عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے-
جنیوا میں ڈبلیو ایچ او یورپ کے زیر اہتمام منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خطے کے نصف سے زائد ممالک اس خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں یورپی ممالک شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کریں اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او یورپ کےعلاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کےباعث یورپ میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید، طویل اور بار بار آنے لگی ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ خطے کے نصف سے زیادہ ممالک اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلائیں، ہیٹ ایکشن پلانز کو مؤثر بنائیں اور صحت، سماجی بہبود، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں، مو سمیا تی تبدیلی کے باعث مستقبل میں شدید گرمی کی لہروں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے صرف ہنگامی ردعمل کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق رواں ہفتے پرتگال اور اسپین میں بحرِ اوقیانوس سے اٹھنے والی گرم ہواؤں کے باعث درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے اسی خدشے کے پیش نظر فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ سمیت متعدد یورپی ممالک نے ہیٹ الرٹس جاری کرتے ہوئے طبی سہولیات، کولنگ سینٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کو فعال کر دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق یورپ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی سے متعلق قبل از وقت انتباہی نظام، صحت عامہ کے منصوبوں اور شہری انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
