Baaghi TV

Tag: چین

  • تبت میں مداخلت کیلئے امریکہ اقوام متحدہ کواستعمال کررہا ہے، چین

    بیجنگ :امریکہ اور چین کے درمیان پھرسفارتی جنگ تیز ہونے نظر آرہی ہے، اطلاعات کے مطابق چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، تبت میں ‘مداخلت’ کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے۔

    سیکورٹی اداروں نےبتایا کہ حافظ حمداللہ افغانی ہیں اورشہریت کے لبادے میں پاکستانی ہیں ،اعظم سواتی

    امریکہ کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براؤن بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اس پر چینی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے’۔

    بے وطن فلسطینی امریکی پارلیمنٹ کا رکن منتخب

    چین نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ‘مذہبی آزادی کی آڑ میں چین کے اندورنی معاملات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے’۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے بیجنگ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘اس حوالے سے انہیں ناکامی ہوگی اور عالمی برادری کی جانب سے بھی اس کی مخالفت ہوگی’۔

    کلاشنکوف کے موجد میخائل کلاشنکوف نے سنچری مکمل کرلی

  • جھیل میں انسان نما چہرے والی مچھلی،دیکھنے والے پریشان بھی حیران بھی

    بیجنگ : چین میں انسانی چہرے سے مشابہت رکھنے والی مچھلی نے دیکھنے والوں کو پریشان بھی کردیا اورحیران بھی ، اطلاعات کےمطابق سوشل میڈیا پرانسان نما چہرے والی مچھلی کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس نے صارفین کو حیران کردیا ہے۔آپ نے کارٹون اور اینیمیٹڈ فلموں تو انسان نما چہرے والی مچھلی یقیناً دیکھی ہوگی لیکن ان دنوں سوشل میڈیا پر حقیقت میں ایک ایسی مچھلی کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس کا انسان نما چہرہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنوبی چین کے شہر کنمنگ کے قریب واقع ایک گاؤں کی ہے جس کے جھیل میں موجود اس عجیب و غریب خلقت کی فوٹیج کو ایک سیاح نے اپنے کیمرے میں قید کیا۔

    9-نومبرسکھوں کی تاریخ کا بھی حصہ بن گیا تاریخ ساز کرتارپور راہداری کے افتتاح کے مناظر

    انسان نما چہرے والی مچھلی کی ویڈیو چین کی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو کر شیئر کی گئی، جس میں مچھلی کو ایک جھیل کے کنارے پانی کی سطح پر تیرتے اور سر ہلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔اس وقت سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں اس ویڈیوکو دیکھا بھی جارہاہے اور شیئر بھی کیا جارہا ہے

    سپریم کورٹ کے ہندووں کے حق میں فیصلے سے حوصلہ ملا،اسی کی تناظر میں آگے بڑھیں گے:مودی

    ویڈیو شیئر کرنے والے صارف کے مطابق مچھلی کے سر دو سیاہ نقطے ہیں جو بظاہر انسانی آنکھوں نما نظر آتے ہیں اور دو لکیریں نیچے کی جانب ہیں جو انسانی ناک جیسی لگتی ہیں جبکہ ایک لکیر انسانی منہ کی شبیہ بنا رہی تھی۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ سنہ 2010 میں ایک 44 سالہ برطانوی شہری نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس موجود مچھلی انسان نما شکل اختیار کرلی ہے۔

  • دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد ، چین نے بہت بڑا اعلان کردیا

    بیجنگ :جنوبی ایشیا میں چین نے اپنا بھر پور کردار اداکرنا شروع کردیا ، اطلاعات کےمطابق ، نیپال کے صدر بھنڈاری نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے، دوسری طرف چین کے صدر شی جن پنگ نے نیپال کو اگلے دو سال میں 56 ارب روپے کی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

    نواز شریف نےخط میں مولانا فضل الرحمن کے لیا خاص باتیں لکھیں‌ ؟

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کی جانب سے نیپال کی ترقیاتی کاموں کے لئے اگلے دو برسوں کے دوران یہ رقم میزبان ملک کو دی جائے گی،چین کے صدر شی جن پنگ نے نیپالی وزیر اعظم خادما پرساد شرمااولی سے بھی کٹھمنڈو میں ملاقات کی۔

    پہلے ڈرے نہ اب خوفزدہ ہوں گے،بھارت اپنے انجام کے لیے تیار رہے ؛فاروق حیدر

    دوسری طرف اپنے صدر کا ساتھ نبھاتے ہوئے نیپالی وزیر اعظم نے کہا کہ نیپال چین کے اقتدار اعلی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھر پور حمایت کرتا ہے اور ایک چین کے اصول کی حمایت پر مضبوطی سے کاربند ہے ،نیپال کسی بھی قوت کو نیپال کی سرزمین کو چین مخالف علیحدگی پسند سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔

    اھلاوسھلا:ہم پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں ، ایران

    شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین کے کسی بھی حصے میں علیحدگی کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چین کے عوام کے نزدیک کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے چین کو تقسیم کرنے کی خواہش دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔یاد رکھے کہ اس وقت چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ امریکہ اور اتحادیوں کو بہت پریشانی ہے

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • ہم نے بڑی تعداد میں‌یغور مسلمانوں کو کیمپوں سے رہا کردیا ،چین کا دعویٰ، ہمیں رہائی کے ثبوت بھی چاہیے ، عالمی برادری

    ہم نے بڑی تعداد میں‌یغور مسلمانوں کو کیمپوں سے رہا کردیا ،چین کا دعویٰ، ہمیں رہائی کے ثبوت بھی چاہیے ، عالمی برادری

    بیجنگ:چین نے پہلی بار یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے یغورمسلمانوں کو کیمپوں سے رہا کردیا ہے. حالانکہ اس سے قبل چین یغورمسلمانوں کو کیمپوں‌میں‌محصور کرنے سے انکار ی تھا .

    دوسری طرف عالمی برادری نے چین کے اس دعوے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زبانی کلامی پیغام سے یہ چیز ثابت نہیں ہوتی کہ چین نے یغور مسلمانوں کو کیمپوں سے رہا کردیا ہے.اگر چین اپنے دعوے میں سچا ہے تو پھر اس کا عملی ثبوت دے

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    سمارٹ فون تو ہر کوئی رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کی گھنٹوں چارجنگ کرنے والی اذیت سے ہر کوئی پریشان ہے ۔ لیکن اب یہ پریشانی بھی حل ہونے کے قریب ہے ۔ چین کی ایک ویوو نامی کمپنی نے سمارٹ فون رکھنے والوں کی الجھن کو آسانی میں بدل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ویوو نامی کمپنی نے جدید تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کی وجہ سے اب سمارٹ فومن رکھنے والے لوگ اپنا فون صرف 13 منٹ میں چارج کر لیں گے ۔
    چینی کمپنی ویوو نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ہے۔ اس کی بدولت پچاس فیصد بیٹری صرف پانچ منٹ میں چارج ہوجاٸے گی ۔
    اس ٹیکنالوجی کی بدولت ویوو کمپنی ، ون پلس، ہواوے اور اوپو کے مقابلے پر آگئی ہے۔ اس چارجنگ ٹیکنالوجی کی بدولت 4000 ایم اے ایچ بیٹری صرف اور صرف 13 منٹ میں چارج ہوجائے گی ۔
    ویوو کمپنی اس سے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیلات اگلے ہفتے ایونٹ میں سامنے آئیں گے جس میں یہ کمپنی اپنا پہلا 5 جی اسمارٹ فون اپیکس 2019 بھی پیش کرے گی ۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔