Baaghi TV

Tag: گوگل

  • گوگل کے اعلیٰ سطحی وفد کا آفس آف اے آئی پنجاب  کادورہ

    گوگل کے اعلیٰ سطحی وفد کا آفس آف اے آئی پنجاب کادورہ

    گوگل کے اعلیٰ سطحی وفد نے آفس آف اے آئی پنجاب کا دورہ کیا-

    وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے اے آئی و خصوصی اقدامات علی ڈار سے پنجاب کے اے آئی اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے فروغ پر اہم ملاقات ہوئی گوگل کے وفد کی قیادت ایشیا پیسیفک کے نائب صدر ولسن وائٹ نے کی، ملاقات میں ڈویلپرز، اسٹارٹ اپس اور شہریوں کے لیے جدید اے آئی ٹولز تک رسائی بڑھانے سمیت باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    علی ڈار نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پنجاب کو جنوبی ایشیا کا صفِ اول کا اے آئی اور ٹیکنالوجی ہب بنایا جا رہا ہے، پنجا ب کے نوجوان ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح کے اے آئی ٹولز سے جوڑنا حکومت کی ترجیح ہے، اے آئی کو شہریوں اور کاروباری اداروں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ آفس آف اے آئی پنجاب حکومت کے اے آئی اقدامات کے لیے مرکزی رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    علی ڈار کے مطابق ملاقات میں گوگل اور آفس آف اے آئی پنجاب کے درمیان تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیاعالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے پنجاب کے ڈویلپرز اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے،حکومت کا مقصد اے آئی کے فوائد عام شہریوں، کاروباری شعبے اور حکومت تک پہنچانا ہے،ذمہ دارانہ اے آئی کے فروغ کے ساتھ پنجاب میں ایک مضبوط، جامع اور جدید ٹیکنالوجی ایکو سسٹم تشکیل دیا جا رہا ہے۔

  • گوگل کا پاکستان میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل کا پاکستان میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل پاکستان میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے اور خاندانوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ کے نام سے ایک نیا اقدام متعارف کرانے جا رہا ہے۔

    یہ اقدام جمعرات کو گوگل کے ’سیف رہو ود گوگل‘ کے عنوان سے ہونے والے پروگرام میں پیش کیا جائے گا جہاں ٹیکنالوجی کمپنی بچوں کو درپیش آن لائن تحفظ کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے والدین اور خاندانوں کو عملی اقدامات اور وسائل سے آگاہ کرے گی،’ڈیجیٹل پاسبان‘ کا مقصد پاکستانی خاندانوں میں آن لائن تحفظ کے حوالے سے آگاہی بڑھانا اور والدین کو ایسے علم اور ذرائع فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ محفوظ انداز میں رہنمائی دے سکیں۔

    گوگل کے مطابق اس اقدام میں بچوں کے لیے نامناسب مواد، سائبر بُلنگ اور دیگر آن لائن خطرات سمیت ڈیجیٹل ماحول میں موجود مختلف ممکنہ خدشات سے نمٹنے پر توجہ دی جائے گی،’ڈیجیٹل پاسبان‘ کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بچے تعلیم، رابطوں اور تفریح کے لیے پہلے سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔

    اس صورتحال میں والدین کے لیے یہ سمجھنا اہم ہوگیا ہے کہ بچے آن لائن دنیا میں کن خطرات کا سامنا کرسکتے ہیں اور انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل استعمال کی طرف کیسے رہنمائی دی جاسکتی ہے،گوگل کے نئے اقدام سے توقع ہے کہ والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی بہتر رہنمائی، ممکنہ خطرات کی شناخت اور محفوظ ڈیجیٹل عادات کے فروغ کے لیے معلومات اور عملی ذرائع فراہم کیے جائیں گے۔

  • وزیر اعظم نے پاکستان میں گوگل دفتر کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعظم نے پاکستان میں گوگل دفتر کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے آفس کا افتتاح کر دیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے گوگل کے نائب صدر ولسن اور ان کی ٹیم کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گوگل کے لیے ایک اہم اور خوبصورت نئے سفر کا آغاز ہےگوگل دنیا بھر میں معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہے اور پاکستان میں گوگل کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں گوگل پاکستان میں نوجوانوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان اور گوگل کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

    گوگل کے نائب صدر ولسن نے کہا کہ گوگل پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ اور پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزا فاطمہ نے اعلان کیا تھا کہ گوگل نے پاکستان میں اپنی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا ہے اور جلد پاکستان میں ان کا دفتر کھل جائے گا۔

  • میٹا کو بڑا دھچکا،گوگل نے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

    میٹا کو بڑا دھچکا،گوگل نے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

    امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے کے بعد اپنے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کردی ہیں، کیونکہ حریف ٹیک گروپ مطلوبہ گنجائش فراہم نہیں کر سکا۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزکے مطابق الفابیٹ کی ملکیت گوگل نے مارچ کے قریب میٹا کو بتایا کہ وہ جیمینائی کی وہ مکمل صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا جو کمپنی خریدنا چاہتی تھی اس کمی کے باعث میٹا کے بعض اندرونی اے آئی منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر ہوئی، گوگل کے کئی دیگر کلائنٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان پر اثر نسبتاً کم رہا، میٹا خاص طور پر متاثر ہوا کیونکہ گوگل کے ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اثر میٹا پر پڑا کیونکہ اس کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی ان پابندیوں کے بعد میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کا زیادہ محتاط اور مؤثر استعمال کریں۔ اے آئی ٹوکنز وہ یونٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار ناپی جاتی ہے۔

    رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا، جس میں معاملے سے آگاہ افراد کا حوالہ دیا گیا ہے گوگل اور میٹا نے کاروباری اوقات کے بعد تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

    رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے باعث میٹا نے اپنے عملے کو اے آئی ٹوکنز، یعنی اے آئی استعمال کی پیمائش کرنے والی اکائیوں کے زیادہ مؤثر استعمال کی ترغیب دی ہے کمپنیاں چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود وہ اے آئی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔

    مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سی ای او سندر پچائی نے کہاکہ کمپیوٹنگ پاور کی پابندیوں نے اس سے بھی زیادہ ترقی کو روک دیا اور کلاؤڈ یونٹ کے بیک لاگ میں سہ ماہی بنیاد پر قریباً دو گنا اضافے میں کردار ادا کیا۔

  • گوگل کا  3 کروڑ 20 لاکھ  مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں، گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہےمچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ،رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

    فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

    ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

  • جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے-

    سائبر سیکیورٹی ریسرچر جیریمیا فاؤلر کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز پر مشتمل ڈیٹا سامنے آنے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ مجموعی طور پر لیک ہونے والے لاگ اِن کریڈنشلز کی تعداد 149 ملین کے قریب بتائی جارہی ہےیہ ڈیٹا بیس نہ تو پاس ورڈ سے محفوظ تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ، جس میں تقریباً 96 جی بی خام کریڈنشل ڈیٹا موجود تھا، یہ معلومات کسی نئی جی میل یا دیگر سروسز پر ہونے والی براہ را ست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کے مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے اکٹھا کی گئی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق انفوسٹیلر میلویئر ذاتی ڈیوائسز کو متاثر کر کے صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز اور دیگر حساس معلومات ریکارڈ کر لیتا ہے اس لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں جی میل کے ساتھ ساتھ یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جبکہ سرکاری اداروں، اسٹریمنگ سروسز اور بینکنگ لاگ اِنز سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد اسے آف لائن کیا گیا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اسے کریڈنشل اسٹیفنگ حملوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں ایک ہی لاگ اِن تفصیلا ت کو مختلف پلیٹ فارمز پر آزمایا جاتا ہے، ڈیٹا بیس کے مسلسل بڑھنے کے آثار ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ میلویئر اب بھی سرگرم ہو سکتا ہے۔

    ادھر گوگل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اس کے مطابق یہ ڈیٹا وقت کے ساتھ جمع کیے گئے انفوسٹیلر لاگز پر مشتمل ہے، گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خودکار نظام موجود ہیں جو متاثرہ کریڈنشلز کی نشاندہی کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو لاک کرتے اور پاس ورڈ ری سیٹ کرواتے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، مختلف سروسز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا پاس کیز استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں-

  • نئے سال کی آمد:گوگل کی خصوصی ڈوڈل کیساتھ مبارکباد

    نئے سال کی آمد:گوگل کی خصوصی ڈوڈل کیساتھ مبارکباد

    دنیا بھر میں نئے سال 2026 کے کی آمد پر گوگل نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خصوصی نیو ایئر ڈوڈل جاری کردیا ہے۔

    2025 کی اختتامی شام کے موقع پر متعارف کرائےت گئے گوگل کے اس تازہ ڈوڈل میں 2026 کے ہندسے رنگ برنگے غبارو ں، دلکش سجاوٹ اور کنفیٹی کے ساتھ نمایاں کیے گئے ہیں، جو خوشی، امید اور جشن کے احساس کو اجاگر کرتے ہیں انٹرایکٹو انداز میں تیار کیا گیا یہ ڈیزائن نہ صرف دیکھنے میں خوشنما ہے بلکہ نئے سال کی آمد کے پرجوش ماحول کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

    یہ خصوصی گوگل ڈوڈل دنیا کے مختلف خطّوں میں سرچ انجن کے ہوم پیج پر نمایاں کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ایک نیا سال شروع ہونے کو ہے اور پرانا سال اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، گوگل کا یہ تخلیقی اظہار ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کی خوشیوں میں اضافہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ گوگل دنیا بھر میں ہونے والے اہم واقعات، تعطیلات اور اہم شخصیات کو یاد کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ڈوڈل پو سٹ کرنے ایک منفرد انداز ہے، جس کے تحت گوگل اپنے ہوم پیج پر ایک مخصوص لوگو کے ذریعہ تہنیتی پیغام دیتا ہے۔

  • پاکستان کے یومِ آزادی پر گوگل نے اپنا ڈوڈل تبدیل کردیا

    پاکستان کے یومِ آزادی پر گوگل نے اپنا ڈوڈل تبدیل کردیا

    دنیا کے معروف ترین سرچ انجن گوگل نےپاکستان کے یوم آزادی 14 اگست کے موقع پر اپنا ڈوڈل تبدیل تبدیل کردیا ہے۔

    پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے گوگل نے اپنے ڈوڈل کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو آسمان پر لہراتے ہوئے دکھایا ہے جس کے پس منظر میں بادلوں کی صورت میں گوگل کا نام نظر آرہا ہے، گوگل اس سے قبل بھی پاکستان کے قومی دنوں پر خوبصورت اور منفرد ڈوڈل تبدیل کرتا رہا ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سرچ انجن گوگل پر دنیا بھر کے اہم مواقع، تہواروں، ایونٹس اور بین الاقوامی سطح پر ریکارڈز بنانے والی شخصیات کی مناسبت سے اکثر ڈوڈل تبدیل کیا جاتا ہے،اہم مواقع پرڈوڈل تبدیل کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی گوگل نے 14 اگست کے موقع پر اپنا ڈوڈل یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے ڈیزائن کیا ہے۔

    گوگل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 14 اگست 1947ء کو پاکستان نے آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ریاست بن گیا، یہ دن بانیانِ پاکستان کی قربانیوں اور خدمات کو یاد کرنے کا بھی موقع ہے۔

  • گوگل نے 10 سال بعد اپنے لوگو کے "G” حرف کا ڈیزائن تبدیل کر دیا

    گوگل نے 10 سال بعد اپنے لوگو کے "G” حرف کا ڈیزائن تبدیل کر دیا

    دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے تقریباً 10 سال بعد اپنے لوگو میں موجود انگریزی کے حرف "G” کا ڈیزائن تبدیل کر دیا ہے۔

    گوگل کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ تبدیلی چند دن قبل کی گئی اور اسے مرحلہ وار تمام صارفین کی ڈیوائسز پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نیا لوگو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو دکھائی دے رہا ہے، جبکہ جلد ہی یہ تبدیلی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر بھی لاگو کر دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق، گوگل کے نئے "G” لوگو میں رنگ اور فونٹ بنیادی طور پر پرانے ڈیزائن سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم حرف "G” کے شیپ میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو باریک بینی سے دیکھنے پر واضح ہوتی ہیں۔

    یہ تبدیلی 2015 کے بعد پہلا موقع ہے جب گوگل نے اپنے لوگو میں ترمیم کی ہے۔ اس سے قبل کمپنی اپنے مرکزی لوگو اور ذیلی سروسز جیسے گوگل کروم، جی میل، گوگل میپس، فوٹوز وغیرہ کے لوگوز میں وقتاً فوقتاً معمولی تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔گوگل کا آغاز 1998 میں ہوا تھا اور اب کمپنی اپنی 27 سالہ تاریخ میں متعدد بار اپنے لوگو کو اپڈیٹ کر چکی ہے، تاہم ہر بار تبدیلیاں انتہائی محتاط اور محدود دائرے میں کی جاتی رہی ہیں تاکہ برانڈ کی شناخت برقرار رہے۔

    پاکستان کی حمایت،بھارت نے ترک کمپنی کی سیکیورٹی کلیئرنس منسوخ کر دی

    پیٹرول اور ڈیزل سستا نہیں، مہنگا ہونے کا امکان

    پیٹرول اور ڈیزل سستا نہیں، مہنگا ہونے کا امکان

    اداکارہ نادیہ حسین کے شوہر کی مبینہ کرپشن،تحقیقات میں اہم پیش رفت

    یوٹرن،عمران خان نےایک اور فیصلہ واپس لے لیا

  • گوگل طلبہ  کو اے آئی ٹولز اور 2ٹی بی اسٹوریج بلکل مفت فراہم کرئے گا

    گوگل طلبہ کو اے آئی ٹولز اور 2ٹی بی اسٹوریج بلکل مفت فراہم کرئے گا

    گوگل نے امریکی طلبہ کیلئے بغیر کسی قیمت کے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور 2 ٹیرا بائٹ(TB) کلاؤڈ اسٹوریج فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اس منصوبے میں شامل سہولیات میں 2 ٹیرا بائٹ(TB) ڈیٹا رکھنے کی گنجائش، گوگل کا جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل "جیمینی ایڈوانسڈ” شامل ہے جو تحقیق، اسائنمنٹ اور تعلیم میں مدد فراہم کرتا ہے۔یہ سہولت ” گوگل ون اے آئی پریمیم” منصوبے کے تحت دی جا رہی ہے، جس کی اصل قیمت ہر ماہ تقریباً بیس ڈالر ہے۔ تاہم، اہل طلبہ کو یہ سہولت مکمل طور پر مفت دی جائے گی۔ اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے لیے طلبہ کو 30 جون 2025 سے پہلے رجسٹریشن کروانی ہوگی، اور ایک بار رجسٹریشن مکمل ہو جائے تو وہ جون 2026 تک ان تمام سہولیات سے مفت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ، مشکل موضوعات کو آسان خلاصے میں تبدیل کرنے کی سہولت، آواز میں رپورٹ سننے کا آپشن، ہوم ورک کے لیے قدم بہ قدم رہنمائی، گوگل ڈاکیومنٹس، شیٹس اور سلائیڈز میں مصنوعی ذہانت کی مدد، تحقیق اور تحریر کے لیے مخصوص ٹول "نوٹ بک ایل ایم پلس”، تحریر سے ویڈیو بنانے کا جدید ماڈل "ویو 2″، تصویری اور تحریری مواد کو یکجا کرنے کا فیچر "وسک”، اور حقیقی وقت میں بات چیت، آئیڈیاز کی منصوبہ بندی اور لکھائی کے لیے "کینوس” اور "جیمینی لائیو” جیسی زبردست سہولیات شامل ہیں۔

    ان تمام سہولیات حاصل کرنے کے لیے طلبہ کو اپنی تعلیمی حیثیت ثابت کرنا ہوگی، جس کے لیے ایک درست تعلیمی ای میل ایڈریس (.edu) درکار ہوگا۔ گوگل کی جانب سے منصوبہ ختم ہونے سے پہلے ای میل کے ذریعے یاددہانی بھی بھیجی جائے گی تاکہ طلبہ چاہیں تو اس سہولت کو جاری رکھ سکیں۔خیال رہے کہ گوگل کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں بھی امریکا اور کینیڈا کے طلبہ کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔

    ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کو روانہ کرنے کا سلسلہ جاری

    امریکہ نے ایک ہزار غیرملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے

    گڈز ٹرانسپورٹرز ہڑتال، کراچی چیمبر کا وزیراعظم سے مداخلت کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا میں بارش اور ژالہ باری سے گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے

    علیمہ گالیاں دلوا رہی ، اب مزید چپ نہیں رہوں گا، شیرافضل مروت