Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • اقوام متحدہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرآزادانہ انکوائری کمیشن تشکیل دے،شیریں مزاری

    اقوام متحدہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرآزادانہ انکوائری کمیشن تشکیل دے،شیریں مزاری

    وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت عالمی میڈیا اور مبصرین کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے اور سلامتی کونسل بھارت کو 5 اگست کے یکطرفہ اقدام واپس لینے پر مجبور کرے-

    باغی ٹی وی : ڈاکٹر شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 49 ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آزادانہ انکوائری کمیشن تشکیل دینے اورکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تازہ رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ترجمان مسلم لیگ (ن) کا وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر ردِ عمل

    شیریں مزاری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت عالمی میڈیا اور مبصرین کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے اور سلامتی کونسل بھارت کو 5 اگست کے یکطرفہ اقدام واپس لینے پر مجبور کرے جہاں اسٹرٹیجک اور کمرشل مفادات کی خاطر انسانی حقوق اصولوں کی پامالی جاری ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام پر قابض افواج مظالم اٹھا رہی ہیں، طاقت ریاستیں دہائیوں سے بنیادی حقوق اور آزادیاں سلب کر رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں خواتین بچے قابض افواج کے مظالم کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات ہیں، قابض فوج کشمیر میں آبادی کا تناسب بدل رہی ہے، بھارت 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو ڈومیسایل جاری کر چکا، نئی دہلی کےیہ اقدامات کشمیریوں کو ان کی سرزمین پر اقلیت میں بدلنے کی کوشش ہے، بی جے پی حکومت ہندوتواکشمیریوں کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹرزکے خاندان کو بھارت کیجانب سے دھمکیاں ، پی سی بی کا رد عمل

    وفاقی وزیر انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ حکومتوں کی سرپرستی میں اسلامو فوبیا اور دہشتگردی بڑھ رہی ہے، پائیدار ترقی کے اہداف اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فنڈز کے وعدے پورے نہیں ہوئے تاہم سوشو اکنامکس چیلجز کے باوجود حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے پر عزم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کا قانون پارلیمٹ سے پاس کروایا ہے، تشدد اور استحصال کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے انسداد ہراسانی اور اینٹی ریپ کے حوالے سے قانون سازی کی۔

    شیریں مزار ی نے کہا کہ کاروبار میں انسانی حقوق پر پہلا نیشنل ایکشن پلان لانچ کیا، صحافیوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی ہے، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے عدم مساوات کے خاتمے کیلئے اصلاحات شہریوں کو مفت ہیلتھ کیئریر کی فراہمی پر اقدامات کیے ہیں کے ساتھ ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

    پریانتھا کمارا قتل کیس کی پیروی کیلئے نئی پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین

    بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین

    نئی دلی:بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے:امریکی ماہرین ،اطلاعات کے مطابق امریکہ میں قائم سول سوسائٹی کی تنظیم Hindus for Human Rights کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنیتا وشواناتھ( Sunita Viswanath)نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم امریکی کانگریس اور بائیڈن انتظامیہ پر اس بات کیلئے زور دینے کی اپنی کوششوں میں تیزی لائے گی کہ وہ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلو ک کے حوالے سے اپنی آواز بلند کریں۔

    سنیتا وشوناتھ نے معروف بھارتی صحافی کرن تھاپر کو ایک انٹرویومیں کہا کہ ہندوو¿ں کے لیے” ہندوتوا“ کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور اکثریتی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہندووں کا اس بارے میں خاموش رہنا خطرناک ہے اور اگر ہندو اس مہم کا حصہ نہیں بنتے تو ہندوتوا سے لڑنا ناممکن ہے۔

    سنیتا وشوناتھ نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے امریکہ میں سول سوسائٹی کی 16 دیگر تنظیموں کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف امریکی کانگریس میں لابنگ کرنے میں مرکزی کردار کیوں ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں کچھ غلط ہو رہا ہے، بھارت بہت خطرناک راستے پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ابتر سلوک کے بارے میں 22اور 26جنوری کوکانگریس کی دی گئی بریفنگ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہاہم امریکی شہری ہیں، ہمارے پاس امریکی قانون سازوں اور بائیڈن انتظامیہ کو متاثر کرنے کرنے کی طاقت ہے۔سنیتا وشواناتھ نے کہا کہ ان کی تنظیم کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ بھارت میں بگڑتی ہوئی جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرے ۔ سنیتا وشواناتھ نے مزید کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کا وجود خطرے میں ہے۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:اجتماعی آبروریزی کی متاثرہ خواتین تاحال انصاف کی منتظر،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران آٹھ سال کی بچیوں سے لے کر اسی برس کی خواتین تک کی 100 کے قریب کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کو اکتیس سال گزر چکے ہیں لیکن متاثرہ خواتین ابھی تک انصاف کی منتظر ہیں جبکہ گھناونے جرم میں ملوث فوجی آزاد گھوم رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی یادیں کشمیری عوام کے ذہنوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے اب تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں 11ہزار 2سو 47 خواتین کی عصمت دریعصمت دری اور بے حرمتی کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی طرف سے اپنے فوجیوں کو کالے قوانین کے تحت دی گئی استثنیٰ کنن پوش پورہ جیسے واقعات کی بنیادی وجہ ہے۔کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر ایک دھبہ ہے جو مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبروریزی کو ریاستی دہشت گردی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ کنن پوش پورہ واقعہ قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیر میں کیے جانے والے جنگی جرائم کا ثبوت ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو توڑنے کے لیے عصمت دری کو فوجی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھارت پر دباوڈالا جانا چاہیے تاکہ مجرموں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ بھارت کو کشمیریوں کے خلاف گھناونے جرائم کے ارتکاب کے لیے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں مطلق العنان حکمرانی، غیراعلانیہ مارشل لاءنافذ ہے:حریت کانفرنس نے عالمی دنیا کو نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جابرانہ اقدامات کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بے گناہ لوگوں کی تذلیل کے لئے نازیبا زبان کا استعمال اور ناقابل تنسیخ حق،حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک بے سود کوشش ہے جس سے بھارت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بیان میںکہا گیا کہ لوگوں کے خلاف فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے باوجود بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی کے مقدس مقصد کے لئے کشمیریوںکے حوصلے اور بہادری ناقابل تسخیر ہے۔

    بیان میں کہاگیا کہ اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والی شہری آبادی کے خلاف دس لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کی تعیناتی بین الاقوامی قانون اور 1948 میں اقوام متحدہ کے منظور شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران جبری گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے جیلوں میں ڈالا گیا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کو تباہ کیا گیا ہے اور حریت پسندکشمیریوں کو زیر کرنے کے لیے ایک مطلق العنان حکمرانی اور غیر اعلانیہ مارشل لا ءنافذکیا گیا ہے۔حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ انہیں مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ محصور کشمیریوں سے مل سکیں اورموجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لے سکیں ۔

    دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ دیونیدر سنگھ بہل نے جموں میںجاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی فسطائی حکومت اور آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں سے کوئی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھارت کو ہندو ریاست بنانے پر تلی ہوئی ہے اور پورے بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کرناٹک اور دیگر علاقوں میںمسلمان طالبات کے ساتھ بھارتی حکومت اور انتظامیہ کے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی۔

    ادھر بھارتی ریاست پنجاب میں دارالحکومت چندی گڑھ سمیت مختلف شہروں میں قائم یونیورسٹیوں سے منسلک200 سے زیادہ کالجوں نے کشمیری طلباءکے کوائف جمع کرنا شروع کردیے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک کے بعد اب پنجاب کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم سینکڑوں کشمیری طلباءکو بھارتی حکام اور ایجنسیوں نے اپنی ذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر کھوئی ہامی نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی پنجاب کے کالجوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباءکوذاتی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کورسز کی تفصیلات کے ساتھ اپنا موجودہ اور مستقل پتہ، سیل نمبراور ای میل وغیرہ فراہم کریں۔جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مودی کے ساتھ براہ راست مکالمہ کو تیار ہوں،وزیراعظم عمران خان

    مودی کے ساتھ براہ راست مکالمہ کو تیار ہوں،وزیراعظم عمران خان

    مودی کے ساتھ براہ راست مکالمہ کو تیار ہوں،وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی کے ساتھ براہ راست مکالمہ کو تیار ہوں تاکہ دنیا کو بتا سکوں کہ بھارت میں کیا ہورہا ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویومیں کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ بہترین تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے،انسان کو اپنے وجود کے مقصد سے آگاہ ہونا چاہیے ،انسانی رجحان ہمیشہ مادی اور روحانی معاملات کی جانب ہوتا ہے انسان کو انسان کی بھلائی کی فکر ہونی چاہیے دنیا میں بھوک وافلاس ،غربت اور دیگر مسائل کی جڑ پیسہ چوری اورمنی لانڈرنگ ہے منی لانڈرنگ اور پیسہ چوری کے خلاف آواز اٹھا نا میرے مقصد کا حصہ ہے،دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سےغربت میں اضافہ ہورہاہے ترقی پذیرممالک سے پیسےکی منتقلی بڑامسئلہ اور چیلنج ہےماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دنیا متاثر ہوئی ہم نے صورتحال کی بہتری کے لیے اقداما ت کرنے ہوں گے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ روس اور یوکرین معاملات کے پرامن طریقے سے حل کے خواہاں ہیں، حکمرانوں کی کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں پاکستان عالمی سطح پر کسی گروپ کا حصہ نہیں،ماضی میں ہم امریکی اتحاد کا حصہ تھے پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات چاہتاہے ،بھارت اپنے ملک میں غربت کم کرنے کے لیے اقدام کرے افغانستان جن حالات سے گزر رہا ہے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،پاکستان نے ماضی میں افغانستان سے متعلق اہم کردار ادا کیا اور کررہا ہے، پاکستان 30لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کررہاہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے خطےمیں امن کےلیے ملکر چلنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا بھارت نے ہماری پیش کش مسترد کردی خواہش ہے ترقی پذیر ممالک میں غربت کم ہو،سب جانتےہیں کہ روس اور یوکرین تنازعہ شدت اختیار کرگیا تو اس کے نتائج ہوں گے مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کےدرمیان تسلیم شدہ معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے اقتدار میں آیا تو سب سے پہلے بھارت کو امن کے لیے مذاکرات کی پیش کش کی بھارت میں انتہا پسند نظریے کی حکومت ہے،کسی بھی ملک پر اپنا نظریہ زبردستی لاگو کرنا کسی بھی قوم کےلیےقابل قبول نہیں ہوتا سمجھتا ہوں کہ کسی بھی تنازعہ کو جنگ سے حل کرنا بڑی بےوقوفی ہوگی،قوم پرستی کا مطلب ہر گز انتہا پسندی نہیں چین نے لوگوں کو غربت سے نکالا ،کسی بھی ملک میں اس کا وقار قانون کی بالادستی سے وابستہ ہے بطور وزیراعظم جاتے جاتے اپنے ملک کو غربت سے نکالنا چاہتاہوں روس اور یوکرین معاملات کے پرامن طریقے سے حل کے خواہاں ہیں،ہم واضح کرچکے ہیں آئندہ بھی کسی گروپ کا حصہ نہیں بنیں گے بھارت نے ہماری امن کے لیے مذاکرارت کی پیش کش مسترد کردی ،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے اسکاوٹس کو عالمی دن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں یہ دن پاکستانیوں کو تحفظ دینے کے لیے چنا ہے بدقسمتی سے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے خطرہ ہے شجر کاری مہم آئندہ نسلوں کی حفاظت کے لیے کررہے ہیں کم از کم ایک خاند ان کو 5درخت لگانے چاہیے ،پاکستان ہر قسم کی نعمتوں سے مالامال ہے ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ زمین پر انسانوں کی لاپرواہی ہے ہم نے 10ارب درختوں کا ہدف رکھا ہے ہم نے درختوں کا ہدف مکمل کرکے اپنے ملک کو بدلناہے،10ارب درخت کا منصوبہ دنیا بھرمیں تسلیم کیاگیا اورسراہا گیا

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    بھارتی میڈیا نے مودی حکومت کی اصلیت واضح کردی،وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

  • سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت

    سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت

    سعودی فوج کے کمانڈر کا پہلی بار دورہ بھارت
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ محمد المطیر بھارت پہنچے ہیں اور انہوں نے بھارتی آرمی چیف سے ملاقات کی ہے

    خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی کمانڈر کی بھارتی آرمی چیف سے ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی،سعودی عرب کی فوج کے کسی کمانڈر کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے، اس دورے کو اس حوالہ سے بھارت میں اہمیت دی جا رہی ہے کہ سعودی فوج کا کوئی کمانڈر پہلی بار بھارت آیا، اس سے سعودی عرب اور بھارت کے مابین دفاعی تعلقات بہتر ہونے کے امکان ظاہر کئے جا رہے ہیں، سعودی فوج کے کمانڈر تین روزہ دورے پر گزشتہ روز دہلی پہنچے تو انکا بھر پور استقبال کیا گیا،

    قبل جنرل نروانے نے سال 2020 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اس سے پہلے بھارت کے کسی آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ نہیں کیا تھا دونوں ممالک کے درمیان ان دوروں کا مقصد دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے

    خارجہ پالیسی کے ماہرین نے کہا ہے کہ شاہی سعودی زمینی افواج کے سربراہ کا اس ہفتے بھارت کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کے "مستحکم ارتقاء” کا حصہ تھا، جن کے تعلقات کئی دہائیوں سے زیادہ تر توانائی کے تعاون کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    چند سال پہلے تک، سعودی عرب کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بنیادی طور پر تجارت اور مشرق وسطیٰ میں ہندوستانی تارکین وطن کی وجہ سے چل رہے تھے۔ سعودی عرب ہندوستان کو توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور 3.5 ملین سے زیادہ ہندوستانی تارکین وطن کا گھر ہے۔پچھلے کچھ سالوں کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی کے حوالے سے کچھ تعاون ہوا ہے، ریاض نے چار انتہائی مطلوب مفروروں کو ہندوستان ڈی پورٹ کیا۔لیکن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان تعلقات کو وسعت دینے کے لیے کام کیا ہے، اور دونوں حکومتوں نے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں گزشتہ سال اعلیٰ سطحی بات چیت کے بعد اضافہ ہوا ،دونوں ممالک کے درمیان تجارت 25 بلین ڈالر کے قریب ہے اور بھارت گزشتہ سال تک مملکت کا دوسرا سب سے بڑا شراکت دار تھا۔ بہت سے لوگ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید بہتر کرنے کو مودی کی جانب سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی سفارتی کوشش کے حصے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

  • بھارتی فضائیہ کے اڈے کے قریب سے دو افراد گرفتار

    بھارتی فضائیہ کے اڈے کے قریب سے دو افراد گرفتار

    بھارتی فضائیہ کے اڈے کے قریب سے دو افراد گرفتار

    بھارتی پولیس نے ضلع جموں میں بھارتی فضائیہ کے تکنیکی ہوائی اڈے کے مرکزی گیٹ کے قریب دو بھارتی شہریوں کو گرفتار کرلیا

    خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے دو افراد کوجن کی شناخت قوی راج چھیتری اور سبھاش درجی کے نام سے ہوئی ہے، ستواری کے علاقے میں بھارتی فضائیہ کے ٹیکنیکل ہوائی اڈے کے مرکزی گیٹ کے باہر مشکوک انداز میں گھومتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے،

    جموں کے ایس ایس پی چندن کوہلی نے بتایا کہ ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق مشتبہ شخص کو ایک ندی کے ذریعے جو آئی اے ایف کیمپ کی طرف جاتی ہے ہوائی اڈے کے علاقے کی طرف بھاگتے ہوئے پایا گیا۔ایس ایس پی کوہلی نے کہا کہ مشتبہ افراد کو ہوائی اڈے کے سیکورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا اور پوچھ گچھ کے لیے ستواری پولیس کے حوالے کر دیا پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ،دوسری جانب جموں میں بھارتی فضائی اڈے کے اطراف میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار دونوں افراد کل شام کو جموں پہنچے تھے اور اس کے بعد جموںوکشمیر ایئر پورٹ کے آس پاس کے علاقوں میں چھپے رہے اور دوسرے دن پھر تقریباً 5 بجے دونوں ٹینیکل ایئر پورٹ کے درمیان گھسنے کے لئے نکلے، ایک شخص نالے کے ذریعہ نکلا اور دوسرا دیوار چھلانگ کرکے اندر جانے لگا جس کے بعد دونوں کو پکڑ لیا گیا

    جموں ٹیکنیکل علاقہ سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اسی جگہ پربھارتی فضائیہ کا اسٹیشن ہیڈ کوارٹر ہے اور اس کے ساتھ ہی جموں کا اہل ایئر پورٹ بھی اسی احاطے میں آتا ہے۔ ایئر فورس کے ٹیکنیکل علاقے میں سخت ترین سیکورٹی رکھی جاتی ہے،۔ کسی بھی غیر مجاز شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی حادثے میں بچ جانیوالے گروپ کیپٹن کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنیکا فیصلہ، خط بھی وائرل

    ہیلی کاپٹر حادثہ، پائلٹ کا آخری پیغام کیا تھا؟ بھارتی فضائیہ نے روٹ کلیئر کیا تھا یا نہیں؟ سوال اٹھ گئے

    جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ، بھارتی فضائیہ کا تین روز بعد نیا بیان آ گیا

    ہیلی کاپٹر حادثہ،مزید چھ لاشوں کی ہوئی شناخت

    ہیلی کاپٹر حادثہ،زخمی ہونے والے کیپٹن ورون سنگھ کی بھی ہوئی موت

  • بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کشمیریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے

    بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کشمیریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے

    سری نگر:بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت کشمیریوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پربھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما میر شاہد سلیم اورسکھ رہنما نریندر سنگھ خالصہ نے کہا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی بھارتی حکومت کشمیریوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہوں نے یہ بات جموں کے علاقے روپ نگر میں اپنے گھروں کومنہدم کئے جانے کے خلاف دھرنے پر بیٹھے مسلمان قبائلی خاندانوں سے خطا ب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو سیاسی طور پر بے اختیار کرنے کے بعد ہر ہفتے بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے عوام کے سیاسی اور معاشی مفادات کے خلاف من مانی احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ قابض حکام جموں و کشمیر میں غریب قبائلی لوگوں کے گھروں کو تباہ کر رہے ہیں اور بھارت بھر سے غیر کشمیریوں کو مقبوضہ علاقے میں اپنے گھر بنانے کی دعوت دے رہے ہیں۔مقررین نے کہاکہ آج ہماری ملازمتیں، ہماری زمینیں اور ہمارے وسائل کو زبردستی چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے پشتنی باشندوں پر زوردیا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ان کے خلاف مشترکہ جدوجہدشروع کریں۔