کراچی: ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں مدد کرنے کے عزم کے تحت وزیراعظم عمران خان کو 20 ملین روپے کا ایک اور چیک پیش کردیا ،
اکتوبر 2018 میں ٹویوٹا انڈس موٹرز نے دیامر بھاشا اور مہند ڈیم کی تعمیر کیلئے پانچ سالوں میں 100 ملین روپے جمع کروانے کا اعلان کیا تھا ، جبکہ یہ بیس ملین روپے کا دوسرا چیک ہے جو وقت سے پہلے پیش کردیا گیا ،
Tag: کاروبار

ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا …

تحریک انصاف کی بڑی کامیابی …
اسلام آباد: پچھلے ایک سال میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 31.7 فیصد کم ہوگیا، اور ماہرین معیشت تجارتی خسارے میں زبردست کمی کو موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی مان رہے ہیں، پاکستان اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق پاکستان کا موجودہ تجارتی خسارہ 13.587 ارب ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے، اس کے برعکس پچھلے مالی سال میں تجارتی خسارہ 19.897 ارب ڈالر تھا،
پاکستان کی بری معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کا بڑھنا ہے، اور اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس فرق کو حتم کرنے اور معیشت کو صیح راستے پر استوار کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور اس کے اچھے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں

س سیٹھ ص صحافی …
کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔
لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے ہونے والے استحصال پر نہیںلیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .

دبئی بنا کاروں کا قبرستان
بینٹلے، فیراری، رینج روور، رولس رائس اور دیگر قیمتی ترین سپر اور اسپورٹس کاروں کا قبرستان دبئی کے قریب شارجہ کا ایک میدان ہے جہاں قیمتی کاریں کباڑ خانے میں تبدیل ہو رہی ہیں ۔
دبئی میں جب 2012 میں شدید معاشی بحران آیا تھا تو ان کاروں کے مالکان اپنی پر تعیش زندگی کو مزید جاری نہ رکھ سکے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے گے ۔ ان مقروض باشندوں میں زیادہ تر امریکی اور برطانوی لوگ تھے جو قرض کی واپسی اور گرفتاریوں کے ڈر سے یہاں سے بھاگ نکلے ۔ بعض افراد کی گاڑیاں ائیرپوٹ پر ہی موجود ہیں جن کے اندر چابیاں لگی ہوئی ہیں ۔
یہ مہنگی ترین لگثری گاڑیاں وہی پڑی پڑی خراب ہو کر مٹی میں مل رہی ہیں ۔
سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر
روپے کی قدر کم ہونے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہر پاکستانی انتہائی پریشانی کا شکار ہے ۔ دیگر اشیا کی طرح منگائی نے سونے کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچا دی ہیں ۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمت کو پر لگ گے اور سونے کی قیمت پاکستان کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ قیمت 78600 روپے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت 67387 روپے ہوگٸی ہے ۔

اب پاکستان کرے گا زراعت میں ترقی
حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف سے مکمل طور پر جان چھڑانے کے لیے حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت زراعت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے گی ۔ اور زراعت کے میدان میں ترقی کی جاٸے گی تا کہ ہم جلد از جلد آٸی ایم ایف سے جن چھڑوا سکیں ۔ حکومتی رکن فخر امام نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے زراعت کے شعبے کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔ فخر امام کا کہنا ہے کہ ہم آبادی میں پانچویں نمبر پر جب کہ معاشی ترقی میں دیگر اقوام سے بہت پیچھے ہیں ۔ کسان کو زیادہ سے زیادہ فاٸدہ پہنچانے کے لیے فخر امام نے کہا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس کم کیا جاٸے اور مڈل مین پر انحصار کم رکھا جاٸے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمیں آٸی ایم ایف سے جن چھڑانی ہے تو پھر ہمیں کپاس کی فصل پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہوگی ۔






