اسلام آباد: آئندہ موسم سرما میں ایک بار پھر گیس کا بحران پیدا ہونے کے خدشات قوی ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ بجلی گھروں میں فرنس آئل کا عدم استعمال جاری رکھنے کے منصوبے کی وجہ سے کچھ فیلڈز سے تیل و گیس کی رسد معطل ہوسکتی ہے۔
اگر بجلی گھروں میں استعمال کے لیے فرنس آئل حاصل نہ کیا گیا تو آئل ریفائنریز اپنی پیداوار محدود کرسکتی ہیں، واضح رہے کہ مقامی طور پر پیداشدہ گیس اور درآمدی ایل این جی کے مقابلے میں فرنس آئل مہنگا ہوتا ہے۔
پچھلی سردیوں میں بھی بجلی گھروں کی جانب سے فرنس آئل خریدنے سے انکار کے بعد آئل ریفائنریز نے پیداوار میں کمی کردی تھی اور اپنے پلانٹ بند کرنے دھمکی بھی دی تھی۔
ریفائنریز کی پیداوار میں کمی کے بعد تیل و گیس کے پیداکنندگان کو کچھ فیلڈز بند کرنی پڑی تھیں جس کے نتیجے میں مقامی طور پر پیداشدہ گیس کی پیداوار بھی محدود ہوگئی تھی اور بحرانی صورت حال نے جنم لیا تھا۔
وفاقی وزارت پلاننگ و ترقیاتی اصلاحات کی جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے اب تک کل 90 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ جاری کیے ، ترقیاتی پروگرام 2019-20 کے تحت موجودہ حکومت نے 19.9 ارب روپے وفاقی وزارتوں کو جاری کیے ، جبکہ 23.6 ارب کارپوریشنز اور 7.7 ارب سپیشل ایریاز کیلئے فنڈ جاری کیے ،
26.78 ارب روپے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جاری کیے گئے ، جبکہ 12 ارب روپے خیبرپختونحوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کیلئے محتص کیے گئے،
اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 4.6 ارب اور اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 4.3 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے
پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر ایون سودھائی امری نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو نئی بلندیاں پر لے جا رہے ہیں ، انڈونیشیا پاکستانی پرادکٹس کو آسیان ممالک کی دو ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ تک رسائی دے گا ،
انڈونیشین سفیر نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اجلاس سے خطاب کرت ہوئے کہا پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی حجم 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، اور مستقبل قریب کو اس حجم کو مزید بڑھایا جائے گا ، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشین تجارت میں راولپندی چیمبر آف کامرس انتہائی اہم کرادر ادا کر رہا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کے انڈونیشین سفارت خانہ 2020 میں انڈونیشیا میں ہونے والی راول ایکسپو کیلئے پاکستانی تاجروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا ،
پاکستان نے 5 سال بعد ایک لاکھ ٹن آم کی ایکسپورٹ کی سطح عبور کر لی ہے ، موثرمارکیٹنگ اور معیار کی بدولت پاکستانی آم نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بہترقیمت حاصل کی ہے۔ رواں سیزن آم کی ریکارڈ ایکسپورٹ کا امکان ہے۔ برآمدات سے 80 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، رواں سیزن آم کی پیداوار 15 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی، فارمرز عالمی معیار اور جدید طریقوں کے مطابق آم کے باغات لگارہے ہیں۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر وحید احمد کے مطابق رواں سال آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا کرلیا گیا ہے ستمبر کے وسط تک ایک لاکھ15ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاچکا ہے۔ 4 سال میں پہلی مرتبہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل ہوا ہے جبکہ 5 سال بعد ایکسپورٹ ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔
وحید احمد کے مطابق ایکسپورٹ کا سلسلہ اکتوبر کے وسط تک جاری رہے گا اور سیزن کے اختتام تک ایک لاکھ 30 ہزار ٹن آم برآمد ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر قاانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور وفاقی حکومت کو اس شعبے سے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے ،
وفاقی وزیر نے ارٹیکل 149 کو لیکر اپوزیشن کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابے کے متعلق کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے اس ملک کا خزانہ لوٹتے رہیں اور کوئی اس متعلق ان سے ایک سوال بھی نہ کرے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ 20-25 فیصد ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کا ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے ، اور ان 75-70 فیصد سرگرمیوں کا ٹیکس کون اکٹھا کرے گا جو ہمارے دیہات میں ہوتیں ہیں ؟
آل پاکستان انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے کہا ہے کہ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کریں گے اور پورے پاکستان میں پہیہ جام ہڑتال کریں گے ،
تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی پورے پاکستان کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اصلاحات متعارف کروائیں جنہیں انجمن تاجراں نے مکمل طور پر رد کر دیا ، مالی سال 2019-20 کے بجٹ پیشی سے لیکر اب تک حکومت اور تاجروں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کو لیکر مذاکرات چل رہے تھے جو بغیر کسی نتیجے کے حتم ہو گئے ، تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان جو بنیادی چیزیں اختلاف کا باعث بن رہی ہیں ان میں فکسڈ ٹیکس کا نظام ، شناختی کارڈ کی شرط اور کاروبار کے لخاط سے ٹیکس کی ادائیگی جیسے معاملات شامل ہیں،
انجمن تاجراں کے جنرل سیکرٹری نعیم میر نے میڈیا کو بتایا کہ ایف بی آر کے نمائندگان سے ہماری آخری میٹنگ 4 دن پہلے ہوئی اور وہ ہمارے مسائل کو سننے اور حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے ، ایسی صورتحال میں ہمارے پاس آخری راستہ صرف احتجاج کا بچتا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف ہم شناختی کارڈ کی شرط کو لیکر مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت نے شناختی کارڈ کی شرط کاروبار کیلئے لازم قرار دے کاروائیاں بھی شروع کر دی ہیں،
کراچی: آٹو موبائل سیکٹر میں اگست کے مہینے میں 41 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر کی گراوٹ، افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرخ اور بڑی عید کی چھٹیاں اور قربانی کے اخراجات کو بتایا گیا ہے ،
تفصیلات کے مطابق پچھلے سال اگست میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں کی تعداد 17662 تھی جبکہ اس مالی سال کے اگست میں فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 10496 بتائی گئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ کمی ہے ،
اسلام آباد:مالی سال2018-19 میں پاکستان کی کٹلری برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 1.73 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ہے، مالی سال 2017-18 میں پاکستان نے کل 89.773 ملین ڈالر کے چھری کانٹے برآمد کیے اور گزشتہ مالی سالی سال 2018-19 میں 91.325 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں جو کے 1.73 فیصد زائد ہیں تفصیلات کے مطابق یہ اعداد و شمار بروز ہفتہ پاکستان بیوروآف سٹیٹسٹکس کی طرف سے جاری کیے گئے
دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے
Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani
ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،
انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا
Mukesh Ambani
لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،
لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے
اس وقت دنیا میں ایسے کئی قسم کے کاروبار کیے جارہے ہیں جو کہ بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پھیلایا بھی جا سکتا ہے، ایسے کاروبار کافی منافع بخش بھی ثابت ہوتے ہیں جن میں آپ کو اپنے پہلے سے موجود وسائل کو بروئےکار لا کر بالکل چھوٹی سطح سے شروع کرنا ہوتا ہے اور پھر جوں جوں آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ اپنے کاروبار کو پھیلاتے جاتے ہیں، اکیسویں صدی میں اس طرز کا کاروبار شاید کامیاب یا پھر اتنا کامیاب نہ ہو پاتا اگر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہ ہوئی ہوتی،
Headquarter of Airbnb in San Francisco, California, USA
Airbnb ایک اسی طرز کی کمپنی ہے جو اپنے صارفین کو ان کے خواہش کردہ علاقے،شہر یا ملک میں کچھ دنوں کیلئے رہائش رکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس سہولت سے ہر وہ شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس کمپنی کیساتھ بزریعہ ویب یا موبائل ایپ منسلک ہو، اور یہ کمپنی ہرشخص کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی دیتی ہے، اگر کسی شخص کے پاس کوئی ایسی پراپرٹی ہو جو اس کے استعمال میں نہ ہو تو وہ اس پراپرٹی کو بمع تصویر و تحریر Airbnb پر رجسٹر کروا کر میزبانی کیلئے اس اپارٹمنٹ ،گھریا کمرے کو کھول سکتا ہے،
اس کے بعد کوئی بھی شخص ایئربی این بی کی ویب سائٹ یا ایپلیکیشن کے زریعے مکان مالک سے رابطہ کرکے گھر یا اپارٹمنٹ کی بکنگ کر سکتا ہے، اس بکنگ میں صارف کو بتانا ہوتا ہے کہ اس کو گھر کس جگہ،کتنے دنوں کیلئے اور کتنے کمروں کیساتھ چاہیے، اور اگر صارف کوگھر پسند آجائے تو اسے مکان مالک کیساتھ معاہدہ کرنا ہوتا ہے اور بی این بی کی طے کردہ رقم دینا ہوتی ہے،
airbnb کا قیام بھی بہت دلچسپ ہے، دو امریکی دوست برائن چیسکی اور جو گیبیا پڑھائی کے سلسلے میں اکتوبر 2007 میں کیلی فورنیا ریاست کے شہرسان فرانسسکو آئے اور انہوں نے رہائش کیلئے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، لیکن اس اپارٹمنٹ کا کرایہ برداشت کرنا دونوں کیلئے بہت مشکل تھا، دونوں نے ایک ترکیب سوچی کہ ہم اپنے بیٹھک والے کمرے میں ایک ایئر میٹرس ڈال کر اسے کسی اور شخص کو کرائے پر دے دیت ہیں اور ہم کرایہ دار کو بیڈ اینڈ بریک فاسٹ آفر کریں گے اور اس آمدن سے ہم اپارٹمنٹ کا کرایہ اداکرسکیں گے،
تھوڑے عرصے بعد برائن کے پرانے دوست ناتھن بھی برائن کے گروپ میں شامل ہو گیا اور انہوں نے اپنے نئے کاروبار کو ایک سے پانچ رہائشوں تک پھیلا دیا،11 اگست 2008 کو برائن،چیسکی اور ناتھن نے مل کر اپنی کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ بنا ڈالی،کمپنی کو اس کے پہلے صارف 2008 کی موسم گرما میں ملے جب فرانسسکو میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی، 2009 میں پال گراہم نے ایئر بی این بی کے مالکان سے کمپنی کے پانچ فیصد شئیرز 20000 ڈالرز میں خرید لیے، برائن چیسکی اور جو گیبیا نے اس رقم سے نیویارک ٹور پلان کیا اور مارکیٹنگ مینیجرز سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی ویب سائٹ کی پروموشن کیلئے بات کی، جس کے زریعے بالکل تھوڑے عرصے میں کاروبار اور پراپرٹی ڈیلنگ کے نئے انداز کو پورے امریکہ میں پھیلا دیا، مارچ 2009 تک بی این بی ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد 10000 اور پرائیویٹ جائدادوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی،
2011 میں کمپنی نے لندن میں اپنا دوسرا انٹرنیشنل دفتر کھولا، اور دن بدن بڑھتے انٹرنیشنل صارفین کے باعث کمپنی نے 2012 میں میلان،کوپن ہیگن،ساؤپولو،پیرس اور ماسکو میں بھی دفاتر کھولے گئے،
First Airbnb apartment in London
اکتوبر 2013 تک کمپنی کے زریعے گھر تلاش کرنے والے سیاحوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی اور اسی سال مزید 250 گھر مالکان کمپنی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوگئے،اگست 2015 میں کمپنی کے منافع میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ دن بدن بڑتا گیا،
2015 میں ہی ائیربی این بی کا کاریں بنانے والی امریکن کمپنی ٹیسلا سے معاہدہ ہو گیا جس کے مطابق ٹیسلا کا صارف ائیر بی این بی سے رجسڑڈ پراپرٹی سے اپنی کار کی بیٹری چارج کرسکتا ہے، 2018 میں برائن چیسکی نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی ایک ائر لائن کو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے،2017 کی رپورٹس کیمطابق ائیربی این بی کی آپریٹنگ آمدن 450 ملین ڈالر اور نیٹ انکم 93 ملین ڈالر تھی اور اس کا کل ریونیو 2.6 بلین ڈالر تھا جو کہ آج کی تاریخ میں مزید بلند ہوچکا ہو گا،
ایئربی این بی کے کاروبار کی خاصیت اور اس کے کامیاب ہونے کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے گروپ میں شامل ہونے والے کرایہ دار اور مکان مالک دونوں کو منافع فراہم کرتی ہے، کمپنی کے صارف اس ایپ سے فائدہ اس طرح اٹھاتے ہیں کہ بڑے بڑے 3 اور 5 سٹار ہوٹلز کے کرائے دینے سے بہتر ہے کہ بالکل معمولی سی رقم سے اتنے کمروں کا گھر یا فلیٹ کرائے پر لیا جائے جتنے لوگ سیر و تفریح کیلئے یا کسی کام کے سلسلے میں اپنے گھر سے دور جا رہے ہیں
اور ائیر بی این بی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے والے پراپرٹی ہولڈرز بھی اچھا خاصہ منافع کما سکتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی گھر،اپارٹمنٹ یا بلڈنگ خالی ہے کسی استعمال میں نہیں تو آپ اسے بی این بی کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروا کر گھر بیٹھے اپنا کاروبار بغیر کسی سرمایہ کاری کے شروع کر سکتے ہیں