Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    ٹرمپ نے یوکرین کو 85 کروڑ ڈالر کے میزائل دینے کی منظوری دے دی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ 850 ملین ڈالر (85 کروڑ ڈالر) مالیت کے اسلحہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، امریکہ 3,350 جدید میزائل فراہم کرے گا۔

    امریکی اخبارکے مطابق ان میزائلوں کی رینج 180 سے 250 کلومیٹر تک ہے جو یوکرین کو روس کے خلاف دفاعی اورجارحانہ حکمت عملی میں طاقت فراہم کریں گےمعاہدے کے تحت یہ تمام میزائل چھ ہفتوں کے اندریوکرین کوفراہم کیے جائیں گے تاہم ان کے استعمال کی مکمل نگرانی پینٹاگون کریگا یوکرینی افواج ان میزائلوں کوامریکی دفاعی ادارے کی پیشگی اجازت کے بغیراستعمال نہیں کر سکیں گی۔

    امریکی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے اخراجات براہِ راست یورپی اتحادی ممالک اٹھائیں گے جس سے امریکہ پر مالی دباؤ کم رہے گا،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور نیٹو کی یوکرین سے وابستگی کو مزید واضح کرتا ہے اورخطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسری،جانب،پینٹاگون نے یوکرین کو روس کے اندر اہداف پر حملوں کے لیے لمبے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے سے روک دیا، جس کا دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون خاموشی سے یوکرین کو امریکی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز استعمال کرکے روس کے اندر حملے کرنے سے روک رہا ہے، جس کے باعث کیف کو ماسکو کے حملوں کے خلاف دفاع میں ان ہتھیاروں کے استعمال میں مشکلات پیش آرہی ہیں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حتمی فیصلہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے پاس ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کی تین سال سے جاری جنگ کو روکنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں تاحال کامیاب نہ ہوسکےروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ الاسکا میں ان کی ملاقات اور اس کے بعد یورپی رہنماؤں اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی کے ساتھ ملاقاتیں کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوئیں اس کے بعد ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایک بار پھر روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے یا متبادل طور پر اس پیش رفت سے سے الگ ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں فیصلہ کرنے والا ہوں کہ ہم کیا کریں گے اور یہ ایک بہت اہم فیصلہ ہوگا جس میں بڑی پابندیاں اور محصولات عائد ہوسکتی ہیں، یا شاید ہم کچھ بھی نہ کریں اور کہہ دیں کہ یہ آپ لوگوں کی جنگ ہے،روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو این بی سی کو بتایا کہ زیلینسکی کے ساتھ کسی ملاقات کے لیے کوئی ایجنڈا طے نہیں ہے-

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جیسے ہی وائٹ ہاؤس پیوٹن کو امن مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پینٹاگون کی جانب سے قائم کردہ منظوری کا ایک عمل یوکرین کو روسی علاقے کے اندر گہرائی میں حملے کرنے سے روکے ہوئے ہے۔

  • ایلون مسک نےبھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو  سانپ قرار دیا

    ایلون مسک نےبھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو سانپ قرار دیا

    ایلون مسک نے بھارت کے لیے نامزد امریکی سفیر کو’سانپ‘ قرار دیدیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے قریبی ساتھی سرجیو گور کو بھارت میں امریکا کا نیا سفیر اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی نامزد کرنے کا اعلان کیا،ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 38 سالہ گور ان کے ’بہترین دوست‘ ہیں جنہوں نے صدارتی مہمات، حکومتی تقرریوں اور ان کی کتابوں کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا،سفیر کی حیثیت سے وہ میرے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد شخصیت ہیں۔

    سرجیوگور، جو ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت سے ان کے قریب رہے اور فنڈ ریزنگ میں بھی سرگرم تھے، اب اس نامزدگی کو اپنی ’زندگی کا سب سے بڑا اعزاز‘ قرار دے رہے ہیں،یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس میں 25 فیصد روسی تیل خریدنے پر بطور سزا شامل ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

    9 مئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی معاملات بہتر کرسکتی تھی،رانا ثنااللہ

    لیکن ٹرمپ کے اس فیصلے پر دوبارہ توجہ اس وقت بڑھی جب ایلون مسک نے ماضی میں گور کو ’سانپ‘ قرار دیا تھایہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب گور نے مبینہ طور پر جیرڈ آئزک مین، مسک کے قریبی ساتھی کو ناسا کی قیادت سے روکنے میں کردار ادا کیا،مسک نے ایک پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ گور نے سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کرائے اور قانون توڑا۔

    موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف رضا مراد نے مقدمہ دائر کروادیا

  • ٹرمپ نےامبانی کوبھی مشکل میں ڈال دیا

    ٹرمپ نےامبانی کوبھی مشکل میں ڈال دیا

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی میں اپنا نیا ہدف تیل صاف کرنے کی صنعت کو بنایا ہے-

    مریکی جریدے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہدف کی زد میں دو بڑی بھارتی ریفائنریز آگئی ہیں،اگرچہ صدر ٹرمپ نے کسی کمپنی کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، مگر تمام اشارے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کی طرف جاتے ہیں،ان میں سب سے نمایاں گجرات کے شہر جام نگر میں واقع ریلائنس ریفائنری ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری سمجھی جاتی ہے اور اپنے تیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ روس سے حاصل کرتی ہے اسی شہر میں نایارا انرجی کی ایک اور بڑی ریفائنری بھی موجود ہے، جس کے 49 فیصد حصص 2017 سے روس کی سرکاری آئل کمپنی روسنیفٹ کے پاس ہیں۔

    جشن آزادی کو خاص جوش و خروش سے منانے کا فیصلہ کیا ہے،سعید غنی

    رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے پہلے ہی سال میں یہ دونوں بھارتی نجی ریفائنریز دنیا بھر میں روسی خام تیل کی سب سے بڑی خریدار بن گئیں امریکا نے تیل کی عالمی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اس رجحان کو چند برس برداشت کیا، مگر اب صدر ٹرمپ کی دھمکیوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت اور مکیش امبانی جیسے صنعتی اداروں کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے،روس سے تیل کی خریداری ختم کرنا اس وقت بھارت کے لیے پسپائی کے مترادف ہوگا، اور موجودہ سیاسی ماحول میں کوئی بھی منتخب بھارتی رہنما اس کے نتائج برداشت کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔

    ٹرمپ اور مودی کے موجودہ تعلقات کی اصل وجوہات کیا؟

  • ٹرمپ کا بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار

    ٹرمپ کا بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا۔

    امریکی صدر سے اوول آفس میں صحافی نے سوال کیا کہ ‘ کیا وہ بھارت سے ٹیرف کے معاملے پر بات چیت کریں گے’؟امریکی صدر نے کہا کہ ‘جب تک ٹیرف کا تنازع حل نہیں ہو جاتا بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی مذاکرات نہیں ہوں گے’۔

    واضح رہےکہ امریکی صدر نے چند روز قبل بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جس کے بعد بھارتی درآمدات پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیاوائٹ ہاؤس کاکہنا تھاکہ صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت پر معاشی دباؤ بڑھا دیا، بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی قیمت چکانا ہوگی-

    پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اورمذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ

    امریکی ٹیرف عائد ہونے کےبعد بھارتی وزات خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت پراضافی ٹیرف عائد کرنے کا امریکی اقدام بےحد افسوسناک ہے، بھارت جو کررہا ہے وہی اقدامات کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں کررہے ہیں، امریکی اقدام ناانصافی پر مبنی، بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہیں، بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

    لاہور: دوران چیکنگ کار سوار خاتون نے لیڈی پولیس،اہلکار کا بوتل سے سر پھاڑ دیا

  • غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    غزہ نسل کشی میں معاونت کا الزام، یورپی تنظیم کاٹرمپ کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ

    یورپی انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر غزہ میں نسل کشی میں معاونت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جن میں کئی کو امریکی نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز اور اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بنایاٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو فوجی، مالی، سفارتی اور سیاسی مدد فراہم کی، جس نے غزہ میں جاری جنگ کو مزید خطرناک بنا دیا، یہ امداد نسل کشی میں معاونت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر عالمی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

    مانیٹر کے مطابق امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد حاصل کرنے والے فلسطینیوں پر حملے کیے تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور انسانی حقوق اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔

  • فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطین کے حق میں امریکی طلبہ کے مظاہروں کی قیادت کرنے والے طالبعلم رہنما محمود خلیل نے امیگریشن حکام کی جانب سے گرفتاری اور حراست میں رکھنے پر سابق صدر ٹرمپ کی حکومت کے خلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا، سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس محمود خلیل کی قانونی معاونت کر رہا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر قانونی منصوبے کے تحت محمود خلیل کو خوفزدہ کرنے کے لیے انہیں گرفتار کیا، حراست میں رکھا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی، خلیل کو اس واقعے کے باعث شدید ذہنی صدمے، مالی نقصان اور ساکھ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا، محمود خلیل نے مقدمے کو احتساب کی جانب پہلا قدم قرار دیا، میری زندگی کے وہ 104 دن کبھی واپس نہیں آ سکتے، جو صدمہ مجھے سہنا پڑا، اپنی بیوی سے جدائی اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا لمحہ جس میں شریک نہ ہو سکا، وہ سب ناقابلِ تلافی ہیں سیاسی انتقام اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ضرور جوابدہی ہونی چاہیے۔

    محمود خلیل پہلے بھی اپنی حراست کے دوران گزرے تکلیف دہ حالات کا ذکر کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ ’میں 70 سے زائد افراد کے ساتھ ایک تنگہ جگہ میں رہ رہا تھا، جہاں نہ کوئی پرائیویسی تھی، نہ کبھی روشنی بند ہوتی تھی۔

  • امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیکس و اخراجات کے ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘ پر دستخط کر دیے

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیکس و اخراجات کے ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘ پر دستخط کر دیے

    واشنگٹن:امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیکس و اخراجات سے متعلق ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘ پر دستخط کر دیے، بگ بیوٹی فل بل کسی بھی ملک کی تاریخ کا بہترین قانون ہے جو معاشی ترقی کو آگے لے کر جاتا ہے۔

    بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کے موقع پر وائٹ ہاوس میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، فوجی افسران اور ارکانِ کانگریس نے شرکت کی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں اپنی طاقت اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، چند روز قبل امریکی فوج نے ایران میں ایک کامیاب آپریشن کیا، جس میں ایرانی تنصیبات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے بگ بیوٹی فل بل کی منظوری پر تمام امریکیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا، "یہ بل امریکی ترقی، دفاع اور معیشت کے استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے،میرے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچی اور امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے گئےہم نے امریکا کی طاقت بحال کی اور اب اسے مزید جدید بنا رہے ہیں۔”

    ٹرمپ نے افغانستان کی جنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان جانا امریکا کا سیاہ ترین دن تھا وہاں ہمارے اربوں ڈالر ضائع ہوئے، میں امریکی بری، بحری اور فضائی فوج سے محبت کرتا ہوں۔ ان کے افسران اور جوانوں کو میرا سلام۔”

    انہوں نے نیٹو پر امریکی اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے امریکا کا 2 فیصد بجٹ نیٹو پر خرچ ہوتا تھا جو اب 5 فیصد تک بڑھ چکا ہے انہوں نے اسے امریکا کی عالمی قیادت کی بحالی کا مظہر قرار دیاسب کو میری طرف سے 4 جولائی کی خوشیاں مبارک ہوں آج کا امریکا پہلے سے زیادہ محفوظ اور مضبوط ہے۔”

    بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام مستقل طور پر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے تاہم ایران کسی اور مقام پر دوبارہ نیوکلیئر شروع کر سکتا ہے آئندہ ہفتے غزہ معاہدہ ہو سکتا ہے، غزہ سے متعلق بہت کچھ کرنا ہے اور غزہ میں بہت سی امداد بھیج رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کے بعد گزشتہ روز ایوان نمائندگان نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکس اور اخراجات کا بل پاس کیا تھا بل کے حق میں 218 اور مخالفت میں 214 ووٹ پڑے۔

  • ٹرمپ کی ایک بار پھر  ظہران ممدانی پر تنقید

    ٹرمپ کی ایک بار پھر ظہران ممدانی پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیو یارک کے میئر کےلیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ظہران ممدانی پر تنقید کی۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی بہت خوفناک ہوگا، وہ ایک کمیونسٹ ہے ‘مجھے لگتا ہے یہ بہت بری خبر ہے لیکن وہ ممدانی کے ساتھ بہت مزہ کرنے جا رہے ہیں، میں دیکھنا چاہوں گا کہ ممدانی کو پیسے لینے کیلئے وائٹ ہاؤس آنا پڑے گا، اگر نیو یارک کے لوگ ظہران ممدانی کی طرف جاتے ہیں تو وہ پاگل ہیں، میرے خیال میں ظہران ممدانی پاگل شخص ہے-

    امریکی صدر نے کہا کہ غزہ میں آئندہ ہفتے سیز فائر تک پہنچ سکتے ہیں، صحافیوں نے سوال کیا کہ 7 جولائی کو نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے پہلے غزہ میں جنگ بندی ہوسکتی ہے؟،اس پر صدر ٹرمپ نے کہا ہمیں امید ہے کہ ایسا ہونے والا ہے، ہم اگلے ہفتے تک ایسا ہونے کی تلاش میں ہیں-

    بھارت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی صلاحیتوں سے سیکھے، بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ اگر نومبر 2025ء میں وہ کامیاب ہوئے تو نیو یارک کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر ہوں گے 2021ء سے کوئنز کے 36 ویں ڈسٹرکٹ سے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن ممدانی پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈن اور تیسرے مسلم رکن ہیں 33 سالہ ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر بننے کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں، ظہران ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور ”Democratic Socialists of America“ کے سرگرم رکن ہیں۔

    کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    ظہران ممدانی کا ماننا ہے کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور 5 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں اور اسی حقیقت کو بدلنے کا عزم انہوں نے اپنے منشور میں ظاہر کیا ہے،ممدانی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر تنقید کی اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

  • ایرانی عالم نے  ٹرمپ اور نیتن یاہو کیخلاف سخت فتویٰ جاری کر دیا

    ایرانی عالم نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کیخلاف سخت فتویٰ جاری کر دیا

    ایرانی عالم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کیخلاف سخت فتویٰ جاری کرتے ہوئے دونوں کو خدا کے دشمن قرار دیا-

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق ایران کے اعلیٰ ترین عالم آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف ایک ’فتویٰ‘ جاری کیا ہے، یہ فتویٰ ایک گروہ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کیا گیا۔

    سوال میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دی گئی مبینہ دھمکیوں کا ذکر تھا، اور مسلمانوں کی اس کے جواب میں ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا گیا،آیت اللہ مکارم شیرازی نے فتویٰ میں کہا کہ جو بھی شخص یا حکومت، رہبر یا مرجع کو دھمکی دے، وہ ’خدا کے دشمن‘ میں شمار ہوتا ہے، مسلمانوں اور اسلامی ریاستوں کے لیے حرام ہے کہ وہ دشمن کی حمایت کریں، فتویٰ میں کہا گیا کہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان دشمنوں کو ان کے الفاظ اور غلطیوں پر پچھتانے پر مجبور کریں۔

    آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے

    چند دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو ”بدترین اور ذلت آمیز موت“ سے بچایا، اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ کہاں چھپے ہوئے تھے،13 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد آیت اللہ خامنہ ای روپوش ہیں، جب کہ کئی اعلیٰ ایرانی کمانڈر اور سائنسدان اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ میرا اندازہ ہے کہ اگر خامنہ ای ہماری زد میں آ جاتے تو ہم انہیں ختم کر دیتے لیکن مگر ہم کامیاب نہ ہوسکے۔

    نیتن یاہو کیخلاف کرپشن ٹرائل مؤخر

  • ڈونلڈ ٹرمپ باضابطہ طور پر نوبیل انعام 2026 کیلئے نامزد

    ڈونلڈ ٹرمپ باضابطہ طور پر نوبیل انعام 2026 کیلئے نامزد

    واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو باضابطہ طور پر نوبیل امن انعام 2026 کے لیے نامزد کر دیا گیا یہ نامزدگی اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر کی گئی-

    یہ نامزدگی امریکی کانگریس کے رکن، ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بڈی کارٹر (ریاست جارجیا) کی جانب سے 24 جون کو نارویجن نوبیل کمیٹی کو ارسال کی گئی اپنے خط میں کارٹر نے ٹرمپ کے کردار کو غیر معمولی اور تاریخی قرار دیا۔

    بڈی کارٹر نے اپنے خط میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اثر اس معاہدے کو ممکن بنانے میں فیصلہ کن ثابت ہوا، جسے دنیا ناممکن سمجھ رہی تھی خط میں کارٹر نے نہ صرف جنگ بندی کو ممکن بنانے بلکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی انہوں نے ایران کی جوہری خواہشات کے خلاف جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کیے تاکہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گردی کے معاون ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    کارٹر کے مطابق مشرق وسطیٰ جیسے غیر مستحکم خطے میں قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے عالمی امن، جنگ کی روک تھام اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے اصولوں کی بھرپور عکاسی کی انہوں نے نہ صرف قیادت کا مظاہرہ کیا بلکہ دنیا کو امید کی ایک نایاب جھلک فراہم کی،خط کے اختتام پر بڈی کارٹر نے باقاعدہ سفارش کی کہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے زیر غور لایا جائے۔