Baaghi TV

Tag: کراچی

  • کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں،شرجیل میمن

    کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ حکومت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے،کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں-

    شرجیل میمن نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی روڈ کو کلیئر کریں، اس پروجیکٹ کی مالیت بڑھ گئی ہے اسے بند کریں، تمام چیلنجز کے باوجود اس پروجیکٹ پر کام جاری رکھا گیا، اس پروجیکٹ کا جو کام رُکا تھا وہ انتظامی معاملات کی وجہ سے تھا۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ عید سے پہلے یونیورسٹی روڈ کی سائیڈ کی سڑکوں پر کام مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، مقصد عوام کو سہولت دینا ہے، اس وقت کراچی میں بڑی تعداد میں میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، حکومت سندھ کی انتظامیہ اور میئر کراچی بھی دن رات کام کر رہے ہیں ریڈ لائن بی آر ٹی پراجیکٹ کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، یہ پراجیکٹ اگلی نسلوں کے کام آئے گاہمیں لوگوں کو ایسے پراجیکٹس دینے ہیں جس سے انہیں سہولت ہو، حکو مت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے،کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز نے پنجاب حکومت کو ایک فیصد اور ہمیں 17 سے 18 فیصد چارج کیا، ابھی بھی ہماری بسیں کسٹمز میں پھنسی ہوئی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ دونوں صوبوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ ہونا چاہیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق کہا کہ ان کی لمبی عمر کے لیے دعاگو ہوں، جہاں تک رہائی کی بات ہے تو رہائی ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کےحواری اداروں کو نشانہ بناتے ہیں، اگر یہ لوگ اپنے الفاظ کا چناؤ بہتر کریں تو معاملات میں بہتری آئے گی۔

  • کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسافر بس میں جیب تراشی اور لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا-

    ترجمان رینجرز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچھ موڑ کے قریب مسافر بس میں لوٹ مار کی اطلاع پر رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی گرفتار ملزمان کا گروہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے جو پچھلے دو سال سے کراچی کے مختلف علاقوں سے موبائل فون چھیننے اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

    ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 موبائل فونز چھین کر انھیں فروخت کے بعد رقم آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں پولیس کے معطل اہلکار انہیں چھڑوانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے عوض اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم فراہم کی جاتی ہےگرفتار ملزمان کو برآمد کیے جانے والے مسروقہ سامان کے ہمراہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشت گرد  گرفتار

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے باجوڑ کے رہائشی فتنہ الخوارج کے مطلوب دہشت گرد دوست محمد کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم 2020 میں ساتھیوں کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر نواگئی خیبرپختونخوا پر فائرنگ میں ملوث ہے مذکورہ واقعے کامقدمہ تھانا سی ٹی ڈی مالاکنڈ ریجن میں دہشت گردی دفعات کے تحت درج ہے گرفتار ملزم واقعے کے بعد کراچی میں روپوش تھا،ملزم دیگر فتنہ الخوارج ساتھیوں کے ہمراہ حساس مقامات پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہاتھا،گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • کراچی کے سولجر بازار میں گیس دھماکا، 12 افراد جاں بحق

    کراچی کے سولجر بازار میں گیس دھماکا، 12 افراد جاں بحق

    کراچی میں گیس لیکج کے باعث عمارت میں ہونے والے دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ صبح 4 بجے کے قریب سولجر بازار کے علاقے گل رعنا کالونی میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی مکان میں دھماکے کے بعد عمارت کا کچھ حصہ زمین بوس ہو گیا،ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعہ گیس لیک ہونے کے باعث پیش آیا حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقےکوگھیرے میں لےکر سکیورٹی سخت کردی اور ریسکیو اداروں نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم اور ڈیزاسٹر رسپانس وہیکل بھی موقع پر موجود ہیں اور ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،عمارت تین منزلہ ہے اور ہرفلور پر ایک کمرہ قائم ہے، تنگ گلیو ں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 12 لا شیں نکالی جاچکی ہیں جن میں 4 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ 10 سے زائد زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے گیس دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا، دھماکا گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین سےہوا جس میں اب تک 7 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں خاتون اور بچی کی لاشیں بھی شامل ہیں مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، چھوٹی عمارت کے لیے ہمارے پاس خاص آلہ ہوتاہے، آلے کی مدد سے لوہے کو کاٹ کر ملبہ ہٹایا ہے۔

  • اسلام آباد مسجد خودکش دھماکا:ملزم کا تعلیمی ریکارڈ سامنے آنے پر کراچی کا مدرسہ سیل

    اسلام آباد مسجد خودکش دھماکا:ملزم کا تعلیمی ریکارڈ سامنے آنے پر کراچی کا مدرسہ سیل

    اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خود کش دھماکے کی تحقیقات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    مسجد میں خود کش حملہ کرنے والے شخص کی تعلیمی سند سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق خود کش حملہ آور یاسر کا تعلق پشاور سے تھاحملہ آور یاسر نے 2023 میں کراچی کے علاقے خاصخیلی گوٹھ بن قاسم کے مدرسہ سے تعلیم حاصل کی، خود کش حملہ آور نے مدرسہ میں تعلیم کے دوران ٹریننگ حاصل کی، اب حسا س ادارے کی جانب سے مدرسہ سے متعلق تفصیلات حاصل کرلیں گئی ہیں، تفصیلات سامنے آنے کے بعد مدرسے کو سیل کردیا گیا، اور انتظامیہ سے تفتیش جاری ہےخود کش حملہ آور 2024 اور 2025 میں افغانستان بھی جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 30 سے زیادہ افراد شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ہلاک دہشتگرد کے سہولت کاروں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی،محسن نقوی نے کہا تھا کہ دہشتگردوں کی 21 بین الاقوامی تنظیمیں افغانستان سے کام کررہی ہیں، اسلام آباد حملے کی تربیت اور منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ کیسے خود کش حملہ آور کو لایا گیا، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیونٹی انٹیلی جینس مؤثر ہونی چاہیے۔

    سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

    محسن نقوی نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے دہشتگردوں کو فنڈنگ کی جارہی ہے، خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں،بھارت روایتی طریقے سے پاکستان سے جنگ نہیں جیت سکتا، اس لیے پراکسیز کا سہارا لے رہا ہے بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کرنے کے لیے اپنا بجٹ بڑھایا ہے، ہم جنازے اٹھا رہے ہیں اور دنیا خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہاتھا کہ دہشتگردوں کو ڈالرز میں فنڈنگ کی جارہی ہے، جب دوسرے ملکوں میں بھی ایسے جنازے اٹھیں گے تو پھر یہ لوگ بولیں گےاس بار بلوچستان میں جو دہشتگردی کرنے کے لیے آیا وہ بچ کر نہیں گیا، ملک کے ایک انچ پر بھی دہشتگردوں کا قبضہ نہیں، یہ چھپ کر کارروائی کرتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں،ٹی ٹی پی، افغان طالبان اور داعش سب مل کر کام کررہے ہیں، یہ دہشتگردی اب علاقائی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

    رواں سال کا پہلا چاند گرہن 3مارچ کو،پاکستان میں دیکھائی دے گا؟

  • سی ٹی ڈی  کی کارروائی، کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک

    کراچی: سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان مقابلے میں 4 دہشتگرد ہلاک ہو گئے-

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کراچی کے شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک گھر میں ڈرموں میں آئی ڈیز تیار کی گئی تھیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹو نیٹک وائر اور سرکٹ بھی برآمد کرلیے، بارودی مواد کو ڈی فیوز کرنے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا جائےگا۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فرار دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے ضلع ملیر سمیت مختلف اضلاع کی ناکہ بندی کردی گئی ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر گھر کی سرچنگ کی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے گھر میں بارودی مواد کی موجودگی کی تصدیق کی تھی بارودی مواد کے شبہ کی موجودگی میں گھر کی سرچنگ کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا تھا، گھر کے اطراف کے علاقے کو خالی کروایا گیا مقابلے کے دوران گھر میں موجود ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، گرفتار دہشتگرد کے قبضے سے کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق دہشتگردوں کے کچھ ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوئے، بعد ازاں انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، ریسکیو حکام کے مطابق سی ٹی ڈی سے مقابلے میں زخمی 4 دہشتگرد اسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

  • کراچی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گرد گرفتار

    کراچی میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، فتنہ الہندوستان کے تین دہشت گرد گرفتار

    کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق رینجرز اور سی ٹی ڈی نے چکراگوٹھ کورنگی میں مشترکہ کارروائی کرکے فتنہ الہندوستان کے تین انتہائی مطلوب سہولتکاروں کوگرفتار کرلیا گرفتار ملزمان کی شناخت یاسر عرفات، خدا بخش اور زاہد حسین عرف بارکزئی کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے پانچ کلو بارو دی مواد، دس میٹر پرائما کارڈ، تین ڈیٹونیٹر اور ایک کلو بال بیرنگ برآمد کی گئی، اس کے علاوہ انتہاپسندی پر مبنی لٹریچر کے تقریباً 250 بکس اور ایک لیپ ٹا پ بھی تحویل میں لیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان طلبا کو ایک کالعدم تنظیم میں شمولیت کے لیے ذہن سازی کرتے تھے اور تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی پر مبنی مواد کی فراہمی میں بھی ملوث رہے ہیں ملزمان نے کراچی کے حساس مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے بارودی مواد خفیہ ٹھکانوں پر چھپا رکھا تھا، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے برآمد کر لیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد شہر میں کسی بڑے نقصان کو روکنا تھا گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور دیگر سہولت کاروں تک بھی پہنچا جا سکے۔

  • ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں تعمیر ہونے والا نیا برج مقررہ مدت یعنی 100 دن میں مکمل کیا جائے اور اضافی 5-4 دن کا بہانہ اب نہیں چلے گا جس دن سے کام شروع ہوگا، اسی دن سے گنتی ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ان کی ٹیم دن رات اس منصوبے کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ اس برج سے مقامی آبادی کو خاص فائدہ ہوگا، خصوصاً کیٹل کالونی اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے لوگوں کو سہولت ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حال ہی میں کورنگی کاز وے کا تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے پرانا پل خستہ حال ہونے کے باعث گرایا گیا تھا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ شارع بھٹو کا منصوبہ بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے اور آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں اسے کیماڑی سے کاٹھور تک مکمل کر لیا جائے گا انہوں نے دوبارہ ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ اس لیے نہیں دیتے کیونکہ کبھی کبھار مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سستی ہو جاتی ہے، تاہم کام ہر صورت مکمل ہوگا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شارع بھٹو کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک توسیع دینے کے منصوبے کی بنیاد بھی جلد رکھی جائے گی، صرف چند این او سی باقی ہیں دو سے تین سال میں یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا جس سے بھاری ٹریفک شہر سے باہر منتقل ہوگی اور ٹریفک جام اور حادثات میں کمی آئے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ رواں سال کراچی میں تقریباً 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ، کے ایم سی، کے ڈی اے، ٹرانسپورٹ، واٹر کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت مختلف ادارے ان منصوبوں پر کام کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بلدیہ کو سڑکوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں کابینہ نے آٹھ ارب روپے اور تیرہ ارب روپے کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے تاکہ شہر کی بڑی اور چھوٹی سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جا سکے کراچی کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی نے کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں پر اعلان کیا ہے۔

    کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد سندھ اسمبلی کی طرف پیش قدمی اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جھڑپوں کے دوران شیلنگ، پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے 10 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا ہے۔

    پولیس کی شیلنگ کے دوران ایک شیل سندھ اسمبلی کے قریب مسجد کے پی ایم ٹی میں آگ بھڑک اٹھی اس دوران فائر بریگیڈ کی گاڑی آگ بجھانے پہنچی تو مظاہرین نے گاڑی کو قبضے میں لے کر پولیس پر پانی پھینکنا شروع کردیا انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں بلیک آؤٹ کردیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے مسلسل شدید شیلنگ کے نتیجے میں کارکنان، مقامی آبادی کے علاوہ خود پولیس اہلکار بھی متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی نے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا تھا۔ جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے سندھ اسمبلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں،پولیس اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے، جس کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، ایم پی اے محمد فاروق سمیت دیگر قائدین نے سندھ اسمبلی روڈ پر دھرنا دے دیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور رکاوٹیں توڑ کر اسمبلی کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہوگئے-

    صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ آج شام 4 بجے مذاکرات ہونے تھے جماعت اسلامی کو بتا دیا تھا کہ انہیں سندھ اسمبلی آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو تماشہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    وفاق کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ، 2 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو بتا دیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں پولیس اورمقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کےساتھ رابطے میں تھی، مشتعل کارکنان نے ریڈ زون میں پتھراؤ کیا،جماعت اسلامی کو کہا گیا تھا پُرامن احتجاج کریں لیکن ریڈزون میں داخل نہ ہوں، جما عت اسلامی کارکنوں نے اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی،سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثرہوتا ہے جماعت اسلامی کبھی شارع فیصل بلاک کردیتی ہے تو کبھی اسمبلی میں داخل ہوجاتی ہے حکومت مذاکرات کرے گی لیکن جماعتِ اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے۔

    ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت ٹاکرے سے قبل کولمبو اسٹیڈیم میں 4 فٹ لمبا سانپ نکل آیا

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ ہم شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلے تھے، ہمارے کارکنان پر تشدد اور شیلنگ کی گئی جبکہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی فسطائیت پورا ملک دیکھ رہا ہے، پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھرنےسے روکنا بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بااختیار شہری حکومت کراچی کا حق ہے اور اہل کراچی اپنا یہ حق لے کر رہیں گے۔

  • کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

    کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

    پولیس سے مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا ، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

    پولیس انتظامیہ نے پہلے ہی راستے میں موبائل اور بسیں کھڑی کر کے کارکنان کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، اہلکاروں نے کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے،ابتدائی مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا-

    کبوتر چوک اور متصل علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤاورتشدد کیا، اس کے نتیجے میں علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا اور پولیس کی نفری کچھ دیرکے لئے بھاگنے پرمجبورہوگئی۔

    اسلام آباد :مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی

    مظاہرین نے سندھ اسمبلی کی جانب پیش قدمی جاری رکھی، جس کے باعث پولیس نے بھاری نفری، اضافی دستے اور ایس ایس پی ساؤتھ کی ہدایت پر پریزن وین طلب کی،متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ کچھ پولیس اہلکار بھی مظاہرین کے حملے میں زخمی ہوئے پولیس نے مظاہرین کے ذریعے استعمال ہونے والے ٹرک اور ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیے تاکہ مذاکرات کے دوران امن قائم رہ سکے۔

    جھڑپوں کے دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان شیلنگ اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا، پولیس نے کبوتر چورنگی سے جامع مسجد اہلحدیث تک اپنی نفری پہنچائی لیکن مظاہرین اندرونی گلیوں اور دیگر راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس دوران نعرے بازی اور مزاحمت جاری رہی، پولیس کی جانب سے علاقے میں بلیک آؤٹ بھی کروا دیا گیا۔

    ایس ایس پی ساؤتھ نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے مزید اقدامات کا عندیہ دیا اورکہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گےاور صورتحال پر فوری کنٹرول کے لئے اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔

    ویلنٹائنز ڈے :میئر کراچی نے حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا

    جماعت اسلامی کے نائب امیر و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان راستے پر بیٹھ گئے اور پولیس سے راستہ کھولنے کی درخواست کی،محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دیا جائے گا، انہوں نے وعدہ کیا کہ دھرنے کے دوران کسی بھی قسم کا نقصان یا پتھر بازی نہیں کی جائے گی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    پولیس اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ کشیدگی شہر کے اہم سیاسی اور حکومتی مرکز کے سامنے برقرار ہے، اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی