بائیڈن کیلئے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات:ایرانی جوہری پروگرام کوخطے لیے خطرہ…

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب ماضی میں بھی چین سے بیلسٹک میزائل خریدتا آیا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب سعودی عرب کے پاس اپنے تیار کردہ بیلسٹک میزائل ہوں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حساس اداروں کے عہدیداران بشمول وائٹ ہاؤس کی نیشل سیکورٹی کونسل کو دونوں ممالک کے مابین بیلسٹک میزائل کی منتقلی سے ماضی میں بھی خبردار کیا جاتا رہا ہے۔

    امریکہ کے مڈلبری انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں اسلحے کے ایکسپرٹ اور پروفیسر جیفری لیوس نے سی این این کو بتایا کہ حکومتی سطح پر جو تنقید ایران کے وسیع پیمانے پر بیلسٹک میزائل پروگرام پر کی جارہی ہے، اس سطح کی تنقید سعودی عرب کے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر نہیں کی جارہی۔

    فوٹو بشکریہ: سی این این
    ’سی این این‘ کی جانب سے حاصل کردہ نئی سیٹلائٹ امیجز میں اشارہ ملتا ہے کہ سعودی عرب پہلے ہی چینی مدد سے قائم کی گئی جگہ پر بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے ماہرین کے مطابق جنہوں نے تصاویر اور ذرائع کا تجزیہ کیا انہوں نے تصدیق کی کہ وہ تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس تشخیص کے مطابق پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق اہم ثبوت یہ ہے کہ یہ سہولت بیلسٹک میزائل کی تیاری سے ٹھوس ایندھن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک "آتشیں گڑھا”قائم کیا گیا ہے انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کاسٹ شدہ راکٹ انجن پروپیلنٹ کی باقیات پیدا کرتے ہیں جو ایک دھماکہ خیز خطرہ ہے ٹھوس پروپیلنٹ کی پیداواری سہولیات میں اکثر آگ کے گڑھے ہوتے ہیں جہاں بقایا ایندھن کو آگ کے ذریعے ضائع کیا جا سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکی دانشور نے کہا کہ زیر بحث تنصیب چینی مدد سے تعمیر کی گئی تھی اور انٹیلی جنس کے نئے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں چین سے حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی خریدی ہے امکان ہے کہ وہاں بنائے گئے میزائل چینی ڈیزائن کے ہیں اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیار کرنے میں مدد کے لیے دوسرے ممالک کی طرف رجوع کیا ہےجس سے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مملکت اب اس سہولت پر کون سا ہتھیاروں کا نظام بنا رہی ہے۔

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    دوسری جانب اس حوالے سے کہ چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی کوئی منتقلی ہوئی ہےپر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں سی این این کو بتایا کہ دونوں ممالک "جامع اسٹریٹجک پارٹنر” ہیں ہم ہر پہلو میں دوستانہ تعاون شعبوں بشمول فوجی تجارتی میدان میں بھی تعاون بر قراررکھیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاؤ شامل نہیں ہے۔


    درایں اثنا بحرین میں سابق امریکی سفیر ایڈم ایریلی نے ٹویٹر پر اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے لیے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا اچھا ہے وہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کر سکتا شاید اگر ہم مشرق وسطیٰ میں ایک مربوط اور مستقل پالیسی رکھتے اور اتحادیوں کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے تو ایسا نہ ہوتا۔

    سی این این نے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ماضی میں چین سے بیلسٹک میزائل خریدے ہیں لیکن تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف تین ذرائع کے مطابق وہ اب تک اپنے میزائل بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

    اومی کرون ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں امریکی صدر

  • کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    کرونا وائرس، ویکسین کے بعد گولی بھی آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے

    کرونا کی کئی لہریں آ چکیں اب اومیکرون نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے، کرونا کی ویکیسن سامنے آئی تو تمام ممالک نے ویکسینیشن پر زور دیا، شہریوں کو ویکسین لگوائی گئی، اب کرونا کے لئے ایک گولی بھی سامنے آئی ہے، امریکی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کورونا کی نئی دوا کی منظوری دے دی ،ایف ڈی اے کے مطابق مریض کو پیکس لووڈز گولی پانچ روز تک دن میں 2 مرتبہ استعمال کرنا ہو گی ٹیبلٹ کی شکل میں دوا کو عالمی سطح پر کورونا کے خلاف موثر قرار دیا جا رہا ہے امریکانے دوا سازکمپنی سے 5.3 ارب ڈالر کامعاہدہ کر لیا ہے ،کرونا وائرس کے خلاف پہلی گولی شدید بیماری سے محفوظ کرنے کے لیے 90 فیصد تک موثر ہے اور اسے اومیکرون کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی وبا اومیکرون اور بڑھتے ہوئے کیسز کی نئی لہر کی وجہ سے نئی پابندیاں متعارف کرا دی گئی ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں کیسز کی تعداد ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جس کے بعد یورپ اور امریکا سمیت متعدد ممالک میں نئی پابندیاں متعارف کرادی گئی ہیں۔زشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکا میں پونے دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن امریکی صدر جو بائیڈن وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک لاکھ 81 ہزار 264 کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ متعدد یورپی ممالک نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب کرسمس اور نئے سال کی تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔اسرائیل نے بھی بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے سخت سفری پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 60سال سے زائد عمر کے افراد طبی عملے کو ویکسین کا چوتھا ڈوز لگانے کی منظوری دے دی ہے

    واضح رہے کہ چینی حکومت نے ژیان شہر کے ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق دنیا بھر کی طرح چین میں بھی اومی کرون ویرینٹ کے پھیلاو کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر چین کے شمالی شہر ژیان میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ژیان شہرکی انتظامیہ نے بدھ کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہفتے میں 2 دن ہر گھر کا صرف ایک فرد ضروری سامان کے لیے باہر نکلے گا، اس شمالی شہر میں 9 دسمبر سے اب تک 143 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    اومیکرون،15 ممالک کے شہریوں پاکستان کا سفر نہیں کرسکیں گے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 9 اموات

    برطانیہ میں اومیکرون کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    اومیکرون کا خدشہ ،برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں بارے نیا حکمنامہ

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

  • جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    بیجنگ: جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے امریکہ کی مشرقی ایشیا اور ایشیا پیسیفک علاقے میں تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

    چائنا ڈیلی کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ ون بین نے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا نہ ملنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنٹاگون کے کابل میں ڈرون کے ذریعے‏عام لوگوں پر حملے میں ملوث اپنے فوجیوں کے سزا نہ دینے کے فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھا رہا جا سکتا۔

    وانگ نے کہا کہ جس وجہہ سے زیادہ غم و غصہ ہے وہ یہ کہ امریکہ اس قتل عام کے ذمہ داروں کو عدالتی تحفظ دے کر انکی جرأتیں بڑھا رہا ہے۔ چین نے کابل قتل عام کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنٹاگون نے ان امریکی دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 29 اکتوبر کو کابل میں ڈرون حملے میں ملوث تھے۔

    امریکہ کے اس دہشتگردانہ حملے میں 10 بے گناہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اکثر بچے بتائے جاتے ہیں۔

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    کورونا کا خوف، چین کے صوبے زی جیانگ میں کورونا کیسز میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ کر دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : چینی میڈیا کے مطابق چین میں کورونا کے نئے کیسز کو کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئیں، زی جیانگ یعنی ملک کے مشرقی ساحل پر واقع ایک بڑے صنعتی اور برآمدی مرکزمیں چین کے مقامی طور پر 44 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد صوبے میں وائرس متاثرین کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔

    پاکستان میں پہلےاومی کرون کیس کی تصدیق

    انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 5 لاکھ 40 ہزار لوگوں کو قرنطینہ کیا ہے صوبے میں مسائل اس وقت سامنے آئے جب چینی میڈیا نے تیزی سے پھیلنے والے اومی کرون قسم کے پہلے کیس کی شناخت کی خبر شائع کی، جس کے بعد صوبے میں اومی کرون سے بچاؤ کے لیے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    برطانیہ میں اومی کرون سے پہلی موت

    میڈیا کے مطابق اومی کرون سے متاثرہ شخص 9 دسمبر کو بیرون ملک سے آیا تھا، متاثرہ شخص کو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے صوبے کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر ہانگژو میں کئی کمپنیوں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پروڈکشن کا کام معطل کر دیا ہے فلائٹ ٹریکر ویری فلائٹ کے ڈیٹا کے مطابق ہانگزو کی کئی پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں-

    برطانیہ میں حالات کنٹرول سے باہر: اومی کرون کا پھیلاؤ تیز، کورونا الرٹ لیول 3 سے…

    واضح رہے کہ برطانیہ میں اومیکرون کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد مریض اس وقت اسپتالوں میں زیر علاج ہیں برطانوی وزیراعظم بورس جانس نے پیر کے روز اومی کرون سے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کی جانسن نے نامہ نگاروں کو بتایا، "افسوس کی بات ہے کہ اب کم از کم ایک مریض کی اومی کرون کے ساتھ موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    لندن : جنوری میں اومی کرون کی بڑی لہر کا خطرہ،سائنسدانوں نے خبردار کر دیا

    برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیل رہا ہے، مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،کرونا کی اس نئی قسم سے ویکسین سے بھی محفوظ رہنا مشکل ہے، برطانیہ میں اومیکرون کے کیسز میں اضافے کے بعد کرونا الرٹ لیول دوسری بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے-

    اومی کرون کیسز، ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی کرسمس پارٹی منسوخ

    میڈیکل آفیسر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کی وج سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اب مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، اومی کرون کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد کورونا الرٹ لیول بڑھا کر چار کردیا گیا ہے کورونا الرٹ لیول چار کا مطلب وبا کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے۔ نئے کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کا اومی کرون ویرینٹ ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے-

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

  • جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:     جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے: جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    بیجنگ :امریکہ سمیت جمہوریت کی رٹّ لگانے والے جمہوریت اپنے پاس رکھیں:جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:چین نے جمہوریت کا واویلہ کرنے والوں کو کھری کھری سنادیں‌، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کی زیر قیادت سربراہی اجلاس کے میں چین کو بے دخل رکھنے کے بعد، چین نے غصے کا اظہارکرتے ہوئے امریکی جمہوریت کو ‘بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ہتھیار’ قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے 9 اور 10 دسمبر کو ورچوئل’سمٹ فار ڈیموکریسی‘ کے نام سےکانفرنس منعقد کی جس میں چین ، روس اور بعض دیگر ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ امریکہ نے تائیوان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت جسے چین اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے منعقدہ دوروزہ کانفرنس کے جواب میں چین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا کہ طویل عرصے امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ایک ہتھیار بنا ہوا ہے جسے امریکہ دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر بائیڈن سرد جنگ کے دور کی نظریاتی تقسیم کو اُکسا رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے اہتمام کا مقصد نظریاتی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنا، جمہوریت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا، تنازعے اور محاذ آرائی کو اکسانا ہےجبکہ مشرقی یورپ سمیت دیگر ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحاریک ’کلر ریوولوشن‘ کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ تھا۔

    چین کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’یقیناً اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چین میں حقیقی جمہوریت ہے۔اور ’چین ہر قسم کی جعلی جمہوریت کی مخالفت اور مقابلہ کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ متعدد مرتبہ یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ ایک اور سرد جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، اس کے باوجود دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان مختلف معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔