Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ، ٹرمپ کا دور اور امریکی کانگریس پر حملہ!!! —- بلال شوکت آزاد

    ڈونلڈ ٹرمپ:

    ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی تاجر اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی صدارت سے قبل، ٹرمپ ایک کامیاب رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور میڈیا پرسن کے طور پر جانے جاتے تھے، اور ایک ٹی وی ریئلیٹی شو "دی اپرنٹس” کی میزبانی کے لیے مشہور تھے۔ اپنی صدارت کے دوران، ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے۔ ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور تقسیم نے داغ دار کیا تھا، اور ان کا عہدہ صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز جانا جاتا ہے۔

    سیاسی وابستگی:

    ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے، اور انہوں نے 2016 اور 2020 میں ریپبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے طور پر صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ٹرمپ اور ان کے ایجنڈے کی وفادار ہو گی, اس مقصد کے لیے کئی گروپس بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان گروپوں میں سے کوئی ایک قابل عمل تھرڈ پارٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوگا یا ریپبلکن پارٹی کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرنے میں کردار ادا کرسکے گا؟

    ٹرمپ کا دور:

    "ٹرمپ دور” کی اصطلاح سے مراد عام طور پر وہ دور ہے جس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران ٹرمپ نے متعدد پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازع بیانات اور ایسے فیصلے جن کے امریکہ اور دنیا پر اہم اثرات مرتب ہوئے اور دنیا ووامریکہ آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی صدارت کے دوران کی پالیسیاں:

    صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت کے دوران کئی اہم پالیسیاں نافذ کیں جن کے مختلف مسائل پر اہم اثرات مرتب ہوئے, ان کی کچھ اہم پالیسیوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    ٹیکس میں کٹوتیاں: ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے کارپوریشنوں اور بہت سے افراد کے لیے ٹیکس میں نمایاں کمی کی۔

    صحت کی دیکھ بھال: ٹرمپ نے سستی نگہداشت کے ایکٹ کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جسے اوباما کیئر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور متعدد پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد اس قانون کو ختم کرنا تھا۔

    امیگریشن: ٹرمپ نے متعدد متنازعہ امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر، متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ، اور ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ آرائیول (DACA) پروگرام کو ختم کرنا شامل ہے۔

    تجارت: ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی کی پیروی کی، کئی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر محصولات عائد کیے۔

    ماحولیاتی ضوابط: ٹرمپ نے متعدد ماحولیاتی ضوابط کو واپس لے لیا اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    خارجہ پالیسی: ٹرمپ نے خارجہ پالیسی کے کئی متنازع فیصلوں پر عمل کیا، جن میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری، اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنا، اور کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات میں ملوث ہونا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے دور کی اچھی اور بری چیزیں:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں بہت سے اہم تنازعات اور درحقیقت تقسیم کا شکار رہی۔ ٹرمپ کے دور میں پیش آنے والی کچھ بڑی "اچھی” اور "بری” چیزیں یہ ہیں۔

    "اچھی چیزیں:

    ٹرمپ کی زیادہ تر صدارت کے دوران امریکی معیشت نے ترقی کی اور عوام کو کم بے روزگاری کا سامنا ہوا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جس نے بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی۔

    ٹرمپ نے وفاقی عدالتوں میں قدامت پسند ججوں کو مقرر کیا، جن میں سپریم کورٹ کے دو جج بھی شامل ہیں, اور یہ بظاہر امریکہ کے لیے اچھے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

    "بری چیزیں:

    ٹرمپ نے متعدد متنازعہ اور پابندیوں والی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیا، جن میں میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بنانے والی سفری پابندی کا نفاذ شامل ہے۔

    ٹرمپ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو باہر نکال لیا اور متعدد ماحولیاتی ضوابط کو پس پشت کردیا جو کہ نہایت برا فعل مانا گیا۔

    ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ” تجارتی پالیسی پر عمل کیا جس کی وجہ سے کئی ممالک کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہوئے اور عالمی سپلائی چین میں خلل پڑا, بلخصوص امریکہ کی چائنہ سے تجارتی جنگ شروع ہوگئی جوکہ امریکی ملٹائی نیشن کمپنیز کے لیے اچھی ثابت نہیں ہورہی۔

    ٹرمپ کو 2019 میں ایوان نمائندگان کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال اور 2021 میں دوبارہ امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دار کیا اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا جو موقع بنا وہ الگ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کا سال بہ سال مختصراً:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ہر سال کے اہم واقعات اور پیشرفت کا خلاصہ یہ ہے:

    سال 2017:

    ٹرمپ نے 20 جنوری کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ٹرمپ نے 2017 کے ٹیکس کٹوتی اور ملازمتوں کے ایکٹ پر دستخط کیے، جو بہت سے افراد اور کارپوریشنوں کے لیے ٹیکسوں میں نمایاں کمی کا باعث بنا۔

    ٹرمپ نے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے سے امریکہ کو باہر نکال لیا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے نکل جائے گا۔

    ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے سفری پابندی جاری کی جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    سال 2018:

    ٹرمپ نے ایک بل پر دستخط کیے جو کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرتا تھا۔

    ٹرمپ نے بریٹ کیوانا کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیا، لیکن جنسی زیادتی کے الزامات کی وجہ سے کیوانوف کی تصدیق میں تاخیر ہوئی۔ آخر کار سینیٹ سے اس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

    ٹرمپ نے روس کے ساتھ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

    ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں تاریخی سربراہی ملاقات ہوئی، لیکن دونوں فریق جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    سال 2019:

    ایوان نمائندگان نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، لیکن سینیٹ نے مقدمے کی سماعت میں انہیں بری کر دیا۔

    ٹرمپ نے ایک ایسے بل پر دستخط کیے ہیں جو ایک دہائی میں دفاعی اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ فراہم کرتا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ, میکسیکو کو ایک "محفوظ تیسرے ملک” کے طور پر نامزد کرے گا، جو پناہ کے متلاشیوں کی ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی پناہ کا دعوی کرنے کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے محدود کر دے گا۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ شام سے اپنی تمام فوجیں نکال لے گا۔

    سال 2020:

    ٹرمپ کو ایوان نمائندگان نے دوسری بار مواخذہ کیا، اس بار امریکہ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت سے امریکہ کو نکالنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

    ٹرمپ نے کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے جن میں ایک ایسا بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی مواد کو سنسر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

    ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے شکست دی تھی۔

    سال 2021:

    ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری کو ختم ہوئی، جبکہ جو بائیڈن ریاستہائے متحدہ کے 46 ویں صدر کے طور پر منتخب ہوگئے۔

    ٹرمپ کو 6 جنوری 2021 کوکیپیٹل پر یو ایس کانگریس بلڈنگ پر حملے کے سلسلے میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی کانگریس پر حملہ:

    6 جنوری 2021 کو، اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے، ٹرمپ کے اس جھوٹے دعوے سے حوصلہ افزائی حاصل کی کہ 2020 کے صدارتی انتخابات ان سے چوری کیے گئے تھے، اس لیے الیکٹورل کالج کے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں حامیوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کیپیٹل پر دھاوا بول دیا۔ کیپیٹل پر حملےکے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں جماعتوں کے سیاست دانوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں ایوانِ نمائندگان کی طرف سے ٹرمپ کو مواخذے کا شکار بنے۔ کیپیٹل پر حملہ امریکہ میں کسی سرکاری عمارت کی سب سے اہم خلاف ورزیوں میں سے ایک تھا۔ امریکی تاریخ میں اس حملے کو جمہوریت کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔

    امریکی کانگریس کے حملے کی وجہ اور اس کا پس منظر:

    کیپیٹل میں 6 جنوری 2021 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے یو ایس کانگریس کی عمارت پرحملہ کیا جو 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا بے بنیاد دعوے کیے تھے کہ بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ذریعے ان کا الیکشن چرایا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی آئیں۔ 6 جنوری کو، جس دن کانگریس الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور صدر منتخب جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے مقرر تھی, ٹرمپ نے اس دن وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی، جس کے دوران وہ انتخابات کے بارے میں اپنے جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں کو کیپیٹل تک مارچ کرنے کی ترغیب دی۔ کیپیٹل پر دھاوا بولنے والے بہت سے فسادیوں کو ٹرمپ کا سیاسی اشتہاری سامان پہنے ہوئے اور ٹرمپ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا، اور ان میں سے کچھ کو "چوری بند کرو” کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا، کیونکہ ٹرمپ کے حامیوں کو یقین تھا کہ ٹرمپ کا الیکشن چرایا گیا ہے۔ کیپیٹل پر حملہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کی ایک پرتشدد اور بے مثال کوشش تھی، لیکن دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس حرکت کی بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی اور اس واقعے نے امریکی اخلاقیات اور جمہوریت پر بے تحاشا سوالات کھڑے کردیے تھے۔

    6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس کے حملے کی ٹائم لائن:

    6 جنوری 2021 کو امریکہ پر حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مختصر ٹائم لائن یہ ہے۔

    صبح 9:00 AM: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک ریلی نکالی جس میں وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے دہراتے رہے اور اپنے حامیوں سے کیپیٹل کی طرف مارچ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

    صبح 11:00 AM: ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت کے قریب جمع ہونا شروع ہو گئے۔

    دوپہر 1:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کرنے اور منتخب صدر جو بائیڈن کی جیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے دوبارہ اجلاس کیا۔

    دوپہر 1:10 PM: ٹرمپ کے حامیوں کا ایک ہجوم کیپیٹل کی حدود کو توڑتا ہے اور پولیس کے ساتھ تصادم شروع کر دیتا ہے۔

    دوپہر 2:00 PM: فسادی کیپیٹل کی عمارت میں گھس گئے، اور ان میں سے کچھ سینیٹ کے چیمبر میں داخل ہوئے۔

    سہ پہر 4:00 PM: فسادیوں کو کیپیٹل سے صاف کر دیا گیا، اور الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

    شام 7:00 PM: کانگریس نے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا اور جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کی۔

    رات 9:00 PM: صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ فسادیوں سے کہتے ہیں "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں”، لیکن ساتھ ہی ان سے "گھر جانے” کو بھی کہتے ہیں۔

    کیپیٹل پر حملے کے نتیجے میں کیپیٹل پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک اور کانگریس کے کئی ارکان سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر اہم اثرات مرتب کیے۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل:

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر امریکی دارلحکومت پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا تھا لیکن وہ محض سیاسی بیان سے بڑھ کر کچھ نہ تھا کیونکہ ٹرمپ نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم جو کے تشدد کے ذمہ دار تھے,کی حوصلہ افزائی کی, سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ٹرمپ نے فسادیوں سے کہا کہ "ہم آپ سے پیار کرتے ہیں، آپ بہت خاص ہیں” اور ان سے کہا کہ "گھر چلے جائیں” لیکن انہوں نے 2020 کے الیکشن کی سالمیت کے بارے میں جھوٹے دعوے بھی دہرائے اور کہا۔ "ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔” حملے کے بعد، ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    امریکی کانگریس پر حملے پر امریکی حکام کا ردعمل:

    امریکی کیپیٹل پر 6 جنوری 2021 کو حملے پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی اور وفاقی، ریاستی اور مقامی سطح پر حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی سیاست دانوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں ٹرمپ کو "بغاوت پر اکسانے” کے لیے مواخذے کے لیے ووٹ دیا۔

    وفاقی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس حملے کے کمزور ردعمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کیپیٹل پولیس، وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی جو کیپیٹل کی حفاظت کے لیے ذمہ دار ہےکو حملے کے بڑے پیمانے پر ردعمل کے لیے تیار نہ ہونے اور فسادیوں کے کیپیٹل کی خلاف ورزی کرنے تک دوسری ایجنسیوں سے مدد کی درخواست نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔ ایف بی آئی اور دیگر وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے فسادیوں کو کیپیٹل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ تیزی سے کام نہیں کیا۔ حملے کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں، وفاقی اور مقامی حکام نے فساد میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان پر الزامات عائد کیے، اور تحقیقات کیں جن کی مدد سے بعد میں مقدمات چلائے گئے اور سزائیں سنائی گئیں لیکن یہ امر واقع ہوچکا کہ اس حملے کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کی بہت جگ ہنسائی ہوئی اور امریکی جمہوریت کی قلعی کھل گئی کہ وہ کتنی مہذب جمہوریت ہے۔

    امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کا مستقبل:

    یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مستقبل کیا ہو گا۔ 6 جنوری 2021 کو کیپیٹل پرحملے کے بعد ٹرمپ کی صدارت 20 جنوری 2021 کو ختم ہوئی، جب منتخب صدر جو بائیڈن نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ ٹرمپ کو کیپیٹل میں تشدد کو بھڑکانے میں اپنے کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔

    مواخذے کی کارروائی کے علاوہ، ٹرمپ کو کیپیٹل پر حملے سے متعلق اپنے اقدامات کے قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وفاقی اور مقامی حکام نے ہنگامہ آرائی میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی، اور تحقیقات کا حصہ بنایا۔ یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کو اس حملے کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کی بدولت آئندہ عوام میں شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ابھی اس پر کچھ واضح نہیں ہے۔

    قصہ مختصر:

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت، جو 20 جنوری 2017 سے 20 جنوری 2021 تک جاری رہی، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور پوری دنیا میں اہم تنازعات کا باعث رہی۔ ٹرمپ نے کئی اہم پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور متعدد متنازعہ بیانات اور فیصلے کیے جن سے امیگریشن، صحت کی دیکھ بھال، تجارت اور ماحولیات سمیت متعدد مسائل پر برے اثرات مرتب ہوئے۔

    ٹرمپ کی صدارت کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اندر سیاسی پولرائزیشن اور عوامی تقسیم نے داغ دارکیا، اور ان کا دور صدارت جدید امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اور تفرقہ انگیز رہا۔

    امریکی دارلحکومت پر حملہ 6 جنوری 2021 کو ہوا، جس میں ٹرمپ کے حامیوں کے ایک ہجوم نے 2020 کے صدارتی انتخابات کی تصدیق میں خلل ڈالنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بول دیا، یہ امریکی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سیاست اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے۔ اس حملے پر، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دونوں جماعتوں کے سیاستدانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی اور ٹرمپ کو تشدد کو بھڑکانے میں ان کے کردار پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور 13 جنوری 2021 کو ایوان نمائندگان نے اس حملے کے سلسلے میں "بغاوت پر اکسانے” کے الزام میں ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور انہیں امریکی تاریخ کا بدترین صدر ثابت کیا جس کی بدولت امریکہ میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے اور جو دنیا میں امریکہ کی بدنامی کا باعث بنا تھا۔

  • حافظ آباد کی مقامی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    حافظ آباد کی مقامی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد کی مقامی عدالت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جواب طلب کر لیا

    پنجاب کے شہر حافظ آباد کی سیشن جج ناجیہ بتول نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 14 دسمبر کو طلب کرلیا ،سابق امریکی صدر ٹرمپ پر حافظ آباد پولیس پر دباؤ ڈالنے کا کیس ہے حافظ آباد کی خاتون نے ٹرمپ کی کمپنی میں کام کرنے والی اپنی ساس،نند اور ٹرمپ پر بچی کو واپس لینے پر اثر رسوخ استعمال کرنے کا الزام لگایا

    حافظ آباد کی فیملی کورٹ میں دائر درخواست پر سول جج ناجیہ بتول نے سماعت کی جس میں مؤقف اختیارکیا گیا تھا کہ سسرال والے اس سے اس کی بچی لینا چاہتے ہیں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل شعیب اسلم نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی ساس اوردو نندیں ٹرمپ کی کمپنی میں ملازم ہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقامی پولیس پر پریشر ڈالا جا رہا ہے۔ درخواست گزارخاتون نےالزام عائد کیا کہ مقامی پولیس بچی واپس کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد فریقین سے جواب طلب کر لیا

    درخواستگزار ثنا جاوید کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں علیحدگی کے بعد ثنا کا سابق شوہر ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو اپنے ہمراہ امریکا لے گیا تھا جبکہ عدالت نے طلاق کے وقت سوا سال کی بیٹی ثنا کے حوالے کر دی تھی اب خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اس بیٹی کو سسرال والے واپسی کےلئے دباؤ ڈال رہے ہیں

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

  • ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا

    ری پبلکنز نے ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا

    امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز نے 9 اضافی نشستوں کے ساتھ ایوان نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز نے 218 نشستیں حاصل کرلیں جبکہ ڈیموکریٹس ایوان میں اپنی 9 نشستیں کھو بیٹھے اور 435 رکنی ایوان میں 210 نشستیں لے پائے۔

    سعودی عرب نےانسداد وبائی امراض کیلئےعالمی فنڈ میں 5 کروڑ ڈالرعطیہ کرنےکا اعلان کیا

    دوسری جانب سینیٹ کےانتخابات میں ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز پر برتری حاصل کر لی،ایک اضافی نشست کے ساتھ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے جبکہ ری پبلکنز ایک نشست کھو کر 49 نشستیں حاصل کر پائے۔

    ایوان نمائندگان میں اکثریت کھو دینے سے صدر بائیڈن کیلئے قانون سازی مشکل ہوگئی جبکہ ری پبلکن لیڈر مچ میکونیل سینیٹ میں اقلیتی لیڈرمنتخب ہوگئے ہیں۔

    دوسری جانب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈٹرمپ نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے-

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے کہا کہ اس بارنشانے پر صدارتی امیدوار بننے کے ری پبلکن خواہشمند نہیں، جوبائیڈن ہوں گے، قوم کو بتایا جائے گا کہ بائیڈن کمزوراور ایسے بڈھے ہیں جنہوں نے ملک کو کھائی میں پھینک دیا ہے، صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی معیشت کو پھر سے پیروں پر کھڑا کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے اس کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا کہ ٹرمپ امیدوار بنے تو بائیڈن کا دوبارہ صدربننا یقینی ہوجائے گا، ٹرمپ کے توثیق کردہ سینیٹ، ایوان اورگورنرکے تقریباً تمام امیدوارہی مڈٹرم الیکشنز میں ناکام ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا میں مسلم کمیونٹی کی تلخ یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔

    کویت میں 2017 کے بعد پہلی مرتبہ ایک پاکستانی اور 2 خواتین سمیت سات افراد کو پھانسی

  • سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید پرصدرجوبائیڈن بھی برس پڑے

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ صدر پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے 2024ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا جس پر صدر جوبائیڈن نے بھی سابق صدر کوتنقید کا نشانہ بنایا-

    یوکرین پر میزائل حملوں کے دوران پولینڈ کے اندر بھی ایک میزائل دھماکہ ،دو افراد ہلاک

    امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024ء کا صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ڈیموکریٹ حکومت نے امریکی ریاست کو اپنی پالیسیوں سے کمزور اورذ لیل کردیا۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ سابق صدر ٹرمپ نے اپنے 4 سالہ دور میں امریکا کو ایک ناکام ریاست بنادیا۔ شدت پسندی کو رواج دیا، امیروں کو فائدہ پہنچایا اور صحت کے نظام کو تباہ کیا۔

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ یہ ٹرمپ ہی تھے جنھوں نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے مشتعل ہجوم کو تشدد پر اکسایا جس کے نتیجے میں کانگریس کی عمارت پر حملہ ہوا اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔

    دوسری جانب سابق صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں اپنے والد سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن ان کی انتخابی مہم چلانے پر میں اپنی نجی زندگی کو ترجیح دوں گی۔

    یورپی یونین نے ایرانی وزیرداخلہ، سرکاری ٹی وی سمیت 29 شخصیات اور اداروں پر…

    واضح رہے کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی الیکشن میں حکمراں جماعت سینیٹ میں بمشکل ایک نشست سے برتری حاصل کرپائی ہے اور ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی ریپبلکن نے 2017 نشستوں سے میدان مارلیا جب کہ حکمراں جماعت 209 نشستوں پر کامیاب ہوسکی۔

    خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے 2024 میں صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ فلوریڈا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ امریکہ کے روشن مستقبل کی خاطر کیا ہے، یہ کمپین صرف میری نہیں بلکہ پورے امریکا کی ہے، آپ کا ملک آپ کی آنکھوں کے سامنے تباہ ہورہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ سے اشارہ دیا جارہا تھا کہ وہ ایک بار پھر وائٹ ہاؤس جانے کی دوڑ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد امریکا کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے تھے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کا اعلان کردیا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف توشہ خانے سے تحائف غائب کرنے کی تحقیقات شروع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اوران کے خاندان کو غیرملکی سربراہوں کی جانب سے دیے گئے درجنوں تحائف کا پتہ نہیں چلایا جاسکا سابق صدر ٹرمپ کو دیے گئے ان تحائف کی مالیت 50 ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔ اب معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہےکہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ نے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے یا ساتھ لے گئے۔

    قنطاس ائیر لائنز کی پہلی فلائٹ کے سو سال پورے ہونے پر اسی روٹ پر یادگار پرواز


    اس سلسلے میں ایوان نمائندگان کی کمیٹی نے صدارتی تحائف جمع کر کے رکھنے والے ادارے نیشنل آرکائیو سے مدد مانگ لی ہے اور کانگریشنل تفتیش کاروں نے ان تحائف کی تلاش شروع کردی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ سلمان کی جانب سے ٹرمپ کو ملنے والا عبدالعزیز السعود اعزاز بھی غائب ہے سابق صدر ٹرمپ کو جاپانی وزیراعظم شنزوآبے نے گالف کھیلنے کے سامان کا قیمتی تحفہ دیا تھا اسکا بھی پتہ نہیں چلایا جاسکا۔

    پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    روس کے صدر پیوٹن نے 2018 ورلڈ کپ کی فٹبال ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دی تھی، مصر کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مصر کے قدیم دیوتا کا سنہری مجسمہ بھی تحفے میں دیا تھا اور ایلسلواڈور کے صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی بڑی پینٹنگ تحفے میں دی تھی۔


    توشہ خانہ سے ملکہ الزبتھ دوم کی دستخط شدہ نایاب تصویر، مہاتما گاندھی کامجمسہ، افغان دری، کرسٹل بال اور اومان کی جانب سے دیئے گئے ملبوسات کا بھی پتہ نہیں چلا یا جا سکا۔

    واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خفیہ دستاویز کے معاملے پر لاپرواہی برتنے کے الزامات کی تحقیقات کا بھی سامنا ہےایف بی آئی اپنی کارروائی کے دوران سابق صدر کی مار اے لاگو رہائش گاہ سے چین اور ایران سے متعلق کئی اہم دستاویز برآمد کرچکی ہے-

    ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ٹیکس ریٹرن کانگریس کمیٹی کو دینے سے متعلق عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک میرٹ پر حکم کے لیے درکار معلومات نہ ہوں،فیصلہ معطل رہے گا۔

    کینیڈا نے ایران پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں نئی پابندیاں عائد کردیں

    چیف جسٹس جان رابرٹس نے عارضی طور پر ہاؤس کمیٹی کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں کو حاصل کرنے سے روک دیا، ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا جس سے امریکی سپریم کورٹ کو سابق صدر کی طویل تاخیر کی درخواست پر غور کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا-

    عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمیٹی 10 نومبر تک اپنے دلائل دے،اس کے فوری بعد فیصلہ سنائے۔گزشتہ ہفتے فیڈرل اپیل کورٹ نے انٹرنل ریوینیو سروس کو دستاویزات کمیٹی کو دینے کی اجازت دی تھی۔

    حکم سے 8 نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلےدستاویزات جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی تھی تاہم اپیل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں ایمرجنسی اپیل دائر کی تھی۔

    ہاؤس ویز اینڈ مینز کمیٹی کو جمعرات کو جلد ہی چھ سال کے ٹیکس گوشواروں کو حاصل کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا جب ایک وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ کی داخلی آمدنی کی سروس سے منتقلی کو روکنے کی تازہ ترین بولی کو مسترد کردیا۔ اپنے دو جملوں کے حکم میں، رابرٹس نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 10 نومبر تک ٹرمپ کی درخواست کا جواب دے-

    آئی سی سی نے افغانستان میں تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی

    ٹرمپ نے پیر کو ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ ریکارڈ کو تبدیل کرنے سے روک دے جب کہ جج اس بات پر غور کریں گے کہ آیا ان کی اپیل پر غور کیا جائے۔ اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات اور اس امکان کے پیش نظر کہ ریپبلکن ایوان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں، کمیٹی ریکارڈز حاصل کرنے کے لیے گھڑی بھر دوڑ رہی ہے۔

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کمیٹی کے پاس ایک جائز قانون سازی کا فقدان ہے اور یہ کوشش دستاویزات کو "نمائش کی خاطر” منظر عام پر لانے کا بہانہ ہے انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ "اختیارات کی علیحدگی کے بارے میں اہم سوالات پیش کرتا ہے جو ہر آنے والے صدر کو متاثر کرے گا۔

    کمیٹی نے کہا ہے کہ اسے ٹیکس قوانین کے ساتھ صدارتی تعمیل، عوامی احتساب اور صدور کے لیے لازمی آئی آر ایس آڈٹ پالیسی جیسے مسائل پر مستقبل کی قانون سازی پر غور کرنے کے لیے واپسی کی ضرورت ہے۔

    کمیٹی کے ترجمان ڈیلن پیچی نے ایک ای میل بیان میں کہا، طریقے اور ذرائع کمیٹی برقرار رکھتی ہے کہ قانون ہماری طرف ہے، اور درخواست کے مطابق بروقت جواب داخل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین، میساچوسٹس کے ڈیموکریٹک نمائندے رچرڈ نیل، "سپریم کورٹ کے فوری غور کے منتظر ہیں۔

    ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی

  • سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بچوں اور کاروبار کے خلاف مقدمہ درج

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بچوں اور کاروبار کے خلاف مقدمہ درج

    نیویارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے کچھ بچوں اور کاروبار کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بچوں اور کاروبار کے خلاف مقدمہ امریکی ریاست نیویارک کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔

    یوکرین کے متعدد علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان،امریکا کی روس کو سنگین نتائج کی دھمکی

    سی این این کے مطابق سابق صدر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج ہوا ہے جس میں ان پر مالی فوائد کے حصول کی خاطر جھوٹ بولنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

    نیویارک کی اٹارنی جنرل نے بدھ کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے تین بچوں اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے ایک وسیع دھوکہ دہی میں ملوث تھے جسے سابق صدر مالی فوائد کے حصول کیلئے استعمال کرتے تھے۔

    بھارتی پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ

    200 سے زائد صفحات پر مشتمل مقدمے میں، اٹارنی جنرل لیٹیا جیمزنے الزام لگایا ہے کہ ٹرمب نے دھوکہ دہی سے اپنے کاروبار کو وسعت دی مالی حالت کے بیانات بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اور اس کے نتیجے میں ہم مدد کے خواہاں ہیں، اور مسٹر ٹرمپ، ٹرمپ آرگنائزیشن، ان کا خاندان ان سب کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ دائر مقدمے میں ان کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اس ضمن میں امریکی ریاست نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے جیمز نے نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرقانونی طریقے سے دولت کو اربوں ڈالرز تک بڑھایا، 10 سال میں 200 سے زائد مرتبہ مالیاتی گوشواروں میں دھوکہ دہی کی۔

    رپورٹ کے مطابق نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز نے کہا کہ سابق امریکی صدور کو بھی عام شہریوں کی طرح قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔

    ملکہ برطانیہ کی تدفین سے قبل لندن میں کینیڈین وزیراعظم کےگانے سے سوشل میڈیا پر…

  • رہائش گاہ پر چھاپہ ، ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف پر مقدمہ دائر کردیا

    رہائش گاہ پر چھاپہ ، ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف پر مقدمہ دائر کردیا

    واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی رہائش گاہ پر چھاپا مارے جانے کے بعد محکمہ انصاف پر مقدمہ دائر کردیا۔

    باغی ٹی وی :"بی بی سی” کے مطابق ٹرمپ نے اپنی درخواست میں وفاقی عدالت سے استدعا کی کہ ایف بی آئی کو ان کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران 2 ہفتے قبل ضبط کی گئی دستاویزات پر انکوائری سے روک دیا جائے اورمحکمہ انصاف انہیں ہر برآمد کی گئی دستاویز یا سامان کی رسید بھی فراہم کرے۔

    ایف بی آئی کے مطابق، 8 اگست کو مسٹر ٹرمپ کی فلوریڈا اسٹیٹ سے کلاسیفائیڈ فائلوں کے گیارہ سیٹ لیے گئے تھے مسٹر ٹرمپ سے ممکنہ طور پر دستاویزات کی غلط ہینڈلنگ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    2 سابق ججوں کو رشوت لینے پر 20 کروڑ ڈالرز ادا کرنے کا حکم

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے ممکنہ طور پر سرکاری دستاویزات کو غلط طریقے سے استعمال کیا اور اسی الزام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں قانون کے تحت امریکا کے سابق صدور کو اپنی تمام سرکاری دستاویزات اور ای میلز نیشنل آرکائیوز ایجنسی کے حوالے کرنا ہوتا ہے-

    ایف بی آئی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا جنوری 2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ نےصدارت کا عہدہ چھوڑنےکے بعد مذکورہ دستاویزات وائٹ ہاؤس سے لے جانے کی غلطی کی تھی یا نہیں۔

    تاہم سابق صدر ٹرمپ کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ تمام اشیا کو ڈی کلاسیفائیڈ کیا جا چکا تھا ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ چھاپا مارنے اور دستاویزات کا معاملہ اٹھانے کامقصد سیاسی ہے، تاکہ مجھے دوبارہ انتخاب لڑنے سے روکا جا سکے۔

    سابق امریکی صدر نے درخواست میں کہا کہ ایف بی آئی کو اس وقت تک دستاویزات کی انکوائری سے روکنے کا حکم دیا جائے، جب تک اس کی نگرانی کے لیے کسی غیر جانبدار فریق یا وکیل کا تقرر نہ کردیا جائےعلاوہ ازیں چھاپےکےدوران ضبط کی گئی وہ اشیا واپس کردی جائیں، جن کا وارنٹ میں ذکر نہیں تھا۔

    کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید 6 سال قید کی سزا

    فلوریڈا کی ایک عدالت میں دائر 27 صفحات پر مشتمل دستاویز میں، مسٹر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے محکمہ انصاف کی تلاش پر الزام لگایا ہے کہ کیس میں ٹرمپ کے وکلا نے دلیل پیش کی کہ کچھ دستاویزات ایگزیکٹوز کا استحقاق ہوتا ہےاورقانون کے مطابق امریکی صدور کو اپنے بعض معاملات کو عام نہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ چھاپے کے بعد اس معاملے نے امریکی عوام کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

    محکمہ انصاف نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ استغاثہ ٹرمپ کے مقدمے سے واقف ہیں،اور وہ عدالت میں جواب دیں گےترجمان انتھونی کولی نے کہا کہ ٹرمپ کے گھر میں تلاشی کے وارنٹ کو وفاقی عدالت نے ممکنہ وجہ کی مطلوبہ تلاش پر اختیار کیا تھا۔

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پیر کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایجنٹوں نے اب تک مسٹر ٹرمپ کے خفیہ نشانات کے ساتھ 300 سے زائد دستاویزات برآمد کی ہیں، جن میں سی آئی اے، نیشنل سیکیورٹی ایجنسی اور ایف بی آئی کا مواد بھی شامل ہے۔

    مسٹر ٹرمپ کی قانونی کارروائی پیر کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ایک جج کے سامنے دائر کی گئی جسے مسٹر ٹرمپ نے 2020 میں بینچ کے لیے نامزد کیا تھا۔

    مسٹر ٹرمپ اس کی مزید تفصیلی فہرست کے لئے مقدمہ کر رہے ہیں کہ ان کی جائیداد سے کیا لیا گیا تھا اور وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کوئی بھی ایسی چیز واپس کر دی جائے جو سرچ وارنٹ کے دائرہ کار میں نہ ہو۔

    ٹرمپ کے گھر پر چھاپے کے دوران "انتہائی خفیہ” دستاویزات ضبط

  • سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےگھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ:اہم دستاویزات ساتھ لے گئے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےگھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ:اہم دستاویزات ساتھ لے گئے

    واشنگٹن:ایف بی آئی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر چھاپہ مارا جس کے دوران اہلکاروں نے رہائش گاہ کے مختلف حصوں کی تلاشی لی اور اہم دستاویزات ضبط کر لیں، ٹرمپ نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے ایک الماری کو توڑ ڈالا۔

     

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سروے انتخابات میں اپنے حریفوں کوشکست دے گئے

    ایف بی آئی کا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر چھاپہ، تحقیقاتی ایجنسی کے اہلکار اہم دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ تلاشی مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری کاغذات کے استعمال سے متعلق تحقیقات سے منسلک ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پیر کو چھاپے کی اطلاع کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ نیو یارک شہر کے ٹرمپ ٹاور میں موجود تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانچ میں ڈرامائی طور پر اضافہ اس وقت ہوا جب وہ 2024 میں ممکنہ طور پر تیسری مرتبہ امریکی صدارتی انتخاب کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے:امریکی میڈیا کا الزام

    سابق صدر ٹرمپ نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ ہماری قوم کے لیے تاریک وقت ہے، اس طرح کا حملہ صرف تیسری دنیا کے ممالک میں ہو سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی توشہ خانہ کیس کا سامنا

    دوسری جانب امریکہ کے محکمہ نیشنل آرکائیوز کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی فلوریڈا والی رہائش گاہ مار-اے-لاگو سے 15 باکس قبضے میں لیے ہیں جن میں خفیہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔ امریکی صدور قانون کے مطابق اپنے تمام خطوط، کام کے دستاویزات اور ای میلز کو نیشنل آرکائیوز میں منتقل کرنے کے پابند ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے کئی دستاویزات کو غیر قانونی طور پر پھاڑ دیا تھا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی توشہ خانہ کیس کا سامنا

    ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی توشہ خانہ کیس کا سامنا

    واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی توشہ خانہ کیس کا سامنا ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف غیر ملکی حکومتوں سے ملنے والے تحائف کا مکمل ریکارڈ محکمہ خارجہ کونہ دینے پرایوان نمائندگان کی کمیٹی نے تحقیقات شروع کردیں یہ جاننے کے بعد کہ ہزاروں ڈالر مالیت کی ایسی اشیاء ہوسکتی ہیں جو یا تو غائب ہیں یا ان کا صحیح طریقے سے پتہ نہیں لگایا گیا-

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    ایوان نمائندگان کی اصلاحات کمیٹی کی چئیرپرسن کیرولائن میلونی نے کہا کہ یہ معلوم نہیں کہ سابق صدرٹرمپ کو غیرملکی حکومتوں کے نمائندوں کی جانب سے کیا تحفے دئیے گئے اس معاملے میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ کہیں سابق صدرپر بیرونی حکومتیں اثرانداز تو نہیں ہوئیں جن سے امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات خدشات کاشکار بنے ہوں-

    انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تحائف کا باقاعدہ ریکارڈ نہ رکھنے سے امریکا کی قومی سلامتی اورخارجہ پالیسی کے مفادات کوخطرہ لاحق ہوسکتا ہے اوریہ آئین کی کھلی خلاف وزری ہے۔

    سی این این کے مطابق ہاؤس ڈیموکریٹس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "دفتر میں رہتے ہوئے غیر ملکی حکومتی اہلکاروں کے تحائف کا حساب کتاب کرنے میں بظاہر ناکامی” کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ جاننے کے بعد کہ ہزاروں ڈالر مالیت کی ایسی اشیاء ہوسکتی ہیں جو یا تو غائب ہیں یا ان کا صحیح طریقے سے پتہ نہیں لگایا گیا اس حوالے سے کمیٹی کی جانب سے خط جاری کیا گیا-

    کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسے محکمہ خارجہ سے معلومات موصول ہوئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ‘اس ذمہ داری کو ترجیح نہیں دی’ اور اس قانون کی تعمیل کرنے میں ناکام رہی جو صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت کے آخری سال کے دوران غیر ملکی تحفے کی رپورٹنگ کو کنٹرول کرتا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ اس کے نتیجے میں، صدر ٹرمپ کو ملنے والے تحائف کی غیر ملکی ذرائع اور مالیاتی قیمت نامعلوم ہی رہی محکمہ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران غیر ملکی تحائف وصول کرنے والے کچھ سرکاری اہلکاروں کی شناخت کے ساتھ ساتھ ان غیر ملکی تحائف کے ذرائع کا تعین کرنے سے قاصر ہے۔

    نگران کمیٹی اب نیشنل آرکائیوز سے ان غیر ملکی تحائف کے بارے میں معلومات طلب کر رہی ہے جو ٹرمپ اور ان کے خاندان کے افراد کو سابق صدر کے دور میں ملے تھے۔

    ایران میں ٹرین حادثہ، 13 افراد ہلاک، 50 زخمی 15 کی حالت تشویشناک

    یہ تحقیقات ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے تحت وفاقی ریکارڈ اور اخلاقیات کے قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے کانگریس کے اختیار کو استعمال کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

    کمیٹی کے خط میں کہا گیاکہ غیرحساب تحائف کےبارےمیں انکشافات "غیر ملکی حکومتوں کی طرف سےسابق صدر ٹرمپ پرغیر ضروری اثر و رسوخ کے امکانات کے بارے میں خدشات کوجنم دیتے ہیں جس سے امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہےاور آئین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں۔ ایمولیومینٹس کلاز، جو صدر کو دفتر میں رہتے ہوئے غیر ملکی اداروں سے فوائد حاصل کرنے سے منع کرتی ہے-

    خط میں کہا گیا ہے کہ عوامی رپورٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 2020 میں غیر ملکی ذرائع سے متعدد تحائف قبول کیے، پھر بھی یہ تحائف محکمہ خارجہ کی عوامی فہرست میں شامل نہیں ہیں جوکہ قانونی خلاف ورزی ہے-

    سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے وکیل اور ٹرمپ کے نمائندے نے درخواست کا جواب نہیں دیا کمیٹی نے نیشنل آرکائیوز سے کہا ہے کہ وہ ان تحائف کے بارے میں تمام قابل اطلاق دستاویزات اور مواصلات فراہم کریں جو ٹرمپ اور ان کے خاندان کے افراد کو جنوری 2020 سے جنوری 2021 تک 20 جون تک موصول ہوئے تھے۔

    20 ہزار خط گھر میں رکھنے والا ڈاکیا گرفتار