Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ڈونلڈ ٹرمپ نےشہزادہ ہیری اور میگھن کے درمیان علیحدگی کی پیشگوئی کر دی

    ڈونلڈ ٹرمپ نےشہزادہ ہیری اور میگھن کے درمیان علیحدگی کی پیشگوئی کر دی

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ کے درمیان طلاق کی پیش گوئی کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب مئں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ شاہی جوڑے کے درمیان طلاق ہو جائے گی، پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے درمیان ازدواجی زندگی کا اختتام اچھا نہیں ہو گا-

    ایران چند ہفتوں کے دوران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے،امریکا

    سابق امریکی صدر نے انٹرویو میں یہاں تک کا کہا کہ میگھن ہیری پر حکم چلاتی ہیں جبکہ ملکہ برطانیہ کو ہیری اور میگھن کی شاہی حیثیت ختم کر دینی چاہیے تھی شاہی خاندان کی قربانی دینے والے شہزادے ہیری کو میگھن کسی دوسرے شخص کے لیے چھوڑ دیں گی.

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت اچھی پیش گوئیاں کرتے ہیں جو بعد میں جا کر ٹھیک ثابت ہوتی ہیں، اور انہیں میگھن کبھی بھی پسند نہیں تھیں۔

    یاد رہے 2020 کے انٹرویو میں بھی سابق امریکی صدر نے میگھن سے متعلق اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران، ایک رپورٹر نے ان سے اس جوڑے کے بارے میں پوچھا، جو امریکیوں کو 2020 کے صدارتی انتخابات سے قبل ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر کرنے کی ترغیب دے رہے تھے رپورٹر نے پوچھا، "پرنس ہیری اور میگھن مارکل نے امریکی انتخابات میں حصہ لیا اور لوگوں کو جو بائیڈن کو ووٹ دینے کی ترغیب دی۔ میں اس پر آپ کا ردعمل جاننا چاہتا تھا۔

    جواب میں ٹرمپ نے میگھن سے متعلق اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا کہا تھا کہ میں اس کا پرستار نہیں ہوں اور کہا تھا کہ میں شہزادے ہیری کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔

    اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی ٹوئٹرجوائن نہیں کر وں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    واضح رہے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے 9 جنوری 2020 کو شاہی حیثیت سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مالی طور پر خود مختار ہونے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن نے اس وقت اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ ملکہ برطانیہ اور شاہی خاندان کی عزت و احترام کرتے رہیں گے تاہم بعد میں انہوں نے انٹرویوز میں شاہی خاندان کے افراد پر کئی قسم کے الزامات لگائے جس پر انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا-

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

  • اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی ٹوئٹرجوائن نہیں کر وں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی ٹوئٹرجوائن نہیں کر وں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا ٹوئٹر اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی وہ ٹوئٹر جوائن نہیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹر پر واپسی سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سےٹرمپ کا اکاونٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہیں ٹوئٹر کی نئی پالیسی پر سوال بھی اٹھایا گیا۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    ٹوئٹر پر واپسی کے حوالے سے سابق امریکی صدرنے اپنے بیان میں کہا کہ ایلون مسک کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد اگر ان کا اکاؤنٹ بحال بھی کر دیا جاتا ہے تو بھی وہ واپس نہیں آئیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے تک ‘ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم’ کو باضابطہ طور پر جوائن کریں گے میں ٹوئٹر پر واپس نہیں جارہا البتہ ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم سے منسلک رہوں گا۔

    ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا

    انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایلون ٹوئٹر کو خریدنے کے بعد اس میں بہتری لائیں گے اور وہ ایک اچھے انسان ہیں مگر میں پھر بھی نئے نیٹ ورک پر موجود رہوں گا-

    واضح رہے کہ امریکی ارب پتی ایلون مسک نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو تقریباً 44 ارب ڈالرز میں خریدنے کا معاہدہ ہوگیا ہے، جس کے بعد ٹوئٹرکا کنٹرول اب دنیا کے امیر ترین شخص کومنتقل ہوجائے گا۔

    معاہدے کے مطابق ایلون مسک ٹوئٹر کی خریداری کے لیے 54.20 ڈالر فی شیئر رقم ادا کریں گے، مسک ٹوئٹر کے واحد شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ یہ دنیا بھر میں اب تک کی کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کو خریدنے کا سب سے بڑا سودا ہے۔

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

  • کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں کے رہنماوں کو سخت کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ

    واشنگٹن : کیپٹل ہِل پر حملہ مسلح گروہوں نے کیا:سخت قید کی سزائیں:سابق صدر کے خلاف بھی گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صدارتی فتح کی تصدیق کو روکنے کی کوشش میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے امریکی کانگریس کی عمارت، کیپیٹل ہل، پر دھاوا بولنے کو آج ایک سال ہوگیا ہے۔ اب تک سات سو سے زیادہ افراد پر وفاقی جرائم کا الزام لگایا جا چکا ہے۔

    سازشی نظریے کیو اینوں کے نام نہاد شامن جیکب چانسلی، جنہوں نے سر پر سینگ سجائے اور سمور دار کھال پہنے ہجوم کی قیادت کی، کو41 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ جینا رائن نامی خاتون، جو کیپٹل ہل میں بلوائیوں کا حصہ بننے سے قبل نجی جہاز پر واشنگٹن ڈی سی پہنچی تھی اور بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس لیے جیل نہیں جائیں گی کیونکہ ان کے ’بال سنہرے ہیں‘ اور ’رنگ سفید‘ ہے، ان کو 60 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔

     

    ادھر اس حوالے سے انتہائی دائیں بازو کے مسلح گروہ جیسے ’پراؤڈ بوائز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے اراکین کے خلاف مزید پیچیدہ مقدمات کی سماعت جاری تھی جس کے بعد ان کے حوالے سے باقاعدہ آج اعلان کیا گیا کہ تمام سازشیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے

    ادھر حکام نے جمعرات کو بتایا کہ انتہائی دائیں بازو کے اوتھ کیپرز ملیشیا گروپ کے بانی اور رہنما سٹیورٹ رہوڈز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    روڈس کسی انتہا پسند گروپ کا وہ اعلیٰ ترین رکن ہے جسے مہلک محاصرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب محکمہ انصاف نے کیپیٹل پر حملے کے سلسلے میں بغاوت کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

    رہوڈز پر اوتھ کیپرز کے ایک درجن سے زائد دیگر اراکین اور ساتھیوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی ہے، جو حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کو روکنے کے ارادے سے واشنگٹن آئے تھے۔

    رہوڈز 6 جنوری کو کیپیٹل کی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد کو بھڑکانے میں مدد کی جس نے ووٹ کی تصدیق میں خلل ڈالا۔ اوتھ کیپرز کیس وفاقی حکام کی جانب سے 6 جنوری کو اب تک کا سب سے بڑا سازشی کیس ہے، جب ہزاروں ٹرمپ حامی فسادیوں نے پولیس کی رکاوٹوں پر دھاوا بول دیا اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے، درجنوں افسران کو زخمی کر دیا اور قانون سازوں کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

    لیکن اب ایسے لگ رہا ہےکہ جیسے اب امریکی عدالتیں اس کیس کوانجام تک پہنچانے کےلیے کوشاں ہیں

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔

  • میں‌جنگوں کے خاتمے کے لیے آیا ہوں: امریکی صدر کامضحکہ خیز ٹوئٹ

    میں‌جنگوں کے خاتمے کے لیے آیا ہوں: امریکی صدر کامضحکہ خیز ٹوئٹ

    واشنگٹن:جنگوں کے باد شاہ امریکہ کے جارحانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور کارڈ کھیل ڈالا ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو نام نہاد اعزاز دینے کی خود ساختہ کوشش کی ، اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس لیے منتخب کیا گیا تاکہ نہ ختم ہونے والی جنگوں کا خاتمہ کر دوں۔

    مرنے والے فقیر کی جھونپڑی میں‌بینک ، اور بھی بینک بیلنس ،فقیر بادشاہ سرکار

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے اقدام سے سب سے زیادہ چین اور روس نا خوش ہیں، دونوں ممالک ہمیں جنگوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جب اقتدار سنبھالا تو فوج کم زور ہو رہی تھی، اب زیادہ طاقت ور ہے، مضحکہ خیز جنگیں اب ختم ہو رہی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب ہم زیادہ اہم اور بڑے معاملات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ہم واپس جا کر زیادہ اہم معاملات پر کام کر سکتے ہیں۔

    بزدار حکومت کے خلاف کنٹریکٹ ملازمین سراپا احتجاج، سول سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یورپ اور دیگر ممالک دیکھیں کہ امریکا نے ان کی توقعات کے بالکل برعکس کس طرح داعش کے جنگ جوؤں اور ان کے گھر والوں کو پکڑا، اب دوسروں کی باری ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی حفاظت کریں۔

    زیابطس (شوگر) کے لیے انسولین سے بہت جلد جان چھوٹ جائے گی ،امریکی ماہرین

  • اب کون ہوں گے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹرمپ نے اعلان کرکے سب کو حیران کردیا

    اب کون ہوں گے امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹرمپ نے اعلان کرکے سب کو حیران کردیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ، اطلاعات کےمطابق  ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دینے والے رابرٹ سی او برائن کو قومی سلامتی کے لیے اپنا مشیر نامزد کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ پیغام کے ذریعے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا،

     

    پی ٹی آئی کی حکومت ملک میں یکساں نظام حکومت نافذ کرنے والی ہے ، جو سیاست سے پاک ہوگا ، وفاقی وزیرتعلیم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ  انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے دلی مسرت ہے کہ وہ رابرٹ سی او برائن کو قومی سلامتی کا مشیر نامزد کررہے ہیں، رابرٹ اوبرائن اس وقت محکمہ خارجہ میں ہوسٹیج افیئرز پر صدر کے نمائندہ خصوصی کے طور پرنہایت کامیابی کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

     

    امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ  نے مزید کہا کہ رابرٹ سی او برائن کے ساتھ کافی کام کیا ہے، امید ہے کہ وہ آئندہ بھی بہترین کام کریں گے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے چند روز قبل قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کوشدید پالیسی اختلافات پرعہدے سے ہٹا دیا تھا۔

  • کس نے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں ہم سعودی عرب کی حفاظت کریں گے ، ٹرمپ نے دل کی بات کہہ دی

    کس نے کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں ہم سعودی عرب کی حفاظت کریں گے ، ٹرمپ نے دل کی بات کہہ دی

    واشنگٹن : کس نے کہا ہے کہ امریکہ نے جنگ کی صورت میں سعودی عرب کی حفاظت کاوعدہ کیا ہے ، ایسی کوئی بات نہیں اور نہ ہی امریکہ کو سعودی عرب کی خاطر کسے دوسرے ملک سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے ، ٹرمپ نے سعودی توقعات پر پانی پھیر دیا ، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے

    جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں‌کرسکتا، پردے پر وینا ملک نے قران کا پیغام شیئرکیا ، احمقوں کی طرف سے بے جا تنقید جاری

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایران ہی سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ملوث ہے تاہم وہ پھر بھی خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔ٹرمپ کے بیان سے پہلےامریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران خطے میں موجود اپنے حریف سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے میں براہ راست ملوث ہے۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد امریکا کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کا رد عمل دینے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے واشنگٹن نے اپنے اہداف بھی لاک کرلیے۔ تاہم تازہ بیان نے امریکی منافقت کی قلعی کھول دی

  • امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس  کالونی قائم کردی.

    امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،نیتن یاہونےمقبوضہ فلسطین میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پرٹرمپ ہائٹس کالونی قائم کردی.

    مقبوضہ بیت المقدس :امریکہ اور اسرائیل کی فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد ڈونلڈ کو نیتن یاہو کا خراج عقیدت .ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کی کالونی قائم کردی .اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پر یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے ایک نئی بستی کی تعمیر کا افتتاح کر دیا ہے۔ اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے اس علاقے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر یہ ’سیٹلمنٹ‘ تعمیر کی جارہی ہے اس کا نام ان ہی کے نام پر ٹرمپ ہائٹس ( ٹرمپ رامات) رکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو "ٹرمپ ہائٹس” کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سے متعلق ایک حکم پر دستخط کیے تھے ۔اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دوسرے اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی عہدے دار بھی موجود تھے۔اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ "گولان پر اسرائیلی خود مختاری کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔” نیتن یاہو گذشتہ کئی ماہ سے امریکی صدر پر گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے لیے زور دے رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے باون سال سے کنٹرول کے بعد اب امریکا کو کوئی اقدام کرنا چاہیے اوراس کی اس علاقے پر خود مختاری تسلیم کر لینی چاہیے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر 1967ء کی مشرقِ اوسط کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں قبضہ کیا تھا اور 1980ء کے اوائل میں اس کو غاصبانہ طور پر صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور امریکا کے سوا دنیا کے تمام ممالک گولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔