Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی ہم منصب کی حالیہ تقریر کے بعد انہیں خبردار کردیا۔

    باغی ٹی وی : روسی صدر پیوٹن نے گزشتہ روز یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اوراس موقع پر انہوں نے ان علاقوں کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بھی دھمکی دی۔

    روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرکے ایک مثال قائم کی ہے یوکرین کے جن علاقوں سے الحاق کیا گیا وہ اب ہمیشہ روس کا حصہ رہیں گے۔

    روسی صدر کےبیان پر امریکی صدر نے اپنے رد عمل میں پیوٹن کو ایک لاپرواہ شخص قرار دیا اور کہا کہ پیوٹن ہمیں ڈرا نہیں سکتے، امریکا اور اس کے اتحادی خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے دوران جوبائیڈن نے روسی صدر کو وارننگ دی اور براہ راست پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے انگلی کیمرے کی طرف کی۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک

    امریکی صدر جو بائیڈن نے پیوٹن کو دھمکی دی کہ دنیا ان کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور یہ کہ واشنگٹن یوکرین کے علاقوں زابوریجیا، خیرسن، ڈونیسٹک اور لوگانسک کے روس سے الحاق کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ نیٹو کی سرزمین کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہے، مسٹر پیوٹن آپ اسے غلط مت سمجھیں جو میں کہہ رہا ہوں، ایک انچ۔

    انہوں نے کہا کہ پیوٹن کسی پڑوسی ملک کی سرزمین پر قبضہ نہیں کر سکتے اور ان کے بقول اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے روسی صدر یوکرین کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہیں اور انہوں نے اپنے ہم منصب کے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیا۔

    بائیڈن کا خیال تھا کہ پیوٹن واشنگٹن پر نارڈ سٹریم گیس پائپ لائن کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگا کر جھوٹ بنا رہے ہیں۔ ان کا ملک روس کے خطرات سے اپنے تمام نیٹو اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے تیاری کا اعلان کر رہا ہے۔

    نیٹوکے سیکرٹری جنرل نے روس کے اس الحاق کوانتہائی سنگین قرار دیا ہے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے 4 خطوں کو اپنے ملک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ماسکو سے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تقریب میں روسی صدر نے یوکرین کے 4 خطوں کے روس کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ‘یہ لاکھوں افراد کی مرضی ہے اور اب یہ چاروں روس کے نئے خطے بن چکے ہیں’۔یہ اعلان یوکرین کے ان خطوں میں ایک ریفرنڈم کے بعد کیا گیا جس کے نتائج میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 99 فیصد عوام روس کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔پانچ روز جاری رہنے والی پولنگ کے نتائج کو یوکرین اور مغربی ممالک نے مسترد کر دیا تھا۔

    روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ڈونیٹسک،لوہانسک، خیرسون اور زاپورزیا خطوں کے عوام اب ہمارے ہم وطن بن گئے ہیں’۔انہوں نے یوکرین پر فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر زور دیا۔اس الحاق کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب یہ جنگ اس سرزمین پر لڑی جارہی ہے جسے روس نے اپنا قرار دیا ہے۔

    گزشتہ دنوں روسی صدر نے کہا تھا کہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ضرورت ہوئی تو ہم جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کی حکومت نے روس کے قبضے میں چلے جانے والے مقامات کو دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ان خطوں کے الحاق کا فیصلہ مذاکرات کے امکان کو ختم کردے گا۔

     

    یوکرین میں سویلین قافلے پر روسی حملے میں 23 افراد ہلاک ہوگئے۔امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق یہ حملہ یوکرین کے جنوبی ریجن زاپوریزیا میں کیا گیا جس میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔

    یہ تمام افراد مشترکہ طور اسی ریجن میں روس کے زیر قبضہ علاقے میں پھنسے ہوئے اپنے رشتہ داروں کو نکالنے جارہے تھے۔روس کی جانب سے سویلین قافلے پر ایس 300 سسٹم سے 16 میزائل داغے گئے۔یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب روسی صدر پیوٹن بہت جلد یوکرین کے اس خطے سمیت دو علاقوں خرسون اور زاپوریزیا کو خودمختار حیثیت قرار دینے کی دستاویز پر دستخط کرنے والے ہیں۔

     

     

    ان علاقوں میں روس نے ایک متنازع ریفرنڈم کا انعقاد کرایا تھا جس پر یوکرین اور مغربی ممالک نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل روس فروری میں ڈونسٹک اور لنشک کو بھی خودمختار علاقے قرار دینے کا اعلان کرچکا ہے۔

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • یو کرین مقبوضہ علاقوں میں روس نواز رہنماؤں کا روس سے الحاق کا مطالبہ

    یو کرین مقبوضہ علاقوں میں روس نواز رہنماؤں کا روس سے الحاق کا مطالبہ

    یوکرین کے لوگانسک اور خیرسن خطوں کے روس نواز رہنماؤں نے بدھ کو صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان علاقوں کا ماسکو کے ساتھ الحاق کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : روس نے یوکرین کے قابض علاقوں پر اب اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی ہے لوگانسک اور خیرسن خطوں کے کریملن کے حامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے ان علاقوں کے رہائشیوں نے ریفرنڈم میں روس سے الحاق کی حمایت کی ہے۔

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    یوکرین کے روس کے قبضے میں جانے والے علاقے لوگانسک کے روس نواز رہنما لیونیڈ پاسیچنک نے صدر پیوٹن سے الحاق کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں کے باشندے آٹھ سالوں سے یوکرینی فوج کے حملوں کی زد میں ہیں۔

    روس نے اسی سال جزیرہ نما کرائمیا پر بھی قبضہ کر کے روس کے ساتھ الحاق کر لیا تھاپاسیچنک نے ایک بیان میں صدر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم میں جمہوریہ کی آبادی کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ لوہانسک کو روسی فیڈریشن کا حصہ بنانے پر غور کریں۔

    پاسیچنک کے اس اعلان کے فوری بعد یوکرین کے جنوبی خطے خیرسن علاقے کے روس نواز رہنما ولادیمیر سالڈو کی جانب سے بھی اسی طرح کی اپیل کی گئی۔ اس خطے کو روس نے رواں سال فروری میں حملے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

    سالڈو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ہماری عوام نے تاریخی ریفرنڈم میں روسی فیڈریشن کی کثیر القومی آبادی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تمام لوگ قانون کی نظر میں برابر ہیں-

    حالات نےمجبورکیا توجوہری ہتھیاراستعمال کرنےسےگریزنہیں کریں گے:روس

    ادھر جرمنی نے کہا ہے کہ روس کے مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں ہونے والے روس سے الحاق کے ریفرینڈم کے نتائج کو وہ کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

    جرمنی کے چانسلر اولف شولز نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو فون کال پر بتایا کہ جرمنی اس جعلی ریفرینڈم کے نتائج کبھی قبول نہیں کرےگاجنوب میں خیرسن اور زیپوریژیا اور مشرق میں دونیتسک اور لوگانسک کےعلاقےروس اور کرائمیا کے درمیان ایک زمینی راہداری بناتے ہیں۔

    روس نے جزیرہ نما کرائمیا کو 2014 میں ضم کر لیا تھا۔ مجموعی طور پر یہ علاقے یوکرین کے رقبے کا 20 فیصد بنتے ہیں۔ ریفرینڈم کے بعد یوکرین نے یورپی یونین اور نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کریں اور یوکرین کے لیے مزید فوجی امداد بھیجیں۔ یہ مطالبہ روس کی اس دھمکی کے باوجود آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے حملوں کے خلاف ایٹمی اسلحہ استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکا کا پاکستان کو مزید 10 ملین ڈالر دینے کا اعلان

  • روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم ویکٹر اوربن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں واشنگٹن سے بات چیت کرے۔انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوربن نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا خود یورپی ملکوں پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔

    حال ہی میں ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی روس کے خلاف پابندیوں کے یورپ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر ان پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے روسی گیس کے متبادل کے فقدان کی بنا پر ہنگری ہمیشہ ان پابندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک میں توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے ان ممالک کے عوام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ دنیا گزشتہ دو سال تک کورونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہوکر لاک ڈاؤن کے باعث بد ترین معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ معاشی استحکام کی طرف لوٹ رہی تھی کہ رواں سال کے آغاز میں روس یوکرین جنگ نے اس معاشی بحران کو دوچند کر دیا ہے، دنیا بھر میں بڑھتے مہنگائی کے رجحان نے اس کرہ ارض پر غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

    یورپی شہریوں نے فالتو اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد اب وہ صرف ضروری اشیا کی خریداری پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ افراطِ زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اب اشیائے خورونوش کی منڈیوں اور تیل کے ساتھ ساتھ کارسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں بھی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس 27 رکنی یورپی یونین کو مجموعی طور پر 7 فیصد سے زائد افراطِ زر کا سامنا ہوگا۔ مختلف یورپی ممالک میں مچھیروں اور کسانوں نے مجموعی مہنگائی کے تناظر میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مال بردار ریل گاڑیوں اور سامان بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی آئی ہے۔

    خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ استعمال کے لیے روٹی کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہوچکی ہیں اور خاص طور پر پولینڈ سے بیلجیم تک اشیائے خورونوش کی دکانوں پر بریڈ مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ، پولینڈ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد بعض یورپی حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی امداد کے اشارے بھی دیے ہیں۔

    اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں امریکا نواز حکومتیں قائم ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • امریکی کانگریس ارکان کا  یوکرین کو 12 ارب ڈالر فوجی اوراقتصادی امداد دینے پراتفاق

    امریکی کانگریس ارکان کا یوکرین کو 12 ارب ڈالر فوجی اوراقتصادی امداد دینے پراتفاق

    امریکا یوکرین کو سویلین سکیورٹی امداد کے لیے 45 کروڑ ڈالرز سے زائد رقم دے گا۔

    باغی ٹی وی :سکائی نیوز کے مطابق امریکی ارکان کانگریس نے یوکرین کو 12 ارب ڈالر فوجی اوراقتصادی امداد دینے پراتفاق کرلیا۔ بائیڈن انتظامیہ کی درخواست پر کانگریس کا حالیہ فیصلہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں امریکی پارٹیوں کی کیف کیلئے حمایت کی عکاسی کر رہا ہے۔

    امریکا کا پاکستان کو مزید 10 ملین ڈالر دینے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق اس امداد میں 4.5ارب ڈالر سے یوکرین کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اس میں سے 2.7 ارب ڈالر سے فوجی، انٹیلی جنس اور دیگر دفاعی سازو سامان بھی یوکرین کو دیا جائے گا۔

    اس امداد میں وہ 4.5 ارب ڈالر بھی شامل ہوں گے جن کے ذریعہ یوکرین میں اگلی سہ ماہی کے دوران حکومت کے بجٹ کو براہ راست سپورٹ کیا جائے گا۔

    امریکا نے فوجی امداد کے بعد یوکرین کو سویلین امداد دینے کا بھی کہا ہے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکا یوکرین کو 45 کروڑ 75 لاکھ ڈالرز کی سویلین امداد فراہم کرے گا سویلین امداد یوکرین کے جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ہوگی۔

    روس سے الحاق کیلئے یوکرین کے 4 صوبوں میں ریفرنڈم:روس ہمارا مرکز ہوگا:شہریوں کی…

    ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کی انتظامیہ کو ملازمین کی ضروری تنخواہوں کی ادائیگی ، تنازعات سے فرار ہونے والے شہریوں کی مدد اور دیگر اخراجات کیلئے یہ رقم ادا کی جارہی ہے۔

    واضح رہے اس ماہ بائیڈن نے کانگریس سے کہا تھا کہ وہ یوکرین کو 11.7 ارب ڈالر مالیت کی نئی ہنگامی فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کرنے کی منظوری دے۔ یہ ادائیگی عارضی اخراجات کے بل کے تحت کی جائے۔

    خیال رہے یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے امریکا اور یورپی ممالک یوکرین کی مدد کر رہے ہیں 7 ماہ سے جاری جنگ میں واشنگٹن پہلے ہی اپنے اتحادی یوکرین کو اربوں ڈالر کی سکیورٹی اور اقتصادی امداد بھیج چکا ہے-

    پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں،امریکی انٹیلی جنس

  • پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں،امریکی انٹیلی جنس

    پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں،امریکی انٹیلی جنس

    امریکی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں-

    باغی ٹی وی : امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج اس بات پر منقسم ہے کہ اس ماہ میدان جنگ میں یوکرین کی غیر متوقع پیش قدمی کا مقابلہ کیسے کیا جائے ماسکو مشرق اور جنوب دونوں میں اپنے آپ کو دفاعی انداز میں تلاش کر رہا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن خود میدان میں موجود جرنیلوں کو براہ راست ہدایات دیتے ہیں۔ یہ انتظامی حربہ جدید فوج میں انتہائی غیر معمولی ہے ان ذرائع نے عندیہ دیاکہ پیوٹن کی مداخلت قیادت کے ڈھانچے میں خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کو دوچار کیا۔

    ان ذرائع میں سے ایک نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ روسی افسران کی بات چیت کی مداخلت سے آپس میں دلائل اور ماسکو سے فیصلے کے ماخذ کے بارے میں گھر واپس آنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کی شکایات سامنے آئیں۔

    روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا قرار دیدیا

    انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ فوجی رہنماؤں کے ساتھ فوجی حکمت عملی پر بڑے اختلافات ہیں جو اس بات پر متفق ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ دفاعی خطوط کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششوں کو کہاں مرکوز کیا جائے۔

    روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شمال مشرق میں خارکیف کی طرف افواج کو دوبارہ تعینات کر رہا ہے، جہاں یوکرین نے سب سے زیادہ ڈرامائی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن امریکی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی افواج کا بڑا حصہ جنوب میں موجود ہے، جہاں یوکرین بھی موجود ہے اور آپریشن کر رہا ہے۔

    نیٹو کے ایک سینیر اہلکار نے کہا ہے کہ’ماسکو میں حکام روس کی پسپائی کے لیے دیگر عوامل کو موردِ الزام ٹھہرانے میں جلدی کر رہے ہیں کریملن کے حکام اور سرکاری میڈیا کے تجزیہ کار خارکیف میں ناکامی کی وجوہات پر بے تکلفی سے بحث کر رہے ہیں اور ایک مثالی انداز میں ایسا لگتا ہے کہ کریملن پیوٹن اور روسی فوج سے جنگی جرائم کےالزامات ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    روس کا ایک بار پھر یوکرین کے جوہری پلانٹ پر حملہ

  • روس کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کو ختم کیا جائے،یوکرینی صدر کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

    روس کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کو ختم کیا جائے،یوکرینی صدر کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

    یوکرینی صدر ولادیمیرزیلنسکی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ روس کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کو ختم کیا جائے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر نے اقوام متحدہ سے روس کو یوکرین پر حملے کی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو حملے سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے کا پابند بنایا جائے۔

    صدرزیلنسکی نے ایک خطاب میں کہا ہے کہ نہ صرف روس پر مالی جرمانہ عائد کیا جائے بلکہ سزا کے طور پر یو این سلامتی کونسل میں اس کی ویٹو پاور کو بھی ختم کیا جائے یوکرین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور ہم فوری طور پر روس کے لیےسزا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں فوج کو مزید متحرک کرنے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی تھی روسی صدر نےمزید تین لاکھ فوجیوں کو بھی جنگ میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یوکرین کے متعدد علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان،امریکا کی روس کو سنگین نتائج کی دھمکی

    سرکاری ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں روسی صدر پوٹن نے روسی افواج کو متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک روس کے خلاف نیوکلیئر بلیک میلنگ میں اپنی حدوں سے آگے بڑھ گئے۔

    صدر پوٹن نے مغربی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ روس اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا۔ ہمارے پاس مغربی جارحیت کا جواب دینے کے لیے بہت ہتھیار ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک نے یوکرین کو جنگ میں دھکیلا جب کہ روس کا مقصد ڈونباس کو آزاد کرانا ہے۔ مغرب یوکرین اور روس کے درمیان امن نہیں چاہتا اور روس یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔

    روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا قرار دیدیا

  • روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا قرار دیدیا

    روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا قرار دیدیا

    ماسکو: روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی صدارتی دفترکریملن نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ یوکرینی شہر ازیوم میں شہریوں کی اجتماعی قبریں ملنےکی خبریں جھوٹ ہیں۔

    روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

    کریملن نے کہا کہ روسی فوج شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    اس سے قبل یوکرین نے پچھلے ہفتے ازیوم میں سیکڑوں اجتماعی قبریں ملنےکا دعویٰ کیا تھا یوکرین کے علاقے خار کئیف کے شہر ایزوم میں روسی فوج پر مغربی دنیا اور یوکرین کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کی سیٹلائٹ تصاویرسامنے آئی تھیں سامنے آنے والی تصاویر میں درختوں کے درمیان اجتماعی قبر میں لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی تھیں-

    تصاویر میں روسی فوج کے انخلا سے پہلے اور بعد کے جنگل کے مناظر دکھائے گئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ درختوں کے درمیان اجتماعی قبر کھودی گئی تھی لاشوں کے یہ مناظر اس وقت سامنے آئے جب مقامی حکام نے قبر سے سینکڑوں لاشیں نکالنا شروع کیں جن میں کچھ کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بعض کے گلے میں پٹے تھے۔

    روس کا ایک بار پھر یوکرین کے جوہری پلانٹ پر حملہ

    یوکرین کے اہلکاروں نے قبر کی جگہ کو کھودنا شروع کیا تو درختوں کے درمیان تقریبا 200 لاشیں بکھری ہوئی تھیں خار کئیف کے گورنر نے کہا تھا یہ ایک اجتماعی قبر ہے لاشوں کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے ہیں، حکام تحقیقات کریں گے اور اس معاملہ سے قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یہ قبرستان روسی جنگی جرائم کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ بہت سی لاشیں شمال مشرق میں دیگرمقامات پربھی مدفون ہیں اس صورتحال میں غیرملکی طاقتیں یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی بڑھائیں۔ جنگ کے نتائج کا انحصار باہر سے ہتھیاروں کی ترسیل کی رفتار پر ہے۔

    انہوں نے کہا یہاں 450 لاشوں کو دفن کیا گیا تھا کہ لیکن بہت سے مقامات پر الگ الگ طور پر بھی لوگوں کو قتل کرکے دفنایا گیا ہے۔ ملنے والی ان لاشوں کی حالت سے واضح ہے کہ ان لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سے پورے خاندان غائب ہیں۔

    خیال رہے کہ یوکرین نے رواں ماہ ازیوم شہرکا قبضہ روسی فوج سے واپس حاصل کیا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فروخت کرنا اخلاقی طور پر درست ہے،پوپ فرانسس

  • چین نے حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا

    چین نے حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکی افواج تائیوان کا دفاع کریں گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر تائیوان پر کوئی غیر معمولی حملہ کیا گیا تو ہم ضرور جواب دیں گے۔

    روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

    امریکی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے تائیوان کے حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے تائیوان کی سیکیورٹی کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے۔

    بائیڈن نے کہا امریکہ کافی عرصہ سے ہی ’’ون چائنہ پالیسی‘‘ سے اتفاق کرتا ہے۔ تائیوان اپنی آزادی کا فیصلہ خود کرتا ہے، ہم تائیوان کی آزادی کیلئے متحرک ہیں نہ اس کی حوصلہ افزائی کررہے ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ان سے پھر پوچھا گیا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملے کا فیصلہ کیا تو کیا امریکی مردو خواتین تائیوان کا دفاع کریں گے تو جواب میں بائیڈن نے ہاں میں جواب دیا۔

    بائیڈن کے اس انٹرویو کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعہ نے کہا کہ امریکی پالیسی باضابطہ طور پر تبدیل نہیں ہوئی۔ امریکہ یہ نہیں بتائے گا کہ وہ جزیرہ تائیوان کا دفاع کرے گا یا نہیں تاہم یہ مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کا اپنا فیصلہ ہے۔

    دوسری جانب یوکرین اورروس کے درمیان جاری جنگ سےمتعلق امریکی صدر نے کہا روسی صدر پیوٹن ہمارے ارادے کو توڑ نہیں سکتا۔ امریکہ یوکرین کی اس وقت تک مدد کرتے رہے گا جب تک اسے ضرورت رہے گی۔

    افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی کیلئے چین نے پھرمطالبہ کردیا

    امریکی صدر بائیڈن نے کہا یوکرین جنگ نہیں ہار رہا بلکہ کچھ علاقوں میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یوکرین کو دی جانے والی بڑی امداد اور یوکرین عوام کی بے مثال بہادری اور عزم ہے۔

    امریکی صدر نے کہا روس کی یوکرین سے مکمل بے دخلی اور اس کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور یوکرینی عوام کا روس کو ہزیمت کا شکار کرنا ہی جنگ میں یوکرین کی کامیابی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان حالات سےمعلوم ہوگیا کہ روس اتنا اہل اور قابل نہیں جتنا لوگ اس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ روس یوکرین کے بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہا اور وہاں پر تباہی پھیلا رہا، اس سب کو فتح نہیں کہاجاسکتا بلکہ یہ تو ایک گھناؤنی حرکت ہے، اسے فتح سمجھنا مشکل ہے۔

    خیال رہے کہ چند ماہ پہلے چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تائیوان کا سوال خالصتاً چین کا اندرونی معاملہ ہے، جس میں کسی غیر ملکی مداخلت کا جواز نہیں۔

    بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا،کینیڈا میں ریفرنڈم آج ہوگا

  • روس کا ایک بار پھر یوکرین کے جوہری پلانٹ پر حملہ

    روس کا ایک بار پھر یوکرین کے جوہری پلانٹ پر حملہ

    کیف: روس نے ایک بار پھر یوکرین میں واقع یورپ کے سب سے بڑے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی :بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے جنوبی علاقے میں جوہری پلانٹ زاپوریژیا پر میزائل حملہ کیا میزائل لگنے سے جوہری پلانٹ کے کئی حصوں کو نقصان پہنچا اور سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔

    روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

    یوکرین کے وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے جوہری پلانٹ میں موجود ریکٹرز سے میزائل محض 300 میٹر کی دوری پر گرے جس سے زوردار دھماکا ہوا اور ہر طرف دھواں پھیل گیاخوش قسمتی سے کوئی میزائل ریکٹرز کو نہیں لگا ورنہ یوکرین بڑی تباہی کا شکار ہوجاتا –

    روس نے زاپوریژیا جوہری پلانٹ پر دو شہروں سے پسپا ہونے اور دس روز میں 4 جیٹ طیاروں کے یوکرین میں لاپتہ ہونے کے بعد کیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب روس نے یوکرین کے جوہری پلانٹ کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل بھی ایک حملے میں جوہری پلانٹ کی بجلی کئی دن تک معطل رہی تھی اور ایک حصے میں آگ بھی لگ گئی تھی روس نے عالمی برادی کے انتباہ کے باوجود جوہری پلانٹ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور صرف گزشتہ ماہ 3 حملے کیے تھے۔

    یوکرین کو ہتھیار فروخت کرنا اخلاقی طور پر درست ہے،پوپ فرانسس

    حال ہی میں امریکا کے صدر جو بائیڈن نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روس کو خبردار کیا کہ وہ یوکرین جنگ میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال نہ کرے۔اگر روس نے ایسا کیا تو اس سے جنگ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔

    صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ روس کی جانب سے کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج ہوں گےایسے کسی بھی اقدام کا جواب دیا جائے گا لیکن وہ کیا ہوگا اس کی تفصیل بتانا قبل از وقت ہوگا۔

    انہوں نے کہاتھا کہ روس انتہا کی کارروائی کرے گا اس کی جوابی کارروائی بھی اسی شدت کی ہوگی۔یوکرین کیخلاف جنگ روسی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی۔

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل…