Baaghi TV

Tag: چین

  • افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    بغداد:افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر،اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب عراق سے امریکی و دیگر غیرملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے۔

     

    بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی انخلاء سے متعلق عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈر نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اتحادی فوج رواں سال کے اختتام تک عراق سے مکمل انخلاء کریں گی۔

     

    عراقی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی اپنی افواج اور جنگی سرگرمیوں میں شامل عملہ عراق سےنکال لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جنگی مُہمات میں سرگرم عملےکا بڑا حصہ عراق سے انخلاء کرچکی ہے جبکہ باقی غیرملکی فوجیوں کا انخلاء دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔

    امریکی و دیگر اتحادی فوج کے صرف تکنیکی ماہرین عراق میں رہیں گے۔ عراقی کمانڈر کے مطابق اتحادی فوج عراقی فوج کو تکنیکی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پرروسی افواج کے دباو اور چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف امریکہ نے دنیا بھر سے اپنی افواج کومحفوظ بنانے کے لیے ان کی امریکہ یاتری کا فیصلہ کرلیا ہے

    ادھر امریکہ کے اس اعلان کے بعد روس اور چین امریکی فوجی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حالات کشیدہ بھی ہوسکتےہیں‌

  • امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    بیجنگ :امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا ہے

    فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے ، چین نے اس حوالے سے فرانس کے رویے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ، یاد رہےکہ چند دن پہلے چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا:خفیہ دستاویزات میں انکشاف

    بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا:خفیہ دستاویزات میں انکشاف

    نئی دہلی:بھارتی جرنیلوں میں شدید اختلافات،وزیردفاع نے آرمی چیف کو نااہل قرار دیا،بھارتی وزارت دفاع کی ایسی خفیہ دستایزات کا انکشاف ہونا شروع ہوگیا ہے اورایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں کہ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت فوجی قیادت میں اس وقت شدید اختلافات ہیں اور ان اختلافات کی تصدیق بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کے بھارتی وزیراعظم کوفوجی قیادت کے خلاف خط سے ہوجاتی ہے

    بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کی طرف سے بھارتی وزیراعظم مودی کو لکھے گئے خفیہ خط کے منظرعام پرآنے کے بعد مبصرین نے بھی اسے بھارتی فوج میں بڑے پیمانے پربغاوت کے آثارسے تعبیر کیا ہے

    بھارتی وزیراعظم مودی کو بھارتی وزارت دفاع کی طرف سے لکھے گئے خط میں وادی گلوان میں چینی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے اور لیفٹیٹنٹ جنرل ہریندر سنگھ کو قرار دیا ہے

    اس خط میں وزیراعطم کو آرمی چیف اور ایک اور جنرل کی شکایت لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے اور جنرل ہریندرسنگھ کو حالات کا ادراک ہی نہیں وہ بالکل اپنی ذمہ داریوں‌ کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان میں قیادت کرنے کی اہلیت ہے

     

    وزیردفاع راج ناتھ کی طرف سے بھارتی وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں شکایت کی گئی ہے کہ میں ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج کے اعلیٰ جرنیل بھی بھارتی آرمی چیف کو نااہل سمجھتے ہیں ،

    راج ناتھ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں وہ کہتے ہیں‌ کہ بھارتی چیف آف ڈیفینس سٹاف جنرل پبن راوت نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کی ہیں جن میں‌ بھارتی آرمی چیف اور لیفٹیٹنٹ جنرل ہریندرسنگھ کو چین سے بھارتی فوج کی رسوائی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے

    راج ناتھ نے اس خط میں وزیراعظم کویہ شکایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری فوجی قیادت کودفاعی حکمت عملی کا پتہ ہی نہیں‌،راج ناتھ کا یہ بھی کہناتھا کہ وادی گلوان میں بھارتی فوج کی شکست نے جہاں بھارتی فوج کو رسوائی سے دوچار کیا ہے وہاں بھارتی فوج کے حوصلے بھی پست ہوئے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی آرمی چیف اور اس کے ماتحت دیگر جرنیلوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے

  • کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    کورونا متاثرین کو حکومت کی جانب سےلاکھوں روپے دینے کا اعلان

    چین کے شہر ہربن کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا ٹیسٹ کروانے والوں کو انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر ہربن کی انتظامیہ نے ایسے افراد کو انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کورونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد چھپنے کی بجائے اپنا ٹیسٹ کرانے کے لیے سامنے آئیں گے اگر ان میں بیماری کی تشخیص ہو جاتی ہے تو انہیں حکومت کی جانب سے 2 لاکھ 80 ہزار کی قرم دی جائے گی۔

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نوٹیفکیشن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ بخار، گلے میں سوجن، سونگھنے یا چکھنے کی حصوں کو محسوس نہیں کر پا رہے ہیں تو اپنے قریب سینٹرز میں اطلاع کریں، اور خود اس کا علاج نہ کریں-

    نوٹیفیکیشن کے مطابق کرونا کی تشخیص کے بعد انتظامیہ کو یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ آپ کہاں کہاں گئے اور کن افراد سے رابطے میں رہے۔اس مدد کے بعد آپ انتظامیہ کے انعام کے حق دار بھی ہوں گے، تاہم شرط یہی ہے کہ اس کے لیے شہریوں کو خود آگے آکر کووڈ ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ہربن میں 10 سے بھی کم کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اومیکرون، برطانیہ میں کیسز میں ایک روز میں پچاس فیصد اضافہ

    واضح رہے کہ چین کے شہر ووہان سے 2019 میں کرونا کی وبا دنیا بھر میں پھیلی تھی، مگر سخت اقدامات کے بعد چین بھر میں عالمی وبا کے کیسز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ووہان سے پھوٹنے والی وبا سے چین سمیت دنیا بھر میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں، اب تک دنیا بھر میں اموات کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • بیجنگ ونٹر اولمپکس 2022،امریکہ کا سفارتی بائیکاٹ کا اعلان

    بیجنگ ونٹر اولمپکس 2022،امریکہ کا سفارتی بائیکاٹ کا اعلان

    واشنگٹن: امریکا نے بیجنگ ونٹراولمپکس 2022کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اورمظالم جاری ہیں اس صورتحال میں امریکی سفارت کار اورحکام بیجنگ میں ہونے والے ونٹراولمپکس2022کا حصہ نہیں بن سکتے۔

    جین ساکی کے مطابق امریکی سفات کار اورحکام تو بیجنگ نہیں جائیں گے تاہم امریکی ایتھیلیٹس ونٹراولمپکس 2022 کے مختلف مقابلوں میں شرکت کریں گے۔

    ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان

    دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں امریکا کے سفارتی بائیکاٹ کوسیاسی حربہ قراردیتے ہوئے کہا گیا کہ چین نے کسی امریکی سیاست دان یا اعلی حکام کوونٹراولمپکس کے لئے مدعو نہیں کیا چین کوامریکی سفارت کاروں یا حکام کے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    واضح رہے کہ چین نے اعلان کیا تھا کہ ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کیا تھا کہ چین توقع کرتا ہے کہ 2022 کے ونٹر اولمپکس کو "آسان طریقے سے” اور شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے گا،کورونا کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ کے آنے سے اولمپکس کے شیڈول پر فرق نہیں پڑے گا.

    بڑی کمپنی نے 900 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤکا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ نئے وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی ہماری کوششوں کو یقینی طور پر کچھ چیلنج درپیش ہوں گے،لیکن جیسا کہ چین کو کورونا وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کا تجربہ ہے، ہم آسانی اور کامیابی کے ساتھ اس چیلنج کو مکمل کر لیں گے۔

    بیجنگ میں 4 فروری سے 20 فروری تک تمام ایتھلیٹس اپنے متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ کھیلوں کا حصہ بنیں گے لیکن ان میں غیر ملکی سیاح اور شائقین موجود نہیں ہوں گے کھیلوں میں کھلاڑیوں کو کلوز لوپ ببل میں رکھا جائے گا ، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کی جانچ کی جائے گی-

  • ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان

    ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان

    چین نے اعلان کیا ہے کہ ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : ” روئٹرز” کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے منگل کو بریفنگ میں بتایا کہ چین توقع کرتا ہے کہ 2022 کے ونٹر اولمپکس کو "آسان طریقے سے” اور شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے گا،کورونا کی نئی قسم اومی کرون ویرینٹ کے آنے سے اولمپکس کے شیڈول پر فرق نہیں پڑے گا.

    کورونا کی نئی قسم، سعودی حکومت کیجانب سےعمرہ زائرین کے لیے نئی ہدایات جاری

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤکا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ نئے وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی ہماری کوششوں کو یقینی طور پر کچھ چیلنج درپیش ہوں گے،لیکن جیسا کہ چین کو کورونا وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کا تجربہ ہے، ہم آسانی اور کامیابی کے ساتھ اس چیلنج کو مکمل کر لیں گے۔

    بیجنگ میں 4 فروری سے 20 فروری تک تمام ایتھلیٹس اپنے متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ کھیلوں کا حصہ بنیں گے لیکن ان میں غیر ملکی سیاح اور شائقین موجود نہیں ہوں گے۔

    چین میں زیرتعلیم پاکستانی اسٹوڈنٹس کا مستقبل ؟؟؟ بقلم:ڈاکٹر زاہد جٹ

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    کھیلوں میں کھلاڑیوں کو کلوز لوپ ببل میں رکھا جائے گا ، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کی جانچ کی جائے گی۔ چین میں صحت کے حکام کے مطابق 1.1 بلین سے زیادہ افراد کو کورونا وائرس کے خلاف مکمل طور پر ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

    اپنی "زیرو کوویڈ” پالیسی کے تحت، چین کے پاس دنیا کے سخت ترین کوویڈ 19 کی روک تھام کے اقدامات ہیں۔

  • چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    بیجنگ:چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے،اطلاعات کے مطابق چین نے ماہ اکتوبر میں اندرون ملک سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس کے نئے واقعات پر حال ہی کنٹرول قائم کیا ہے تو یانگزی ڈیلٹا کے اطراف میں واقع تین شہروں میں ایک نئی وبا منظر عام پر آئی ہے۔

    مقامی حکومت کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق بتایا گیا ہے کہ کل صبح شنگھائی میں 3 خواتین سہیلیوں کے ٹیسٹ مثبت آئے، خواتین کے قریبی رابطے میں ہونے والے 2 مزید افراد صوبہ سیسانگ کے شہر ہانگ چو میں اور 1 شخص سوکو شہر میں تھا۔ جن میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    یہ بتایا گیا ہے کہ خواتین گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہینگکو سے اپنے دو مرد دوستوں کے ساتھ سوکو میں رات کے کھانے پر ملی تھیں، اور اسی شہر میں گروپ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے ایک اور شخص کو کووڈ-19 پایا گیا تھا۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو گا کیونکہ ان کیسز پر فائلیشن سٹڈی جاری ہے جن کی اصل کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔

    خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں کوویڈ 19 کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی ہے جس کے اندر میوٹیشنز کی بڑی تعداد موجود ہے۔سائنسدانوں نے اس کی وجہ کرونا (کورونا) کیسز میں بڑھتے ہوئے اضافے کو قرار دیا ہے۔

    سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اس نئے وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ کو بڑی مقدار میں ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ کے جینومکس انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جیفری بیرٹ نے کہا کہ ویکسینز بھیجنے کا وقت اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’نئے ویریئنٹ کو پھیلنے سے روکنے کے علاوہ تخلیقی انداز میں متاثرہ علاقوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوبی افریقہ میں رواں ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے کرونا کے کیسز کی تعداد میں 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے