Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • امریکا یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی نئی کھیپ فراہم کرے گا

    امریکا یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی نئی کھیپ فراہم کرے گا

    امریکا یوکرین کو بحری جہاز شکن میزائلوں سمیت کیف کے لیے امریکی ہتھیاروں کی نئی کھیپ فراہم کرے گا-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے تصدیق کی تھی کہ ان کا ملک یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، بعد ازاں امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو کیف کے لیے ایک نئے فوجی امدادی پیکج کا اعلان کیا اس امداد میں توپ خانے کے سپئر پارٹس، اضافی میزائل اور اینٹی شپ میزائل شامل ہوں گے جن کی کل مالیت ایک ارب ڈالر ہے-

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی…

    نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر بدھ کو برسلز میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ان کا ملک یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہےانہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ یوکرین کو جون کے آخر تک HIMARS میزائل فراہم کرنے سے اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو گا-

    امریکی صدر کا تازہ ترین اعلان کیف کی جانب سے مشرقی یوکرین پر روس کے حملے کو پسپا کرنے میں مدد کے لیے مغرب سے مزید بھاری ہتھیار بھیجنے کی اپیل کے بعد سامنے آیا ہے۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ روسی فضائیہ نئے امریکی ہتھیاروں سے باآسانی نمٹتی ہے اور انہیں "اخروٹ کی طرح توڑ دیتی ہے”روسی فوج اب تک ان میں سے درجنوں کو تباہ کر چکی ہے یوکرین کی فوج کو بھیجے گئے امریکی میزائلوں کا زمین پر کچھ نہیں بدلیں گے۔

    صدر پیوٹن نے مغرب کو خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کیف کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی فراہمی شروع کی تو ان کا ملک نئے اہداف پر حملہ کرے گا اگر ایسے میزائل پیش کیے جاتے ہیں تو ہم ان اہداف پر بمباری کریں گے جنہیں ہم نے ابھی تک نشانہ بنانا شروع نہیں کیا۔

    جبکہ ملک کے مشرق میں ڈومباس صنعتی علاقے پر روس کے کنٹرول کو روکنے کے لیے یوکرین کو ہتھیاروں کی کوئی بھی سپلائی جلد نہیں پہنچ سکتی۔

    جنوبی کوریا نےاچانک خلائی راکٹ کولانچ کرنے سے روک دیا

  • روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    بیجنگ :روس اپنے آپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائے گا:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف مغربی اورنیٹواتحاد کی سازشوں پراپنا ردعمل دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نےآج روس کے مخالفین پرواضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین "خودمختاری اور سلامتی” پر روس کی حمایت جاری رکھے گا،

    چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ژی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو فون کال کرتےہوئے تسلی دی کہ روس کے ساتھ ہرمحاذ پرکھڑے ہیں اورچین اور روس کے درمیان تعلقات پہلے سے بہترہوں گے ،چینی صدر نے کہا ہے کہ "چین بنیادی مفادات اور خودمختاری اور سلامتی کے بارے میں روس کی تشویش کو سمجھتا ہے اورچین کبھی بھی روس کو تنہا نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ 24 فروری کو روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ شروع کرنے کے بعد سے یہ جوڑے کی دوسری فون پر بات چیت تھی، جسے ماسکو "خصوصی فوجی آپریشن” کا نام دیتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روس اس وقت مغربی ممالک اور یورپی یونین کے زیرعتاب ہے اوریورپی یونین اور امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے روس پر تنقید اور سزاؤں کی بارش کر دی ہے، جس سے وہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں والا ملک بن گیا ہے۔

    تاہم، بیجنگ نے ماسکو کے یوکرین پرحملے پرروس کی مذمت سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ یہ روس کا اندرونی معاملہ ہے جس پربیرونی قوتوں کومداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، چین نے امریکہ اوردیگرامریکی اتحادیوں کے پرزورمطالبے کے باوجود تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی اقدامات کواختیارکرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے

    سرکاری روزنامہ گلوبل ٹائمزکے مطابق چینی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین نے "ہمیشہ خود اس معاملے کی تاریخ اور خوبیوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کیے ہیں،” انہوں نے "تمام فریقوں سے یوکرین کے بحران کے مناسب حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ زور دینے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا،” اور مزید کہا کہ بیجنگ "اس سلسلے میں اپنا مناسب کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے پوتن کو یہ بھی بتایا کہ چین اقوام متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر "ہم آہنگی بڑھانے کے لیے تیار ہے”۔

  • ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ماسکو :روسی افواج بڑی حکمت عملی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اب تو روس یوکرین کے ایک بڑے شہرپرقبضہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں یوکرین کے ایک شہر میں فوجی پسپا پوگئے جن کو روسی فوج کی جانب سے آخری وارننگ دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج نے سیورو دونیسک شہر میں محصور یوکرینی فوجیوں کو آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔روسی افواج بڑے بڑے اسپیکروں کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں آوازیں دے رہے ہیں ، ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کیلئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    یوکرینی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس علاقے میں روس کی فوج نے یوکرین کے فوجیوں کو آخری انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر دیں۔

    یوکرین کی فوج نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے پیج میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی سیورو دونیسک شہر سے پسپا ہوگئے ہیں اور تقریبا 500 سے زائد یوکرینی شہری آزوت کیمیائی کارخانے میں محصور ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ روس کے تباہ کن حملوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے اورکبھی بھی ہتھیار نہیں‌ڈالیں گے ۔یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی آنے والے چند ہفتوں میں باقاعدہ جنگ کا رخ طے کرے گی۔

  • روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    لاہور:روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف جہاں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور اس دوران امریکہ اور نیٹو ممالک کی طرف سے سخت اقتصادی پابندیوں‌کی وجہ سے روس کی منڈیوں میں ایک بحرانی کیفیت سے پیدا ہوگئی تھی وہاں روس کے تیل کے ذخائرسے بھارت نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا اور عالمی معاشی حالات کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلے ماہ یعنی مئی میں روس بھارت کو دوسرا سب سے بڑا خام تیل فراہم کرنے والا بن گیا،

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریفائنرز نے گزشتہ ماہ روسی تیل کے تقریباً 819,000 بیرل روزانہ حاصل کیے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 277,000 تھی۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عراق نے ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، جبکہ سعودی عرب جو پہلے دوسرے نمبر پر تھا، تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

     

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجموعی طور پرمئی میں ہندوستان کی تیل کی درآمدات 4.98 ملین بیرل یومیہ رہیں، جو پچھلے مہینے سے 5.6 فیصد اور سال بہ سال تقریباً 19 فیصد زیادہ ہے، کیونکہ گھریلو ریفائنرز بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان پیداوار بڑھانے پر مجبور تھے۔

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

    فروری کے آخر میں شروع ہونے والے یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے جواب میں مغربی پابندیوں کی وجہ سے تیل کے بہت سے خریداروں نے روسی تیل کولینے سے انکار کردیا تھا ۔ برطانیہ اور امریکہ نے روسی تیل پر پابندیاں لگانے کے لیے اس حد تک آگے بڑھے، یورپی یونین نے بھی چند مہینوں میں اس اقدام کی منصوبہ بندی کی۔ روس، بدلے میں، خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اپنے تیل پر ریکارڈ رعایت کی پیشکش کرتا ہے، جس سے چین اور بھارت نے اپنی خریداری میں اضافہ کیا۔

    دنیا ہم سےسستے داموں گندم اوراناج لینےکےلیےعالمی منڈیوں تک رسائی دے:روس

    روس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات کے باوجود، بھارت نے اعلان کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے اضافی تیل کی سپلائی کی ضرورت ہے، اور نوٹ کیا کہ اس کی روسی درآمدات ملک کی تیل کی مجموعی ضروریات کا محض ایک حصہ ہے۔

  • روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    ماسکو: روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں ایندھن کی برآمدات سے 93 بلین ڈالر کمائے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کے پہلے سو دنوں میں معدنی ایندھن کی برآمدات سے 93 بلین ڈالر کمائے امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے سب سے زیادہ پیٹرول یورپی یونین کے رکن ممالک نے خریدا۔

    گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر نظرکھنے والے فن لینڈ کے ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر نے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر شائع کی ہے جب یوکرینی حکومت مغربی ممالک سے ماسکو کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے-

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے گی،جوبائیڈن

    رواں ماہ کے آغاز میں یورپی یونین نے روسی تیل کی درآمد بند کرنے کا اکثریتی فیصلہ کرلیا تھارپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کی جنگ کے پہلے 100 دنوں میں روسی ایندھن کی کل برآمدات کا61 فیصد حصہ درآمد کیااس ایندھن کا سب سےبڑا غیر یورپی درآمد کنندہ ملک چین تھا اسی طرح بھارت نے بھی روس سے سستے داموں پیٹرول درآمد کیا ہے جس پر امریکا نے بھارت کو تنبیہ بھی کی تھی۔

    خیال رہے کہ امریکا کی تیل کی خریداری پر پابندی کے بعد سے روس نے ردعمل میں پیٹرول خریدنے والے ممالک کو رعایتی قیمتوں پر ایندھن کی پیشکش کر رکھی ہے۔

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

  • روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

    روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ روسی فورسز نے یوکرین کے لئے امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے اینٹی ٹینک اور فضائی دفاع کے میزائل سسٹم سے بھرے گودام کو تباہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق روسی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشنکوو نے بتایا کہ یوکرین کے علاقے ترنوپل میں ایک گودام کو ‘کلیبر’ کروز میزائل کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔

    پاکستان اور چین کےخلاف بھارتی عزائم بےنقاب :بھارتی فضائیہ میں مزید114 جنگی طیاروں کا اضافہ

    کوناشنکوو کے مطابق ترنوپل میں نشانہ بنائے جانے والے گودام میں میں امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے فراہم کیا جانے والا اسلحہ بالخصوص اینٹی ٹینک میزائل سسٹم، اینٹی ائیرکرافٹ میزائل اور ان کے گولے شامل تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین پر روس کی جارحیت کے آغاز سے اب امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں نے یوکرین کی سینکڑوں ملین ڈالرز کی فوجی امداد دی جا چکی ہے گزشتہ ہفتےکے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کو دور فاصلے تک نشانے والے میزائل فراہم کرنے کی صورت میں ان میزائلوں کی کھیپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    امریکہ آج ویت نام کی جنگ سے زیادہ پھنس چکا:کچھ پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے کیابنے…

    قبل ازیں سابق ہنری کسنجر اس وقت امریکی سلامتی کے بارے میں سخت پریشان ہیں اور انہوں نے خدشے کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ ویتنام جنگ (1955-1975) کے مقابلے میں آج "لامحدود” زیادہ تقسیم ہے۔کچھ نہیں پتاکہ کیا کرنا ہےاورامریکہ کا کیا بنے گا ایک خصوصی انٹرویو میں سابق امریکی وزیر خارجہ برائے صدور رچرڈ ایم نکسن اور جیرالڈ فورڈ نے بھی امریکی داخلی سیاست کی موجودہ حالت، یوکرین کے بحران اور چین کے ساتھ امریکی ٹکراو کے بارے میں اپنے خیالات پیش کئے تھے-

    جدید،نیوکلیئراورخطرناک ہتھیاروں میں اضافہ:بھارت کے خطرناک عزائم سامنے آگئے

  • امریکہ آج ویت نام کی جنگ سے زیادہ پھنس چکا:کچھ پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے کیابنے گا:ہنری کسنجر

    امریکہ آج ویت نام کی جنگ سے زیادہ پھنس چکا:کچھ پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے کیابنے گا:ہنری کسنجر

    لاہور:سابق ہنری کسنجر اس وقت امریکی سلامتی کے بارے میں سخت پریشان ہیں اور انہوں نے خدشے کے ساتھ دعویٰ کیا کہ امریکہ ویتنام جنگ (1955-1975) کے مقابلے میں آج "لامحدود” زیادہ تقسیم ہے۔کچھ نہیں پتاکہ کیا کرنا ہےاورامریکہ کا کیا بنے گا

    امریکہ کی تازہ ترین صورت حال پراپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سنڈے ٹائمز کے لیے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق امریکی وزیر خارجہ برائے صدور رچرڈ ایم نکسن اور جیرالڈ فورڈ نے بھی امریکی داخلی سیاست کی موجودہ حالت، یوکرین کے بحران اور چین کے ساتھ امریکی ٹکراو کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیئے

    امریکہ سُن لےتائیوان کوچین سے الگ کرنےکامطلب چین سے جنگ ہوگی

    ان امریک تھنک ٹینک نے امریکہ میں پچھلی کئی دہائیوں سے بڑھنے والی متعصبانہ عداوت کی مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکن نیشنل الیکشن اسٹڈیز کے سروے اور پولز نے تیزی سے ظاہر کیا ہے کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دوسری پارٹی کے ارکان کو محض سیاسی مخالفین کے طور پر زیادہ دشمن سمجھتے ہیں۔

    امریکہ میں گیس کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور

    سابق صدر ہنری کسنجر کے مطابق، 1970 کی دہائی کے اوائل میں، "دنیا سے دشمنی مول لینے اورمضبوطی سے جڑ پکڑنے سے پہلے، امریکہ میں "اب بھی دو طرفہ تعلقات کا امکان” موجود تھا۔

    ہنری کسنجر کہتےہیں کہ "قومی مفاد ایک معنی خیز اصطلاح تھی، یہ اپنے آپ میں بحث کا موضوع نہیں تھا۔ وہ ختم ہو گیا۔ ہر انتظامیہ کو اب حزب اختلاف کی مسلسل دشمنی کا سامنا ہے ، امریکہ میں اس وقت غیر واضح لیکن انتہائی حقیقی بحث اس بات پر ہے کہ آیا امریکہ کی بنیادی اقدار درست ہیں،‘

    زیر بحث "اقدار” امریکی آئین کی مقدس حیثیت اور ‘قانون کے سامنے انفرادی آزادی اور مساوات کی اولین حیثیت’ کا حوالہ دیتے ہیں، آؤٹ لیٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    انٹرویو میں، کسنجر نے "ترقی پسند بائیں بازو” کی طرف سے پیش کیے جانے والے موجودہ موقف کی مذمت کی، جو کہ ان کے بقول، دلیل دیتا ہے کہ "جب تک ان بنیادی اقدار کو ختم نہیں کیا جاتا، اور پھانسی کے اصولوں کو تبدیل نہیں کیا جاتا، ہمیں کوئی اخلاقی حق بھی نہیں ہے کہ ہماری اپنی گھریلو پالیسی خود چلائیں،

    امریکہ اورچینی دفاعی حکام کے درمیان سنگاپورمیں اہم ملاقات جاری

    ہنری کسنجرکہتے ہیں کہ "یا تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور اب کسی بھی قیادت میں اپنے مشن کو انجام دینے کے قابل نہیں رہتا، یا یہ ان سے آگے نکل جاتا ہے

    کسنجر نے حال ہی میں 23 مئی کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی مختصر ورچوئل تقریر کے ذریعے تنازعہ کو جنم دیا تھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کی طرف پیش قدمی اگلے دو ماہ یا اس سے زیادہ کے اندر شروع ہونے کی ضرورت ہے، اس نے کہا تھا، اس سے پہلے کہ تنازعہ مزید بڑھ جائے۔ جب تناؤ پر قابو پانا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

    ہنرکی کسنجر جو کہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے جانے جاتے ہیں‌، یورپ کے لیے روس کی اہمیت پر زور دیا اور مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ڈیووس میں "اس وقت کے موڈ میں” نہ الجھ جائیں، جیسا کہ انھوں نے مغرب کی وکالت کی۔

    کسنجر نے دعویٰ کیا کہ نارتھ اٹلانٹک الائنس آرگنائزیشن ایک "ادارہ ہے جس کے اجزاء ضروری طور پر ہم آہنگ خیالات نہیں رکھتے۔ وہ یوکرین پر اکٹھے ہوئے کیونکہ یہ دھمکیوں کی یاد دلاتا تھا اور انہوں نے بہت اچھا کام کیا، اور میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اب سوال یہ ہوگا کہ اس جنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔ یوکرین کی سلامتی کا بھی خیال رکھنا ہوگا جس کے لیے سب کو مل کرکام کرنا ہوگا

  • ‘عمران خان کے دورہ روس میں تیل اورگیس کی فراہمی پر بات ہوئی لیکن معاہدہ نہیں ہوا’

    ‘عمران خان کے دورہ روس میں تیل اورگیس کی فراہمی پر بات ہوئی لیکن معاہدہ نہیں ہوا’

    کراچی :’عمران خان کے دورہ روس میں تیل اورگیس کی فراہمی پر بات ہوئی لیکن معاہدہ نہیں ہوا’،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مرکی شہر کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل آندرے فیدروف نے کہا ہےکہ سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس میں گیس اور تیل کی فراہمی سے متعلق بات ضرور ہوئی تھی مگر اس حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

    دنیا ہم سےسستے داموں گندم اوراناج لینےکےلیےعالمی منڈیوں تک رسائی دے:روس

    میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل نےکہا کہ پاکستان کے موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی تیل کی خریداری سے متعلق بات کی ہے مگر اس حوالے سے روس پر عائد غیرمنصفانہ پابندیاں رکاوٹ ہیں۔

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ مغرب کے دباؤ کے باوجود پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات بہت بہتر ہیں، حکومت پاکستان نے حال ہی میں روس سے 2 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے، پاکستان اسٹیل ملز جس کا قیام سوویت یونین کے تعاون سے ہوا تھا، اس کو دوبارہ چلانے میں روسی کمپنیوں کی دلچسپی موجود ہے۔

    کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل آندرے فیدروفکا کہنا تھا کہ روس پاکستان میں موجود اسٹیم گیس پائپ لائن پر بھی کام کررہا ہے، یہ معاہدہ نواز لیگ کے دور حکومت میں ہوا تھا جس کی وجہ سے ہمیں امید ہےکہ کام جاری رہےگا۔

    روس نے 61 امریکی شہریوں پرسفری پابندیوں کی تصدیق کردی

    کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل آندرے فیدروف نے بتایا کہ یوکرین کے خلاف کارروائی سکیورٹی خدشات پرکی گئی، یوکرین کی جنگ میں مغرب یک طرفہ پروپیگنڈا کر رہا ہے، کراچی میں تعینات روسی قونصل جنرل آندرے فیدروف نے کہا ہےکہ آزادی اظہار کے دعویدار مغرب نے روسی میڈیا کی آزادی سلب کی ہے، روس کی معاشی حالت دوسرے کئی ملکوں سے بہت بہتر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہےکہ معاشی پابندی روس کو متاثر کر رہی ہیں۔

  • ماریوپول میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ہی لاشیں مل رہی ہیں:میئرماریوپول

    ماریوپول میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ہی لاشیں مل رہی ہیں:میئرماریوپول

    کیف :روسی طیاروں کی بمباری نے ماریوپول شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے اور یہ اطلاعات ہیں‌کہ اس بمباری کےنتیجے میں جسطرف نظردوڑائیں لاشیں ہی لاشیں نظرآرہی ہیں ، شہر کے میئر کے ایک مشیر کے مطابق ماریوپول میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے سینکڑوں لاشیں مل رہی ہیں۔

    روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    پیٹرو اینڈریوشینکو نے ٹیلی گرام پر مقبوضہ بندرگاہی شہر میں "موت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے” کے بارے میں بات کی، جہاں ہر فلیٹ کے بلاک میں 50 سے 100 کے درمیان لاشیں ملبے کے نیچے سے نکال کر مردہ خانے منتقل کی جا رہی ہیں اور ابھی بھی بہت سی لاشیں ابھی باقی ہی جن کو ٹھکانے نہیں لگایا جاسکا

    برطانیہ نے یوکرین کو راکٹ لانچرز فراہم کرنے کی رضامندی ظاہر کردی

    گزشتہ روز شائع ہونے والی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ قابض فورسز اب تک تقریباً دو عمارتوں کے ملبے کو تلاش کر چکی ہیں۔پچھلے مہینے، خود ساختہ ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ کے سربراہ نے کہا کہ ماریوپول میں 60% عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، جن میں سے 20% کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکا۔

    روس کا میجر جنرل مشرقی یوکرین میں دوران لڑائی ہلاک

    لیکن آج صبح ایک فالو اپ پوسٹ میں، اینڈریوشینکو کا کہنا ہے کہ بائیں کنارے کے ضلع میں تلاشی کا عمل روک دیا گیا ہے، یہ کہتے ہوئے: "قابضین نے بالآخر مکانات کو مسمار کرنے اور ملبے کے نیچے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو تلاش کرنے سے انکار کر دیا۔”

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کبھی نہیں معلوم ہو گا کہ ماریوپول کے کتنے باشندے ہلاک ہوئے اور اب بھی ملبے کے نیچے ہیں – اور انہیں کوڑے کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

  • یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    ماسکو:یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار،اطلاعات کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ ماسکو روسی ٹی وی چینلز پر پابندی کے فرانس کے فیصلے کا جواب دے گا۔

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلز – رشیا پلینٹ، روس 24، اور انٹرنیشنل ٹی وی سینٹر – پرپابندی کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے فرانس کو سخت پیغام بھیجا ہے وزارت کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا، "فرانسیسی حکام نے ایک بار پھر ‘آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے نظریات کو دبا کرخودغرضی کا مظاہرہ کیا ہے

    روس کون ہوتا ہےپوچھنے والا کہ نیٹوفن لینڈ اورسویڈن میں‌ جوہری ہتھیارنصب کرے گا

    روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ "یقیناً، ہم اس طرح کے غیر دوستانہ اقدامات کا جواب دینے کے لیے آپشنز تلاش کریں گے اور یقیناً جواب دیا جائے گا۔”وزارت نے یہ بھی ردعمل دیا کہ اگر مغرب نے روسی صحافیوں کو ستانا جاری رکھا تو روس اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے

    روسی ٹی وی چینلز پر لٹویا کی پابندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے زاخارووا نے اسے "میڈیا نسل کشی” قرار دیا۔ خاص طور پر، اس نے مقامی میڈیا واچ ڈاگ کے تمام روسی رجسٹرڈ ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی کے فیصلے کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے کہا، "ان میڈیا آپریٹرز کا قصور یہ ہے کہ ان کے پاس روسی دائرہ اختیار کے تحت میڈیا آؤٹ لیٹ کے طور پر لائسنس حاصل کررکھے تھے،” انہوں نے مزید کہا، "اس اقدام کے نفاذ سے ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی محروم ہو جاتی ہے۔ روسی زبان میں معلومات کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن ذرائع تک رسائی۔”ایک بڑا مسئلہ بن کررہ جائے گا

    روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    زاخارووا نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اس کے برعکس دعویٰ کرنے کے باوجود روسی صحافیوں کو ویزا جاری نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں توسیع کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہم امریکی حکومتی اداروں اور عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ میں روسی میڈیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

    روس نے 61 امریکی شہریوں پرسفری پابندیوں کی تصدیق کردی

    ترجمان نے مزید کہا کہ ماسکو میں امریکی صحافیوں کے لیے ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں روس میں تسلیم شدہ تمام امریکی میڈیا کے بیورو کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں امریکہ میں روسی صحافیوں کو درپیش تمام مشکلات کے بارے میں "نقطہ بہ نقطہ” بتایا گیا