Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر: قابض فوج نے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا:گجر اور بکروال خاندانوں کا احتجاجی دھرناجاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کی داستان رقم کرتے ہوئے مزید 5 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔

    مقبوضہ وادی میں ایک اور سیاہ دن،سرچ آپریشن کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔ بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ اور بڈگام میں مزید پانچ نوجوانوں کو شہید کردیا۔ کئی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔بھارتی فوج کے اقدام کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، مظاہرین بھارتی فوج اور مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ مودی حکومت کے 2019 میں لاک ڈاون کے اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی حکومت کی جنت نظیر وادی میں غیر انسانی سرگرمیوں کی متعدد بار مذمت کی گئی ہے۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں قابض حکام کے ہاتھوں بے گھرہونے والے گجر اور بکروال خاندان گزشتہ کئی ہفتوں سے جموں کے علاقے روپ نگر میں احتجاجی دھرنا دے رہے ہیں۔

     

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ مسلمان گجر اور بکروال خاندان انصاف اور رہنے کے لیے پناہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 70 سال سے علاقے میں رہ رہے ہیں لیکن قابض حکام نے ان کے مکانات مسمار کر دیے۔ بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کے وکیل ایڈووکیٹ شیخ شکیل احمدنے کہا کہ جموں کی ایک سیشن عدالت کی طرف سے سٹے آرڈر کے باوجود مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ شکیل نے کہاکہ انہیں صرف اس لیے گھروں سے محروم کردیا گیا ہے کہ وہ غریب لوگ ہیں اور کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو حکام ان کے گھر مسمار کرنے سے پہلے انہیں نوٹس دیتے۔اس کے علاوہ مارچ تک ایڈیشنل سیشن جج کا سٹے آرڈر بھی موجود ہے۔

    ایک سماجی کارکن ستویر سنگھ منہاس نے کہاکہ ہم ان کے لئے اور مویشیوں کے لیے پناہ گاہ کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے آئین کی طرف سے دیا گیا حق ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تجاوزات کرنے والے یا زمین پر قبضہ کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد حکام اور بی جے پی نے بار بار قبائلیوں کو مزید حقوق دینے کی بات کی ہے لیکن گزشتہ دو سال سے ان گجر اور بکروال خاندانوں کو علاقے بے دخل اور ان کے گھروں کو مسمار کیاجارہاہے۔

  • کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج

    کراچی: کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا احتجاج,علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ  کشمیر و یمن اور فلسطین محض علاقائی مسئلے نہیں مزاحمتی تحریکوں کو امریکہ اور حواریوں کے ایما پر دبانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی،اسلامی تعاون تنظیم میں موجود عرب ممالک نے مسلم امہ کو سخت مایوس کیا ہے،کشمیر، فلسطین، یمن سمیت دنیا بھر کے مسلمان عالم استکبار کے نرغے میں ہیں، دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم ممالک کی خاموشی لاتعداد سوالات پیدا کر رہی ہے-

    علامہ مبشر حسن نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل پر امت مسلمہ کو یک زبان ہونے کی ضرورت ہے خطے میں تناو کی یہ صورتحال عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کشمیر اور یمن میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام جامع مسجد نورایمان ناظم آباد کے باہر نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔احتجاجی مظاہرین سے علامہ باقر عباس زیدی،علامہ صادق جعفری علامہ علی انور،،علامہ مبشر حسن،علامہ ملک غلام عباس، میر تقی ظفر،صابر کربلائی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

    آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز لاہور کا دورہ

    مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر و یمن محض علاقائی مسئلے نہیں بلکہ یہ انسانیت، اخلاقیات، قانون اور آئین کے وہ تقاضے ہیں جنہیں سفاکی سے پامال کیا جارہا ہے۔کشمیر، یمن اور فلسطین کے مسلمانوں کی استقامت امت مسلمہ کے وقار اور نسلوں کی بقا کے لیے اصولی جدوجہد کا نام ہے۔عالم استکبار کے خلاف جاری مزاحمتی تحریکوں کو امریکہ اور اس کے حواریوں کے ایما پر دبانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

    مسلمانوں کو زوال کا شکار کرنے والے مستکبرین کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔مسلمانوں کی مزاحمتی تحریکیں مضبوط اور منظم ہیں۔انہوں نے کہ عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل پر امت مسلمہ کو یک زبان ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام گزستہ کئی سالوں سے بھارت کی سفاک فوج کے ہاتھوں ظلم و بربریت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ نوجوانوں کی پولیس تشدد سے شہادتوں، خواتین کی عصمت دری، کرفیو اور مختلف علاقوں کا مستقل محاصرہ جیسے واقعات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    بھارت کے ریاستی اداروں نے کشمیری عوام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو اپنا فرض منصبی سمجھا رکھا ہے۔پوری دنیا کے سامنے بھارت کا گھناونا چہرہ بے نقاب ہونے کے باوجود اقوام عالم کی طرف سے کسی بھی ردعمل کا مظاہرہ نہ کیا جانا اسلام دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو جب تک ان کا حق خودارادیت نہیں دیا جاتا تب تک کشمیر میں یہ آگ بھڑکی رہے گی۔خطے میں تناو کی یہ صورتحال عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔مسئلہ کشمیر محض دو ملکوں کے درمیان جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ اس سنگین صورتحال سے بدترین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ کشمیر میں سلگی ہوئی آگ پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ اور بہت سارے دامنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    ہمارے تین اسپتالوں کا بجٹ خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ سے زیادہ ہے،بلاول بھٹو

    انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بااثر حکمرانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائیں۔ ان نے کہا کہ پاکستانی قوم مشکل کی ہر گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم انہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔  یہود ونصاری کے پے رول پر موجود مسلم حکمران اور مذہبی تنظیمیں شدت پسندانہ نظریات ابھار کر دین اسلام کے حقیقی تشخص کو داغدار کرنے میں پیش پیش ہیں۔ایسی صورتحال میں ان عرب ممالک کو اپنا کردار اد کرنا چاہئیے تھا جن کی امت مسلمہ میں ساکھ قدرے بہتر ہے۔

    اس طرح دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے اسلام کی حقیقی شناخت کو بحال رکھنے کا فریضہ بھی ادا ہو جاتا لیکن عرب ممالک نے اپنا سارا زور یہود ونصاریٰ کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگایا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم ممالک کی خاموشی لاتعداد سوالات پیدا کر رہی ہے۔او آئی سی میں موجود عرب ممالک کو اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے اپنے اہداف کا ازسر نو تعین کرنا ہو گا۔

    ڈالر کی قدر میں معمولی کمی،سونے کے نرخ بھی کم

  • بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ:مسلمانوں کےقاتل مودی اورمودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:مشعال حسین ملک

    سری نگر:بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ ہے:مسلمانوں کے قاتل مودی اور مودی نوازوں کی مذمت کرتی ہوں:اطلاعات کے مطابق حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے یوم سیاہ کے موقع پرکہا کہ اپنے کشمیری ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور بھائیوں کوان کی قربانیوں اورناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں ۔

    اسلام آباد چیر پرسن پیس اینڈ کلچرآرگنائزیشن وحریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے 26جنوری کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 26جنوری 1950ء کا دن بھارتی یوم جمہوریہ نہیں بلکہ یوم سیاہ ہے ۔

    انکا کہنا تھا کہ آج کے دن 75 سال قبل بھارتی افواج بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگرپر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو محکوم بنانے کے لیے اتری تھیں۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ جس کے بعد آج تک بھارتی افواج مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہاکرچکی ہیں ،کئی ماؤں کی گودوں کو اُجاڑ دیا گیا،کئی نوجوان بھارتی افواج کے ظُلم سے شہادت پاچکے ،کئی نوجوان اور عورتیں بھارتی بیلٹ گنز کا شکار ہوکراپنی بینائی کھوچکے ہیں ۔

    مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5اگست2019ء کوبھارت نے ایک مقبوضہ وجموں کشمیر پر ایک اور ظُلم کیا اور وہ یہ کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل اور اس کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنےکی ایک بڑی سازش رچی اوراس صورتحال میں عالمی برادری خاموش تماشائی کا کرداراداکررہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح پاکستان نے بین الاقوامی قانون ، متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں کے ذریعے مسترد کیا۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج نے 80 لاکھ کشمیریوں کو حراست میں لے کر مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ بھارت کے غیر انسانی فوجی محاصرے، مسلسل ناکہ بندی، مسلسل تشدد اور وحشیانہ جبر اور مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں نے ’ہندوتوا‘ سے چلنے والی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت اور اس کے انتہا پسندانہ عزائم کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے ۔

    مشعال حسین ملک نے بتایا کہ بھارتی مظالم کی ہولناک نوعیت اور پیمانے کے باوجود، اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کا سامنا کرنے کے باوجود،مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام نے ہمیشہ کی طرح غیر معمولی جرات، طاقت اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت وحشیانہ طاقت کے استعمال سے ان کی مرضی نہیں توڑ سکتا ۔

    حریت راہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ نے مزید کہا کہ میں اپنے کشمیری ماؤں ،بہنوں ،بزرگوں اور بھائیوں کو یوم سیاہ کے موقع پر ان کی قربانیوں اور ان کے ناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتی ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اوریہ عہد کرتی ہوں کہ جب تک کشمیری بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج جائز حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتی انشا اللہ اپنی جدوجدجاری رکھوں گی ۔

    یاد رہے کہ بھارت کا یوم جمہوریہ آج مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔حریت کانفرنس کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال ہوگی، بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے: منیر اکرم

    نیویارک :بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہےاور مودی اس کا روح رواں‌ ہے:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی سے متاثر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے 1989سے اب تک اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموںو کشمیر میں96ہزارسے زائد کشمیریوں کو شہید کیاجبکہ اس دوران مقبوضہ علاقے میں تقریبا 23ہزارخواتین کو بیوہ، 11ہزار سے زائد خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور ایک لاکھ مکانات اور اسکولوں سمیت دیگر عمارتوں کو تباہ کیاگیا۔

    منیراکرم نے کہاکہ 5اگست 2019کے بعد سے 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہیںجبکہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے لیے جعلی مقابلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، کشمیریوں کی املاک کو تباہ اورنظر آتش کر کے انہیںاجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے مہلک پیلٹ گن کا استعمال کر کے سیکڑوں کشمیری بچوں کونابینا کردیا ہے جبکہ 13ہزار کشمیری نوجوانوں کو زبردستی حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کا عمل جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ سال ایک جامع اور تحقیق شدہ ڈوزئیر جاری کیاتھا جس میں 1989سے بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کے تین ہزار 432واقعات کے آڈیو اور ویڈیو شواہد شامل کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مصدقہ ثبوتوں کا نوٹس لے اور جنگی جرائم و بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارتی اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے۔

    پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت دہشت گردی کا شکار نہیں ہے بلکہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے جبکہ پاکستان نے 2014سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروپوں سے پاک کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج بھارت اور افغانستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملے ہیں، ان دہشت گرد حملوں کی مالی معاونت، سرپرستی اور حمایت کی جاتی ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے مزید بتایا کہ 2020میں پاکستانی فوجی اور شہری اہداف کے خلاف ایک ہزار سے زائد سرحد پار دہشت گرد حملے کیے گئے، بھارت نے 29 جون 2020کو کراچی اسٹاک ایکسچینج سمیت پاکستانی فوجی اور شہری اہداف پر حملوں میں معاونت کی، بھارت نے سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشت گرد اداروں کی مالی اعانت اور حمایت کی، 23جون 2021کو لاہور اور 14جولائی 2021کو داسو میں چینی اور پاکستانی انجینئروں کا قتل کیا۔

    منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی توجہ فروری 2020میں نئی دلی میں مسلم مخالف قتل عام کی طرف بھی مبذول کرائی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میںروزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، گزشتہ سال بھارت میں عیسائی گرجا گھروں پر 400حملے کیے گئے۔پاکستانی مندوب نے کہاکہ دو ہفتے قبل انتہا پسند ہندوتوا کی طرف سے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کیا گیا، سلامتی کونسل کو جینوسائیڈ واچ کے سربراہ کی بات ماننی چاہیے کہ ہندوستان میں نسل کشیُ ہو سکتی ہے۔

  • بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری

    سری نگر :بھارت کا یوم جمہوریہ کشمیری قوم یوم سیاہ کے طورپرمنارہی ہے:مودی فسطائیت کی مذمت جاری،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں تاکہ عالمی برادری کویاد دلایا جاسکے کہ بھار ت کی طرف سے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار ایک جمہوری ملک ہونے کے اس کے دعویٰ کی نفی کرتا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ، میرواعظ عمر فاروق، شبیراحمد شاہ اورجموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے اور دیگر حریت رہنماؤں نے اس کی حمایت کی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں آج کشمیری سول کرفیو نافذ کر رہے ہیں جبکہ قابض انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔کشمیری اوران کے ہمدرد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی طرف مبذو ل کرانے کیلئے عالمی دارلحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اورریلیاں نکال رہے ہیں۔

    ادھر بھارتی قابض انتظامیہ نے پوری وادی کشمیر اور جموں خطے کے متعدد علاقوں کو نام نہاد سیکورٹی کے نام پر کرفیو جیسی پابندیاں لگا کر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیاہے۔ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکارلوگوں کو چیک پوسٹوں پر رکنے پر مجبور کررہے ہیں اور ان کی سخت تلاشی لے رہے ہیں۔ 26 جنوری کی تقریبات کے مرکزی مقامات بالخصوص کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار سرینگر اور مولانا آزاد اسٹیڈیم جموں کے ارد گرد بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    دونوں اسٹیڈیموں کی طرف جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے ۔بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کئے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی نگرانی کیلئے سراغرسا ں کتے اور ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمرے استعمال کئے جارہے ہیں۔نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں نئے بنکرز اور رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔فورسز اہلکار اچانک گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

  • پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    پاکستان میں‌ اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا

    سری نگر:پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے خواہاں وزیراعظم مودی نے باپ بیٹے کوجیل میں ڈال دیا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں وزیراعظم مودی ، مودی حکومت ، مودی نواز شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز،کمنٹس اور خیالات کے خلاف بھارتی سائبر کرائم نے سخت کارروائی شروع کردی ہے

    اس‌حوالے سے تازہ واقعہ میں‌مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پربھارتی وزیراعظم مودی کے مظالم کے خلاف وائرل ویڈیو میں باپ بیٹے کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا ہے ،

    سری نگر سے ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے سوشل میڈیاپر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پوسٹ کرنے پر ضلع راجوری میں با پ اوربیٹے کو گرفتار کرلیا ہے ۔

    ضلع راجوری کے علاقے دہریاں سے تعلق رکھنے والے شوکت حسین اوراس کے والد سلام دین کو فیس بک پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک توہین آمیز ٹک ٹاک اپ لوڈ کرنے پر بی جے پی کے کارکنوں کی شکایت پر گرفتار کیاگیا ۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر بھی جے پی کے حمایتوں نے پولیس کے پاس مقدمہ درج کرایا جس پر ضلع کے علاقے چنگس سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے کوگرفتار کیا گیا۔ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کے خلاف توہین آمیز اور قابل اعتراض الفاظ موجود تھے ۔

    دوسری طرف کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت اور بھارتی وزیراعظم پاکستان ،کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کےخلاف جو پراپیگنڈہ کررہا ہے اور کچھ ماہ قبل جو پراپیگنڈہ افشاں ہوا ہے اس کے بعد دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیں تھیں ،

    بھارت کے زیرقبضٰہ وادی کشمیر سے مودی کی فسطائیت سے تنگ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ مودی اور مودی نواز جو کہ ایک طرف پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں اور پاکستان کی حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ناسمجھ لوگوں کو اکسا رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے اندر اور بھارت کے زیرقبضہ وادی کشمیر میں کسی کو اپنےجزبات بھی زبان پرلانے کی اجازت نہیں جو کوئی بھارتی فوج کے مظالم کی تکلیف پر آہ کرتا ہے تواسے جیل ڈال دیا جاتا ہے کہاں ہیں پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی پرواویلہ کرنے والے

  • پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    نئی دہلی :پاکستان اور سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے بعض اہم ذرائع کے حوالےسے آنے والی خبروں نے پریشان کررکھا ہے کہ بھارت بہت غلط اور منفی منصبوں پر عمل پیرا ہے ، خبروں میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایماء پر پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بھارت کے اندر ہونے والی اس پاکستان مخالف موومنٹ کے متعلق کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کل 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نام نہاد سیکورٹی الرٹ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    دلی پولیس کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ یوم جمہوری کی پریڈ کے انتظامات کے پیش نظر تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

  • پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    پاکستان کا اقوام متحدہ پر مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے زور

    جنیوا:پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں تیزی لائے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرے تاکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکا جا سکے اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو روکا جا سکے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی تنظیم کے کام سے متعلق رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اقوام متحدہ کو امن و سلامتی کاموں کا مرکز رہنا چاہیے۔ پاکستانی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا ہم سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کو فروغ دینے اور کشمیری عوام کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا خاطر خواہ اختیار استعمال کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کچھ نہیں کر رہی تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے چارٹر کی طرف سے فراہم کردہ اختیار کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی میں کارروائی کر کے امن اور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

    منیر اکرم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بنیادی خطرہ جموں و کشمیر کے تنازعہ سے لاحق ہے اور بھارت کی طرف سے مسلم اکثریتی مقبوضہ جموںوکشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

    منیر اکرم نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارت کی طرف سے کئے گئے وسیع غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی اور کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کے جلد اور پرامن حل کیلئے کوششوں کا آغاز کریں۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کیلئے بھارت سے اب تک کوئی جوابدہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کے کالے قوانین ان نو لاکھ فورسز اہلکاروں کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتے ہیں جنہیں بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تعینات کرکھا ہے۔۔ سفیر منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر پریس کلب پر حالیہ حملہ اور اسکی بندش مقبوضہ علاقے میں مجرمانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارتی وحشیانہ جبر کی ایک اور مثال ہے ۔

  • پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد :ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقائی و عالمی پارٹنرز کیساتھ مشاورت سے حل کیا جائیگا۔سی پیک میں سماجی و اقتصادی منصوبوں پر بھر پور توجہ دیا جا رہا ہے۔پاکستان ،حق خودارادیت کے حصول تک مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کی سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ ابو ظہبی میں حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملے میں جاں بحق پاکستانی کی میت کو گزشتہ روز پاکستان منتقل کر دیا گیا باچا خان انٹر نیشنل ائر پورٹ پر او پی ایف حکام نے میت وصول کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے جاں بحق ہاکستانی کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔

    حوثی باغیوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کیلئے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کریگا۔سی پیک کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ نومبر 2018 میں وزیر اعظم کے پہلے دورہ چین سے سی پیک میں سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے،جس سے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ27 منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔سی پیک منصوبوں میں ٹیکنالوجی،زراعت،سائنس اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے،اس کے علاوہ بڑے انفرا سٹرکچر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جبکہ جی سی سی نے نئے میگا انفراسٹرکچر منصوبوںکی بھی توثیق کی ہے،ان میں آزاد پتن اور کوہالہ ہائیڈرو پاور کے منصوبے شامل ہیں۔ان منصوبوں سے پاکستان کی فوڈ سیکورٹی اور توانائی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

    ترجمان نے 21جنوری 1990گائوکدل سری نگر میں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی برسی کے موقع پر کہا کہ آج سے تین دہائی قبل بھارتی قابض فورسز نے بھارتی تسلط سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے پر امن احتجاج کرنے والے 52 بے گناہ کشمیریوں کو گائو کدل سری نگر میں وحشیانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔پاکستان بھارت کے اس وحشیانہ عمل کیخلاف کشمیری عوام کیساتھ اظہار یکجہتی اور واقعہ کےذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔یہ بات انتہائی قابل مذمت ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہو سکا۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بتدریج توجہ دے رہی ہے۔ترجمان نے عالمی برادری،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیلئے بھارت کا احتساب کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم اور دہشت کشمیری عوام کے حوصلوں کو کبھی بھی دبا نہیں سکتا۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کو حق خودارادیت کے حصول تک تمام سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،تاہم یہ ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مذاکرات کیلئےسازگار ماحول پیدا کرے۔پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد سے تعلقات مزید بگڑ گئے،انہوں نے کہا کہ بھارت غیر قانونی اقدامات سے مقبوضہ وادی کی آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرا رہاہے، جس کے نتیجے میں عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا نوٹس لیا۔تاہم ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے معصوم لوگوں کے خلاف مظالم کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی طلباءکی چین واپسی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ وزیر خارجہ ،سیکرٹری خارجہ نے اپنے چینی ہم منصبوں کیساتھ اٹھایا ہے جبکہ پاکستانی حکام بھی اس معاملے کو متعلقہ چینی حلقوں کے ساتھ اٹھا رہے ہیں تاکہ پاکستانی طلباء اپنی تعلیم کے حصول کے لیے واپس چین جا سکیں۔

  • بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک

    بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک

    اسلام آباد:بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک نے ایک بارپھردنیا کو بھارتی فوج کے مظآلم سے آگاہ کردیا،اطلاعات کے مطابق پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی 9 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ سٹاک وائٹ کے سامنے اہل خانہ اور جیل میں بند شوہر کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کو تیار ہیں۔

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے جمعہ کو جنگی جرائم پر ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئ انہوں نے لندن میں قائم قانونی فرم سٹوک وائٹ کی برطانوی پولیس کے سامنے ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے اور امور داخلہ کی گرفتاری کے لیے قانونی اپیل جمع کرانے کی تعریف کی۔

     

    تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتہائی مطلوب مجرم وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی فہرست میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ تمام مجرمانہ اور غیر انسانی کارروائیاں ان کی سرپرستی میں بھارتی حکام کر رہے ہیں۔

    حریت رہنما نے کہا کہ وہ اور ان کی بیٹی فرم کے سامنے اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یاسین ملک بھارتی بدنام زمانہ تہاڑ میں پڑے ہیں، جہاں وہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ شدید بیمار ہونے کے باوجود دوائیوں سے محروم ہیں،

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لندن میں قائم قانونی فرم سٹوک وائٹ نے برطانیہ کی پولیس کو 2000 شہادتوں سمیت شواہد جمع کرائے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں ہندوستانی فوجی کارکنوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے۔

    سٹاک وائٹ میں بین الاقوامی قانون کے ڈائریکٹر ہاکان کاموز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ رپورٹ برطانوی پولیس کو تحقیقات شروع کرنے اور بالآخر ان اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر راضی کرے گی جب وہ برطانیہ میں قدم رکھیں گے۔

    جیل میں بند کشمیری رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعل نے کہا کہ کشمیر 900 دنوں سے بھارتی فوجی محاصرے میں ہے کیونکہ یہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل اور ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکا ہے لیکن عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فرم نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ تقریباً تین دہائیاں گزر چکی ہیں اور مقبوضہ وادی میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافے کے باوجود IIOJK میں ہندوستانی فوج کے ایک بھی رکن کے خلاف غیر قانونی طرز عمل کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

    چیئرپرسن نے کہا کہ رپورٹ نے ہندوتوا حکومت کے بدصورت اور فاشسٹ چہرے کو مزید بے نقاب کیا ہے، جیسا کہ گزشتہ سال تشدد کے 450 واقعات؛ پیلٹ گن سے متاثرین کے 1,500 واقعات؛ 100 جبری گمشدگی اور جنسی تشدد کے 30 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    اس رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے 10 شہادتیں، تشدد سے متعلق 4 شہادتیں، پیلٹ گن کے تشدد سے متعلق 3 شہادتیں، جبری گمشدگی کے حوالے سے ایک گواہی اور خواتین کے خلاف زیادتی اور جنسی تشدد کے 2 واقعات درج کیے گئے ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ رپورٹ نے ایک بار پھر دستاویزی ثبوت کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہندوستانی حکام کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم کی منظم نوعیت کو بے نقاب کیا ہے، اس کے علاوہ سیکورٹی پالیسیوں کے وسیع تناظر میں دہلی اور تل ابیب کے درمیان ملی بھگت کے نئے شواہد کو بے نقاب کیا ہے۔

    چیئرپرسن نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کی حکومت کو نہ صرف درخواست پر تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے بلکہ دنیا میں کہیں بھی قانونی شکلوں میں نریندر مودی کی گرفتاری کے لیے "عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت اپنی متعلقہ حکومتوں کو ایسی اپیلیں دائر کرنی چاہئیں کیونکہ یہ واحد علاج ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گاؤ کدل قتل عام کے متاثرین کو دیکھوجہاں انصاف 32 سال گزرنے کے باوجود متاثرین کو نہیں مل رہا کیونکہ سفاک فوج کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے جب سے مودی نے کشمیریوں کے قتل عام کو قانونی حیثیت دی ہے اور عالمی برادری کی بے حسی دنیا کی بدترین انسانی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بالادست مودی کی حکومت نے کشمیری عوام کے سماجی، مذہبی، سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کشمیر جل رہا ہے اور کشمیر میں خون بہہ رہا ہے لیکن ان کا مالی مفاد انہیں بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے روکتا ہے۔

    حریت رہنما نے کہا کہ دنیا کو اب بھارت کے جرائم اور استثنیٰ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اور دوغلے پن سے باز آنا چاہیے اور تلخ حقیقت کو قبول کرتے ہوئے لندن کی فرم کی طرح جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ تنازعہ کشمیر کا حلکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔