Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    لندن: برطانوی فوج کے آرمی چیف نے فوجیوں کو میدان جنگ میں روس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔بی بی سی کے مطابق جنرل سر پیٹرک سینڈرز، جنہوں نے گزشتہ ہفتے ہی بحیثیت فوج کے سربراہ کے عہدہ سنبھالا ہے، نے کہا کہ وہ 1941 کے بعد سے پہلے چیف آف دی جنرل اسٹاف ہیں جنہوں نے یورپ میں ایک بڑی براعظمی طاقت پر مشتمل زمینی جنگ کے سائے میں فوج کی کمان سنبھالی۔

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    انہوں نے مزید کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ ہمارے بنیادی مقصد کی نشاندہی کرتا ہے؛ برطانیہ کی حفاظت کرنا اور زمین پر جنگ لڑنے اور جیتنے کے لیے تیار رہنا۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین جنگ طاقت کے ذریعے روسی جارحیت کو روکنے کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    جنرل سر پیٹرک نے “نیٹو کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور روس کو یورپ پر مزید قبضے سے روکنے کے لیے برطانوی فوج کی نقل و حرکت اور اس میں جدت لانے کا اپنا ہدف بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا، ’ہم وہ نسل ہیں جو فوج کو یورپ میں ایک بار پھر لڑنے کے لیے تیار کرے گی‘۔

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیٹو چیف اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جنگ سالوں پر محیط ہوسکتی ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم اور نیٹو سربراہ جانز اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کو اپنی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    ماسکو: روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرائے کے فوجی کے طور پر کام کرنے والے برطانوی شہریوں کا فیصلہ عدالت کرے گی، اور روس کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کی مغرب اس حوالے سے کیا سوچ رہا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یوکرین میں پکڑے گئے اور کرائے کے فوجیوں کے طور پر سزائے موت پانے والے برطانوی جنگجوؤں کی قسمت کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کے تحت دونیسک عوامی جمہوریہ کو کرنا ہے۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ روس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ مغرب کو کیسا لگتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    خیال رہے کہ 2 برطانوی شہری شان پنر اور ایڈن اسلن ان تینوں غیر ملکی جنگجوؤں میں شامل تھے جنہیں دونیسک میں سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے کرائے کے فوجی ہونے کا مجرم قرار دیا تھا۔انہیں مراکشی شہری سعدون ابراہیم کے ساتھ موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغرب کی نظر میں روس ان لوگوں کی قسمت کا ذمہ دار ہے لیکن یہ ایک آزاد ریاست کا فیصلہ ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق روزن برگ نے اس پر احتجاج کیا ہے کہ یہ دونوں افراد کرائے کے فوجی نہیں تھے بلکہ یوکرین کی فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے۔اس کے رد عمل میں سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ جیسے برطانوی عدالتوں کی طرح آزاد فیصلے صادر ہوتے ہیں ویسے ہی یہ بھی ایک آزاد ملک کی عدالت کا فیصلہ ہے۔

  • امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    برلن :روس یوکرین جنگ، امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں،اطلاعات ہیں کہ روس کو تنہا کرنے کےلیےامریکہ نے اپنی لابنگ جاری رکھی ہے اورنئی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ، اس حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ روس یوکرین جنگ کےباعث مغربی اتحادی ممالک متحد ہوگئے ہیں جبکہ امریکا اور جرمنی میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

     

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں…

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جاب یوکرین میں روسی جارحیت کی وجہ سے مغربی اتحادیوں میں ایک نئی صف آرائی دیکھی جا رہی ہے۔ اس جنگ نے جہاں متعدد مغربی ممالک کو متحد کیا ہے وہیں روس کے خطرے نے امریکا اور جرمنی کے مابین تعلقات میں موجود سرد مہری کو بھی کسی حد تک ختم کیا ہے۔لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جرمنی اس نئے اتحاد کو جنگ عظیم اول اور دوم سے بھی ملا کرپڑھ رہا ہے ، اس میں جرمنی کے اصل باشندوں کے خیالات کچھ اور ہیں

    خبردار ! روس جنگ کی آگ بڑھا رہا ہے ، جرمنی مسلسل چلانے لگا

    اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے لاحق خطرات، مشترکہ جیو پولیٹیکل وژن اور مفادات کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے مابین زیادہ گرمجوشی کی امید کی جا سکتی ہے۔بالخصوص جرمنی اور امریکا کے باہمی تعلقات دو دہائیوں بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔مغربی اتحاد کا ایک مشترکہ مقصد روسی جارحیت کی مذمت کرنا بھی ہے۔ امریکی حکام نے جرمن چانسلر اولاف شولس کے نارتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کے اعلان پر مسرت کا اظہار کیا تھا ۔ منصوبے کے تحت جرمن حکومت روس سے گیس خریدنا چاہتی تھی۔

    بعدازاں جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر دباؤ بڑھانے کی خاطر گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ ختم کر کے ملکی ضروریات کی گیس امریکا سے منگوائی جائے گی۔

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی

    روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کا اتحاد اور روس پر پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اپنے آبائی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ایک بزنس فورم سے خطاب میں انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ روس میں انویسٹمنٹ کریں۔انھوں نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے جو ان کے ساتھ تعاون کے متمنی ہیں۔

    روسی صدر نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم یہ ضروری تھا۔ عسکری مہم کا مقصد در حقیقت یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی بولنے والی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

  • روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ "اب ہم دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں پیدا کریں گے اور ہم ہر چیز کا متبادل بنائیں گے اورہرچیز کو متبادل بنائیں گے تاکہ دنیا کو بہترین اور معیاری چیزیں دستیاب ہوسکیں "۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس اب دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرے کا فیصلہ کرچکا ہے ، جس پربہت جلد عمل ہوگا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے SPIEF 2022 کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس اب ان مغربی کمپنیوں کے ذریعے مطلوبہ سامان تیار کرنا سیکھے گا جو روس چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا دوسرے ممالک کی کمپنیاں انھیں ایسی مصنوعات فراہم کرتی تھیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں کے بجائے دوسری کمپنیاں پہلے ہی جگہ بنانے روس کا رُخ کررہی ہیں‌۔ ہم صنعتی استعمال کے لیے پینٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش اور آلات بھی تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔

    روسی صدر کے مطابق ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو دنیا کر سکتی ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو نئی بنیادوں پر پیداوار کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو پرانی ٹیکنالوجیز سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔

  • تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن :تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد جس میں خطرناک تین ہتھیارہیں تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

    امریکہ یوکرین میں ایک جنگ لڑرہا ہے،یہ تنازعہ اتنا پچیدہ ہوگیا ہے کہ دنیا کوکسی بھی لمحے تیسری جنگ کی طرف لے جائے گی ڈونلڈ ٹرمپ نے کاکہ امریکہ نے 16 ارب ڈالرکی بجائے 56 ارب ڈالرز کی امداد دی ہے اور اس بڑی امداد کا امریکہ پربھی اثرپڑے گا

     

    جوبائیڈن نے ہم جنس پرست سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کردیا

    ٹینسی میں ایک مذہبی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ "لیکن جب آپ یورپ کو دیکھتے ہیں – اور جرمنی، اور فرانس اور ان تمام دوسرے ممالک نے ایک چھوٹا سا حصہ دیا ہے ہم 56 بلین ڈالر دے رہے ہیں ،امریکہ انہیں ممالک کی خاطرقربانی دے رہا ہے جن کی اس سلسلے میں زیادہ دشمنی ہے ،

    ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازعہ کا الزام صدر بائیڈن پر لگایا، جنھوں نے وائٹ ہاؤس میں ان کی جگہ لی،ٹرمپ نے اس موقع پر زوردیتے ہوئے کہا کہ "اگر میں صدر ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا”۔”اور میں پوتن کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں پوتین اور میں دنیا کو تیسری جنگ سے بچا سکتے تھے ، پوتین ایک اچھے انسان ہیں مگرامریکہ نے ان کو ناراض کرکے اچھا نہیں کیا

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر…

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی اور چوری نہ کی جاتی تو یوکرین پر حملہ آور ہونے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

    ٹرمپ نے اپنےخطاب میں 6 جنوری 2021 کے واقعات پر جاری ہاؤس کمیٹی کی سماعتوں پر حملہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کی ۔ سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے حامیوں کو واشنگٹن میں امریکی کیپیٹل پر حملہ کرنے کے لیے اکسانے میں ان کے مبینہ کردار کی تحقیقات ایک "دھاندلی زدہ” تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر 2024 میں صدر کے لیےمیدان میں اترنے کافیصلہ کیا ہے

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی…

    جلسہ میں زوردار گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "کیا کوئی پسند کرے گا کہ میں صدر کے لیے انتخاب لڑوں؟” ٹرمپ نے پوچھا، جس کے نتیجے میں سامعین کی جانب سے زوردار نعرے لگائے گئے۔

  • امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    نیویارک:امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ طویل مدت کے لیے روس کے ساتھ تنازعہ میں یوکرین کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے،اس مقصد کے لیے امریکہ اوراتحادی منصوبے کچھ عرصے سے کام کر رہے ہیں۔

    محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عملے نے جمعے کے روز دی پوسٹ کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن "جنگ کا حتمی مذاکراتی نتیجہ” دیکھنا چاہیں گے، اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہ کیف کو مغربی ہتھیاروں کی ترسیل اور روسی معیشت کے خلاف سخت پابندیوں کی مہم ماسکو کو فوجی طور پر سخت کمزور کر دے گی۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    واشنگٹن پوسٹ کوامریکی خفیہ منصوبے کے کچھ مندرجات بتاتے ہوئے کہا کہ "حالانکہ یہ یقینی طور پرامریکہ اور اتحادیوں کے لیے ایک چیلنج ہے – ہم یقینی طور پر اس بات پر یقین نہیں کر رہے ہیں کہ – ان طوفانی پانیوں کو کس طرح نیویگیٹ کرنا ہے، ہماری رہنما روشنی یہ ہے کہ روس کے اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کا نتیجہ امریکہ کے لیے واقعی برا ہے، واقعی برا ہے۔ ہمارے شراکت داروں اور اتحادیوں کے لیے، اور عالمی برادری کے لیے واقعی برا ہوگا اگرروس یہ جنگ جیت لیتا ہے

    اہلکار نے مزید کہا کہ بائیڈن کی ٹیم نے فروری سے پہلے ہی "عالمی سطح پر پھیلنے والے اثرات کے حوالےسے طویل تنازعہ کے امکان پر تبادلہ خیال کیا تھا”، ایسے وقت میں جب امریکی حکام نے بار بار روس کی طرف سے ایک آسنن حملے کی پیش گوئی کی تھی۔

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    اگرچہ یوکرین کی حکومت کی حمایت واشنگٹن کے لیے مہنگی پڑی ہے – جس نے مارچ سے اب تک مختلف قسم کی امداد میں 50 بلین ڈالر سے زیادہ وقف کیے ہیں – لیکن دوسری طرف بائیڈن روس کومرضی کے فوائد حاصل کرنے سے روکنے کے لیے "عالمی کساد بازاری اور بڑھتی ہوئی بھوک” کا خطرہ مول لینے کو تیارہیں

    برسلز میں ایک حالیہ میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے، جہاں درجنوں ممالک کے حکام نے کیف کو مزید تقویت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کی، امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ "ہم یہاں روس کے خلاف اتحاد کی حوصلہ افزائی کے لیے آئے ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ "مل کر کام کرنے سےیوکرین کو روس کی تسلط سے نکال سکتے ہیں اوراس کودنیا کے نقشے پرایک الگ ملک کی حیثیت سے دیکھ سکتے ہیں

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ دشمنی "بہت طویل” ہو سکتی ہے اور "سالوں” تک جاری رہ سکتی ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    "یہ ایک بہت طویل تنازع ہے جو روس نے شروع کیا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو، امریکہ، یوکرین، اور تمام اتحادی اور شراکت دار جو یوکرین کی حمایت کر رہے ہیں، کچھ عرصے کے لیے اس میں شامل ہوں گے۔” بیان کیا گیا، اگرچہ یہ کہا گیا کہ یہ امکان نہیں ہے کہ ماسکو کو امریکی فوجی تعیناتی کے مختصر مقاصد سے روکا جا سکتا ہے – لیکن یہ ضرور ہے کہ روس ایک سخت جواب کے لیے بہر کیف تیار ہے

  • چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    واشنگٹن :چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن سربراہوں نے جمعے کو قانون سازی متعارف کرائی جو تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تجویز کرے گی۔

    اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سینس باب مینینڈیز اور لنڈسے گراہم کی طرف سے متعارف کرایا گیا یہ قانون تائیوان کو اگلے چار سالوں میں تقریباً 4.5 بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کرے گا اور تائیوان کو ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر قبول کرے گا۔اس سے پہلے تائیوان کو پہلے ہی امریکی قانون کے تحت ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے باضابطہ طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یہ ایکٹ بین الاقوامی تنظیموں اور تجارتی بلاکس میں تائیوان کی شمولیت کے لیے اضافی امریکی حمایت میں مزید اضافہ کرے گا۔

    "تائیوان پالیسی ایکٹ 2022، بیجنگ کے فوجی، اقتصادی اور سفارتی خطرات کے پیش نظر تائیوان اور ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مکمل عزم کا ایک بنیادی بیان پیش کرتا ہے جو ہند بحر الکاہل میں ہمارے مفادات اور ہماری اقدار کا اشتراک کرتے ہیں۔

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ بیجنگ تائیوان کو مجبور کرنے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تائیوان کے عوام اور ان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کے ہمارے عزم کی گہرائی اور طاقت کے بارے میں کوئی شک یا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔”

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    سینیٹرز نے آخری بار اپریل 2022 میں ایشیا پیسیفک کے علاقائی دورے کے ایک حصے کے طور پر تائیوان کا دورہ کیا تھا جس میں وہ تائیوان کے صدر تسائی انگ وین اور تائیوان کے دیگر سینئر حکام کے ساتھ بیٹھے تھے۔

    یاد رہے کہ چین تائیوان کو ایک "تقسیم شدہ صوبہ” سمجھتا ہے، لیکن تائی پے نے 1949 سے اپنی آزادی برقرار رکھی ہے۔

  • یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    لندن:یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرینی فوج کی جنگی بنیادوں پر ٹرینگ دینے کافیصلہ کیاہے ،ادھر یوکرینی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کے حملے کے بعد یوکرین کے دوسرے دورے کے موقع پر صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے فوجی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    بورس جانسن کو زیلنسکی نے ایک ’عظیم دوست‘ کے طور پر خوش آمدید کہا اور اس کے بعدبورس جانسن نے یوکرینی صدر کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ محترم صدر ولادیمیر، کیف میں دوبارہ آ کر اچھا لگ رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے ایک بڑا تربیتی فوجی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے جس میں 120 دن میں 10ہزار فوجیوں کو تربیت دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

    برطانوی ویر اعظم نے کہا کہ آج میرا اس جنگ کے دوران دورے کا مقصد یوکرین کے عوام کو ایک واضح اور سادہ پیغام دینا ہے، برطانیہ آپ کے ساتھ ہے اور جب تک کہ آپ غالب نہیں آتے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میں نے صدر ولادمیر زیلنسکی کو ایک نئے فوجی تربیتی پروگرام کی پیشکش کی ہے جو اس جنگ کی صورتحال کو تبدیل کر سکتا ہے اور کہا کہ جیت کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور چیز یوکرین کے عوام کی جیت کا عزم ہے۔

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم کا غیر اعلانیہ دورہ یوکرین اور ولادمیر زیلنسکی کی حمایت کے حوالے سے بورس جانسن کے عزم کا تازہ ترین مظہر ہے۔انہوں نے یہ دورہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ کے رہنماؤں کے کیف کے سفر کے ایک دن بعد کیا گیا جنہوں نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت اور رکنیت کے امیدوار کی حیثیت کی توثیق کی۔

    ولادمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے متعدد ایام نے ثابت کیا ہے کہ یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت پختہ اور پرعزم ہے، ہمارے ملک کے عظیم دوست بورس جانسن کو دوبارہ کیف میں دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔

    یوکرین کے صدر نے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے محاذ جنگ پر صورتحال اور بھاری ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے اور یوکرین کے فضائی دفاع کو بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک مشترکہ نقطہ نظر ہے کہ کس طرح فتح کی طرف بڑھنا ہے کیونکہ یوکرین کو بالکل اسی کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست کیسے فتح حاصل کرتی ہے۔

  • روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    لندن:برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ ہار چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ اسٹریٹیجک سطح پر ہار چکا ہے۔روس کی یہ صریح غلطی تھی۔ روس کبھی یوکرین پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اس سے روس کی قوت مزید کم ہو گئی ہے۔اسٹریٹیجک حوالے سے دیکھیں، تو روس یہ جنگ ہار چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے اور اب فن لینڈ اور سویڈن بھی نیٹو میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کہتے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن آئندہ چند ہفتوں میں کچھ ٹیکٹیکل کامیابیاں حاصل کرتو سکتے ہیں تاہم، ملک کی ایک چوتھائی فوجی طاقت استعمال کرنے کے بعد یہ کامیابیاں انتہائی چھوٹی ہیں کیوں کہ وہ ہائی ٹیک میزائل اور فوجی دستوں کی کمی کا شکار ہیں۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی کمزوریاں ہمارے سامنے ہیں۔ روس افراد کی کمی ہائی ٹیک میزائلوں کا شکار ہے۔ روسی صدر ملک کی پچیس فیصد فوجی قوت استعمال کر کے فقط ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی قبضہ کر پائے ہیں، جب کہ ان کے پچاس ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ واضح طور پر روس کی ناکامی ہے۔

    علاوہ ازیں، ریڈیکن نے یوکرینی عوام کے جذبے اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ برطانیہ طویل المدتی بنیادوں پر مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے کیف حکومت کی مدد کرتا رہے گا۔

    دوسری جانب ماسکو حکومت نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہیں۔

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی…

    کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے یورپی رہنماؤں کے دورہ یوکرین کے تناظر میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یوکرین کو ہتھیاروں کے ذریعے مزید معاونت فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی جائے گی کیوں کہ یہ بالکل فضول اقدام ہو گا اور اس سے اس ملک کو مزید نقصان ہو گا۔

  • روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    کیف:روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یورپی اتحاد بڑا سرگرم دکھائی دیتا ہے اور شاید یہی وجہ ہےکہ جرمن چانسلر اولاف شولز، فرانسیسی صدر میکرون سمیت اطالوی وزیراعظم ماریو دراگی بذریعہ ٹرین یوکرینی دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان رہنماؤں کے اقدامات پر یوکرینی صدر تنقید کرتے آئے ہیں۔

    یوکرینی دارالحکومت کیف میں تعینات فرانسیسی سفیر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شائع کی ہے۔ اس تصویر میں تینوں یورپی رہنما ایک ٹرین میں موجود ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ رہنما کیف جارہے ہیں۔ بعدازاں، فرانسیسی صدارتی دفتر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ رہنما گزشتہ رات کی ٹرین سے یوکرینی دارالحکومت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    یوکرین میں جاری جنگ اور سلامتی کی صورتحال کے باعث اس دورے کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    مذکورہ بالا تینوں یورپی رہنماؤں کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب یوکرین نے ایک بار پھر جنوب اور مشرق میں روس کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے درخواست کی ہے۔

    اس تناظر میں یوکرینی افواج کی قیادت کرنے والے میجر جنرل دمیترو مارچینکو نے کہا ہے کہ اگر انہیں صحیح ہتھیار بروقت فراہم کیے جائیں تو یوکرینی فوج روس کے خلاف فتح حاصل کر سکتی ہے۔

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    تینوں یورپی رہنماؤں کے دورہ کیف کا انتظام کرنے میں کئی ہفتے لگے ہیں کیوںکہ یوکرین میں ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ تنقید کی وجہ ان کا یوکرین جنگ کے جواب میں فوری طور پر وہ دوستانہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو امریکہ کا یوکرین کے لیے تھا۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان