Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجیوں کے مظالم جاری ، مختلف علاقوں میں 9 کشمیری شہید کردیئے ، اظہار  یکجتہی پر پاکستانی قوم کا شکریہ

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوجیوں کے مظالم جاری ، مختلف علاقوں میں 9 کشمیری شہید کردیئے ، اظہار یکجتہی پر پاکستانی قوم کا شکریہ

    :سری نگر: قابض بھارتی افواج تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق پچھلے 48 گھنٹوں میں 9 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر شہید کردیا گیا ہے، دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہا کے باوجود نام نہاد عالمی برادری کو چپ لگ گئی ہے ، مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    دوسری طرف کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں سے محبت کرنے والوں نے جس محبت اور وفا کا اظہار کیا ہے ہے اس کا سلسلہ جاری ہے اور کشمیریوں کے حوصلے بڑھے ہیں. سری نگر سے ذرائع کے مطابق کشمیریوں نے پاکستانیوں کا بھرپور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک وہ بھارت کی غلامی سے آزاد نہیں ہوجاتے وہ اپنی تحریک مزاحمت جاری رکھیں گے

  • راولپنڈی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے تقریب کہاں ہوگی اعلان کردیا گیا..

    راولپنڈی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے تقریب کہاں ہوگی اعلان کردیا گیا..

    راولپنڈی :وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جمعہ کے روز پونے بارہ سے ساڑھے بارہ تک کا وقت کشمیریوں کے نام کرنے کا اعلان کیا اور اس دوران ملک بھر میں تقریبات منعقد ہونگی کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی جائے گی اسی حوالے سے راولپنڈی میں ضلعی سطح پر تقریب ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوگی. ڈپٹی کمشنر راولپنڈی علی رندھاوا نے سماجی رابطہ کی سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ سب 11:30 بجے کشمیر کے لئے نکلیں اس سلسلہ میں راولپنڈی میں تقریب ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوگی ,اس کے علاوہ دوسری بڑی تقریب لاک حویلی میں ہوگی جہاں 12 سے 12:30 تک کشمیریوں کے حق میں ترانے پڑھے جائیں گے اور 5 بجے تک تقریب جاری رہے گی جس کا اعلان وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کیا .

  • غدار کشمیر کیا صرف نواز شریف ؟ علی چاند کا بلاگ

    غدار کشمیر کیا صرف نواز شریف ؟ علی چاند کا بلاگ

    ّکہتے ہیں کہ بزدل لوگ اپنی خامیاں ہمیشہ دوسروں پر ڈال کر اپنے آپ کو بہت بہادر سمجھتے ہیں ۔ ایسی ہی کچھ چالاکیاں پاکستانی قوم کو اپنے حکمرانوں کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہیں اور صرف ایک دو بار نہیں بلکہ بار بار ، آٸے دن پاکستانی حکمران اپنی عوام کو بے وقوف بناتے ہیں اور اس میں قصور وار صرف حکمران نہیں بلکہ عوام میں سے ایسے لوگ بھی اس بات کے ذمہ دار ہیں جو چند ٹکوں کے عوض اپنی خودی اور ضمیر بیچ کر ایسے حکمرانوں کا دفاع کرتے ہیں اور ایسے حکمرانوں کے دفاع میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ایسے لوگوں کو اپنے لیڈروں کا دفاع کرنے کے لیے ان حکمرانوں کی گستاخیوں کا دفاع بھی کرنا پڑتا ہے ۔ کاش چند ٹکوں کے عوض بکنے والے یہ چند نام نہاد مسلمان سمجھ لیں کہ اگر یہ لوگ بکنے کی بجاٸے بروقت اپنے لیڈروں کے گریبان میں ہاتھ ڈال لیں تو امت کی بیٹیاں کبھی کفار کے ہاتھوں اپنی عزتیں نا کھوٸیں ، کبھی ننھے منے مسلمان بچے کفار کے ظلم و ستم کا شکار نہ ہوں ، کبھی کوٸی مسلمان ماں اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر اپنے بیٹے کی کٹی پھٹی لاش دیکھ کر کسی محمد بن قاسم کی راہ نہ تک رہی ہو۔ لیکن ہم مسلمانوں کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ چند مسلمان اپنے ضمیر کفار کے ہاتھوں گروی رکھ کر پوری امت کی بیٹیوں کی عزتوں کا سودا کر دیتے ہیں ، پوری امت کے جوانوں کے خون کا سودا کر دیتے ہیں اور پھر امت مسلمہ کے خون کا سودا کرتے ہوٸے یہ بھی نہیں سوچتے کہ دنیا ان کم ظرف لوگوں کو غدار کہے گی ، ان کی اوقات پر ان کی پیٹھ پیچھے ہنسے گی ، یہ لوگ ایسا کیوں نہیں سوچتے کہ کل قیامت کے دن ان کے گریبان ہوں گی اور امت کی بیٹیوں کے ہاتھ ہوں گے ، جہاں انہیں ایک ایک پاٸی کا حساب دینا ہوگا ۔

    کل سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ ” غدار کشمیر نواز شریف ” دیکھنے کو ملا ۔ میں تمام پاکستانیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کشمیریوں سے غداری صرف نواز شریف نے کی ہے ؟ کیا ان لوگوں نے کشمیر سے غداری نہیں کی جو باری باری ہماری افواج کے سربراہ بنے ، جنہیں اللہ پاک نے دنیا کی بہترین ، طاقت ور ترین فوج کا سربراہ بنایا ، انہوں نے کیا کیا کشمیریوں کے لیے ؟ کوٸی جانتا ہے کہ وہ تمام سربراہ آج کہاں ہیں ؟ ان سربراہوں کی اکثریت اس وقت پاکستان سے باہر ، پاکستان سے کماٸے ہوٸے پیسے پر عیاشی کر رہے ہیں ۔

    پاکستان میں نواز شریف کے علاوہ جو حکمران آتے رہے ہیں انہوں نے کشمیری کی آزادی کے لیے کیا کچھ کیا ہے ؟ جو حکمران ابھی امریکہ کی ثالثی کو قبول کر کے آیا ہے کشمیر کے حوالے سے وہ ثالثی تو تمام پاکستانیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے ۔ میں پاکستانیوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آخر کشمیر کے ساتھ وفا کی کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کا درد محسوس کیا کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا کس نے ہے ؟ آخر کشمیر کے مسلمان کو اپنا بھاٸی سمجھا کس نے ہے ؟ کیا ہم سب نے کشمیر سے غداری نہیں کی ؟ کیا ہم سب کشمیریوں کے مجرم نہیں ؟ کیا کیا ہے ہم نے کشمیریوں کے لیے ؟ کیا ہم نے کبھی ان لیڈروں ان حکمرانوں کے گریبان پکڑے ہیں کہ کیوں تم لوگوں نے اپنی شہہ رگ کو آزادی نہیں دلواٸی ؟ ہم لوگ خود چند پیسوں پربک جانے والے لوگ اپنے لیڈر کی محبت میں کیا کرتے ہیں ۔ ppp والوں نے کہہ دیا عمران خان کشمیریوں کا غدار ہے ، ن لیگ والوں نے کبھی ppp پر تو کبھی عمران خان پر کیچڑ اچھال دیا کہ عمران خاں غدار ہے ، pti والوں نے کہہ دیا کہ نواز شریف غدار ہے ۔ میں قوم سے ہوچھنا چاہوں گا کہ آخر کشمیریوں کے ساتھ وفا نبھاٸی کس نے ہے ؟ ان جعلی لیڈروں نے ، خود غرض جرنیلوں نے ، ہم عوام نے آخر کشمیریوں کے ساتھ غداری کس نے نہیں کی ؟ کیا حکمرانوں نے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کر دیں ؟ کیا ہم عوام نے انڈین اشیأ کا باٸیکاٹ کر دیا ؟ ہم وہ لوگ ہیں کہ کشمیر پر تو ٹویٹس پر ٹویٹس کر کے اکاونٹ بلاک کرواتے رہیں گے لیکن فیس کریم لینے جاٸیں گے تو انڈیا کی بنی کریم کی ڈیمانڈ کریں گے ؟ آخر غدار کون نہیں ہے ؟ کیا یہ کشمیریوں سے غداری نہیں کہ اب بھی ہم عملی قدم اٹھانے کی بجاٸے ، اپنے حکمران کو غیرت دلانے کی بجاٸے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، یاد رکھیں غداری تو ہم سب کر رہے ہیں اور یاد رکھیں تاریخ کبھی غداروں کو معاف نہیں کرتی ۔ غداروں کی نسلیں بھی غداری کی سزا بھگتا کرتی ہیں ۔
    اب بھی وقت ہے کہ اپنی اپنی انا سے باہر نکلیں اور کشمیر سے وفا نبھاٸیں تاکہ ہماری غداری کی سزا ہماری نسلوں کو نا بھگتنی پڑے ۔ ہمیں اپنے اپنے طور پر کشمیر سے وفا نبھانی ہوگی تاکہ ہماری نسلیں فخر سے سر بلند کر کے کہہ سکیں کہ ہاں ہمارے بزرگ غیرت مند لوگ تھے ۔

    اللہ پاک ہم سب کو غداری سے بچاٸے اور اپنے کشمیری بھاٸیوں سے وفا نبھانے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • کیا جنگ واقعی مسائل کا حل نہیں ؟

    کیا جنگ واقعی مسائل کا حل نہیں ؟

    ہاں وہی کشمیر جس کے حسین نظارے گولہ بارود کی نظر ہوگے ، ہاں وہی کشمیر جہاں کی بیٹیاں درندوں نے نوچ ڈالیں ، ہاں وہی کشمیر جہاں کے بچوں اور جوانوں کو بے دردی سے ذبح کیا جارہا ہے ، ہاں وہی کشمیر جہاں کی بیٹیاں اسلحہ سے لیس فوج کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کر رہی ہیں ۔شاید وہ پتھر دشمن فوج کو نہیں بلکہ مسلمان حکمرانوں کے منہ پر پڑنے چاہیے تاکہ ان حکمرانوں کو پتہ ہو کہ تمام مساٸل کا حل جہاد ہی میں ہے ۔ کاش ہم آزاد مسلمانوں نے یہی پتھر بر وقت مسلمان حکمرانوں کو مارے ہوتے تو آج امت کی بیٹیاں اس قدر مجبور اور بے بس نہ ہوتیں ۔ اگر ہم تمام مسلمانوں نے حکمران منتخب کرتے ہوٸے یہ دیکھا ہوتا کہ کہ حکمران اچھی تقریر کرنے کی بجاٸے کتنا غیرت مند ہے تو آج امت کی بیٹیاں اس قدر مجبور اور لاچار نہ ہوتیں ۔ آج مسلمان حکمران انہی بیٹیوں کی عزت کو تار تار کرنے والے قصاٸی کو اپنے اعلی سول اعزاز سے نواز انہیں مزید ہمت دے رہے ہیں کہ شاباش لوٹتے رہو ہماری بیٹیوں کی عزتیں ۔ آج ہمارے حکمران کشمیری بچوں اور جوانوں کو ذبح کرنے والے قصاٸی کو اپنی فضاٸی حدود دے کر یہ بتا رہے ہیں کہ شاباش کرتے رہو کشمیریوں کو ذبح ۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ، پاکستانی وزیر اعظم کشمیریوں کے سفیر ہیں ۔ کیا پاکستان نے انڈیا کے لیے اپنی فضاٸی حدود بند کیں ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کے ساتھ تجارت بند کی ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کو نمک دینا بند کر دیا ؟ کیا پاکستان نے انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ؟

    ہمارے سیاسی دانشور کہتے ہیں کہ جنگ مسٸلے کا حل نہیں ۔ میں ان سب بزدلوں کو کہنا چاہوں گا کہ بزدلوں جہاد کو جنگ کا نام مت دو ۔ جہاد میں خیر ہی خیر ہے ، مر گے تو بھی کامیاب اور زندہ رہے تو بھی کامیاب ۔ لنڈے کے دانشور کہتے ہیں اگر ہم نے جنگ کی تو ایٹمی جنگ چھڑ جاٸے گی ۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ کہ کشمیر میں جس لڑکی کی عزت اس کے باپ اور بھاٸی کے سامنے تار تار کر دی جاٸے ، جو بچہ اپنی ماں کے سامنے ذبح ہوجاٸے ، جب ایک ایک گھر سے پانچ پانچ جنازے ایک ہی دن میں ایک ہی وقت میں اٹھتے ہوں جب کشمیریوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو ان کے پیاروں کے سامنے نوچہ جاتا ہو کیا وہاں وہاں ایٹم کی تباہی ذیادہ خطرناک ہے یا پھر جہاد نہ کرنے کا نقصان ذیادہ ؟

    چند دانشور فرماتے ہیں کہ ہمارے اتنے وساٸل نہیں کہ ہم جنگ کر سکیں ۔ میں امت مسلمہ سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ہمارے اتنے بھی وساٸل نہیں جتنے غزوہ بدر میں 313 کے پاس تھے ؟ کیا ہمارے اتنے بھی وساٸل نہیں جتنے غزوہ تبوک میں مسلمانوں کے پاس تھے ؟ یہ دانشور کہتے ہیں کہ کوٸی پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔ میں ان جعلی دانشوروں سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا جب تمام قباٸل مل کر مدینہ پر حملہ آور ہوٸے تھے تب مسلمانوں نے سوچا تھا کہ ہم اکیلے کھڑے ہیں سارا کفر تو ایک طرف ہے ؟ مسلمان حکمرانوں یاد رکھو بات وساٸل کی نہیں بات غیرت کی ہے ۔ امت مسلمہ کی حفاظت ، اپنی شہہ رگ کی حفاظت ، مظلوم و بے بس بیٹیوں کی حفاظت کے لیے وساٸل کی نہیں غیرت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسان غیرت مند ہو وساٸل نا بھی ہوں تو 313 کی طرح کفر سے ٹکرا جاتا ہے پھر سارا کفر بھی مقابلے میں اتحاد کر کے آجاٸے تو اللہ مقابلے کے بغیر ہی آندھیوں اور طوفان کو بھیج دیتا ہے تاکہ کفر کا نام و نشان مٹ سکے ۔ اگر مسلمان غیرت مند ہو وساٸل نا بھی ہوں تو مسلمان جب اپنی بیٹیوں کی عزتیں بچانے نکلے تو اللہ بھی فرشتوں کو مدد کےلیے بھیج دیتا ہے ۔ جنگ کے لیے وساٸل کی نہیں جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ جذبہ جو معاذ اور معوذ میں تھا ، وہ جذبہ جس کے تحت حکم دینا پڑتا ہے کہ کشتیاں جلادو ، کشتیاں جلا دو ۔ جنگ کے لیے وساٸل نہیں جذبہ چاہیے وہ جذبہ جس سے دریا بھی گزرنے کے لیے رستہ دے دیا کرتے ہیں ، وہ جذبہ جس میں ایک نو عمر نوجوان عرب سے آتا ہے اور فاتح سندھ بنتا ہے ۔

    وزیر اعظم عمران خاں صاحب آپ نے خود کو کشمیر کاسفیر بنانے کا اعلان کیا ہے حالانکہ آپ کو سفیر کشمیر نہیں بلکہ سپہ سالار کشمیر اور فاتح کشمیر بننا چاہیے تھا ۔ عمران خاں صاحب تھوڑی ہمت کا مظاہرہ اور کریں اور انڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اور انہیں صرف دو دن کا وقت دیں کشمیر سے نکلنے کا ، پھر دو دن بعد نعرہ تکبیر بلند کر کہ جہاد کا علان کر دیں فوج اور عوام آپ کے ساتھ ہے ۔ آپ کے لیے یہ سنہرا موقع ہے کہ آپ سفیر کشمیر بننے کی بجاٸے محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی بنیں اور دنیا کو دیکھا دیں کہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں جنہوں نے کشمیریوں سے وفا نبھاٸی ۔ خان صاحب آپ تھوڑی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کریں پھر دیکھ خان صاحب آپ تھوڑی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کریں پھر دیکھیں فتح ہماری ہی ہوگی وہ بھی جنگ کیے بغیر کیونکہ جب آپ اعلان جہاد کریں گے تو دنیا خود اس مسٸلے کو حل کرے گی کہ کہیں واقعی ایٹمی جنگ نا چھڑ جاٸے کیونکہ اگر ایٹمی جنگ چھڑی تو پھر اسلام کا وجود تو باقی رہے گا لیکن ہندو مذہب کا نام و نشان مٹ جاٸے گا ۔ اگر آپ وزیر اعظم پاکستان ہوتے ہوٸے بھی بے بسی کا مظاہرہ کرتے رہے تو پھر یاد رکھیں کہ نا تو تاریخ کبھی آپ کو معاف کرے گی اور آپ تاریخ میں بزدل ترین حکمران سمجھے جاٸیں گے ۔ دنیا کی طاقتور ترین فوج ، طاقت ور خفیہ ایجنسی ، جدید ترین اسلحہ ، جنگی و بحری جہاز رکھتے ہوٸے بھی ہم نے اپنی شہہ رگ کو کھو دیا تو یاد رکھنا ہم دنیا کی بے غیرت ترین قوم کہلاٸیں گے جن کے ساتھ کشمیری وفا میں اس حد تک گزر گے کہ وہ شہادت بھی ہمارےپرچم کو سینے سے لگا کر قبول کرتے ہیں اور دفن بھی ہمارے جھنڈے سے لپٹ کر ہوتے ہیں ۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خاں صاحب کیا آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر ، دنیا کے حکمرانوں کا ڈراٸیور بننے والے ، مال غنیمت کو لوٹ مار اور صحابہ کو بزدل کہنے والے سے انسان سے ہم یہ توقع رکھیں کہ کہ وہ غیرت و ہمت کا مظاہرہ کرے گا یا پھر ہم پاکستانی یہ سوچ لیں کہ کوٸی مدرسے سے فارغ التحصیل انسان ہی مسلمان بیٹیوں ، بچوں ، بزرگوں اور جوانوں کی مدد کر سکتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خاں صاحب کیا کشمیری بھی یہ سوچ لیں کہ ہم نے ایک ایک بزدل ، ڈرپوک ، خود غرض اور بے حس قوم سے وفا نبھاٸی ہے جس کی پاکستان قدر نا کر سکا ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں اور عوام کو ملی غیرت عطا فرماٸے اور مظلوم و بے بس مسلمانوں کی غیبی مدد فرماٸے ۔ آمین

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں