Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • سڑک حادثے میں پانچ افراد ہلاک

    جموں:مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع رام بن میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ایک حادثے میں دو خواتین سمیت پانچ مسافر موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق کے قومی شاہراہ ایک نجی کار Swift dzire شام قریب ساڑھے سات بجے جموں سے سرینگر کی طرف جارہی تھی کہ پیٹھال کے مقام پر دوسری گاڑی سے اوور ٹیک کرتے ہی سڑک سے پھسل کر گہرے نالے میں جاگری۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    جس کے نتیجہ میں دو خواتین سمیت پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق حادثے کی خبر ملتے ہی پولیس اور مقامی رضاکاروں نے بچاو مہم شروع کر کے لاشوں کو ضلع ہسپتال رامبن منتقل کیا۔رامبن پولیس نے معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم…

    حادثے میں مرنے والوں کی شناخت وکرم سنگھ (29) ولد دھرم سنگھ ساکنہ کٹھوعہ، سنسار سنگھ (33) ولد اوتم سنگھ ساکنہ ہرہ نگر کٹھوعہ،سنیل کمار (29) ولد وجے کمار ساکنہ سامبہ، اوتار سنگھ (25)ولد رام سنگھ ساکنہ جموں کے طور ہوئی جبکہ ایک لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

  • کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین سے اضافی رقم لی جانے لگی

    سری نگر:کشمیریوں سے جبری وصولیاں‌،لینڈ لائن کے صارفین کسے اضافی رقم لی جانے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل)کے صارفین نے الزام لگایا ہے کہ ‘انہیں لینڈ لائن کنکشن نصب کرانے کے لیے نہ صرف بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے بلکہ ہفتوں تک انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    یہ بات بھی قابل غور ہےکہ وادی میں پانچ اگست کو مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد ہونے کے قریب ایک ماہ بعد لینڈ لائن سروس کو بحال کیا گیا تھا جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بی ایس این ایل کے دفاتر میں لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے درخواستیں جمع کی تھیں۔ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق بی ایس این ایل کے صارفین کے ایک گروپ نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کے لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔

    ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے تمام واجبات ادا کئے ہیں ۔ لائن مین، لینڈ لائن نصب کرنے کے لیے ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک کا مطالبہ کرتے ہیں اور رقم ادا کرنے کے بعد بھی دو دن کا کام پندرہ دن گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہیں ہوپا رہا ہے۔’

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ایک صارف غلام نبی نے کہا کہ ‘بی ایس این ایل کا فیلڈ عملہ لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے میں کوئی پس وپیش نہیں کررہا ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو لوگ لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے بے تاب ہوگئے جس کا فیلڈ عملے نے بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، وہ لوگوں سے کنکشن کے لیے منہ مانگی رقم وصول کررہے ہیں’۔

    ایک صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں ہورہے۔ اضافے کو دیکھ کر متعلقہ دفاتر کے باہر ‘ایجنٹ’ بھی نمودار ہوئے۔’انہوں نے کہا کہ ‘جوں ہی لینڈ لائن نصب کرانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ میں اضافہ ہونے لگا تو متعلقہ دفاتر کے باہر ایجنٹ نمودار ہوئے جو فارم جمع کرنے میں ایک ہزار سے پندرہ سو روپے وصول کرتے ہیں جبکہ خود فارم جمع کرنے کے صرف پانچ سو روپے لگتے ہیں’

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    صارف غلام رسول شاہ نے کہا کہ ‘یہ ایجنٹ بی ایس این ایل کے سم کارڑ بھی مقررہ ریٹ سے کافی مہنگے داموں فروخت پر کرتے ہیں۔’ ‘کئی کیسز میں ایسا بھی ہوا کہ حکام نے لینڈ لائن نصب کرانے کے احکامات جاری کیے لیکن موقع پر حالات اس کے برعکس تھے۔۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    بی ایس این ایل کے جنرل مینیجر نذیر احمد نے ساؤتھ ایشین وائرسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ ان کی نوٹس میں لائی جانے والی شکایات کو دیکھیں گے۔’قابل ذکر ہے کہ بی ایس این ایل مالی بحران سے دوچار ہے لیکن وادی میں مواصلاتی نظام پر پابندی کے بعد جب لینڈ لائن سروس بحال ہوئی تو ہزاروں لوگوں نے لینڈ لائن کنکشن کی فراہمی کے لیے درخواستیں جمع کیں جس سے کمپنی کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچا۔

    کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم

  • کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال خراب، قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،بھیم سنگھ

    سری نگر:کشمیری قید،آوازدبادی گئی،صورت حال بہت خراب،قومی یکجہتی کونسل کااجلاس بلایا جائے،یہ مطالبہ پینتھر پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ نے کیا ہے، اطلاعات کےمطابق جموں وکشمیر نیشنل پینتھرزپارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر سے اپیل کی ہے کہ حریت کانفرنس سمیت جموں و کشمیر کی تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جلد از جلد قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ بلائیں کیونکہ جموں و کشمیر کے لوگ نہایت خراب صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    انہوں نے اپنی اپیل میں مزید کہا کہ صدر جموں و کشمیر میں قانون کی حکمرانی واپس لانے کے لیے مداخلت کریں کیونکہ لیفٹننٹ گورنر کو ریاست میں قانونی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر میں گزشتہ تین مہینہ سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کی قید پر افسوس کا اظہار کیا جو کشمیر میں حراستی مراکز میں قید میں ہیں جن میں سنٹور ہوٹل اور گیسٹ ہاوس وغیرہ شامل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی شخص (خواہ بھارت کا شہری نہ ہو)کو مقدمہ یا ایف آئی آر کے بغیر تین مہینہ سے زیادہ حراست میں رکھا جائے اور ایسا کرنا غیرقانونی، غیر آئینی ہے، جو آئین کے چیپٹر۔3میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جو 5اگست 2019کو صدر کے ذریعہ آرٹیکل 35 اے کو، جسے 14 مئی 1954کو صدر کے آرڈی ننس سے جموں وکشمیر میں فذ کیا گیا تھا، ہٹانے کے بعد ریاست میں نافذ ہوگئے ہیں۔

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    جموں وکشمیر نیشنل پینتھرزپارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ اس کے بعد تین سابق وزرائے اعلی سمیت کسی بھی شخص کو پی ایس اے کے تحت قید میں رکھا جانا غیرقانونی اور بنیادی حقوق کی خلا ف ورزی ہے۔ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھی دلچسپ ہے کہ حکومت ہند کشمیر میں ان31سیاسی قیدیوں کی دیکھ بھال میں اب تک 2کروڑ 63لاکھ روپے خرچ کرچکی ہے۔

    کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

  • کشمیریوں کوبہلانے کا نیا بہانہ ،ایس ایم ایس سروس بحال ہونے کا امکان

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں حکومت ایس ایم ایس سروس کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ چند علاقوں میں براڈ بینڈ کنکشنز کو بھی بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق براڈ بینڈ کنکشنز خاص طور پر سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور چند ہوٹلز میں بحال کیا جاسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل رہے گی۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ذرائع کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد وادی کشمیر میں پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس بحال ہونے کے بعد انتظامیہ نے ایس ایم ایس سروس کو بند کر دیا تھا۔ وادی کے تمام میڈیا و نجی دفاتر کے انٹرنیٹ کنکشنز بند رکھے گئے ہیں۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق بعض سرکاری دفاتر بشمول ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھا گیا ہے۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ کے سینیئر افسر نے ساؤتھ ایشین وائرسے بات کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت اب وادی میں ایس ایم ایس سروسز کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ لیکن براڈ بینڈ کنکشنز کو بحال کرنے کا وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔’

     

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    گذشتہ روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر سے متعلق جائزہ میٹنگ طلب کی جس میں داخلہ سکریٹری، جموں و کشمیر چیف سکریٹری اور ڈی جی پی نے شرکت کی تھی۔

     

    ریڈیوکشمیرکی آوازدبادی گئی،کشمیری بھی بددل ہوگئے،دہائیوں‌کی محبت ہفتوں میں ختم

    معتبر ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں وادی کشمیر میں مواصلاتی نظام پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کا منصوبہ ہے۔بتادیں کہ 5 اگست جس روز مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات منسوخ کیے اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام والے علاقوں میں منقسم کیا، اس سے ایک روز قبل یعنی 4 اگست کو ریاست بھر میں موبائل فون و انٹرنیٹ سروسزمعطل کردی گئی تھیں۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    سری نگر:پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ریلوے کے حالات بہت برے ہیں، دوسری طرف انڈین ریلوے اس وقت خسارے میں جارہا ہے، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری نا مساعد صورتِحال اور عوامی ہڑتال کی وجہ سے جہاں عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے، وہیں ریلوے محکمے کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    سری نگر سے آمدہ اطلاعات کےمطابق جموں وکشمیرانتظامیہ کےایک اعلی افسرکے مطابق گزشتہ 13 ہفتوں میں ریلوے محکمے کو تقریبا تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جو یومیہ تقریبا 3 لاکھ بنتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے پورے ملک کی طرح کشمیر میں بھی کچھ خاص آمدنی نہیں حاصل کر رہی اور ایسی صورتحال میں نقصان ہونا محکمے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    کس کی قسمت جاگے گی ؟ماورا حسین کوجیون ساتھی مل گیا؟

    ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انہوں نے کہا کہ آنے والے ایام میں عوام کے لیے ریلوے سہولیات بحال کی جائیں گی۔قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی اس ٹرین میں روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں (Union Territories) میں تقسیم کرنے کے بعد مواصلاتی نظام بشمول انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروسزمعطل کرنے کے علاوہ ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا

    انڈین پریمیئر لیگ میں خراب امپائرنگ ، ٹیموں کے مطالبے پر اضافی امپائرچیک رکھیں گے

    نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق جہاں گورنر انتظامیہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے طول وعرض میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئی تھیں وہیں سیاسی رہنمائوں اور کارکنان کی گرفتاری اور نظر بندی کے علاوہ مواصلاتی نظام بشمول انٹرنیٹ، موبائل اور لینڈ لائن سروسزمعطل کرنے کے علاوہ ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

    اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے مرحلہ وار بندشوں میں نرمی اور لینڈلائن و پوسٹ پیڈ موبائل خدمات کو بحال کیا گیا تاہم پری پیڈ موبائل، ایس ایم ایس خدمات اور انٹرنیٹ پر ہنوز قدغن عائد ہے، اسکے علاوہ ٹرین سروسز بھی بدستور معطل ہے۔

  • میں مودی سے پوچھتاہوں کہ کیا کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے؟ اشوک سوائن

    نئی دہلی :بھارت کے اشوک سوائن جو کہ معروف تجزیہ نگارہیں‌نے کشمیریوں کی بے بسی پر بہت خوبصورت انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دعوے بھی عجیب ہیں کہ ایک طرف تو بھارت کہتا ہےکہ کشمیربھارت کا حصہ بن چکا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کو شہریوں کے حقوق بھی نہیں دے رہا

    اشوک سوائن نے ٹویٹ پیغام کے ذریعے کہا ہےکہ بھارت اپنے ہی دعووں کے برعکس کام کرتا ہے، اشوک کہتے ہیں کہ نئی دہلی میں پولیس کو تو احتجاج کا حق حاصل ہے حالانکہ وہ ریاستی ادارہ ہے اور ریاستی ادارے اپنی ریاست کے خلاف احتجاج نہیں کرتے لیکن وہ پھر احتجاج کرلیتے ہیں مگر کشمیریوں کو تو زبان کھولنے کی بھی اجازت نہیں

    اشوک سوائن کہتے ہیں کہ بھارت اپنے دہرے معیار کی وجہ سے نقصان اٹھائے گا، کشمیریوں کو پہلے ہی بھار ت سے نفرت ہے ، اب اگر ان سے بولنے کا حق کا بھی چھین لیا جائےتو پھر انہیں کوئی بھارت سے دور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا

  • بیٹا ہم ابھی زندہ ہیں‌، کشمیری ماں کا بیٹے کو آخری فون

    اسلام آباد:پہلے بھی بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا تھا مگر اب تو 5 اگست 2019 سے تو حالات بہت زیادہ خراب ہیں‌ ، بلکہ کشمیر میں‌ تو اب تک سب سے بڑی فوج کشی ہے ، ان خیالات کا اظہار کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کب تک ٹیلی ویژن کے ہیڈ آفس میں ایک انٹریوکے دوران کیا

    پنجاب کے سکولوں میں کون سی مہم شروع ہونی والی ہے،سیکرٹری ایجوکیشن نے بتاددیا

    کب تک ٹیلی ویژن کو انٹریودیتے ہوئے ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پاکستان اور پاکستانیوں سے بہت زیادہ محبت ہے ، کشمیریوں کی محبت کا تو یہ حال ہےکہ وہ دفن بھی پاکستانی پرچم میں ہونا چاہتے ہیں ، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے کہا کہ صورت‌حال اس قدر خراب ہے کہ اس کا ذکرکرنا بھی بہت مشکل ہے،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال کا ایک واقعہ ذکرکرتے ہوئے حیران کردیا کہ وہ کہتے ہیں‌کہ انہوں نے اپنے گھروالوں‌کو فون کیا تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ بیٹا ابھی ہم زندہ ہیں، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی بتاتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ کشمیری کس قدر تکلیف میں مبتلا ہیں ،

    ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی نے مزید بتایا کہ صورت حال اس قدر خراب ہےکہ مائیں اپنے بچوں کے بارے میں اس قدر خوف زدہ ہیں کہ اگرکوئی بچہ باہرچلا جائے تو ان کو یہ ڈررہتا ہےکہ شاید کہ اب وہ کبھی بھی گھرواپس نہیں آئے گا،

    پاک فوج کی سپورٹ جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتی ہے، میجر جنرل آصف غفور

    یادرہےکہ کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کے بھانجےہیں اور ان دنوں پاکستان میں رہائش پزیر ہیں جہاں سے وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے جدوجہد آزادی کی تحریک کو احسن انداز سے چلا رہے ہیں

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں ، پاکستان کا دوٹوک موقف

    اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تقسیم کو مسترد کردیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حثیت کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کو مسترد کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ شملہ معاہدہ سمیت دوطرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تقسیم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ جبکہ بھارتی فیصلہ شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ بھارتی حکومت کا کوئی بھی اقدام اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ بھارت نے پانچ اگست کو کیے گئے فیصلے کو کشمیری عوام پر بندوق کے ذریعے مسلط کیا۔ کشمیر بھارت کا اندورنی معاملہ نہیں۔ کشمیر کو تقسیم کرنا ہندوتوا نظریے کی تکمیل ہے۔ عالمی برادری بھارتی فیصلے کا نوٹس لے۔

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ غیر کشمیری آبادی کو کشمیر میں آباد کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام بھارت کے فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ بھارتی فیصلوں سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت فوری طور پر مقبوضہ وادی سے اپنی فوج کا انخلا کرے اور وادی سے کرفیو اٹھائے

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…