Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    ماسکو:متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ یوکرین کی سرحد کے قریب پولینڈ پر مارے جانے والے میزائل کے بارے میں "غیر ذمہ دارانہ بیانات” دے کر ان کے ملک اور نیٹو کے درمیان براہ راست تنازعہ کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

    یہ میزائل منگل کو پولینڈ کے ایک دیہی علاقے میں گر کر تباہ ہوا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ نیٹو نے میزائل کی شناخت ایک آوارہ پراجیکٹائل کے طور پر کی ہے جو کہ "غالباً” غلطی سے یوکرین کی طرف سے فائر کیا گیا تھا، اس نے کہا کہ روس بالآخر ذمہ دار ہو گا کیونکہ اس نے جنگ شروع کی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل یوکرین کا تھا، اس کی حتمی ذمہ داری روس پر عائد ہوگی۔

    لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ میزائل یوکرین کی طرف سے داغا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اعلیٰ کمانڈروں سے یقین دہانی ملی ہے کہ "یہ ہمارا میزائل نہیں تھا۔”

    بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیبنزیا نے کہا کہ اس طرح کے بیانات "بالکل غیر ذمہ دارانہ” ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ میٹنگ طے شدہ نہ ہوتی تو اسے یوکرین اور پولینڈ کی روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم پر اکسانے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے بلانا پڑتا۔

    نیبنزیا نے زیلنسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ بیانات ایک ایسے شخص کی طرف سے آئے ہیں جو یہ معلومات حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ یوکرین کے میزائل تھے جو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فائر کیے گئے تھے جو پولینڈ کی طرف اڑ گئے تھے۔”

    روسی ایلچی نے مزید کہا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف جان بوجھ کر غلط معلومات نہیں پھیلانا تھا بلکہ نیٹو کو، جو یوکرین میں روس کے ساتھ پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، کو ہمارے ملک کے ساتھ براہ راست تصادم میں ملوث ہونے کے لیے اکسانے کی شعوری کوشش تھی۔”

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • روسی میں تباہ شدہ دنیا کے سب سے بڑے طیارے کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ

    روسی میں تباہ شدہ دنیا کے سب سے بڑے طیارے کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ

    کیف: روسی حملے میں تباہ ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا مسافر بردار طیارہ اب دوبارہ بنایا جائے گا،این اے 255 نامی یہ ہوائی جہاز یوکرین پر روسی حملے کے دوران اسوقت تباہ ہوگیا تھا جب اس کی تعمیر جاری تھی۔

    باغی ٹی وی : اس سال فروری میں کیو شہر کے ہینگر میں زیرِ تعمیر اینتونوف اے این 225 طیارہ روسی بمباری سے تباہ ہوگیا تھا، لیکن اس کی کمپنی نے ہار نہ مانتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے کمرشل مسافر بردار طیارے کی دوبارہ تعمیر کا عزم کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ بنانے پر باقاعدہ کام شروع ہوچکا ہے۔

    یورپی یونین نے ایرانی وزیرداخلہ، سرکاری ٹی وی سمیت 29 شخصیات اور اداروں پر…

    اس جہاز کا نام ’مرییا‘ رکھا گیا جس کے یوکرینی زبان میں ’خواب‘ کے معنی ہیں۔ 1980 کے عشرے میں اسے روسی خلائی شٹل کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کی لمبائی 84 میٹر تھی اور یہ دنیا کا سب سے وزنی طیارہ بھی تھا۔

    یہ دنیا کا سب سے بڑا کارگو ٹرانسپورٹر تھا، جس میں بوئنگ 747 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہولڈ صلاحیت تھی، جس نے خود ساختہ ایویجیکس میں کلٹ کا درجہ حاصل کیا اس میں کسی بھی مکمل طور پر چلنے والے ہوائی جہاز کے پروں کی لمبائی سب سے زیادہ ہے۔ آج تک، یہ اب تک بنایا گیا سب سے بھاری طیارہ ہے۔

    انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    اس سال 27 فروری کو روسی حملے میں یہ جہاز تباہ ہوگیا جس کی ناک بری طرح تباہ ہوچکی ہے تاہم اپریل تک اس پر مزید بم گرے اور وہ مکمل طور پر برباد ہوگیا۔ اس کے انجن اور بازوؤں کو بھی شدید نقصان پہنچا تاہم پچھلا حصہ محفوظ رہا۔ تاہم اس موقع پر این اے 255 کی بحالی پر 50 کروڑ ڈالر کی رقم خرچ ہوگی کیونکہ اس کے 30 فیصد پرزے مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس نے ہمارے ‘مرییا’ کو تباہ کر دیا ہے لیکن وہ کبھی بھی ایک مضبوط، آزاد اور جمہوری یورپی ریاست کے ہمارے خواب کو تباہ نہیں کر سکے گا۔

    اینٹونوف کمپنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ طیارے کی حالت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے تاہم، پیر کے روز، کمپنی نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ تعمیر نو کا منصوبہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، جس میں "ڈیزائن کا کام” شروع ہو چکا ہے۔ جبکہ اس نے مرمت کے اخراجات کا تخمینہ لگایا تھا، کمپنی نے "فتح کے بعد” مزید معلومات کا وعدہ کرتے ہوئے اسے دوبارہ ہوا میں واپس لانے کے لیے €500 ملین ($502 ملین) سے زیادہ کے بل کی پیش گوئی کی۔

    اس نے اعلان کیا کہ کمپنی کے پاس پہلے سے ہی تقریباً 30 فیصد اجزاء ہیں جو ایک نیا طیارہ بنانے کے لیے درکار ہیں۔

    یوکرین پر میزائل حملوں کے دوران پولینڈ کے اندر بھی ایک میزائل دھماکہ ،دو افراد…

    اصل میں، یوکرین کی ریاستی دفاعی کمپنی یوکروبورون پروم، جو انتونوف کا انتظام کرتی ہے، نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں بحالی کا تخمینہ 3 بلین ڈالر سے زیادہ تھا جو اس نے روس کو ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وقت کہا گیا کہ دوبارہ تعمیر میں کم از کم پانچ سال لگیں گے۔

    تاہم یوکرین روس جنگ اور شدید مالی مشکلات کی وجہ سے کمپنی نے عالمی اداروں سے مالی مدد کی اپیل بھی کی ہے۔

  • یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

    یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روسی پسپائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ میں روس کے لیے جنگی حکمت کے حوالے سے اہم شہر خیرسن سے فوجی پسپائی کےاعلان پرکہا کہ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ روس اور روسی فوج کو یوکرین کے ساتھ جنگ لڑنے میں حقیقی طور پر مسائل درپیش ہیں۔

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    صدر جو بائیڈن نے کہا ہمیں امید ہے کہ ہم خارجہ پالیسی کے میدان میں روس کے یوکرین پرحملے کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کے جوابی حملوں میں شدت کے پیش نظر بدھ کے روز دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے خیرسن شہر سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ روس کے اس فیصلے کو روس کے لیے پسپائی اور ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    روسی وزارت دفاع نے یہ فیصلہ یوکرین کے قبضے میں لیے گئے شہر خیرسن کے نزدیک یوکرین کے حالیہ حملوں سے اپنے فوجی نقصان کو بچانے کی غرض سے کیا ہے۔

    خیرسن ان چار یوکرینی علاقوں میں سے ایک ہے جنہیں روس نے جاری جنگ کے دوران قبضے میں لیا اور بعد ازاں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے ان علاقوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا مبصرین روسی فوج کو اس علاقے سے پسپائی کے لیے ملنے والے احکامات کو روس کی یوکرین کے مقابلے میں بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ کہ روسی فوج اس علاقے میں یوکرینی حملوں کا جواب دینے اور انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے۔

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    واضح رہے روس نے یوکرین پر 24 فروری کو حملہ کیا تھا۔ اب اس جنگ کو نو ماہ ہونے کو ہیں لیکن یوکرین مغربی اور امریکی حمایت کے سبب مسلسل روسی افواج کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    روس کی اس جنگ کی کمان کرنے والے جنرل سرگئی سروی کن نے اس روسی فیصلےکے بارے میں کہاکہ یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ روسی فوج کی طرف سے خیرسن شہرکو سپلائی جاری رکھی جاتی انہوں نے تجویز کیا ہے کہ روس نے دریا کے مشرقی کنارے پر دفاعی پوزیشن قائم کرے۔

    یہ روسی فیصلہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یوکرینی فوج کی پیش قدمی اور روس کی طرف سے ایک لاکھ کے قریب شہریوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنےکا بتایا گیا تھا۔

    روسی کمانڈر نے کہا تھا کہ ہمارے لیے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانا زیادہ ضروری ہے’۔ ‘ہم اپنے فوجیوں کی جان اور لڑنے کی صلاحیت کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے ان کو دریا کے مغربی کنارے پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اب ان میں سے بعض کو دوسرے محاذوں پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

    روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

  • روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    کیف:یوکرین اور اتحادی اس بات پر خائف ہیں کہ ان کا مقابلہ افغآن مجاہدین سے ہورہا ہے اور یوکرین میں روس کی فتوحات کے پیچھے روس کے لیے لڑنے والے افغان مجاہدین ہیں جوماضی میں روس کے خلاف لڑتے رہے لیکن یہ افغان روس کے بہت زیادہ قریبی اتحادی ہیں ،
    طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے سے قبل افغان فوج کے سابق جرنیلوں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سابق افغان فوجیوں کو بھرتئ کرکے انہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں جھونک رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’’وائس آف امریکا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے تربیت حاصل کرنے والے سابق افغان فوجی ایران اور دیگر پڑوسی ملک چلے گئے تھے۔ اعلیٰ ترین عکسری تربیت کے حامل یہ سابق فوجی اب روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

    روس کی جانب سے ان سابق فوجیوں کو ڈیڑھ ہزار امریکی ڈالر ماہانہ کے علاوہ محفوظ پناہ گاہوں کی پیش کش بھی کی گئی ہے، تاکہ وہ اور ان کے گھر والے افغانستان نہ جاسکیں۔

    سابق افغان حکومت میں فوج کے جنرل عبدالرؤف ارغندیوال نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کو ویگنر گروپ نامی ایک روسی گروپ بھرتی کررہا ہے۔ یہ سابق افغان فوجی روس کی جنگ لڑنا نہیں چاہت، لیکن ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔

    طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے افغان فوج کے آخری سربراہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کو سابق افغان فوجیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار کی معاونت بھی حاصل ہے جو کہ فوجیوں سے ان کی اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے۔

  • روس نے امریکی اور یورپی تجارتی سیٹلائٹس تباہ کرنے کی دھمکی دیدی

    روس نے امریکی اور یورپی تجارتی سیٹلائٹس تباہ کرنے کی دھمکی دیدی

    ماسکو: روس نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکا اوریورپی ممالک نے یوکرین جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کی تو خلا میں موجود ان کے قیمتی تجارتی سیٹلائٹ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    روسی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئرآفیشل نے کہا ہے کہ امریکا اوراس کے اتحادیوں نے اگریوکرین جنگ میں قدم رکھا تو ان ممالک کے سیٹلائٹ کو نشانہ بنانا جائزہوگا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی؛کاروباری طبقہ انتہائی پریشان

    واضح رہے کہ گزشتہ برس روس نے اپنے سیٹلائٹ شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ روس نے اس میزائل سے اپنے ہی ایک پرانے سیٹلائٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس سیٹلائٹ شکن نظام پر مہارت رکھتا ہے۔

    وفاقی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے:عمران خان

    دوسری جانب روسی وزارتِ خارجہ میں ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والے شعبے کے نائب سربراہ، کونسٹینٹن وورونٹسوو نے اقوامِ متحدہ سے کہا ہے کہ امریکا اور اتحادی مغربی بالادستی کے لیے خلا کو استعمال کرنا چاہتےہیں۔کونسٹینٹن نے اپنے مندرجات پڑھتے ہوئے کہا کہ مغربی سیٹلائٹ سے یوکرین جنگ میں مدد کرنے کا عمل ایک ’بہت ہی خطرناک رحجان ہے۔‘

    روس نےایک بارپھرپاکستان کوگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی

    اقوامِ متحدہ کی فرسٹ کمیٹی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی میں نیم سویلیئن انفرااسٹرکچرجائز ہدف ہوسکتے ہیں اور سیٹلائٹ سے مدد ایک ’اشتعال انگیز‘ عمل ہوسکتا ہے۔

  • روس نےایک بارپھرپاکستان کوگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی

    روس نےایک بارپھرپاکستان کوگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی

    اسلام آباد:روس نےپاکستان کےلیےگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی۔اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیربرائےقومی غذائی تحفظ وتحقیق طارق بشیر چیمہ سےروسی وفد نےملاقات کی۔ملاقات میں دونوں اطراف نے زرعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کےممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔وفد میں پروڈنٹ نمائندے یوسف آصف اورحامد علی،ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف اوراتاشی روسی ایمبیسی الیگزینڈر شامل تھے۔

    طارق بشیرچیمہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاری کا حتمی تخمینہ کا ابھی انتظار ہے۔ عالمی برادری بحالی کے مرحلے میں پاکستان کی مدد کرے۔ ان کی حکومت متاثرہ کسان برادری کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    روسی نمائندے یوسف آصف نے کہا کہ پاکستان اور روس زراعت میں تجارتی تعاون بڑھانے سے باہمی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ روس گندم کا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے اور گندم کی مقامی طلب کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی چاول اچھے معیار کے ہیں اور روس پاکستان سے چاول کی درآمد بڑھانے کا منتظر ہے۔ روس پاکستان میں چاول کے مجاز برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان سے آلو درآمد کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ روس آلو کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔

     

    روسی وفد نے پاکستان کے لئے گندم کی درآمد کرنے کی پیشکش کی تاکہ فوڈ سیکیورٹی کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔انہوں نے بارٹر ٹریڈ کی صورت میں فوڈ باسکٹ کموڈٹیز کا تبادلہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔روس کے ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف نے امید ظاہر کی کہ زراعت میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • امریکہ کا روس کےخلاف یوکرین کی مزید فوجی امداد کا اعلان

    امریکہ کا روس کےخلاف یوکرین کی مزید فوجی امداد کا اعلان

    واشنگٹن:خبر رساں ادارے روئٹرز نے منگل کے روز دو گمنام اہلکاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کئی دہائیوں پرانے میزائل بھیج سکتا ہے جنہیں اس کی اپنی فوج اب روسی میزائلوں کے خلاف فضائی دفاع فراہم کرنے کے لیے یوکرین کو استعمال نہیں کرتی ہے۔

    امریکی دفاعی حکام کاکہنا ہے کہ امریکہ پہلے ہی MIM-23 ہاک میزائل سسٹم 1960 میں متعارف کرایا گیا تھا، حالانکہ اس کے بعد اسے کئی بار اپ گریڈ کیا جا چکا ہے، واشنگٹن ان میں سے چند کو کیف بھیج سکتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ذخیرہ کرنے میں کئی سال گزارنے کے بعد یہ ذخیرہ اچھی حالت میں ہے۔

    ذرائع نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ منتقلی صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی (PDA) کے تحت کی جائے گی اور اس کا اعلان اس ہفتے جلد ہی کیا جا سکتا ہے۔

    دفاعی حکام کایہ بھی کہنا ہے کہ HAWK سسٹم ایک موبائل درمیانی فاصلے کا طیارہ شکن ہتھیار ہے جس میں کچھ اینٹی میزائل صلاحیت ہے، جسے امریکی ہتھیاروں کی بڑی کمپنی Raytheon نے تیار کیا ہے۔ فوج نے اسے 1990 کی دہائی میں زیادہ جدید MIM-104 پیٹریاٹ سسٹم سے بدل دیا۔ میرین کور، آخری امریکی آپریٹر، نے انہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں مردانہ نقل پذیر FIM-92 Stinger میزائلوں کے حق میں مرحلہ وار ختم کر دیا۔

    دفاعی ذرائع کاکہنا ہے کہ HAWKs "اسٹنگر میزائل سسٹم میں اپ گریڈ” ہوں گے جو روس کی طرف سے پڑوسی ریاست میں فوج بھیجنے سے پہلے ہی یوکرین کو اپنے مغربی سپانسرزسے بڑی تعداد میں موصول ہوئے تھے۔ ذرائع کےمطابق طویل فاصلے تک چلنے والا پیٹریاٹ نظام یوکرین کے لیے میز سے دور ہے۔

    امریکی حکومت نے پہلے یوکرین کے فضائی دفاع کو تقویت دینے کے لیے قومی اعلی درجے کی سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم (NASAMS) کی فراہمی کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔ NASAMS ایک ناروے کا نظام ہے جو Raytheon سے بنے انٹرسیپٹرز کا استعمال کرتا ہے اور 1990 کی دہائی میں HAWK میزائلوں کے نارویجن ورژن کو تبدیل کرتا ہے۔

    اس ماہ کے شروع میں، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی منصوبہ بندی میں چار ہسپانوی HAWK میزائل لانچر شامل ہوں گے۔ یوروپی قوم کو یہ سسٹم 1965 میں ملا اور اس نے اگلی دو دہائیوں میں ہارڈ ویئر کو بہتر-HAWK ویرینٹ میں اپ گریڈ کیا۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • روسی حملوں سے یوکرین میں بجلی کا نظام تباہ،ملک اندھیروں میں ڈوب گیا

    روسی حملوں سے یوکرین میں بجلی کا نظام تباہ،ملک اندھیروں میں ڈوب گیا

    کیف:روسی حملوں کے باعث یوکرین میں بجلی کا 40 فیصد ترسیلی نظام تباہ ہوگیا جس کے باعث لوگوں بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے۔
    یوکرین کی قومی توانائی کمپنی نے روسی میزائل حملوں کے سبب بجلی کی فراہمی میں متوقع کٹوتی کی وجہ سے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کی بندش کے لیے تیار رہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکام نے یوکرین کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے وقت بجلی کا استعمال کم کر دیں۔حکام کی جانب سے بلیک آؤٹ کی تیاری کے لیے یوکرین کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی ذخیرہ کر لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پاس گرم جرابیں اور کمبل موجود ہوں۔

    یوکرین کے وزیر توانائی کے مشیر اولیکسینڈر کھرچینکو کے مطابق ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا 40 فیصد حصہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ بدھ کے روز توانائی کی تین تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں اور توانائی کی کمپنیاں موسم سرما کے لیے تمام ممکنہ منظرنامے کی تیاری کر رہی ہیں۔

    خیال رہے کہ بجلی کی بندش نے پہلے ہی دارالحکومت کیئف کے کچھ حصوں اور یوکرین کے بہت سے علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ روسی میزائلوں نے پورے یوکرین میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے ، جس میں مغرب میں لیویو جیسے شہر بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ایک بار پھر روسی میزائلوں نے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ، جو 10 اکتوبر کے بعد سے شروع ہونے والے حملوں کا حصہ ہے۔

  • یوکرین نے پاور گرڈ پر روسی حملے کے بعد حالات کی سنگینی سے خبردار کردیا

    یوکرین نے پاور گرڈ پر روسی حملے کے بعد حالات کی سنگینی سے خبردار کردیا

    کیف:یوکرین نے پاور گرڈ پر روس کے حملے کے بعد سنگین صورت حال سے خبردار کردیا ہے اور صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ موسم سرما شروع ہونے والا ہے اور مسلسل روسی بمباری نے ملک کے ایک تہائی بجلی گھر تباہ کردیے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق یوکرین کی طرف سے ایسا انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب روسی فوج نے یوکرینی سے مشرقی خارکیف کا علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں گزشتہ ماہ علاقے سے تقریباً مکمل طور پر بے دخل کیے جانے کے بعد ماسکو نے وہاں کے ایک گاؤں کا قبضے حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    رپورٹ کے مطابق روسی فوج کی طرف سے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بھی ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جس کو مایوس کن حملہ قرار دیا گیا ہے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی طرف سے توانائی کا نظام کو بار بار نشانہ بنانے کو ’روسی دہشت گردی‘ کی ایک اور قسم قرار دیا ہے۔

    یوکرین کے سرہراہ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ 10 اکتوبر سے یوکرین کے 30 فیصد بجلی گھر تباہ ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں بلیک آؤٹ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مطلب یہ ہے کہ اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق یوکرین کے کئی علاقوں بشمول دارالحکومت کیف میں بجلی نہیں ہے۔

  • قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں،یوکرین

    قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں،یوکرین

    روس اور یوکرین کے درمیان پیر کو قیدیوں کا اب تک کا سب سے بڑا 108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی :سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر پیٹرینکو اناتولی نے پیر کے روز کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں مملکت کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

    108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ

    العربیہ کو انٹرویو میں یوکرینی سفیر نے کہا کہ ہم تمام جنگی قیدیوں کی بازیابی کے لیے اپنی کوششوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس حوالے سے سعودی قیادت کی کوششوں کو ہم بہت کامیاب سمجھتے ہیں۔

    سعودی عرب میں یوکرین کے سفیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی کوششیں جنگ کے خاتمے اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں معاون ہیں یوکرینی صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر آندرے یرمک نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ رہائی پانے والی خواتین میں 12 عام شہری بھی شامل ہیں یہ پہلا تمام خواتین کا تبادلہ تھا-

    اناتولی نے اضافی امداد فراہم کرنے کے سعودی قیادت کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی امداد ان کے ملک میں شہریوں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ثالثی کی بدولت روس نے مراکش، امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور کروشیا کے 10 قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔

    یوکرینی صدر کے دفتر کے ڈائریکٹر آندرے یرمک نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ رہائی پانے والی خواتین میں 12 عام شہری بھی شامل ہیں یہ پہلا تمام خواتین کا تبادلہ تھا-

    روسی ایئرفورس کا جیٹ طیارہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مئی میں ساحلی شہر ماریوپول میں روسی افواج کی جانب سے ازووسٹل سٹیل کمپلیکس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد 37 خواتین کو گرفتار کر لیا گیا تھا رہائی پانے والی خواتین میں مائیں اور بیٹیاں بھی شامل ہیں جنہیں ایک ساتھ رکھا گیا تھا۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ نے کہا کہ آزاد کرائی گئی خواتین میں سے کچھ کو 2019 میں یوکرین کے مشرقی علاقوں میں ماسکو کے اتحادی حکام کی طرف سے حراست میں لینے کے بعد قید کیا گیا تھا۔

    دوسری روسی وزارت دفاع نے اس تبادلے کی تصدیق کی اور کہا کہ ماسکو نے 100 افراد کو بازیاب کرایا ہے جن میں روسی سول بحری جہازوں کے 72 ملاح بھی شامل ہیں جنہیں فروری 2022 میں کیف حکومت نے حراست میں لیا تھا۔

    روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ تبادلے کے معاہدے میں شامل دو یوکرینی باشندوں نے رضاکارانہ طور پر روس میں رہنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یوکرین واپس جانے سے انکار کر دیا ہے۔

    پی آئی اے کا فلائٹ اسٹیورڈ ٹورنٹو ایئرپورٹ سے مبینہ طور پر غائب


    دوسری طرف یوکرین کے صدر زیلنسکی نے پیر کو اپنی افواج پر زور دیا کہ وہ مزید قیدی بنائیں کیونکہ اس سے روس کے پاس اپنے زیر حراست فوجیوں کی رہائی میں مدد ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ میں ہراس شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نےاس کامیابی میں حصہ لیا،اورساتھ ہی ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ جنہوں نے ہمارے قیدی تبادلہ کی صلاحیت کو پھر سے بڑھا دیا، ہمارے پاس جتنے زیادہ روسی قیدی ہوں گے اتنا ہی ہم اپنے جوانوں کو رہا کرانے کے قریب ہوجائیں گے۔ یوکرین کے ہر فوجی اور اگلے مورچوں پر موجود ہر کمانڈر کو اس بات کو یاد رکھنا چاہیے۔

    پاکستان کےعزم اوراپنے جوہری اثاثوں کومحفوظ بنانےکی صلاحیت پر یقین ہے،جوبائیڈن کے…