Baaghi TV

Tag: کراچی

  • مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا

    مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں میری نسل کشی ہو رہی ہے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے، کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے، اس کو وفاق کا حصہ بنایا جائے 18 سال حکومت کرنے کے بعد جب پیپلز پارٹی سے آگ کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، آج کی ایم کیو ایم یہ کام نہیں کر رہی، یہ وہ ہوا تو آپ کے صدر اس وقت ایم کیو ایم کے مرکز پر گھٹنے ٹیکتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے، یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں، ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہاہ کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنےکراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں ہمیں مار دیں، سولی پر لٹکا دیں، مگر ہماری نسل کشی بند کی جائے۔

    ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کو بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں،انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟

    انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم سے فنڈز حاصل کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ انہیں رکوا دیتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ جمہوری دہشت گردی ہے جسے سندھ میں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے امید ہے حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان ان کی بات سنیں گے اور کرا چی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کی دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فعال کرنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ کی دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فعال کرنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فعال کرنے کی ہدایت کی ہے-

    وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار اور چیف سیکریٹری آصف حیدرشاہ سمیت دیگر حکام شریک ہوئےاجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو کراچی سیف سٹی پراجیکٹ پر ڈی جی سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز نے بریفنگ دی۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ شہر کے لیئے تمام اہم ہے کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ای چالان متعارف کرانے کے بعد اب کراچی سیف سٹی کا پہلا فیز لانچ کرنے والے ہیں، دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فعال کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے سیف سٹی پراجیکٹ کو فعال بنانے کے لیے ضروری عملے کی فوری بھرتی کی ہدایت دے دی ہے علاوہ ازیں سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 34 ماہر تکنیکی و انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے عملے کی بھرتی سلیکشن کمیٹی کرےگی جو سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمینٹ نوٹیفائی کرچکی ہے وزیراعلیٰ سندھ نے سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 200 ملین روپے کا نظرثانی شدہ بجٹ کی منظور دے دی۔

  • 22 جنوری کو کراچی میں بارش،مری اور گلیات میں بھی شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی

    22 جنوری کو کراچی میں بارش،مری اور گلیات میں بھی شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری، گلیات اور گردونواح میں 23 جنوری تک شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے،جبکہ نیا مغربی سلسلہ کل سے صوبہ سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے گا جس کے سبب کراچی سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق 22 جنوری کو کراچی میں گرج چمک کے ساتھ درمیانی وہلکی بارش کا امکان ہے کراچی ڈویژن، جامشور، دادو، ٹھٹھہ، سجاول، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، سانگھڑ، میرپور خاص، عمر کوٹ نوشہرو فیروز، شہید بے نظیر آباد، خیر پور، سکھر، کھوٹکی، جیکب آباد، لاڑکانہ، قبر شہداد کوٹ اور شکارپور کے اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے معتدل شدت کی بارش کا امکان ہے،کل سے شہر پر بلوچستان کی شمال مغربی ہوائیں اثرانداز ہونا شروع ہوں گی، جمعہ کو کم سے کم درجہ حرارت 7 تا 9 ڈگری ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کراچی کے مطابق جمعہ کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20 سے 22 ڈگری تک جانے کا امکان ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 35 سے 45 ریکارڈ ہو سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری، گلیات اور گردونواح میں 23 جنوری تک شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے متعلقہ حکام نے سیاحوں سے سفر سے قبل موسم کی صورتحال جانچنے اور احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہےانتظامیہ نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کر دیے ہیں اور 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری اور گردونواح میں آئندہ دنوں میں موسمی سرگرمی بڑھنے کی توقع ہے اور سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیاحوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے 13 فسیلیٹیشن سنٹرز قائم کیے گئے ہیں-

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سیاحوں کی رہنمائی اور تحفظ کے لیے ہر وقت موجود رہے گی،انہوں نے سیاحوں سے درخواست کی کہ موسم کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سفر کریں اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔ نبیل جاوید نے زور دیا کہ موسم کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

    ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے-

  • سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خاکستر گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کوغیرمحفوظ قرار دے دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ہولناک آتشزدگی کے اس سانحے میں شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے،لاشوں کی شناخت محمد شہروز، محمد رضوان اور مریم کے نام سے ہوئی جن کی میتیں اہل خانہ نے وصول کیں، ان کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ سانحے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، شناخت کے لیے 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں،چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ کے تہہ خانے کے اوپن ایریا کی مکمل تلاشی لے لی گئی ہے تاہم وہاں سے کوئی لاش برآمد نہیں ہوئی، تہہ خانے کا وہ حصہ جو ملبے تلے دبا ہوا ہے، تاحال سرچ کیا جانا باقی ہے، جبکہ عمارت کی دوسری اور تیسری منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈپٹٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گاپہلے دن سے انفارمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔

    سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہےایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کا ابتدائی معائنہ مکمل کرنے کے بعد اسے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے،حکام کے مطابق گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستونوں کو شدید نقصان پہنچا ہےاس صورتحال کے پیش نظر رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پلازہ کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے رمپا پلازہ میں کسی بھی غیرقانونی یا غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ 3 روز میں کراچی کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نصب کرنا ممکن نہیں،ان کے مطابق اس ضمن میں اس وقت مطلوبہ آلات دستیاب ہی نہیں ہیں۔

    ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    منگل کی شام جاری کی گئی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں،رپورٹ میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے متعدد عمارتیں 30 سے 35 سال پرانی ہیں، انہوں نے کہا کہ آباد کے اراکین کی جانب سے گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں تعمیر کی گئی بیشتر عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات موجود ہیں تاہم اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کے بلڈرز کو فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی بھر کی عمارتوں میں 3 روز کے اندر فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھ،لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔

    غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت:بحرین نے بھی امریکی دعوت قبول کر لی

  • سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے۔

    ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی درخواستگزاروں کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے سانحہ کے ذمہ داروں کوتعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزار بیرسٹر حسن نے موقف دیا کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا حکم دیا جائے واقعے کی مکمل انکوائری کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے 10 فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کی براہ راست سنگین غفلت، معائنہ میں ناکامی، حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین کو نافذ کرنے میں ناکامی نے انسانی جانوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں شفاف انکوائری کے ذریعے غفلت برتنے والے افسران کی معطلی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزاروں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داری کے اصول کے تحت متوفی متاثرین کے خاندانوں کو مناسب معاوضے کی براہ راست ادائیگیاں دی جائیں، مالی نقصانات کے لئے تاجروں اور دکانداروں کو براہ راست ریاستی فنڈ سے معاوضہ دینے کا حکم دیا جائے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی تعمیل کا حکم دیا جائے عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لئے سندھ فائر سیفٹی ایکٹ 2016 کا سختی سے نفاذ کا بھی حکم دیا جائے۔

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    درخواستوں میں چیف سیکریٹری، سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ، میئر، کراچی، چیف فائر آفیسر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ڈائریکٹر جنرل سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر، ضلع جنوبی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

  • گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر  کراچی

    گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر کراچی

    کراچی:ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا-

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا ہے لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی،گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا ایم اے جناح روڈ سے ریسکیو اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں سے کچھ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جبکہ اس دوران ہمارے ریسکیو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    ڈی سی نے کہا کہ جہاں جہاں سے ہم داخل ہونے کی کوشش کر سکتے تھے وہاں سے داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جہاں سے ریسکیو کر سکتے تھے وہاں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا،ہمیں شک ہے کہ گل پلازہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے،آگ کی شدت بہت زیادہ اور تیز تھی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش آیا آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے 32 مرتبہ عمارت میں جانے کی کوشش کی ہے۔

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہم نے4 پوائنٹ کی نشاندہی کرکے وہاں ہولز بھی بنائے، بندے بھی بھیجے اور کچھ حد تک اندر بھی گئے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے بندے زیادہ اندر نہیں جا سکےبلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر داخل ہوکر سرچنگ کی جائے گی، لاپتا افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں جبکہ بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، 39 افراد کی لوکیشن گل پلازہ آئی ہے ایس بی سی اے کی ڈی مولش ٹیم ہمارے ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمیں کس طرح آپریشن کرنا ہے چھت پر موجود گاڑیاں اتار کر مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، کچھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں انہیں بھی اتروا لیا جائے گا۔

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

  • سانحہ گل پلازہ: آتشزدگی کے باوجود قرآن پاک محفوظ رہے

    سانحہ گل پلازہ: آتشزدگی کے باوجود قرآن پاک محفوظ رہے

    کراچی:سانحہ گل پلازہ، آتشزدگی کے باوجود قرآن پاک محفوظ رہے-

    کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے شہر قائد سوگ میں مبتلا ہےاس تباہی کے منظر میں حیرت انگیز منظر بھی دیکھنے کو ملا، آگ بجھنے کے بعد سرچ آپریشن کا عمل جاری ہے اس دوران ریسکیو اہلکار پلازے کی مسجد میں داخل ہوئے تو دنگ رہ گئے مسجد میں قرآن پاک معجزانہ طور پر بالکل محفوظ تھے، آگ سے مسجد بھی محفوظ رہی، ریسکیو والوں نے قرآن پاک محفوظ مقام پر منتقل کر دیے ہیں۔

    ریسکیو اہلکار نے اس موقع پر ویڈیو بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کے پہلے فلور پر قائم مسجد کلیئر کردی گئی، پہلے فلور پر مسجد میں کوئی شخص نہیں ہے،واضح رہے کہ اس سانحے میں اب تک 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 83 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

  • گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    کراچی بار کا کہنا ہے کہ کراچی بار گل پلازہ میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتی ہےاور لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے-

    تفصیلات کے مطابق کراچی بار کا کہنا تھا کہ گل پلازہ محض ایک تجارتی عمارت نہیں تھا بلکہ کراچی کی معاشی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ تھا گل پلازہ دہائیوں سے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ روزگار رہا، اس سانحے میں جاںبحق افراد کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے تاہم تباہی کا حجم نا قابل تردید ہے تقریبا 1200 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 20 سے 25 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیامجموعی نقصان تقریبا 100 ملین امریکی ڈالر کے قریب ہے اصل المیہ انسانی جانوں کا نقصان، روز گار کا خاتمہ اور خاندانوں کا بے چینی اور کرب میں مبتلا ہونا ہے۔

    بار نے کہا کہ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت، کمزور طرز حکمرانی اور انسانی جانوں سے لاپرواہی کا منطقی نتیجہ ہے کراچی بار لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے سانحہ سے متعلق تمام قانونی کارروائیاں بلا معاوضہ سر انجام دی جائیں گی،سینئر وکلا اور قانونی ماہرین پر مشتمل پروبونو لیگل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے کمیٹی تمام متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کرے گی۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    واضح رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کراچی کے چند ان صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

  • گل پلازہ  میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    کراچی: گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آگئیں-

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تمام اہم دستاویزات میں نقشے کے مطابق جتنی دکانیں بنانے کی اجازت دی گئی اس سے کئی زیادہ دکانیں بنائی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا ہے،گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھاگل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھا گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت دی گئی تھی۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں۔ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں، ممکنہ طور پر جو غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی گئیں اس کے سبب لوگ پلازہ سے باہر نہیں نکل سکے تاہم اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم ہی حتمی رپورٹ دے سکتی ہے-

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

  • گل پلازہ   آتشزدگی:عوام اور متاثرہ خاندانوں کیلئے ہیلپ لائنز قائم

    گل پلازہ آتشزدگی:عوام اور متاثرہ خاندانوں کیلئے ہیلپ لائنز قائم

    کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں شدید آتشزدگی کے واقعے کے بعد عوام اور متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہیلپ لائنز قائم کر دی گئی ہیں تاکہ گمشدہ افراد اور صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے تاحال عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں آگ پر قابو پانے کے لیے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں اور پانی و فوم کے ذریعے آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات یا گمشدگی سے متعلق اطلاع ڈی سی ساؤتھ کو دی جائے شہری 03135048048، 02199206372 اور 02199205625 پر رابطہ کر سکتے ہیں، جبکہ گمشدہ افراد سے متعلق تفصیلات بھی انہی نمبرز پر فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عوام کی سہولت اور رہنمائی کے لیے ساؤتھ زون پولیس نے بھی علیحدہ ہیلپ لائن قائم کر دی ہے شہری معلومات کے لیے 02199205670، 02199201196 اور 02199205691 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    گل پلازہ آتشزدگی:متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جا ئے گی،وزیراعظم

    واضح رہے کہ گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب آتشزدگی گیس لیکج کے باعث گراؤنڈ فلور پر دھماکے کے بعد شروع ہوئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا آگ کے باعث گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل گئیں جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں، اور ان کے اہل خانہ اسپتالوں اور عمارت کے گرد اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کی شدت کے باعث عمارت کے کچھ حصے گر گئے، اور ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ ایک فائر فائٹر سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 20 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہےاہل خانہ کے مطابق رات تک متاثرہ افراد سے رابطہ ممکن تھا لیکن اب فون بند ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر بھی متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی بڑی تعداد جمع ہے، جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے بے چینی کا شکار ہیں۔

    گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی ابتدائی رپورٹ جاری

    حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں فراز، کاشف، عامر اور شہروز شامل ہیں، جبکہ فائر فائٹر فرقان کی لاش بھی ٹرماسینٹر پہنچائی گئی ہے ریسکیو ٹیمیں آگ پر قابو پانے اور لاپتا افراد کو تلاش کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر صورتحال اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔