Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔

  • بھارتی فوجیوں نے 2021 میں 210 کشمیریوں کو شہید کیا:مگرعالمی ضمیرپھربھی نہ جاگ سکا

    بھارتی فوجیوں نے 2021 میں 210 کشمیریوں کو شہید کیا:مگرعالمی ضمیرپھربھی نہ جاگ سکا

    سرینگر:بھارتی فوجیوں نے 2021 میں 210 کشمیریوں کو شہید کیا:مگرعالمی ضمیرپھربھی نہ جاگ سکا ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں سال 2021 کے دوران پانچ خواتین اور پانچ کم عمر لڑکوں سمیت 210 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ان میں سے 65 افراد کو فرضی مقابلوں اور زیرحراست شہید کیا گیا۔ کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے ہر دل عزیز رہنما سید علی گیلانی بھی مسلسل نظر بندی کے دوران انتقال کر گئے۔ حکام نے بزرگ رہنما کے اہلخانہ کو ہراساں کیا اور لوگوں کو ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    تحریک حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی بھی بھارتی پولیس کی حراست میں انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں کے ہاتھوں ان شہادتوں کے نتیجے میں 16 خواتین بیوہ اور 44 بچے یتیم ہوئے جبکہ گزشہ برس باوردی بھارتی اہلکاروں نے 13 خواتین کو بدسلوکی یا بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے 67 رہائشی مکانوں اور دیگر عمارات کو تباہ کیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 487 افراد زخمی ہوئے جب کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گھروں پر چھاپوں اور کریک ڈاو¿ن آپریشنز کے دوران حریت کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظ خرم پرویز، طلباءاور نوجوان لڑکوں سمیت 2ہزار 7سو 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے کئی افراد کو کالے قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام سے متعلق قانون یو اے پی اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔بھارتی حکام نے مقبوضہ علاقے میں محرم کے جلوسوں اور عید میلاد النبی ؑﷺ کے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کے علاوہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں 45 ہفتوں تک لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزاحمتی رہنما کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام اور فاروق احمد ڈار بدستور فرضی مقدمات میں دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، محمد رفیق گنائی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، مجاہد صحرائی، راشد صحرائی ، ظہور احمد بٹ، شوکت حکیم، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، حیات احمد بٹ، فیروز احمد ڈار، محمد اسلم وانی، شاہد یوسف، شکیل یوسف، فیروز احمد، غلام محمد بٹ، خورشید احمد بٹ، جنید احمد لون، تاجر، ظہور وٹالی، صحافی آصف سلطان اور پی ایچ ڈی کے طالب علم الطاف احمد خان سمیت حریت رہنماﺅں، کارکنوں اور نوجوانوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیری کالے قوانین پبلک سیفٹی اور یو اے پی اے کے تحت مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف دسمبر 2021 کے مہینے میں بھارتی فوجیوں نے 31 کشمیریوں کو شہید کیا۔ ان شہادتوں سے ایک خاتون بیوہ اور دو بچے یتیم ہو گئے۔ پرامن مظاہرین کے خلاف فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے جبکہ نوجوانوں سمیت 94 شہریوں کو ایک ماہ میں گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں نے اس عرصے کے دوران 11 رہائشی مکانات کو تباہ کیا۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے5اگست2019کو مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اب تک بھارتی فورسز اہلکاروں نے 5سو15کشمیریوںکو شہید کیا ہے۔کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 33برس کے دوران 95ہزار9سو48کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے

    مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہیں:عالمی برادری ہوش کے ناخن لے،اطلاعات ہیں کہ بھارت کے غیر قانونی طور پرزیرقبضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کی یکے بعد دیگر متعارف کرائی جانیوالی ہندوتواپالیسیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں نیا ڈومیسائل قانون ، قابض بھارتی فوجیوں کو مزید اراضی کی منتقلی،نئی حلقہ بندیاںاور ہندوتوا کے حمایت یافتہ بھارتی تاجروں کو مقبوضہ علاقے میں زمینیں الاٹ کرنے کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی آئین کی دفعہ370جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی ،کی منسوخی کا اصل مقصد غیر کشمیری ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیرمیں آباد کرناتھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام کوجموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے بھارتی منصوبوں کی ہر ممکن مزاحمت کرنی چاہیے کیونکہ بھارت کہ یہ مذموم عزائم کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی واضح خلاف ورزی ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھی کشمیری عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرکی مسلم اکثریتی شناخت پر مودی کے حملے کے خلاف اپنازبردست احتجاج ریکارڈکرایں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں نئی حلقہ بندیوں کا مقصد ہندو اکثریتی جموں خطے کو زیادہ نشستیں دینا ہے تاکہ جموںو کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لایا جا سکے۔ مقبوضہ علاقے کیلئے نئے ڈومیسائل قانون سے اسرائیل کے نوآبادیاتی منصوبے کی عکاس ہوتی ہے اور مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی کاروباری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دینے کا مقصد کشمیریوں سے انکی زمینیں اور شناخت چھیننا ہے۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیاکہ کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین پر ملازمتوں اور دیگر مواقع سے محروم رکھا جارہا ہے کیونکہ مودی حکومت ہندو بالادستی کے نظریے عمل پیرا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام بی جے پی اورآر ایس ایس کو کبھی بھی اپنی شناخت چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زوردیاگیا ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب بگاڑنے کے اپنے مذموم منصوبے سے روکے ۔

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    سرینگر: چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے گزشتہ ایک برس سے سرینگرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر قابض حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ حکام کی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کل جامع مسجد کی طرف مارچ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ جنہوں نے ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں کی مزاحمت کی ہے جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کی زمین اور قدرتی وسائل کو غیر مقامی لوگوں کو فروخت کر کے علاقے کی آبادی پر حالیہ حملے کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب اور آئمہ خضرات مساجد میں خطاب کے دوران لوگوں کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ نے پیر کو بھارت کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ علاقے میں ہاو¿سنگ اور تجارتی منصوبوں کی ترقی کے نام پر 18ہزار 3سو کروڑ روپے کے 39 مفا ہمت کی یاداشتوں پردستخط کیے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ نوآبادیاتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی زمین پر قبضہ بھارتی شہریوں کو علاقے میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکیں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید

    مقبوضہ کشمیر میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری ،3 کشمیری نوجوانوں کوشہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا کے مطابق قابض بھارتی فورسزنے 3نوجوانوں کوکلگام اوراننت ناگ کے علاقوں میں جعلی مقابلے میں شہید کیا بھارتی فوجیوں نے گھرگھرتلاشی کے دوران متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا اورلوگوں کوہراساں کیا اوردھمکیاں دیں۔

    بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    رپورٹ کے مطابق کلگام اوراننت ناگ کا محاصرہ جاری ہے لوگ گھروں میں محصورہیں دکانیں، کاروباری مراکزاورتعلیمی ادارے بھی بند ہیں بھارت کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے دونوں علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی بند کررکھی ہے۔

    قابض بھارتی فورسزنے جعلی مقابلے میں 3 سیکورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ سے قید

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز2 روز میں6 کشمیریوں کوشہید کرچکی ہیں قبل ازیں قابض فوج نے گزشتہ روز پلوامہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے 2 نوجوانوں کو شہید کیا تھا –

    قابض بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کردیا

    اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے گھر گھر تلاشی لی اورنہتے اور بے قصور نوجوانوں کو بلاوجہ گرفتار کیا گیا تھا متعدد افراد کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا تھا -بھارتی جارحیت کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا اور بھارتی فوج کی دہشتگردی کے خلاف نعرے لگائے تھے

    مقبوضہ کشمیر میں بھی بوسنیا کی طرح قتل عام کا خدشہ ہے،وزیراعظم

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

  • گلگت بلتستان زلزلے سے لرز اٹھا

    گلگت بلتستان زلزلے سے لرز اٹھا

    گلگت بلتستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے گلگت ، سکردو ، جگلوٹ اور استور میں محسوس کیے گئے ہی اس کے علاوہ دیامر، ضلع غذر اور گردو نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا زلزلے کے باعث لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز استور سے 26 کلومیٹر دو جنوب میں تھا۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت پانچ اعشاریہ تین ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کی گہرائی 45 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    زلزلے کے جھٹکے نہ صرف گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں محسوس کیے گئے بلکہ آزاد کشمیر میں بھی محسوس کیے گئے۔ آزاد کشمیر کے علاقوں آٹھ مقام، وادی نیلم اور شادرا سمیت دیگر علاقوں میں زلزلہ آیا ہے گلگت بلتستان میں پہلے زلزلے کے بعد اس کے آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے:کشمیری قیادت بول اٹھی ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں حلقہ بندیوں کی مشق بھارتی ریاستی دہشت گردی کی نئی شکل ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسلامک پولیٹیکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کی مشق، نصاب تعلیم میں تبدیلی، نئے ڈومیسائل قوانین، سرکاری عمارتوں کو ہندوئوں کے ناموں سے منسوب کرنے اوراس طرح کے دیگر اقدامات کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی قانونی اور ثقافتی دہشت گردی قراردیا۔انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور اسے ہندو اکثریتی علاقہ قرار دینا ہے۔

    انہوں نے بھارتی اقدامات پر تشویش ظاہر کرتے کہاکہ ان سے مستقبل میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے ۔یوسف نقاش نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری بھارت سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کی سنگینی کاادراک کرتے ہوئے بھارتی دہشت گردی بند کرانے اور جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔

    انہوں نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اورمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    ادھر تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حلقہ بندیوں کے مسودے کو وادی کشمیر اور جموں خطے کے عوام کو فرقہ وارانہ اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا ایک مذموم منصوبہ قراردیا۔

    انہوں نے کہاکہ اس مسودے سے بھارتی حکمرانوں کے مذموم عزائم اورکشمیری عوام کے بارے میں پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے کا مقصد جموں اور وادی کشمیر کے عوام کے درمیان خلاف پیدا کرنا ہے۔ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کی وجہ سے جموں وکشمیر کے عوام کے درمیان مثالی بھائی چارے کی فضا ء کو خراب کرنے اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے درپے تاکہ وہ آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ اور فسطائی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے ۔

  • مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ  تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ تعلقات ،کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ کرپشن ملک کو تباہ کر دیتی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک اپنے وسائل کی وجہ سے غریب نہیں ہیں،کوئی بھی ملک غریب اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی لیڈرشپ کرپٹ ہوتی ہے، اکثر لوگ پیسہ کمانے کے لیے سیاست کا رخ کرتے ہیں،جو بھی حضرت محمد ﷺکی تعلیمات کی پیروی کریگا وہ کامیاب ہو گا،ہم ملک کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں ،پاکستان کی بدحالی کے ذمہ دار بھٹو اور شریف خاندان ہیں ہمارا مقابلہ دو ایسے خاندانوں سے ہے جو دولت سے مالا مال ہیں،چینی اسکینڈل پر حکومت حرکت میں آئی ،وزیروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات آئے تو شفاف تحقیقات کروں گا،مغرب میں قیام کی وجہ سے مغربی سیاست سے کافی واقفیت ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کھیل ہمیں ہار جیت اور حالات کا سامنے کرنے کا فن سکھاتا ہے،جیت سے زیاد ہ ہار ہمیں غلطیوں سے متعلق سیکھاتی ہے،میرے پاس سب کچھ تھا مشن کے طور پر سیاست میں آیا، نائن الیون میں کوئی افغان شہری ملوث نہیں تھا،افغانستان کے معاملے میں پاکستان مشکل صورت حال سے دوچار ہےافغانستان میں بحران کی صورت میں شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے،بھارت میں انتہا پسندوں اور جنونیوں کی حکومت ہے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیں گے،بھارت اگر حملہ کرے گا تو پاکستان پوری قوت سے جواب دے گا ،ہم کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اجاگر کریں گے بھارت اگر حملے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان فروری 2019 جیسا جواب دے گا،بھارت میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت ہے مسئلہ کشمیر اسلامی تعاون تنظیم میں اٹھایا اور اسلامی ممالک سے بات کی،مسلم ممالک کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں، ان سے کچھ زیادہ توقع نہیں کرسکتے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک اس لیے غریب ہیں ان کےحکمران ،اشرافیہ اور وزرائے اعظم پیسہ لوٹتے ہیں، ہمارے ملک میں لوگ رسولؐ سے بہت زیادہ محبت اور لگاؤ رکھتے ہیں، چاہتا ہوں نبیؐ نوجوان نسل کے رول ماڈل ہوں،نبیؐ کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی،میں سویت یونین افغانستان سے گیا تو بحران کی صورتحال پیدا ہوئی، ہم نے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو جگہ دی، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں افغانستان میں صورتحال خراب ہوئی تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا، افغانستان میں جو کچھ ہوا اس کے بعد امریکا صدمے میں ہے،افغان حکومت کے مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈالنے پر امریکا شدید غم وغصہ میں ہے،

    ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

    امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    مقبوضہ کشمیر، ریاض نائیکو کے ہمراہ حریت رہنما کے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے کیا شہید

  • بھارتی فوج تباہی کےدہانے پرپہنچ گئی:کہیں جرنیل جنرلوں کومارنےلگےتوکہیں افسران خودکشیوں پرمجبور

    بھارتی فوج تباہی کےدہانے پرپہنچ گئی:کہیں جرنیل جنرلوں کومارنےلگےتوکہیں افسران خودکشیوں پرمجبور

    نئی دہلی :بھارتی فوج تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزررہی ہے ، اب تو صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ کہیں جرنیل جنرلوں کومارنے لگےتوکہیں افسراناطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں اس وقت بغاوت کی کیفیت ہے اور اطلاعات ہیں کہ بڑے بڑے جنرلزاپنے مخالفین جنرلز کو مروانے کےلیے کہیں ہیلی کاپٹر جیسے حادثات کرواتےہیں تو کہیں اپنے ہی ماتحت جوانوں سے فائرنگ کروا کر کام تمام کروا دیتے ہیں

    ویسے تو بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کوانتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے مگرچند دن پہلے جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کوفضا میں راکٹ یا میزائل سے داغے جانے کے بعد یہ تنازعہ اب کھل کر سامنے آگیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی فوج کے انٹرنل سیکورٹی اداروں نے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے والے فوجی افسران کو گرفتار کرلیا ہے اوران کی گرفتاری کو پوشیدہ رکھا جارہا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سازش میں بھارتی فضائیہ کے ایک اسکوارڈ ن لیڈر،بری فوج کے ایک جنرل اور ایک برگیڈربھی اس وقت فوج کے انٹرنل سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں ، جن کے بارے میں بھارتی فوجی حکام معاملے کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں‌

    تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں بھارتی فوج کا ایک جونیئر کمیشنڈ افسر ساتھی فوجی کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کے علاقے بالاکوٹ میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوج کے سپاہی لکشمی نارائن کی صوبیدار جسبیر سنگھ سے تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد سپاہی نے اسے گولی مار کر قتل کردیا۔ایک فوجی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صوبیدار جسبیر سنگھ کو زخمی حالت میں فوجی ہسپتال منتقل کیاگیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔فوری طورپر جھگڑے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے ۔

    دوسری طرف بھارتی فوج میں اعلیٰ‌افسران کے رویے کی وجہ سے پہلے جوان اور جونیئر افسران خودکشیاں کرتے تھے مگراب تو خود بڑے بڑے افسران کی طرف سے خود کشی کے واقعات سامنے آرہے ہیں‌،

    یہ بھی یاد رہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ چند دن قبل پیش جب غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک میجر نے ضلع رامبن میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز کے میجر پرویندر سنگھ نے ضلع کے علاقے مہوبل میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔کھاری پولیس پوسٹ کے انچارج کے مطابق مہوبل میں 23 راشٹریہ رائفلز کی الفا کمپنی کے کمانڈر میجر پرویندر سنگھ نے اپنے رہائشی کوارٹرپر اپنی سروس رائفل اے کے 47 سے خود کو گولی مارکر خود کشی کرلی۔

    اس واقعے سے جنوری 2007 سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر524 ہو گئی ہے۔ خودکشیوں پر مجبور

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔