Baaghi TV

Tag: کراچی

  • بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ منا رہی ہے

    بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ منا رہی ہے

    بوہری برادری آج ملک بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے۔

    کراچی کے علاقے صدر کی طاہری مسجد میں نماز عیدالاضحیٰ ادا کر دی گئی جس میں بوہری برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی،عید کے اجتماعات میں ملک میں امن و سلامتی خوشحالی اور ترقی کیلئے دعائیں کی گئیں۔

    نمازِ عید کے بعد سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے قربانی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اس موقع پرسکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ قربانی کے مراحل پُرامن انداز میں مکمل ہو سکیں۔

  • سعد ایدھی کراچی پہنچ گئے، اسرائیل میں قید کے دوران بدترین تشدد کا انکشاف

    سعد ایدھی کراچی پہنچ گئے، اسرائیل میں قید کے دوران بدترین تشدد کا انکشاف

    غزہ کے لیے روانہ ہونے والے بحری امدادی قافلے ’صمود فلوٹیلا‘ میں شامل معروف سماجی کارکن سعد ایدھی اسرائیلی فوج کی حراست سے رہا ہونے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

    جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پہنچنے پر سعد ایدھی کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں ان کی اہلیہ اور کم سن بیٹی بھی موجود تھیں اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد ایدھی نے بتایا کہ ان کا یہ مشن غیر مسلح اور سراسر انسانی امداد پر مبنی تھا، جس کا مقصد بھوک کے شکار مظلوم فلسطینی عوام اور بچوں تک خوراک اور ادو یات پہنچانا تھا ان کا سفر 14 مئی کو شروع ہوا تھا، لیکن غزہ سے 200 ناٹیکل مائل دور بین الاقوامی سمندر میں اسرائیلی فوج نے انہیں زبردستی گرفتار کرلیا۔

    سعد ایدھی نے انکشاف کیا کہ ان کے قافلے میں 180 افراد شامل تھے، جنہیں 2 راتیں بحری جہاز پر محصور رکھا گیا، اس دوران شدید تشدد کے باعث 35 افراد زخمی ہوئے جبکہ 15 افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، حراست کے دوران انہیں کھانے میں صرف ڈبل روٹی اور پانی دیا جاتا تھا، 3 روز بعد جب انہیں اسرائیل پہنچایا گیا تو وہاں بھی غیر انسانی سلوک کا سلسلہ جاری رہا اور انہیں ایک ایسے سیل میں بند کردیا گیا جہاں رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی اس ظلم کے خلاف انہوں نے بھوک ہڑتال کی اور صرف پانی پی کر وقت گزارا۔

    سعد ایدھی کے مطابق اسرائیلی اہلکار قیدیوں کو سونے نہیں دیتے تھے اور اس مقصد کے لیے ان کی آنکھوں پر لیزر لائٹس ماری جاتی تھیں، جبکہ قید خانے کے فرش پر جان بوجھ کر پانی ڈال دیا جاتا تھا، انہیں کئی کئی گھنٹے گھٹنوں کے بل بٹھا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جن افراد کے پاس امریکی یا یورپی پا سپورٹس نہیں تھے، ان پر زیادہ ظلم کیا جاتا تھا، جبکہ اپنی حکومت کے خلاف بولنے والے امریکی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔

    سعد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان پر 4 دن تک لرزہ خیز تشدد کیا گیا، لیکن فلسطینی تو گزشتہ 80 سال سے یہ ظلم برداشت کررہے ہیں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کا لایا ہوا امدادی سامان ضائع کر دیا گیا ہے، تاہم وہ فلسطین کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور دوبارہ امداد پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہوں نے حکومتِ پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔

    اس موقع پر موجود سابق سینیٹر مشتاق احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعد ایدھی نے اس مشن کے ذریعے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کی ہے اور اپنے دادا کا نام روشن کیا ہےوہ خود بھی دو مرتبہ اسرائیلی جیل میں قید رہ چکے ہیں اور وہاں کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے واقف ہیں اس وقت اسرا ئیل میں 11 ہزار فلسطینی قیدی موجود ہیں، جن میں 400 کے قریب 10 سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور کر لیا ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا،کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں ہی انڈیکس 3,000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔

    صبح 10:10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 167,892.19 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,060.77 پوائنٹس یعنی 1.86 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے،مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،بڑے انڈیکس شیئرز میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت متعدد کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 164,831.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔

  • انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    انمول پنکی کیس :کراچی پولیس چیف کی سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ میں بڑے انکشاف

    کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    انمول پنکی کیس پر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے پولیس چیف نے کہا کہ کراچی پولیس اور حساس ادارے لمبے عرصے سے اس کیس پر کام کر رہے تھے، پنکی 18 سال سے ڈرگ سپلائی کر رہی ہے ، وہ آن لائن نیٹ ورک اور بائیکیا رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ، 2018 سے کراچی میں بھی سپلائی جاری ہے،انمول کراچی کی ہے ، اس کی لاہور میں ڈرگ اسمگلر سے شادی ہوئی ہے ،انمول عالمی منشیات ڈیلر رانا عاصم کیساتھ کام کر رہی ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ کوکین ڈرگ سپلائی میں انمول کے دو بھائی اور خواتین کے علاوہ لاہور کے بڑے نام بھی انمول پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں، پنکی قتل کیس میں بھی ملوث ہے جس میں ریمانڈ نہیں ملا ، منشیات کی رقم آن لائن بھائیوں کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی تھی ، موبائل فون میں 860 غیر ملکیوں اور دیگر منشیات ڈیلرز کے نمبر موجود ہیں، پنکی کے موبائل سے بڑے ڈیلرز کے شواہد مل گئے ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سندھ ،پنجاب ، خیبر پختونخوا کے منشیات ڈیلرز پنکی کیساتھ رابطے میں ہیں ، راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ، پنکی کے موبائل فون سے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیس آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلد ختم ہونے کے بیان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    مارکیٹ کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،صبح ایک موقع پر انڈیکس 163,459.05 کی سطح پر تھا، جو 562.37 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن سیکٹرز میں خریداری دیکھی گئی۔ بڑے انڈیکس شیئرز جیسے حبکو، ماری، پی پی ایل، ایف ایف سی اور ایفرٹ بھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط ریکوری دکھائی تھی، جب امریکہ اور ایران مذاکرات سے متعلق جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اس روز کے ایس ای-100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • وفاقی وزیر بحری امور  سے قازقستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر بحری امور سے قازقستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے قازقستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے قازق سرمایہ کاروں کو گوادر بندرگاہ اور کراچی بندرگاہ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیائی ممالک کے لیے اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتی ہیں۔

    سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور ٹرانس شپمنٹ، ملٹی پرپز ٹرمینلز اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ان منصوبوں سے وسطی ایشیائی ممالک کو خلیجی اور افریقی منڈیوں تک رسائی میں نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔

    ملک کے مختلف شہروں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

  • انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    انمول عرف پنکی گینگ کا مرکزی ممبر گرفتار

    کراچی :پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی گینگ کے ایک مرکزی کارندے ذیشان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم ذیشان اس پورے نیٹ ورک کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات سنبھالنے کا ذمہ دار تھا اور اس سے ہونے والی ابتدائی تحقیقات میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں منشیات کی خرید و فروخت کے لیے ادائیگیوں کا ایک پیچیدہ نظام بنایا گیا تھا جس میں آن لائن ایپس اور موبائل بیلنس کی آڑ میں رقم منتقل کی جاتی تھی جبکہ ایک نجی کمیونیکیشن فرنچائز کو بھی لین دین کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    پنکی کے خلاف تحقیقات کا دائرہ اب لاہور تک پھیل چکا ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نیٹ ورک کے حوالے سے خفیہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےسی سی ڈی لاہور نے بھی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور امکان ہے کہ پنکی کو قانونی کارروائی کے لیے لاہور منتقل کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ایک نئی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پوش علاقوں اور نجی تعلیمی اداروں میں کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کا جال پھیلانے کے لیے زیادہ خریداری کرنے والوں کو رعایتی پیکج بھی دیے جاتے تھے عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے۔

    ادھر کراچی میں تفتیشی حکام کو ملزمہ کے بھائی شوکت کی تلاش ہے جس کا مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف پہلے ہی منشیات فروشی کا مقدمہ درج ہے ملزمہ پنکی کے مبینہ شوہر سابق پولیس افسر رانا اکرام کو بھی اس کیس میں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے دوران تفتیش منشیات کی فراہمی کے انتہائی انوکھے طریقے کا بھی پتہ چلا ہے جس کے مطابق یہ 6 رکنی گروہ جس میں ایک خاتون اور پانچ مرد شامل ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے گاہک سے براہ راست نہیں ملتا تھا-

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کا کارندہ کسی سنسان گلی یا مقام کا انتخاب کر کے وہاں پتھر کے نیچے منشیات چھپا دیتا تھا اور پھر خریدار کو اس مقام کی لوکیشن بھیج دی جاتی تھی،پنکی ایک گرام کوکین 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کرتی تھی جبکہ پنکی منشیات کالین دین آئن لائن کرتی تھی،پولیس اب ملزم ذیشان کے بینک اکاؤنٹس اور آن لائن ڈیٹا کی مدد سے اس پورے گروہ کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا جب کہ گزشتہ روز پنکی کے بھائی کے خلاف لاہور میں مقدمہ سامنے آیا ہے۔

    لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ 2022 میں شاداب کالونی میں لگژری گاڑی سے پنکی کا بھائی ملزم ریاض بلوچ منشیات دینے اترا تو پولیس نے قابو کرلیا، اس کے ساتھ موجود اس کی بہن انمول عرف پنکی گاڑی دوڑا کر نکل گئی، پنکی کے بھائی ریاض بلوچ پر لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انمول عرف پنکی کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق منشیات فروش انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمہ کو تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو آج دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا،گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی، تاہم آج دوبارہ عدالت کے روبرو جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی،انہوں نے کہا کہ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمہ کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف ماضی میں درج مقدما ت کی تفصیلات بھی اکٹھی کر لی گئی ہیں۔

    جسمانی ریمانڈ کی منظوری کے بعد پولیس ملزمہ کو جیل سے لینے کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا، ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد ہوئی تھیں۔

  • 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول ڈرگ ڈیلر کیسے بنی؟

    کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محض 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والی انمول دیکھتے ہی دیکھتے بین الاقوامی کوکین نیٹ ورک کی اہم کارندہ بن گئی انمول کی پہلی شادی ایک وکیل سے ہوئی جو عالمی کوکین گینگ سے وابستہ تھا، جہاں سے اس نے منشیات کی دنیا میں قدم رکھا،وکیل سے طلاق کے بعد اس نے ایک پولیس افسر سے شادی کی اور اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر کوکین کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا-

    انمول کراچی کے علاقے نگارہ گوٹھ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، سال 2008 میں ڈیفنس اور کلفٹن میں ہونے والی ڈانس پارٹیز میں منشیات کی سپلائی کا آغاز کیا، ملزمہ نے اس فیلڈ میں اپنا نام پنکی رکھا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کام کو پھیلایاکراچی میں گزشتہ سال ارمغان کیس سامنے آنے کے بعد ملزمہ لاہور اور اسلام آباد میں روپوش رہی ، اور وہیں سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی کے 800 سے زائد کسٹمرز تھے جن کو وہ اپنے نیٹ ورک کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی ۔

    حیران کن طور پر ملزمہ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھ کر اپنا “برانڈ” بھی متعارف کروا رکھا تھاملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ تھا جس میں کوئی بھی رکن ایک دوسرے سے براہِ راست نہیں ملتا تھا لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین کے ذریعے کوکین کراچی بھیجی جاتی، جہاں سے با ئیک رائیڈرز اسے مختلف ڈیلرز تک پہنچاتے اور ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بتانا ہے کہ ملزمہ کے گروپ میں دیگر خواتین اور مرد بھی شامل ہیں ، نیٹ ورک کے کارندے کوکین اسمگل کرکے مختلف شہروں ، کراچی کی جامعات ، کالجز اور آن لائن فروخت بھی کرتے تھے۔

    ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا گیا ملزمہ اس غیر قانونی دھندے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہی تھی اور اس نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے،جبکہ ملزمہ لاہور میں کپڑے کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی میں گارڈن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروش خاتون کو گرفتار کیا تھا پولیس کا دعویٰ ہےکہ ملزمہ انمول عرف پنکی سے پستول،کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور اشیا برآمد کی گئیں انتہائی مطلوب اور 10 مقدمات میں مفرور ملزمہ شہر میں منشیات ڈیلنگ و سپلائی کے نیٹ ورک کو آپریٹ کررہی تھی ملزمہ آن لائن منشیات کو مخصوص رائیڈرز کے ذریعے سپلائی کرتی تھی، اس کے علاوہ وہ خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کرتی تھی۔