Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    نیویارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر آج فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اداکارہ کو رقم دینے کے معاملے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم عائد کی جائے گی مین ہیٹن کی عدالت کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیے گئے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر حامیوں کو احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    واضح رہے کہ کسی بھی سابق امریکی صدر پر مجرمانہ الزام کا امریکی تاریخ کا یہ پہلا کیس ہو گا ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کارکنوں کے نام ایک پوسٹ میں اپنی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کر رکھی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 2016 میں فحش فلموں کی اداکارہ اسٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم ادائیگی کی تحقیقات کے نتیجے میں منگل کو گرفتار کیا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نیویارک عدالت کی گرینڈ جیوری کی جانب سے سابق صدر ٹرمپ پر پیر یا بدھ کو فرد جرم عائد کی جاسکتی ہے، مین ہیٹن کی عدالت کے اطراف سکیورٹی بڑھائی جا رہی ہے۔

    نیویارک میئرایرک ایڈمز کا کہنا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر تبصروں کی نگرانی کر رہے ہیں، محکمہ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا معمول کا کردار ادا کر رہا ہے کہ شہر میں کوئی نامناسب کارروائی نہ ہو، ہمیں یقین ہے کہ ہم ایسا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

    چینی صدر روس کے دورے پر ماسکو پہنچ گئے

    فرد جرم عائد ہونے کی صورت میں ٹرمپ کا کیس کسی بھی موجودہ یا سابق امریکی صدر پر مجرمانہ الزام لگنے کا امریکی تاریخ کا یہ پہلا کیس ہوگا ٹرمپ کے وکلا کے مطابق اگر سابق امریکی صدر پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو ان کی گرفتاری کے لیے چند طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔

    فرد جرم عائد ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا میں واقع اپنے گھر سے نیویارک سٹی کورٹ ہاؤس میں پیشی کے لیے روانہ ہوں گے اس کے بعد ممکنہ طور پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان بات چیت ہوگی،ایک بار جب مقدمہ درج اورجج کا انتخاب ہوجائے گا تو دیگر تفصیلات جیسے کہ مقدمے کا وقت اور ممکنہ سفری پابندیاں اور ضمانت کے طریقے سامنے آ جائیں گی۔

    علاوہ ازیں فرد جرم کے بعد ٹرمپ پر جرمانہ ہوسکتا ہے جبکہ اگر ٹرمپ کو سزا سنائی گئی تو انہیں زیادہ سے زیادہ 4 سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا، حالانکہ کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمانے کا زیادہ امکان ہے۔

    دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست جاری،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • ڈونلڈ ٹرمپ بھی توشہ خانہ کیس میں پھنس گئے،غیر ملکی تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام

    ڈونلڈ ٹرمپ بھی توشہ خانہ کیس میں پھنس گئے،غیر ملکی تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ بھی ’توشہ خانہ کیس‘ میں پھنس گئے، اپنے دورِ حکومت میں دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف کا ریکارڈ ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی قانون سازوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جاپان کا سونے سے بنا گولف کلب اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کی تلواریں ان تحائف میں شامل ہیں جنہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ صدارت کے دوران ظاہر نہیں کیا۔

    یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بحال کردیا

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ تحائف ٹرمپ ،ان کی بیوی میلانیا، ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ٹرمپ کے داماد کشنر کو دیے گئے ، بعد میں ان تحائف کو حکومت کے حوالے کر دیا گیا لیکن ان کو امریکی قانون کے مطابق ظاہر نہیں کیا گیا تھا ۔

    جاری کردہ ایک اعلامیے میں امریکی ہاؤس کی نگران کمیٹی کے ڈیموکریٹس نے 100 سے زائد اشیاء کی فہرست جاری کی جو ٹرمپ اور ان کے اہلخانہ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے چار سالہ دور حکومت کے دوران رپورٹ نہیں کیں۔ اشیاء کی قیمت 250,000 ڈالرز سے زائد ہے۔

    فہرست میں سعودی عرب کے 16 تحائف ہیں جن کی مالیت 45,000 ڈالر سے زیادہ ہے، اس کے علاوہ ایک خنجر بھی ہے جس کی قیمت 24,000 ڈالرز ہےبھارت سے 17 تحائف ملے ہیں جن میں مہنگے کف لنکس، ایک گلدان اور 4,600 ڈالرز کا تاج محل کا ماڈل شامل ہے۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    مذکورہ بالا فہرست میں ایل سلواڈور کے صدر کی جانب سے ٹرمپ کو دی گئی ان کی دیوہیکل پینٹنگ بھی شامل ہے جس کے بارے میں کمیٹی کے تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ شاید اسے فلوریڈا منتقل کردیا گیا ہے جہاں ٹرمپ ساحل کے سامنے ایک محل اور تین گولف کلبوں کے مالک ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر کارکنوں کے نام ایک پوسٹ میں اپنی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ٹرمپ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان پر اگلے ہفتے فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے،اگر ٹرمپ پر فرد جرم عائد ہوتی ہے تو یہ کسی سابق امریکی صدر کے خلاف پہلا مجرمانہ مقدمہ ہوگا۔

    چینی صدراگلے ہفتے سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے

  • یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بحال کردیا

    یوٹیوب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بحال کردیا

    یوٹیوب نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینل بحال کردیا۔

    باغی ٹی وی : یوٹیوب انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ووٹرز کو الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو برابر کی بنیاد پر سننے کا موقع فراہم کرنے کیلئے گیا گیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے یوٹیویب چینل پر اب کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں اور وہ ویڈیوز پوسٹ کر سکتے ہیں۔

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    واضح رہے کہ یوٹیوب نے 6 جنوری 2021 کو سابق صدر کے حامیوں کی جانب سے امریکی دارالخلافہ میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر حملہ آور ہونے کے بعد ان کے چینل پر ویڈیوز پوسٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ معطل کر دیئے تھے جس کے بعد انہوں نے ’ ٹرتھ سوشل ‘ کے نام سے اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم متعارف کرایا تھاتاہم اب تینوں پلیٹ فارمز کیجانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس بحال کردیئے گئے ہیں۔

    بھارت کی سب سے بڑی ائیر لائن نے 50 طیارے انڈر گراؤنڈ کر دیئے

    ڈونلڈ ٹرمپ کے یوٹیوب سبسکرائبرز کی تعداد 26 لاکھ ہے جبکہ ٹوئٹر پر انہیں 8 کروڑ 70 لاکھ، فیس بک پر 3 کروڑ 40 لاکھ اور انسٹاگرام پر 2 کروڑ 30 لاکھ لوگ فالو کرتے ہیں۔

  • گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    گرفتاری کا خدشہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی

    واشنگٹن: سابق امریکی صدر اور ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر کارکنوں کو احتجاج کی کال دے دی۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کی جانب سے تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس حوالے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج ہماری قوم کو پیچھے لے جائے گا۔

    واضح رہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے ایوان کی احتساب کمیٹی میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں دوسرے ممالک کی جانب سے دیئے گئے تحائف کو ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    ڈیموکریٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس نے ڈھائی لاکھ ڈالر سے زیادہ مالیت کے 100 سے زیادہ تحائف کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا،یہ تحائف ٹرمپ ،ان کی بیوی میلانیا، ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ٹرمپ کے داماد کشنر کو دیے گئے ، بعد میں ان تحائف کو حکومت کے حوالے کر دیا گیا لیکن ان کو امریکی قانون کے مطابق ظاہر نہیں کیا گیا تھا ۔

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی …

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادی ڈیانا کے بارے غیر اخلاقی تبصرہ، چارلس اسپینسر کا شدید ردعمل

    ڈونلڈ ٹرمپ کا شہزادی ڈیانا کے بارے غیر اخلاقی تبصرہ، چارلس اسپینسر کا شدید ردعمل

    عوامی شخصیات کی طرف سے بھیجے گئے نجی خطوط کی ایک نئی کتاب کی تشہیر کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہر وہ شخص جس نے انہیں لکھا اس نے ان کی چاپلوسی کی۔

    باغی ٹی وی : ‘ لیٹرز ٹو ٹرمپ ‘ نامی اس کتاب میں سابق صدر اور ‘تاریخ کے کچھ بڑے ناموں’ کے درمیان خط و کتابت کو دکھایا گیا ہے۔ کتاب میں ملکہ الزبتھ دوم، شہزادی ڈیانا، اوپرا ونفری، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن،سابق امریکی‌صدرو جارج ایچ ڈبلیو بش،بل کلنٹن،جارج ڈبلیو بش ،بارک اوبامہ ور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ساتھ گلوکار مائکل جیکسن کے خطوط بھی شامل ہیں۔

    اگلے ماہ شائع ہونے والی اس کتاب میں ٹرمپ اور دنیا کی مشہور شخصیات کی چار دہائیوں کی خط و کتابت کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں کئی انکشافات بھی کئے گئے ہیں 320 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 99 ڈالرز رکھی گئی ہے اور یہ 25 اپریل کو منظر عام پر آئے گی-

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز آؤٹ لیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پہلے تمام لوگ ان کی چاپلوسی کرتے تھے لیکن اب ان چاپلوسی کرنے والوں میں سے آدھے ان کے ساتھ باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے مطابق ان سلیبریٹیز نے اس وقت منہ موڑا جب ان کے والد نے ریپبلکن امیدوار کے طور پر صدارتی الیکشن میں حصہ لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ‘یہ حیرت انگیز ہے کہ جب وہ ریپبلکن کے طور پر صدر کی دوڑ میں آئے تو ان کی پرستش کتنی جلدی بدل گئی۔ لیٹرز ٹو ٹرمپ آپ پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں اور ان کی نئی نفرت واقعی کتنی جھوٹی ہے۔

    شہزادی ڈیانا کے بھائی چارلس اسپینسر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی آنجہانی بہن کے بارے میں ناگوار تبصرے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ٹویٹ میں، چارلس اسپینسر نے سابق صدر کے بارے میں شہزادی ڈیانا کی رائے شیئر کی۔


    چارلس اسپینسر نے لکھا کہ یہ سن کر حیرت ہوئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ میری آنجہانی بہن ڈیانا ‘ان کا بوسہ لینا’ چاہتی تھی، جب سے ایک بار اس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کیا تھا – جب وہ نیویارک میں کچھ رئیل اسٹیٹ بیچنے کے لیے اپنا اچھا نام استعمال کر رہا تھا-

    1997 میں، شہزادی ڈیانا کی ایک کار حادثے میں موت کے مہینوں بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ شہزادی ڈیانا کو "روک” سکتے تھے، یہ تبصرہ 2016 کی صدارتی مہم کے دوران سامنے آیا تھا ڈونلڈ ٹرمپ کی کتاب کے پیچھے شائع کرنے والی کمپنی نے واضح کیا کہ خط بھیجنے والوں سے "حقیقی یا مضمر” اجازت لی گئی تھی۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ:

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی تاجر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی صدارت سے قبل، ٹرمپ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور میڈیا پرسن کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ایک ٹی وی ریئلیٹی شو "دی اپرنٹس” کی میزبانی کے لیے مشہور تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم نے داغ دار کیا تھا، اور ان کا عہدہ صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز جانا جاتا ہے۔

    سیاسی وابستگی:

    ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے 2016 اور 2020 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کی وفادار ہو گی, اس مقصد کے لیے کئی گروپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان گروپوں میں سے کوئی ایک قابل عمل تھرڈ پارٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوگا یا ریپبلکن پارٹی کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرنے میں کردار ادا کرسکے گا؟

    ٹرمپ کا دور:

    "ٹرمپ دور” کی اصطلاح سے مراد عام طور پر وہ دور ہے جس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ٹرمپ نے متعدد پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازع بیانات اور ایسے فیصلے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے اور دنیا ووامریکہ آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کے دوران کی پالیسیاں:

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران کئی اہم پالیسیاں نافذ کیں جن کے مختلف مسائل پر اہم اثرات مرتب ہوئے, ان کی کچھ اہم پالیسیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    ٹیکس میں کٹوتیاں: ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے کارپوریشنوں اور بہت سے افراد کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔

    صحت کی دیکھ بھال: ٹرمپ نے سستی نگہداشت کے ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جسے اوباما کیئر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور متعدد پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد اس قانون کو ختم کرنا تھا۔

    امیگریشن: ٹرمپ نے متعدد متنازعہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ، اور ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ آرائیول (DACA) پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے۔

    تجارت: ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی کی پیروی کی، کئی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر محصولات عائد کیے۔

    ماحولیاتی ضوابط: ٹرمپ نے متعدد ماحولیاتی ضوابط کو واپس لے لیا اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    خارجہ پالیسی: ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے کئی متنازع فیصلوں پر عمل کیا، جن میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا، اور کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات میں ملوث ہونا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے دور کی اچھی اور بری چیزیں:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں بہت سے اہم تنازعات اور درحقیقت تقسیم کا شکار رہی۔ ٹرمپ کے دور میں پیش آنے والی کچھ بڑی "اچھی” اور "بری” چیزیں یہ ہیں۔

    "اچھی چیزیں:

    ٹرمپ کی زیادہ تر صدارت کے دوران امریکی معیشت نے ترقی کی اور عوام کو کم بے روزگاری کا سامنا ہوا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی۔

    ٹرمپ نے وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کو مقرر کیا، جن میں سپریم کورٹ کے دو جج بھی شامل ہیں, اور یہ بظاہر امریکہ کے لیے اچھے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

    "بری چیزیں:

    ٹرمپ نے متعدد متنازعہ اور پابندیوں والی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ شامل ہے۔

    ٹرمپ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو باہر نکال لیا اور متعدد ماحولیاتی ضوابط کو پس پشت کردیا جو کہ نہایت برا فعل مانا گیا۔

    ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی پر عمل کیا جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑا, بلخصوص امریکہ کی چائنہ سے تجارتی جنگ شروع ہوگئی جوکہ امریکی ملٹائی نیشن کمپنیز کے لیے اچھی ثابت نہیں ہورہی۔

    ٹرمپ کو 2019 میں ایوان نمائندگان کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور 2021 میں دوبارہ امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دار کیا اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا جو موقع بنا وہ الگ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا سال بہ سال مختصراً:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہر سال کے اہم واقعات اور پیشرفت کا خلاصہ یہ ہے:

    سال 2017:

    ٹرمپ نے 20 جنوری کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جو بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا باعث بنا۔

    ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکل جائے گا۔

    ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے سفری پابندی جاری کی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    سال 2018:

    ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے جو کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرتا تھا۔

    ٹرمپ نے بریٹ کیوانا کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا، لیکن جنسی زیادتی کے الزامات کی وجہ سے کیوانوف کی تصدیق میں تاخیر ہوئی۔ آخر کار سینیٹ سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

    ٹرمپ نے روس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

    ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں تاریخی سربراہی ملاقات ہوئی، لیکن دونوں فریق جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    سال 2019:

    ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، لیکن سینیٹ نے مقدمے کی سماعت میں انہیں بری کر دیا۔

    ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے ہیں جو ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ فراہم کرتا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ, میکسیکو کو ایک "محفوظ تیسرے ملک” کے طور پر نامزد کرے گا، جو پناہ کے متلاشیوں کی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے محدود کر دے گا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ شام سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

    سال 2020:

    ٹرمپ کو ایوان نمائندگان نے دوسری بار مواخذہ کیا، اس بار امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

    ٹرمپ نے کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جن میں ایک ایسا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی مواد کو سنسر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

    ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے شکست دی تھی۔

    سال 2021:

    ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری کو ختم ہوئی، جبکہ جو بائیڈن ریاستہائے متحدہ کے 46 ویں صدر کے طور پر منتخب ہوگئے۔

    ٹرمپ کو 6 جنوری 2021 کوکیپیٹل پر یو ایس کانگریس بلڈنگ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی کانگریس پر حملہ:

    6 جنوری 2021 کو، اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے، ٹرمپ کے اس جھوٹے دعوے سے حوصلہ افزائی حاصل کی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ان سے چوری کیے گئے تھے، اس لیے الیکٹورل کالج کے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں حامیوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیپیٹل پر دھاوا بول دیا۔ کیپیٹل پر حملےکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ایوانِ نمائندگان کی طرف سے ٹرمپ کو مواخذے کا شکار بنے۔ کیپیٹل پر حملہ امریکہ میں کسی سرکاری عمارت کی سب سے اہم خلاف ورزیوں میں سے ایک تھا۔ امریکی تاریخ میں اس حملے کو جمہوریت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    امریکی کانگریس کے حملے کی وجہ اور اس کا پس منظر:

    کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کے حملے کی ٹائم لائن:

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر امریکی حکام کا ردعمل:

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل:

    یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا۔ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پرحملے کے بعد ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری 2021 کو ختم ہوئی، جب منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کو کیپیٹل میں تشدد کو بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔

    مواخذے کی کارروائی کے علاوہ، ٹرمپ کو کیپیٹل پر حملے سے متعلق اپنے اقدامات کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے ہنگامہ آرائی میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی، اور تحقیقات کا حصہ بنایا۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اس حملے کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کی بدولت آئندہ عوام میں شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ابھی اس پر کچھ واضح نہیں ہے۔

    قصہ مختصر:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    امریکی دارلحکومت پر حملہ 6 جنوری 2021 کو ہوا، جس میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بول دیا، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ اس حملے پر، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

  • حافظ آباد کی مقامی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    حافظ آباد کی مقامی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد کی مقامی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    پنجاب کے شہر حافظ آباد کی سیشن جج ناجیہ بتول نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 14 دسمبر کو طلب کرلیا ،سابق امریکی صدر ٹرمپ پر حافظ آباد پولیس پر دباؤ ڈالنے کا کیس ہے حافظ آباد کی خاتون نے ٹرمپ کی کمپنی میں کام کرنے والی اپنی ساس،نند اور ٹرمپ پر بچی کو واپس لینے پر اثر رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا

    حافظ آباد کی فیملی کورٹ میں دائر درخواست پر سول جج ناجیہ بتول نے سماعت کی جس میں مؤقف اختیارکیا گیا تھا کہ سسرال والے اس سے اس کی بچی لینا چاہتے ہیں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل شعیب اسلم نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی ساس اوردو نندیں ٹرمپ کی کمپنی میں ملازم ہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقامی پولیس پر پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ درخواست گزارخاتون نےالزام عائد کیا کہ مقامی پولیس بچی واپس کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد فریقین سے جواب طلب کر لیا

    درخواستگزار ثنا جاوید کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں علیحدگی کے بعد ثنا کا سابق شوہر ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو اپنے ہمراہ امریکا لے گیا تھا جبکہ عدالت نے طلاق کے وقت سوا سال کی بیٹی ثنا کے حوالے کر دی تھی اب خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اس بیٹی کو سسرال والے واپسی کےلئے دباؤ ڈال رہے ہیں

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

  • ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا

    ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا

    امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز نے 9 اضافی نشستوں کے ساتھ ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز نے 218 نشستیں حاصل کرلیں جبکہ ڈیموکریٹس ایوان میں اپنی 9 نشستیں کھو بیٹھے اور 435 رکنی ایوان میں 210 نشستیں لے پائے۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    دوسری جانب سینیٹ کےانتخابات میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز پر برتری حاصل کر لی،ایک اضافی نشست کے ساتھ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے جبکہ ری پبلکنز ایک نشست کھو کر 49 نشستیں حاصل کر پائے۔

    ایوان نمائندگان میں اکثریت کھو دینے سے صدر بائیڈن کیلئے قانون سازی مشکل ہوگئی جبکہ ری پبلکن لیڈر مچ میکونیل سینیٹ میں اقلیتی لیڈرمنتخب ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈٹرمپ نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے-

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے کہا کہ اس بارنشانے پر صدارتی امیدوار بننے کے ری پبلکن خواہشمند نہیں، جوبائیڈن ہوں گے، قوم کو بتایا جائے گا کہ بائیڈن کمزوراور ایسے بڈھے ہیں جنہوں نے ملک کو کھائی میں پھینک دیا ہے، صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی معیشت کو پھر سے پیروں پر کھڑا کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے اس کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا کہ ٹرمپ امیدوار بنے تو بائیڈن کا دوبارہ صدربننا یقینی ہوجائے گا، ٹرمپ کے توثیق کردہ سینیٹ، ایوان اورگورنرکے تقریباً تمام امیدوارہی مڈٹرم الیکشنز میں ناکام ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا میں مسلم کمیونٹی کی تلخ یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ صدر پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے 2024ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا جس پر صدر جوبائیڈن نے بھی سابق صدر کوتنقید کا نشانہ بنایا-

    یوکرین پر میزائل حملوں کے دوران پولینڈ کے اندر بھی ایک میزائل دھماکہ ،دو افراد ہلاک

    امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024ء کا صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈیموکریٹ حکومت نے امریکی ریاست کو اپنی پالیسیوں سے کمزور اورذ لیل کردیا۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ سابق صدر ٹرمپ نے اپنے 4 سالہ دور میں امریکا کو ایک ناکام ریاست بنادیا۔ شدت پسندی کو رواج دیا، امیروں کو فائدہ پہنچایا اور صحت کے نظام کو تباہ کیا۔

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ یہ ٹرمپ ہی تھے جنھوں نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے مشتعل ہجوم کو تشدد پر اکسایا جس کے نتیجے میں کانگریس کی عمارت پر حملہ ہوا اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔

    دوسری جانب سابق صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں اپنے والد سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن ان کی انتخابی مہم چلانے پر میں اپنی نجی زندگی کو ترجیح دوں گی۔

    یورپی یونین نے ایرانی وزیرداخلہ، سرکاری ٹی وی سمیت 29 شخصیات اور اداروں پر…

    واضح رہے کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی الیکشن میں حکمراں جماعت سینیٹ میں بمشکل ایک نشست سے برتری حاصل کرپائی ہے اور ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی ریپبلکن نے 2017 نشستوں سے میدان مارلیا جب کہ حکمراں جماعت 209 نشستوں پر کامیاب ہوسکی۔

    خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے 2024 میں صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ فلوریڈا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ امریکہ کے روشن مستقبل کی خاطر کیا ہے، یہ کمپین صرف میری نہیں بلکہ پورے امریکا کی ہے، آپ کا ملک آپ کی آنکھوں کے سامنے تباہ ہورہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ سے اشارہ دیا جارہا تھا کہ وہ ایک بار پھر وائٹ ہاؤس جانے کی دوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد امریکا کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے تھے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کا اعلان کردیا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اوران کے خاندان کو غیرملکی سربراہوں کی جانب سے دیے گئے درجنوں تحائف کا پتہ نہیں چلایا جاسکا سابق صدر ٹرمپ کو دیے گئے ان تحائف کی مالیت 50 ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔ اب معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہےکہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ نے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے یا ساتھ لے گئے۔

    قنطاس ائیر لائنز کی پہلی فلائٹ کے سو سال پورے ہونے پر اسی روٹ پر یادگار پرواز


    اس سلسلے میں ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے صدارتی تحائف جمع کر کے رکھنے والے ادارے نیشنل آرکائیو سے مدد مانگ لی ہے اور کانگریشنل تفتیش کاروں نے ان تحائف کی تلاش شروع کردی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ سلمان کی جانب سے ٹرمپ کو ملنے والا عبدالعزیز السعود اعزاز بھی غائب ہے سابق صدر ٹرمپ کو جاپانی وزیراعظم شنزوآبے نے گالف کھیلنے کے سامان کا قیمتی تحفہ دیا تھا اسکا بھی پتہ نہیں چلایا جاسکا۔

    پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    روس کے صدر پیوٹن نے 2018 ورلڈ کپ کی فٹبال ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دی تھی، مصر کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مصر کے قدیم دیوتا کا سنہری مجسمہ بھی تحفے میں دیا تھا اور ایلسلواڈور کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی بڑی پینٹنگ تحفے میں دی تھی۔


    توشہ خانہ سے ملکہ الزبتھ دوم کی دستخط شدہ نایاب تصویر، مہاتما گاندھی کامجمسہ، افغان دری، کرسٹل بال اور اومان کی جانب سے دیئے گئے ملبوسات کا بھی پتہ نہیں چلا یا جا سکا۔

    واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خفیہ دستاویز کے معاملے پر لاپرواہی برتنے کے الزامات کی تحقیقات کا بھی سامنا ہےایف بی آئی اپنی کارروائی کے دوران سابق صدر کی مار اے لاگو رہائش گاہ سے چین اور ایران سے متعلق کئی اہم دستاویز برآمد کرچکی ہے-

    ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا