امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے کے بعد اپنے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کردی ہیں، کیونکہ حریف ٹیک گروپ مطلوبہ گنجائش فراہم نہیں کر سکا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزکے مطابق الفابیٹ کی ملکیت گوگل نے مارچ کے قریب میٹا کو بتایا کہ وہ جیمینائی کی وہ مکمل صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا جو کمپنی خریدنا چاہتی تھی اس کمی کے باعث میٹا کے بعض اندرونی اے آئی منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر ہوئی، گوگل کے کئی دیگر کلائنٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان پر اثر نسبتاً کم رہا، میٹا خاص طور پر متاثر ہوا کیونکہ گوگل کے ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اثر میٹا پر پڑا کیونکہ اس کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی ان پابندیوں کے بعد میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کا زیادہ محتاط اور مؤثر استعمال کریں۔ اے آئی ٹوکنز وہ یونٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار ناپی جاتی ہے۔
رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا، جس میں معاملے سے آگاہ افراد کا حوالہ دیا گیا ہے گوگل اور میٹا نے کاروباری اوقات کے بعد تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے باعث میٹا نے اپنے عملے کو اے آئی ٹوکنز، یعنی اے آئی استعمال کی پیمائش کرنے والی اکائیوں کے زیادہ مؤثر استعمال کی ترغیب دی ہے کمپنیاں چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود وہ اے آئی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔
مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سی ای او سندر پچائی نے کہاکہ کمپیوٹنگ پاور کی پابندیوں نے اس سے بھی زیادہ ترقی کو روک دیا اور کلاؤڈ یونٹ کے بیک لاگ میں سہ ماہی بنیاد پر قریباً دو گنا اضافے میں کردار ادا کیا۔
