عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے، جبکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کے لیے تیار نہیں،فرانس میں صرف گزشتہ بدھ سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں قریباً 1,000 اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ جرمنی، چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ سمیت کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،اتوار کے روز یورپ کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 40 ° C (104 ° F) تک پہنچ گیا، جب کہ طوفان دیگر علاقوں میں بہہ گئے، زیادہ تر اموات بوڑھے لوگوں کی تھیں-
پبلک ہیلتھ فرانس نے بتایا کہ بدھ سے اب تک فرانس میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق 24 جون سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فرانسیسی اخبار کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے دوران 18 جون سے اب تک فرانس میں دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہانے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہوگئی ہے اور پیر کی صبح تک بند رہے گی شدید گرمی سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں،یورپ شدید گرمی میں پگھل رہا ہے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور لاکھوں افراد اس سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،یہ صرف ایک اور موسم گرما نہیں ہے، یہ ایک انتباہ ہے آب و ہوا پہلے سے زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔
