Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • ایک لاکھ کشمیری شہید،11ہزارخواتین کی عصمت دری،دنیا پھربھی خاموش،بہت افسوس: ترجمان دفترخارجہ

    اسلام آباد:27 اکتوبر، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضہ پر ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بارپھر پاکستان کا موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ 72 سال قبل آج کے دن بھارتی ظالم افواج نے بندوق کی نوق پر وادی کشمیر پر قبضہ کرکے کشمیریوں کو سخت آزمائش میں مبتلا کردیا ،کشمیریوں نے پہلے دن سے بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کی اور بھارت کی غلامی سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کی ، لاکھوں قربانیاں‌ دیں‌،پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں‌کی اس تحریک آزادی کی سفاری اور اخلاقی مدد کررہا ہے ،

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیر پربھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف آج دنیا بھرمیں یوم سیاہ منایاجا رہا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دنیا بھرمیں پاکستانی سفارتی مشنزکو تقاریب کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں، دنیا بھرمیں تنازع کشمیرکو اجاگرکرنے کے لیے تقاریب اور احتجاج کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نوازشریف کی صحت کےلیے دعاگواورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،چیف جسٹس

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیر یوں کی حق خود ارادیت کی 72سالہ جدوجہد کو اجاگر کیا جائے گا، دنیا کو تنازع کشمیرکی سنگینی سے متعلق ایک بار پھر باورکرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق غصب کرکے محصورکر دیا گیا ہے، کشمیریوں کو خوراک، ادویات، بنیادی ضروریات اورسہولیات میسر نہیں ہیں، لاکھوں کشمیریوں پر جاری ظلم سے بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دنیا کے ہر فورم پر پاکستان نے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ، عالمی برادری کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت دینے کا وعدہ پورا کرے، سلامتی کونسل کی قرادادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سے اب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔aانہوں نے کہا کہ 30 سالوں کے دوران 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم ہوچکے، برہان وانی کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کو نئی جہت ملی۔

  • بھارت نے ظلم وتشدد اور دہشت گردی کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا ،صدرپاکستان

    اسلام آباد:بھارت نے ظلم وتشدد اور دہشت گردی کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا ، صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ 27 اکتوبر جموں وکشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے، اس دن 27 اکتوبرکوبھارتی فوج جموں وکشمیر میں داخل ہوئی تھی اور کشمیریوں کی مرضی اور تقسیم کے منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے پر قبضہ کیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ 72 سال قبل آج ہی کے دن بھارتی سیکیورٹی فورسز نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی امنگوں کے برعکس جبر، ظلم وتشدد اور دہشت گردی کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔

    10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    صدرمملکت عارف علوی نے بھارتی مکاری کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ آج تک بھارت کشمیر میں وحشیانی کارروائیوں اور دھونس، دھاندلی کی راہ پر گامزن ہے انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں 80 لاکھ سے زائد افراد کو غیرقانونی طور پر محصور کیا ہوا ہے۔

    25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی پالیسیوں اور تدابیر میں کتنا ہی ظلم وبربریت کیوں نہ شامل ہو، وہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچل نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے جدوجہد آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    ڈاکٹرعارف علوی نے کہا پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل اخلاقی وسیاسی اورسفارتی حمایت کا پختہ عزم کررکھا ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانی و کشمیری شہری 24 اکتوبر1947 کو کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منائیں گے۔

  • ٹوئیٹرکشمیریوں کے قتل کا حامی ،مقبوضہ کشمیرسے متعلق10 لاکھ ٹویٹس بلاک

    نیویارک:ٹوئیٹرکشمیریوں کے قتل کا حامی ،مقبوضہ کشمیرسے متعلق10 لاکھ ٹویٹس بلاک کردیئے گئے ، اطلاعات کے مطابق امریکہ کے شہر نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا ہے کہ ٹوئٹر نے بھارتی حکومت کے اشارے پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق 10 لاکھ ٹوئٹس کو بلاک کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق کشمیر میڈیا سروس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سی پی جے کی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ بھارتی حکومت کے دباؤ پر ٹوئٹر نے مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال پر مبنی مختلف اکاؤنٹس تک رسائی بند کردی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت2017 سے کشمیرپرٹوئٹ روکنےکےلیے ٹوئٹر پر دباؤڈال رہاہے اور دو سال کے دوران 10 لاکھ ٹوئٹس کو بلاک کر چکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرکےمواد پرسیکڑوں ویب سائٹس غیرقانونی قراردی گئیں اور 100 سے زائد ایسے اکاؤنٹس کواپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جو کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرنے میں مصروف تھے۔ ٹوئٹرنے دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    سی پی جے کا کہنا ہے کہ ٹوئٹرکو وادی کی اصل صورتحال بتانے کے لیے صحافی ایک مستند اور موثر ذرائع کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اسی بنیاد پر بھارتی حکومت نے ٹوئٹر پرمتعدد اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔یادرہے کہ اس سے پہلے ٹوئیٹرانتظامیہ بڑی تعداد میں‌پاکستانیوں کے کشمیریوں کی حمایت سے متعلق اکاونٹس بلاک کرکے اپنی مسلم اور کشمیردشمن سوچ کا مظاہرہ کرچکی ہے

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 83 واں دن،ظلم وتشددکی سیاہ راتیں

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 83 ویں روز میں داخل ہوگیا، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    ڈینگی مچھر سے بچاؤ اور مچھروں کوکیسے بگائیں ،پاکستانی طبی ماہرین نے بتا دیا

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض اسپتال۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    پاکستان کے نصف بچے فولاد اور وٹامنز کی کمی کا شکار ہیں، طبی ماہرین

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    خبردار: زیادہ نمک کا استعمال اب دماغ کے لیے بھی خطرناک

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

  • آزادی مارچ ،کشمیرکازکو نقصان پہنچانے کی بھارتی فلاسفی ہے، سراج الحق

    چارسدہ:آزادی مارچ ، کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی بھارتی فلاسفی اور ایجنڈا ہے ، مولانا فضل الرحمن غیروں کے ہاتھوں‌میں‌کھیل رہے ہیں‌،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت پوری قوم کو اعتماد میں لے کر کشمیر میں عملی ایکشن کا اعلان کرے۔

    ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام کیوں نہیں نکالا جارہا، وزیراعظم 

    تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست سے کشمیر میں 80 لاکھ لوگ محصور ہیں، کشمیری مسلمانوں کی نگاہیں صرف پاکستان کی طرف ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو آواز کشمیریوں کے لیے اٹھ رہی تھی وہ دب جائے گی اور اس کا سارا کریڈٹ مولانا کو جائے گا

    چاندی اور سونے کے تمغے،جتنے زیادہ بچے اتنا زیادہ معاوضہ

    سراج الحق نے کہا کہ کراچی سے چترال تک قوم کشمیر کی آزادی کے لیے تیار کھڑی ہے، بھارت چاہتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ ختم ہو اور کوئی نیا سرحدی تنازع شروع ہوجائے۔نے کہا کہ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے، اس لیے وہ روز لائن آف کنٹرول پر حملے کرتا ہے۔

    دشمن موقع کے تلاش میں،آزادی مارچ ہدف ہوسکتا ہے، سیکورٹی اداروں کی رپورٹ

    آزادی مارچ کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ ایک پارٹی کا لائحہ عمل ہے۔سینیٹرسراج الحق نےمولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی انتشار کا نقصان کشمیر کو ہوا فائدہ بھارت کو پہنچا ہے، حکومت، اپوزیشن نے کشمیر کی تحریک کو کنٹینر سیاست کی نذر کردیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ اپوزیشن کے مارچ کی وجہ سے عوام کا پیسہ ملکی ترقی کے بجائے سڑکیں بند کرنے پر خرچ ہورہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیرلاک ڈاون کا 82 واں‌دن:نمازجمعہ کے بعد بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری

    سری نگر :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا آج 82 واں دن ہے اورآزادی کی جنگ جاری ہے ، مقبوضہ کشمیر میں نماز جمعہ کے بعد بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج جاری ہے، قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے اسی لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض اسپتال۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو آج نماز جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے وادی کشمیر سخت پابندیاں نافذ کرنے کا خدشہ ہے، قابض انتظامیہ نے 05 اگست کے بعد سے مقبوضہ علاقے کی تمام بڑی مساجد اور درگاہوں میں نمازجمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی ہے۔

  • ابن قاسم کی فریاد۔۔از قلم خنیس الرحمن

    ٓٓکشمیری آج ایک قابض فوج کے خلاف آپ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔جب میں ایک دفعہ اپنے والد سے ملنے جیل میں گیا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ جیل میں کیوں ہیں تو میرے بھائی نے کہا کہ ابو ہوم ورک نہیں کرتے تھے تو اس وجہ سے ان کو انڈیا نے جیل میں ڈال دیا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ایک دفعہ مجھے اپنے ابو کی بہت یاد آرہی تھی تو میں نے جان بوجھ کر ہوم ورک نہیں کیا۔میں نے سوچا کہ شائد اس طریقے سے میں اپنے والد کے ساتھ رہ سکوں۔لیکن ایسا نہیں ہوا تو میں اپنے والد کے پاس گیا تو میرے والد نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنی کمر سے اپنی شرٹ ہٹائی تو اس پر ٹارچر کے نشان تھے۔میں نے اپنی آنکھیں بند کیں میں نہیں دیکھ سکا تو میں نے اپنے ابو سے کہا یہ کس نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔یہ کس نے کیوں آپ کے ساتھ کیا ہے تو ابو نے کہا انڈیا۔۔چھوٹا سا تھا تب میں۔۔کشمیر میں بچے سکول بیگ سے زیادہ تابوت اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔جو بھی پاکستان میں ارباب اقتدار ہیں آپ انہیں کہیں وہ کشمیر کے لیے کچھ کریں کیونکہ صرف باتوں سے نو لاکھ فوج کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کو ضرورت ہے تب تک جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بہت ظلم ہوچکاہے۔پچھلے سترسال سے کشمیری لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی قوم اس ایشوکو اٹھائے۔کشمیر میں لوگ کیا سڑکوں یا کسی ڈویلپمنٹ کے لیے لڑ رہے ہیں نہیں انڈیا سب کچھ دینے کو تیار ہے۔وہ سری نگر کو سمارٹ سٹی بنانے کو تیار ہے۔کشمیر ی کہتے ہیں ہمیں روٹی،کپڑااور مکان نہیں چاہیے ہم آدھی روٹی کھائیں گے لیکن سر نہیں جھکائیں گے۔یہ بات یاد رکھیں کہ کہ کشمیریوں کا آپ پر ایک قرض ہے اویہ مسئلہ کسی خاص فرد یا خاندان کا نہیں سب پاکستانیوں کا ہے۔۔
    یہ الفاظ ایک ایسے نوجوان کے ہیں جس کی والدہ اور والدہ اپنے آپ کو تحریک آزادی کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں بند ہیں۔جن کا جر م یہ ہے وہ آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔یہ احمد بن قاسم کے الفاظ ہیں جو انہوں نے شاہراہ دستور پر ملین مارچ سے خطاب کے موقع پر کہے ایک وقت تھا ان کی والدہ پاکستان کے نام پاکستان کے صاحب اقتدار کے نام کشمیریوں کا پیغام بھیجا کرتی تھیں آج وہ بھارتی عقوبت خانوں میں پاکستان کا پرچم لہرانے کی وجہ سے زندان میں ہیں اس لیے آج خود بیٹا اپنی والدہ کا پیغام پاکستانیوں کو پہنچا رہا تھا۔احمد بن قاسم نے ان مختصرالفاظ میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ان کی مشکلات اور ان کی فریاد کو ہمارے سامنے رکھ دیا،احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو جنہیں کشمیر کا نیلسن منڈیلا بھی کہاجاتا ہے،چھبیس سال سے اودھم پور کی جیل میں پابندسلاسل ہیں۔انہیں پہلی مرتبہ 1993ء میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجا گیا اور پھر بعد میں بھارتی سپریم کورٹ نے جنوری 2003ء میں انہیں تاحیات عمر قید کی سزا سنادی تھی۔یوں ان کی ساری زندگی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزری ہے۔بھارتی حکومت اور فوج نے اس طویل عرصہ میں انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سخت اذیتیں پہنچائیں اور جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کیں لیکن غاصب بھارت کا ظلم وجبر انہیں جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔1993میں گرفتاری اور6سال کی نظربندی کے بعدعدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کردیاتھا لیکن بھارتی فورسز نے انہیں 2002ء میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائرپورٹ پر اس وقت دوبارہ گرفتار کرلیا جب وہ لندن میں کشمیر کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔اس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود محض تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے جرم میں گرفتاررکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم فکتو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی سے شادی کے بعد ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم سیدہ آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتوکی سزا برقرار رہی۔ مسلم دینی محاذ کے سربراہ بھی ہیں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 26 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے لیکن کوئی ان کی آواز سننے والا نہیں ہے۔ جیسا کہ احمد نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں آج ان کے والد بھی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔ذرائع کیمطابق احمد کے والد ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھارت کی طرف سے بہت بھاری پیشکش کی گئی۔ ان کو اسلامک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے حیثیت سے تعینات کرنے کی پیش کش کی گئی،اس کے علاوہ 2002 کے دوران آئی بی کے چند افسران نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی پیش کش بھی کی تھی۔ اسی طرح انہیں وزارت تعلیم کاقلمدان بھی سنبھالنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔احمد کی والدہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ تحریک آزادی کے لیے آوازبلند کرنے والی واحد خاتون ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں۔آج بھی سیدہ آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔انہیں بھی صرف پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے وہ اپنے پروگراموں میں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں۔اپنے گھر پر پاکستانی پرچم لہراتی ہیں تو ان کے گھر کو بھارت کی طرف سے سیل کردیا جاتا ہے۔وہ یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھتی ہیں ان پر غداری مقدمہ کرکے جیل میں بند کردیا جاتا ہے۔وہ برملا دوٹوک کہتی ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ جینا مرنا پسند کرتے ہیں۔احمد جس طرح سے کہہ رہے تھے کہ ہر کشمیر ی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتاہے اور یہ رشتہ تاریخی رشتہ ہے۔اس رشتے کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔اس رشتے سے بڑا اور کوئی رشتہ نہیں۔ان کی والدہ کا یہی جرم تھا وہ کہتی تھیں کہ اسلام کی بنیاد پر،ایمان کی بنیاد پر،قرآن کی بنیاد پر،محمدﷺ کی محبت کی بنیاد پر ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔آج کشمیر میں مسلسل کرفیو کو ۱سی سے زائد دن گزر چکے ہیں ہمیں جاگنا ہوگا۔لوگ کہتے ہیں جلسوں،تقریروں اور پرچم لہرانے سے کیا ہوتا ہے آج وہ پاکستان کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،جیلیں کاٹ رہے ہیں،گولیاں کھا رہے ہیں ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کرسکیں۔آسیہ اندرابی کہا کرتی ہیں کہ پاکستان مدینہ ثانی ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہی کہتے ہیں آج ریاست مدینہ کی بیٹی کا لخت جگر ہم سے فریاد کررہا ہے کہ کشمیریوں کا آپ پر قرض ہے ہمیں اس قرض کا بدلہ چکانا ہوگا۔

  • مقبوضہ کشمیر، لاک ڈاون کا 81 واں دن،بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری

    سری نگر: بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 81واں روز ہے، وادی میں تاحال زندگی مفلوج ہے۔ظلم وتشددکےسلسلے اب 12 ویں ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں ، مسلسل لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ادھر آج وفاقی دارالحکومت میں کشمیر ملین مارچ میں لاکھوں لوگوں نے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرکے ان کے حوصلے بلند کردیئے ، کشمیر ملین مارچ میں 5 کلومیٹر کشمیری پرچم لہراکر ریکارڈ بھی قائم کیا

    جدید اسلحے سے لیس بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں سے خوفزدہ ہیں۔ قابض فوج نے سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بلٹ پروف بنکرز تعمیر کرلیے۔ مختلف سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔

    محصور کشمیری کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی کی ہر شے سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہےکشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ماہ میں معیشت کو 8ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔ وادی میں کئی جگہ کرفیو کے باوجود کشمیری مظاہروں کےلیے باہر نکلتے ہیں، بھارتی فوج نے اب تک ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کے باعث دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان ہیں۔ کشمیریوں کا رابطہ 5 اگست سے دنیا سے منقطع ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔بھارتی فوج نے نو سال کے کم عمر بچوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے سے اب تک گرفتار افراد کی تعداد چالیس ہزار ہو سکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری تشدد کو تین ماہ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی کے رہائشیوں کی تکالیف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔پیلٹ گن سے زخمی کشمیری نوجوان گرفتاری کے خوف سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ مودی سرکار نے وادی میں چپے چپے پر فوج تعینات کررکھی ہے۔بھارتی فوج گھر سے نکلنے والے کشمیریوں کو گولی مارنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ کشمیری ہسپتال، سکول اور کام پر نہیں جا سکتے۔ وادی میں زندگی مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔ اسی لاکھ لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرے کرنے والے کشمیریوں کو شاٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ زخمی کشمیری گرفتاری کے ڈر سے ہسپتال نہیں جا سکتے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں افراد کو بلاوجہ گرفتار کیا ہے۔قابض فوج گرفتار کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی انتظامیہ وادی میں حالات نارمل ہونےکے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

    بھارتی قابض فوج کی ریاستی دہشتگردی کے باعث تین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں‌، ستمبر کے دوران 16 نوجوان شہید ہوئے، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اکتوبرکے مہینے میں اب تک 5 کشمیریوں کو بھارتی فوج شہید کرچکی ہے ،دوسری طرف بھارتی خفیہ ایجنسی حریت رہنماؤں کا عزم توڑنے کیلئے مزید دباؤ بڑھانے لگی، وادی میں مکمل لاک ڈاؤن کا تسلسل جاری ہے،

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نےکارروائیوں کے دوران پچھلے چار دنوں میں‌ 7 نوجوانوں کو شہید کیا۔ شہید ہونے والوں میں نوجوانوں کو گھروں میں تلاشی کے دوران شہید کیا گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ کے مطابق بھارتی قابض فوج کی طرف سے ریاستی دہشتگردی کے دوران زیر حراست نام نہاد ان کاؤنٹر کے ذریعےپچھلے دوہفتوں میں 5 نوجوانوں کو شہید کیا گیا، 480 کے قریب زخمی ہوئے، ان زخمیوں میں زیادہ تر افراد ان لوگوں کی ہے جنہیں پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے ذریعے زخمی کیا جو پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ حریت رہنماؤں کے273کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ 40 گھروں سمیت سمیت قیمتی اشیاء کو آتش گیر مواد کے ذریعے تباہ کیا گیا، 9خواتین کو بیوہ کیا، 47بچے یتیم ہوئے، 11خواتین کے ریپ کے کیسز سامنے آئے۔

    دریں اثناء وادی بھر میں ہو کا عالم ہے، انٹر نیٹ، لینڈ لائن سمیت دیگر سہولیات ناپید ہیں، ہسپتال ویران ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، میڈیکل سٹوروں پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، انسانی بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے،81 ویں روز بھی والدین اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر بھارتی فوج موجود ہے جس کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بزنس بالکل بند ہو کر رہ گیا ہے۔

  • بھارت کو چیلنج ، دہشت گردوں کے ٹھکانے ثابت کردکھائے

    بھارت کو چیلنج ، دہشت گردوں کے ٹھکانے ثابت کردکھائے

    اسلام آباد:پاکستان کا بھارت کو آزاد کشمیر میں دہشگردوں کے ٹھکانے ثابت کرنیکا چیلنج کر دیا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر میں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرے۔ اسلام آباد میں موجود سفیروں اور عالمی میڈیا کو بھی لائن آف کنٹرول کا دورہ کروایا جائے گا۔

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 78 واں دن،بھارتی مظالم ، کشمیریوں کی جنگ آزادی جاری

    سفارتی ذرائع کے مطابق غیر ملکی سفیروں کو 22 اکتوبر کو شاہ کوٹ، نوسیری اور جوڑا سیکٹر کا دورہ کروایا جائے گا اور انہیں ایل او سی پر بھارتی جارحیت سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان نے بھارتی ناظم الامور سے کہا ہے کہ بھارت آزاد کشمیرمیں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ سچ ثابت کرے۔

    بھارتی آرمی چیف کاآزاد کشمیر میں کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ افسوسناک ہے، ترجمان

    اس مقصد کے لیے پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو ایل او سی پر لے جانے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ بھارت بزدل ، کھل کر سامنے آئے ، پاکستان نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اگر بھارت جارحیت سے باز نہ آیا تو اس کے لئے صورتحال ناقابل برداشت ہو جائے گی اور اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق عالمی میڈیا کو بھی کنٹرول لائن پر لے جا کر زمینی حقائق سامنے رکھے جائیں گے۔اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کو کل مذکورہ علاقوں کا دورہ کرایا جائے گا اور پھر بھارتی مکاری کو دنیا کے سامنے پیش بھی کیا جائے گیا

  • بھارت جھوٹا، آرمی چیف جھوٹا ، پھر چیلنج کرتے ہیں ، میجر آصف غفور کا پیغام

    بھارت جھوٹا، آرمی چیف جھوٹا ، پھر چیلنج کرتے ہیں ، میجر آصف غفور کا پیغام

    راولپنڈی :انڈیا جھوٹا ، آرمی چیف جھوٹا ، ہم نے کل سے چیلنج کررکھا ہےکہ اگر بھارت نے پاکستان میں کیمپ تباہ کیے ہیں تو ثابت کردے ،لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا،بھارت کے نام یہ پیغام پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے پہنچا دیا ہے

    مقبوضہ کشمیر:کرفیو کا 78 واں دن،بھارتی مظالم ، کشمیریوں کی جنگ آزادی جاری

    ذرائع کےمطابق گزشتہ رات کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی طرف سے کی جانے فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 9 سے زائد فوجی افسروں سمیت ہلاک کردیئے تھے جس کے بعد سے اب تک بھارت اپنی خفت مٹانے اور شکست چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ،https://twitter.com/OfficialDGISPR?ref_src=twsrc%5Egoogle%7Ctwcamp%5Eserp%7Ctwgr%5Eauthor

    بھارتی ڈراموں کے جواب میں آج پھر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹویٹ پیغام میں بھارت کو چیلنج کیا ہےکہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بھارتی فوج کاآرمی چیف جھوٹ بول رہا ہے، میجر جنرل آصف غفور نے پھر چیلنج کیا کہ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو ہمارے ساتھ معلومات شئر کرے تاکہ ہم بھی دنیا کو بتا سکیں کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے

    بھارتی آرمی چیف کاآزاد کشمیر میں کیمپ تباہ کرنے کا دعویٰ افسوسناک ہے، ترجمان 

    میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہےکہ ہم پھر بھارت کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ معلومات پاکستانی دفتر خارجہ سے شیئر کرلے ، اگر پھر بھی بھارت ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے تو کل جب عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں پہنچے گیں تو پھر حقیقت کھل ہی جائے گیا