Baaghi TV

Tag: کاروبار

  • انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں پھر اضافہ

    انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں پھر اضافہ

    انٹربینک مبادلہ مارکیٹ میں آج ڈالر 99 پیسے مہنگا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈالر کے انٹربینک ریٹ 182 روپے سے تجاوز اور اوپن ریٹ 183 روپے کی سطح پر آگئے ہیں-

    انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 99 پیسے کے اضافے سے 182.54 روپے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک روپے کے اضافے سے 183 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    مارچ میں بیرون ملک سے ورکرز ترسیلات زر کتنی رہیں،اسٹیٹ بینک نے تفصیلات جاری کردیں

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے رجحان اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قرضوں کے اجراء اور تمام سبسڈیز کے خاتمے سے مشروط ہونے جیسے عوامل کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ایک ہفتہ کے وقفے کے بعد آج پیر کو دوبارہ ڈالر مہنگا ہوا ہے-

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج کاروبار کا ملا جلا رجحان رہا،100 انڈیکس 61 پوائنٹس کم ہوکر 46 ہزار 539 پر بند ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : 100 انڈیکس میں 46 ہزار 539 پوائنٹس کی سطح گرگئی کاروباری دن میں 100 انڈیکس 540 پوائنٹس کے احاطے میں رہا جبکہ انڈیکس کی بلند ترین سطح سطح 46 ہزار 959 اور کم ترین سطح 46 ہزار 428 رہی-

    ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روز گاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے : سعید احمد…

    حصص بازار میں 25 کروڑ 56 لاکھ شیئرز کا کاروبار 9 ارب 64 کروڑ روپے میں ہوا پی ایس ایکس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 6 ارب روپے بڑھ کر 7 ہزار 764 ارب روپے ہے-

    ماہرین کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کا فوری طور پر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے اور مطلوبہ شرائط پر مزاکرات کے آغاز جیسے عوامل کے سبب کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 368 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن فوری منافع کے حصول کا رحجان غالب ہونے سے مذکورہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور ایک موقع پر 173 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ٹارگٹ حملوں کی پاکستان نے کی مذمت

    کاروباری حجم گذشتہ جمعہ کی نسبت 30.12فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 25کروڑ 56لاکھ 8ہزار 677حصص کے سودے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 336 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 107 کے بھاؤ میں اضافہ ، 199 کے داموں میں کمی اور 30 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

  • میک اپ کے کاروبارمیں دھوکہ دہی پر خاتون کو قید بامشقت اور کروڑوں روپے جرمانے کی سزا

    میک اپ کے کاروبارمیں دھوکہ دہی پر خاتون کو قید بامشقت اور کروڑوں روپے جرمانے کی سزا

    راولپنڈی: میک اپ کے کاروبار میں دھوکہ دہی پرخاتون کو5 سال قید اور4 کروڑ90 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی احتساب عدالت نے میک اپ کے کاروبار میں دھوکہ دہی پرخاتون کو5 سال قید بامشقت اور4 کروڑ 90 لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی۔

    نیب راولپنڈی کی جانب سے دائرریفرنس میں نامزد ملزمہ سعدیہ انور کو جرم ثابت ہونے پرسزاسنائی گئی ریفرنس 2020 میں دائرکیا گیا تھا سعدیہ انورپرشہریوں سے4 کروڑ90 لاکھ روپے کے فراڈ کا الزام تھا۔

    بیوی کا سرتن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار

    نیب کی زیرحراست سعدیہ انورنے خود کودبئی سے کاسمیٹکس کی امپورٹرظاہرکیا تھا اورکاروبار میں سرمایہ کاری پرپرکشش منافع کا لالچ دے کرلوگوں سے فراڈ کیا۔

    نیب راولپنڈی نے سعدیہ انورکے خلاف شکایات موصول ہونے پرریفرنس دائرکیا تھا۔

    دوسری جانب راولپنڈی کے علاقے تھانہ ریس کورس پولیس نے لیڈی چور گینگ گرفتار کر لیا پولیس نے 65تولہ سونا اور13 لاکھ روپے نقدی برآمد کر لی، ملزمان نے گھریلو ملازمہ کا روپ دھار کر گھر میں واردات کی، ملزمان واردات سے 02 روز پہلے ہی بطور ملازمہ کام پر آئی تھیں،گھر کے مالک نے ملازمہ رکھتے ہوئے کوائف کی ویری فیکیشن نہیں کروائی-

    گھریلو ملازمائیں بن کر کیا کرتی تھیں خواتین؟ لیڈی گینگ گرفتار

    ملزمان کی شناخت کنیز اور کرن کے نام سے ہوئی،ملزمہ کنیز ملتان تھانہ بہاؤ الدین زکریا میں چوری کے مقدمہ میں ریکارڈ یافتہ ہے، ریس کورس پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جینس کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا، 25سے زائد فوٹیجز سے ملزمان کو ٹریس کرنے میں مدد لی گئیں، ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے بھجوایا جا رہا ہے،شناخت پریڈ کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا-

    پولیس یونیفام میں ناکہ لگا کر وارداتیں کرنے والا گروہ گرفتار

    ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان ومال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے،ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی،سی پی او عمر سعید ملک نے ایس پی پوٹھوہار ، ایس ایچ او ریس کورس اور ٹیم کو شاباش، تعریفی اسناد اور نقد انعام کا اعلان کیا ہے

  • 90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی دادی اماں جن کا کاروبار دیکھتے دیکھتے بیرون ممالک تک پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بیساکھی کا سہارا لیتے ہوئے 95 سالہ ہربھجن کور دھیرے دھیرے اپنے کچن میں داخل ہوئیں اور ان کی بنائی ہوئی مٹھائیوں کا چرچہ بھارت سے نکل کر دوسرے ممالک تک جا پہنچا-

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    ان کو زندگی میں ملال تھا کہ انہیں اپنے ہاتھ سے کمانے کا موقع نہیں ملا لیکن انہوں نے سوچا کہ ابھی بھی وقت نہیں گزرا۔ آج ہی سے کیوں نہ آغاز کیا جائےاور ان کے اس فیصلے اور محنت نے اس ملال کو کامیابی میں بدل دیا انٹرنیٹ پر روز ہزاروں لوگ ان کو پیار بھرے پیغامات بھیجتے ہیں بہت سے لوگوں نے ان کو دیکھ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا ہے دادی انڈیا کی سب سے امیر بزنس وومن نہ سہی لیکن سب سے باہمت کاروباری شخصیت ضرور ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اپنی ترکیب سے بنائی گئی مٹھائیوں اور دیگر میٹھی ڈشز کو بیچنے کا کاروبار دادی اماں نے اپنے پوتے کے ساتھ مل کر بھارتی ریاست پنجاب اور ہریانا کے مشترکہ دارالحکومت چندی گڑھ میں موجود اپنے گھر میں شروع کیا برانڈ کا نام ‘ہربھجنز ، بچپن یاد آجائے’ تجویز کیا دیکھتے دیکھتے دادی اماں کے ہاتھوں کے ذائقے کی مانگ بھارت کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی بڑھ گئی۔

    بھارت: سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا الزام،چوبیس گھنٹوں میں دو افراد قتل


    رپورٹ کے مطابق ہربھجن کور کے دماغ میں کاروبار شروع کرنے کا آئیڈیا ان کی سب سے چھوٹی بیٹی روینا سوری نے ڈالا ہربھجن کی 90 ویں سالگرہ سے کچھ دن قبل روینا نے ان سے ایک دن پوچھا کہ کوئی ایسی خواہش جو ان کے دل میں باقی رہ گئی ہو جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو خوش دیکھنا ہی کافی ہے لیکن وہ گھر میں بےکار بیٹھے رہنا نہیں چاہتیں۔

    دادا کی صحت یابی کیلئے 6 ماہ کی بچی کی بلی چڑھا دی گئی

    دادی اماں کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی بیٹی اس بات کو سنجیدگی سے لے گی اور ایک دن وہ مٹھائیاں اور سوئیٹ ڈش بنانے کا سامان لے آئی اور وہاں سے کاروبار کی شروعات کی مارکیٹ میں برانڈ کا تعارف کرایا گیا اور اس طرح کور کی ترکیب سے بنی مٹھائیاں بالخصوص برفی دیکھتے دیکھتے شہرت پا گئیں اور کاروبار ملک سے باہر بھی جا پہنچا۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

  • فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے،سپریم کورٹ

    فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے،سپریم کورٹ

    فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نےسیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیرتسلی بخش قراردے دی ،
    اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دے دی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سینما، شادی ہال، اسکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اداروں کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو قانون کون سمجھائے گا؟ اداروں کیساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں، ادارے جن قوانین کا سہارا لیکر کمرشل سرگرمی کرتی ہے وہ غیرآئینی ہیں،کارساز میں سروس روڈ بھی بڑی بڑی دیواریں تعمیر کرکے اندر کر دی گئیں،کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، مارکی اور کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں،کالا پل کیساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں،کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کیلئے بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر دی ہیں،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہیں؟ سی ایس ڈی کو بھی اب اوپن کمرشل ڈیپارٹمنٹل اسٹور بنا دیا گیا ہے، گزری روڈ پر راتوں رات بلڈنگ کھڑی کر دی گئی، ہم ابھی سو کر نہیں اٹھے تھے کہ انھوں نے بلڈنگ کھڑی کر دی، چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں آگے کا کیا پلان ہے ، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ تینوں سروسزکی کمیٹی بنادی ہے جو غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کرے گی،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک روایت بن جائیگا،چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے حکام نے زمین خریدی اور بیچ کر چلے گئے،پھر یہ زمین 10 ہاتھ آگے بکی آپ کیسے واپس لیں گے؟کیا کمرشل استعمال دفاعی مقاصد کے لیے ہے؟اب وہاں گھر بن گئے ہیں جو10،10 کروڑ روپے کا ہے یہ پیسے کون دیگا؟ لاہور میں جائیں دیکھیں کتنے بڑے شادی ہالز اور پرشکوہ بلڈنگز بنا دی گئی ہیں، کنٹونمنٹ کی زمین پر شادی ہال کیسے بن سکتا ہے؟اٹارنی جنرل آپ سیکریٹری دفاع کو کہیں جو رپورٹ جمع کرائی ہے یہ درست نہیں رپورٹ میں لکھا ہے کہ بلڈنگز گرا دی ہیں جبکہ وہاں بلڈنگز کھڑی ہیں، سیکرٹری دفاع نے عدالت میں کہا کہ موقع پر جاوں گا تصاویر بنا کر نئی رپورٹ مرتب کرونگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم یہ رپورٹ واپس لیتے ہیں،عدالت نے کہا کہ جامع رپورٹ داخل کریں کہ کنٹونمنٹ کی کون سی زمین کن مقاصد کیلیے ہے، قانون کیمطابق اسٹریٹجک لینڈ صرف دفاعی مقاصد کیلیے استعمال ہوگی، تفصیلی رپورٹ چار ہفتے میں جمع کرائیں،

    سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو ریٹائرڈ جنرل ہیں آپ کو تو سب پتا ہوگا،سیکرٹری دفاع نے استدعا کی کہ کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، اسٹریٹجک مقاصد کی اصطلاح کا دائرہ کار وسیع ہے،کمرشل سرگرمیاں بھی ا سٹریٹجک ڈیفنس کے زمرے میں آتی ہیں، جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کنٹونمنٹ میں بازار کا قانون ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب ٹھیک ہے مگر وہاں چھاونی کدھر ہے؟وہاں تو سب گھر ہی گھر ہیں فیصل بیس پر اسکول، شادی ہال بھی بنے ہوئے ہیں،کوئی بھی شادی کا مہمان بن کر رن وے پر بھاگ رہا ہوگا،کہا جا رہا ہے کہ مسرور اور کورنگی ایئر بیسز بند کیے جا رہے ہیں،کہا گیا ایئر بیس بند کرکے وہاں کمرشل سرگرمی شروع کرینگے،کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے،حکومت زمین انہیں واپس کرے گی جن سےحاصل کی گئی ہو،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اداروں کو معمولی کاروبار کیلئے اپنے مقاصد پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے،اداروں کو اپنے ادارے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور لاہور میں بھی کنٹونمنٹ کی زمین پر شاپنگ مالز بنے ہوئے ہیں،سمجھ نہیں آرہی وزارت دفاع کیسے ان سرگرمیوں کو برقرار رکھے گی،سیکرٹری دفاع نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کیلئے تینوں افواج کی مشترکہ کمیٹی بنا دی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اعلی فوجی افسران کو گھر دینا دفاعی مقاصد میں نہیں آتا،فوج ریاست کی زمین پر کمرشل سرگرمیاں کیسے کر سکتی ہے؟ ریاست کی زمین کا استحصال نہیں کیا جا سکتا، کنٹونمنٹ زمین دفاعی مقاصد پورا ہونے پر حکومت کو واپس کرنا ہوتی ہے، راتوں رات گزری روڈ پر فوج نے بہت بڑی عمارت کھڑی کر دی ہے،ایک ریٹائرڈ میجر نے گلوبل مارکی کیلئے زمین کیسے لیز پر دے سکتا ہے؟ ریٹائرڈ میجر کا کیا اختیار ہے کہ دفاعی زمین لیز پر دے سکے، فوج نے ریٹائرڑد میجر کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،گلوبل مارکی سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں،اگرسینما،شادی ہال اور گھر بنانادفاعی سرگرمی ہے تو پھر دفاع کیا ہوگا؟ چند لاکھ میں فوجی افسروں نے زمین بیچی اب وہ گھر کروڑوں کے ہیں،جہاں چھوٹی سی جگہ دیکھتے ہیں وہاں اشتہار لگا دیتے ہیں،اتنی بڑی بڑی دیواریں بنانے کی وجہ سمجھ نہیں آتی، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ فوجی سرگرمیوں کیلئے گیریژن اور رہائش کیلئے کنٹونمنٹس ہوتے ہیں،سی ایس ڈی پہلے صرف فوج کیلئے تھا اب وہاں ہر بندا جا رہا ہوتا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کنٹونمٹس کی تمام زمین اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی، فوج کی تمام رولز اور قوانین کا آئین کے مطابق جائزہ لینگے، فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کی کاروبار کرنے کیلئے، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع سے 4ہفتے میں عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    اکانومی ڈیڈ اسٹاک پر پہنچ چکی،ملک میں کالا پیسہ زیادہ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    آپ کورٹ روم سے چلے جائیں،سپریم کورٹ جماعت اسلامی رہنما پر برہم

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

  • قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    فیصل آباد (عثمان صادق) قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت اس شعبہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ بات کامرس اور سرمایہ کاری بارے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے ایس ایم ای بارے جامع پالیسی کی تشکیل کے سلسلہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صنعت و پیداوار بارے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کے علاوہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے مختلف چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ اس شعبہ کو ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ ملکی برآمدات میں نوے فیصد حصہ ایس ایم ای سیکٹر کا ہے مگر محدود وسائل سے کام کرنے والے اِن اداروں کا سرمایہ حکومتی ٹیکسوں کے چکر میں پھنس جانے سے انھیں مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس شعبہ کیلئے زیر و ریٹنگ کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں پہلے ٹیکس دینے اور پھر اس کی واپسی کیلئے دفتروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایس ایم ای شعبہ کی مالی حیثیت کا بھی از سر نو تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور یہی شعبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس شعبہ کے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومت اِن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا.ڈائریکٹرورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان

    فیصل آباد (عثمان صادق) 160ملین یورو کے ڈچ فنڈ برائے ماحول اور ترقی سے ایسے قابل عمل اور منافع بخش منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ بات ورلڈ وائلڈلائف فنڈ پاکستان کے ڈائریکٹر جنگلی حیات ڈاکٹر طاہر رشید نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ڈچ فنڈ کے بارے میں ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے دنیا کو 4.2کھرب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں امیر ملکوں نے 1.7کھرب ڈالر دیئے ہیں جبکہ تیسری دنیا کے ملک اپنی اقتصادی مجبوریوں کی وجہ سے اس میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کے پاس اپنے عوام کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وسائل نہیں وہ ماحول کے تحفظ کیلئے بھاری بھر کم اخراجات کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے 160ملین یورو کا ڈچ فنڈ برائے ماحول و ترقی قائم کیا گیا ہے جو ایسے ماحول دوست اور منافع بخش منصوبوں کیلئے سرمایہ مہیا کرے گا جولوگوں کیلئے روزگار بھی مہیا کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت ابتدائی سٹڈی کیلئے 60ہزار یورو کی گرانٹ دی جائے گی جبکہ پائلٹ پراجیکٹ کیلئے مزید 3لاکھ 50ہزار یوروکی گرانٹ دی جا سکتی ہے۔ اِس کے بعداِس منصوبے کیلئے مارکیٹ کے مطابق قرض بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت چھ ملکوں میں اِن منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ اَب انڈیا اور انڈونیشیا اَب اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چاول کی فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے 17شہروں میں اس فنڈ کے ذریعے چاول کی فصل کی باقیات کو انرجی اور بجلی بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس طرح جہاں ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے بچاجا رہا ہے وہاں متعلقہ کسانوں کو معقول رقم بھی مل رہی ہے۔ انہوں نے انڈس ڈیلٹا میں شروع کئے جانے والے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان کیلئے 7ملین یورو کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں یا منظوری کے قریب ہیں۔ انہوں نے کھارے پانی کے منافع بخش استعمال کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ اس پر 14.9ملین یورو کی گرانٹ ملے گی جبکہ شوگر ملوں کے بیگاس کو بھی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے قابل استعمال بنایا جائے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر منیجر فریش واٹر پروگرام سہیل علی نقوی نے بتایا کہ آئی ایل او کے تعاون سے ٹیکسٹائل اور لیدر کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ صنعتوں کے گندے پانی کو ٹریٹ کر کے زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے بھی شروع کئے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل ایگزیکٹو ممبر ثناء اللہ نیازی نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ محمد فاضل نے مہمانوں کا شکریہ اد اکیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جبکہ ڈاکٹر طاہر رشید نے محمد فاضل کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی شیلڈ دی جبکہ ثناء اللہ نیازی کو بھی اجرک پہنائی گئی۔

  • کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ہائی کمشنر ساؤتھ افریقہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔