Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرینی باشندوں کو غلط ای میل بھیج دی

    ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرینی باشندوں کو غلط ای میل بھیج دی

    واشنگٹن: امریکی حکومت نے غلطی سے یوکرین کے پناہ گزینوں کو ایک ای میل بھیج دی جس میں کہا گیا کہ ان کی حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے شروع کردہ پروگرام کے تحت روس کے حملے کے بعد امریکہ فرار ہونے والے یوکرینی باشندوں کو حال ہی میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑ دیں،یوکرین کے لیے یونائٹنگ کہلانے وا لے اس پروگرام نے یوکرین کے باشندوں کو امریکی اسپانسر کی مالی مدد سے دو سال تک عارضی طور پر امریکا میں رہنے کی اجازت دی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے تحت حالیہ تبدیلیوں نے ان مہاجرین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی۔

    اس حوالے سے محکمہ داخلی سلامتی کے ترجمان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ای میل غلطی سے بھیجی گئی اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد بنایا گیا یوکرینی پیرول پروگرام ختم نہیں کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنے یوکرینی باشندوں کو ای میل مو صول ہوئی۔

    محکمہ داخلی سلامتی نے جمعہ کو ایک فالو اپ نوٹ میں انہیں مطلع کیا کہ یہ حکم غلطی سے بھیجا گیا تھا اور ”آپ کے پیرول کی اصل جاری کردہ شرائط میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    روئٹرز نے گذشتہ ماہ اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ روس کے حملے سے فرار ہونے والے تقریباً 240,000 یوکرینیوں کی عارضی قانونی حیثیت کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت یوکرینی باشندوں کا جو استقبال کیا گیا تھا، اس طرح کا اقدام اس کے برعکس ہو گا۔

  • یوکرین کا روسی نیوکلئیر بمبار طیاروں کے بیس پر حملہ

    یوکرین کا روسی نیوکلئیر بمبار طیاروں کے بیس پر حملہ

    یوکرین نے جمعرات کو روس کے اینجلس اسٹریٹجک بمبار ایئربیس کو ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک زبردست دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز سے تصدیق شدہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایئربیس پر بڑے دھماکے اور قریبی مکانات کی تباہی کو دکھایاگیا ہےروسی وزارت دفاع نےدعویٰ کیا کہ ملک کےمختلف علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے 132 یوکرینی ڈرون مارگرا ئے۔

    اینجلس بمبار ایئربیس، جو سوویت دور سے قائم ہے، روس کے ٹوپولیف Tu-160 جوہری صلاحیت کے حامل اسٹریٹجک بمبار طیاروں کا اہم اڈہ ہے ان طیاروں کو غیر رسمی طور پر ”وائٹ سوانز“ کے نام سے جانا جاتا ہے،یہ ایئربیس جنگی محاذ سے تقریباً 700 کلومیٹر دور واقع ہے، روسی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں قریبی رہائشی علاقے بھی متاثر ہوئے۔

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، تھانہ آئی نائن حملے میں ملوث 2 خطرناک دہشتگرد گرفتار

    ساراتوف کے گورنر رومن بوسرگین نے تصدیق کی کہ اینجلس شہر میں یوکرینی ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ایئرفیلڈ میں آگ لگ گئی اور نزدیکی رہائشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا-

    یوکرین اس سے قبل بھی اینجلس ایئربیس پر حملے کر چکا ہے دسمبر 2022 میں اس ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ جنوری میں یوکرین نے ایک آئل ڈپو پر حملے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ دن تک شدید آگ لگی رہی۔

    سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    روسی حکام کے مطابق، یوکرین نے سمارا ریجن کے شہر سیزران میں ایک آئل ریفائنری پر بھی حملہ کیا گورنر ویچسلاو فیڈوریشچیف کے مطا بق، ایمرجنسی سروسز فوری طور پر کارروائی میں مصروف ہیں، اور ابتدائی معلومات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    روسی وزارت دفاع نے مزید بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بریانسک، تاتارستان، تولا ریجن اور بحیرہ اسود کے اوپر 9 یوکرینی ڈرون مار گرائے۔

    جدہ سے لاہور آنے والے پی آئی اے کے طیارے سے پرندہ ٹکرا گیا

  • ماسکو پر یوکرین کا اب تک کا سب سےبڑا ڈرون حملہ

    ماسکو پر یوکرین کا اب تک کا سب سےبڑا ڈرون حملہ

    ماسکو: یوکرین نے منگل کی صبح روسی دارالحکومت ماسکو پر سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے-

    باغی ٹی وی: روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے 337 ڈرونز داغے گئے جن میں سے 91 ڈرونز ماسکو ریجن کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئےماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے تصدیق کی کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا یوکرینی حملہ تھا ماسکو ریجن کے گورنر آندرے وروبیوو کے مطابق، حملے کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے۔

    حملے کے بعد روسی حکام نے ماسکو کے چاروں بڑے ایئرپورٹس پر پروازیں معطل کر دیں جبکہ یروسلاول اور نزنی نووگورود کے ایئرپورٹس کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا رامینسکوئے ضلع میں سات سے زائد رہائشی اپارٹمنٹس کو نقصان پہنچا، جہاں سے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اسی دوران، دومودیدوو ضلع میں ایک ریلوے اسٹیشن بھی حملے کی زد میں آیا، جہاں متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں، بیلگوروڈ اور ریازان کے علاقوں میں بھی حملے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی۔

    معروف کورین پاپ اسٹار اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے

    یوکرین کی حکومت نے ان حملوں کو روس کی جنگی حکمتِ عملی پر جوابی کارروائی قرار دیا، جبکہ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ او ایس سی ای کے سیکرٹری جنرل کے دورہ ماسکو سے عین قبل کیا گیا۔

    یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب میں امریکی اور یوکرینی وفود کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں تجزیہ کارو ں کا کہنا ہےکہ یہ حملے روس اور یوکرین کےدرمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    نادیہ حسین کی شوہر کی گرفتار ی کے بعد سوشل میڈیا پر مبہم پوسٹ

  • امریکی اور یوکرینی صدر گتھم گتھا ہو گئے،ویڈیو وائرل

    امریکی اور یوکرینی صدر گتھم گتھا ہو گئے،ویڈیو وائرل

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے درمیان گزشتہ دنوں ہونے والی تلخ کلامی سے متعلق بنائی گئی ایک اور اے آئی ویڈیو سامنے آگئی جس میں دونوں کو گتھم گتھا ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں تلخ جملوں کو تبادلہ ہوا جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس گرما گرمی سے متعلق اے آئی ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں-

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی ٹرمپ کے ہاتھ پکڑ رہے ہیں اور ہاتھا پائی کو بڑھاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔بعد ازاں ٹرمپ اور زیلسنکی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے جس کے بعد یوکرینی صدر ٹرمپ پر باکسنگ کے انداز میں مکوں سے حملہ کرتے ہیں۔

    دہشتگردوں کے ہاتھوں خواتین کے استعمال کی گھناؤنی حقیقت بے نقاب

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی جس کے بعد ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو وائٹ ہاؤس سے بھیج کر کہا کہ زیلنسکی امن کیلئے تیار نہیں، جب وہ امن کیلئے تیار ہوں تو وہ واپس آسکتے ہیں۔

    ٹرمپ نے زیلنسکی کو آگاہ کیا کہ ان کا بیان احترام سے عاری ہے، امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب سے کہا کہ انہوں نے خود کو مشکل میں ڈال دیا ہے، وہ سودے بازی کے لیے کوئی کارڈ نہیں رکھتے ہیں جبکہ امریکی صدر نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ پر شکر کا اظہار لازم ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، سب مل کر کام کریں، وزیراعظم

    کشیدگی سے بھرپور ملاقات سے قبل ایک ہفتے سے مسلسل سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں، اس دوران فرانس کے صدر اور برطانوی وزیر اعظم نے وائٹ ہاؤس کا رخ کیا تاکہ ٹرمپ کو یوکرین کو اکیلا نہ چھوڑنے پر قائل کیا جا سکے۔

  • نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہوں،ولودیمیر زیلنسکی

    نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہوں،ولودیمیر زیلنسکی

    کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے لئے نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یوکرین کے لیے امن کی ضمانت کے بدلے استعفی دینے کے لیے تیار ہیں، تو زیلنسکی نے کہا اگر یہ یوکرین کے لیے امن کی ضمانت دیتا ہے، اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ میں استعفٰی دوں، تو میں تیار ہوں، میں نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفیٰ ہو سکتا ہوں۔“

    وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ میڈیا کے سامنے ملاقات میں تلخی کے بعد ریپبلکنز کی جانب سے یہ تجویز دی گئی تھی کہ یوکرینی صدر کو استعفیٰ دینا چاہیے۔

    ہری پور یونیورسٹی میں بھی طالبہ کو ہراسانی کا سامنا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرینی صدر نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اگر وہ میری جگہ کسی اور کو دیتے ہیں تو یہ سادہ یا آسان عمل نہیں ہو گا یہ صرف ایک الیکشن تک محدود نہیں ہو گا، آپ کو مجھے جانے نہیں دینا چاہیے، ایسا کچھ مشکل ہو گا اور ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کو مجھ سے ہی بات کرنا پڑے گی۔

    انہوں نے ایک بار پھر دُہرایا کہ میرا یہ کہنا کہ میں نیٹو کی رکنیت کے بدلے مستعفی ہونے کو تیار ہوں، تو اس سے میرا مشن پورا ہو گیا میرا یہ کہنا کہ میں نیٹو کے بدلے میں مستعفی ہونے کو تیار ہوں، تو اس سے میرا مشن پورا ہو گیامنجمد روسی اثاثے ہمارے ہیں، وہ ہمارا پیسہ ہے شراکت داروں کا نہیں، روسی صدر کو ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ڈیرہ غازی خان: ماہِ صیام میں گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں، 1195 کاروباری مراکز سیل

    اوول آفس میں امریکی صدر کے ساتھ تلخی کے بعد ولودیمیر زیلنسکی یوکرین کے معدنی ذخائر کے حقوق کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی وائٹ ہاؤس چھوڑ گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد یورپی رہنما یوکرین کی حمایت میں جمع ہو گئے۔

    قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹرز نے سی این این کو بتایا ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ہمارے ساتھ ڈیل کر سکے اور آگے چل کر روس کو ڈیل کرے اور اس جنگ کا خاتمہ ختم کر سکےایسا ظاہر ہوتا ہے کہ زیلنسکی کے ذاتی یا سیاسی خیالات لڑائی ختم کرنے کے علاوہ کچھ اور ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے۔

    لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    زیلنسکی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی کسی بھی ڈیل میں یوکرین کو نیٹو کی رکنیت دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاہم واشنگٹن کی قیادت اس کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہی ہے۔

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوئل نے کہا ہے کہ فرانس اور برطانیہ یوکرین میں ایک ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کرنے جا رہے ہیں صدر ایمانوئل نے فرانسیسی اخبار لی فگارو کو انٹرویو میں انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ امریکا کی ترجیحات کی تبدیلی کے بعد یورپی ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات کو بڑھانا چاہیے اور اس پر جی ڈی پی کا تین سے ساڑھے تین فیصد تک خرچ کرنا چاہیے روس نے تین سال تک اپنے جی ڈی پی کا دس فیصد دفاع پر خرچ کیا، اس لیے ہم کو بھی آنے والے وقت کے تیار ہونا ہے۔

    اداکارہ ریشم کی فٹنس کا راز کیا؟

    یورپی سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے کیئف کی حمایت پر اتفاق کیا اور دفاع پر زیادہ خرچ کرنے اور یوکرین میں جنگ بندی تک پہنچنے کا عزم ظاہر بھی کیا 18 اتحادیوں کو ایک صف میں لانے کا یہ موقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کے دو روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا پر نشر ہونے والی براہ راست گفتگو میں یوکرینی صدر کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا۔

    اس کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور دوسرے ممالک جنگ روکنے کے منصوبے پر یوکرین کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور یہ منصوبہ واشنگٹن کو بھی پیش کی جائے گا۔

    افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری

  • ہر کوئی حقیقی امن کے لیے متحد ہے،یوکرینی صدر

    ہر کوئی حقیقی امن کے لیے متحد ہے،یوکرینی صدر

    کیف: یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں مگر اس کیلئے حفاظتی ضمانتیں ضروری ہیں۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں یوکرینی صدر نے کہا کہ جو کچھ ان دنوں ہوا اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے لیے یورپ کی واضح حمایت نظر آرہی ہےہر کوئی حقیقی امن کے لیے متحد ہے اور اس کے لیے سکیورٹی کی حقیقی حفاظتی ضمانتیں چا ہئیں جس کے لیے برطانیہ اور ترکیہ سمیت تمام یورپ متحد ہے اور ان کی بھی یہی پوزیشن ہے۔

    عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ

    زیلنسکی نے کہا کہ ہم امریکا کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ہمیں امریکا سے جو بھی حمایت ملی ہم اس پر شکر گزار ہیں اور ہم نے ہمیشہ ان کا شکریہ ادا کیا ہےیوکرین میں ہماری صلاحیت اس بات پر منحصر ہے کہ ہمارے شراکت دار ہمارے لیے اور اپنی سلامتی کے لیے کیا کر رہے ہیں، ہم نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں اور اس لیے ہم کہتے ہیں کے حفاظتی ضمانتیں اس کے لیے ضروری ہیں۔

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

  • ٹرمپ سے کشیدگی کے بعد یوکرینی صدر  کا برطانیہ  میں پر تپاک خیر مقدم

    ٹرمپ سے کشیدگی کے بعد یوکرینی صدر کا برطانیہ میں پر تپاک خیر مقدم

    لندن:ٹرمپ سے کشیدگی کے بعد یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا برطانیہ پہنچنے پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔

    باغی ٹی وی: جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات میں دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبا دلہ ہوا تھاٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی امداد کا مناسب شکریہ ادا نہیں کر رہے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو آئندہ کسی بھی امداد کے لیے امریکی شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا-

    امریکا کے دورے کے بعد زیلنسکی برطانیہ پہنچے جہاں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں انہیں گرمجوشی سے خوش آمدید کہا زیلنسکی کی لندن آمد پر ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کا استقبال کیا برطانوی وزیراعظم نے یوکر ین کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ ہے اور جتنا وقت بھی لگے، اس کی حمایت جاری رہے گی۔

    وزیراعظم کی چینی کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت

    یہ ملاقات اتوار کو ہونے والے یورپی سربراہی اجلاس سے پہلے ہوئی، جہاں یوکرین کی حمایت اور یورپی سیکیورٹی کے معاملات پر غور کیا جائے گا،برطانیہ اور یوکرین نے 2.26 بلین پاؤنڈز کی نئی مالی امداد کا بھی اعلان کیا جو یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوگی ،زیلنسکی نے برطانیہ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ حمایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔

    زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں کشیدگی کے باوجود امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ یوکرین امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

    مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں اعتکاف کیلئے رجسٹریشن کا آغاز 5 مارچ سے

  • یوکرین کو بڑا جھٹکا، امریکی صدر سے ملاقات کے روز 200 فوجی ہلاک

    یوکرین کو بڑا جھٹکا، امریکی صدر سے ملاقات کے روز 200 فوجی ہلاک

    یوکرین کے 200 فوجی ہلاک ہوگئے واقعہ اُس روز پیش آیا جب یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کی امریکا کے صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات تھی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حملہ روس کی جانب سے کیا گیا، یوکرین پہلے ہی فوجیوں کی کمی اور وسائل کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس صورتحال میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی نے یوکرین کے لیے مزید مشکلات پیدا کردی ہیں۔یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ زیلنسکی کا امریکہ کا دورہ کس قدر اہم تھا، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے ملک کے لیے مالی اور فوجی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے بلکہ یوکرین کی بقا کے لیے ضروری سفارتی حمایت بھی مضبوط کرنا چاہتے تھے۔تاہم ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات میں کشیدگی نے ان کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا، اور وہ اپنی بنیادی سفارتی کامیابی یعنی "معاشی شراکت داری” کے معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی واپس روانہ ہوگئے۔

    اس دوران میدانِ جنگ میں یوکرینی افواج کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی ناکامی کے ساتھ ساتھ جنگی محاذ پر بھی یوکرین کو سخت مشکلات کا سامنا ہے،یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب روسی فوج نے 11 بکتر بند جنگی گاڑیاں، 12 موٹر گاڑیاں اور 7 توپیں تباہ کر دیں۔ یہ نقصان یوکرین کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر وولوڈیمیر زیلنسکی امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن میں تھے۔ میدانِ جنگ میں ہونے والی اس تباہی نے یوکرین کے دفاعی چیلنجز کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ سفارتی محاذ پر بھی مشکلات برقرار ہیں۔

    کراچی میں کسٹم چھاپہ، تین کروڑ روپے کی اسمگل شدہ اشیا برآمد

    پی سی بی کا بارش سے متاثرہ میچوں کے ٹکٹوں کی رقم کی واپسی کا اعلان

    مائیکروسافٹ نےسکائپ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا

    دارالعلوم حقانیہ میں خودکش حملہ، حملہ آور کی تصویر جاری،انعام کا اعلان

  • ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اس موقع پر میڈیا نمائندوں کے سامنے یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب سے تکرار ہوتی رہی جس کی ویڈیو کیمروں میں محفوظ ہوگئی۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے صحیح سلامت نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ 2 ہفتوں میں ہی ختم ہوجاتی۔

    اس دوران یوکرینی صدر متعدد مرتبہ امریکی صدر کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو بولنے نہیں دیا۔ٹرمپ نے ملاقات میں میڈیا نمائندوں کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ امریکی عوام کو صورتحال معلوم ہو اسی وجہ سے میں نے یہ ملاقات جاری رکھی۔ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ کو شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مررہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔ہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ اس ملک [امریکا] کی توہین کررہے ہیں۔ آپ ہمیں احکامات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘۔

    نائب امریکی صدرجے ڈی وینس نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کے الفاظ انتہائی غیر مناسب ہیں‘، ٹرمپ نے زیلسنکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکا کا شکریہ ادا کیا؟ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی ضمانت امریکا نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے ، چاہتے ہیں امریکا یوکرین کی مدد بند نہ کرے.یوکرینی صدر نے کہا کہ روس نے 30 ہزار سے زائد بچوں اور دیگر شہریوں کو اغوا کیا، اپنے لوگوں کی واپسی چاہتے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرینی صدر کو کہا گیا کہ آپ بہت زیادہ بولتےہیں۔ملاقات میں نائب امریکی صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن کا راستہ امریکی سفارتی کوششوں سے ہو کر گزرتا ہے، اس میں روسی صدر سے مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    یوکرینی صدر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے روسی صدر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، آپ کس قسم کی سفارت کاری کی بات کر رہے ہیں؟غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات کے بعد امریکا اوریوکرین کے صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس منسوخ کردی گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے کابینہ سے خطاب میں کہا تھا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی جمعے کو ایک بڑی ڈیل پر دستخط کرنے آ رہے ہیں۔یوکرین سے اپنے پیسے واپس لیں گے ،یوکرین کیلئے سکیورٹی ضمانت امریکا نہیں، یورپ دے گا۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی بڑی کمی

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    سوات: سیدو شریف میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

  • واشنگٹن، یوکرین کو سیکیورٹی گارنٹیز فراہم نہیں کرے گا،ٹرمپ

    واشنگٹن، یوکرین کو سیکیورٹی گارنٹیز فراہم نہیں کرے گا،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلنسکی کے دورۂ امریکہ کی تصدیق کر تے ہوئےواضح کیا کہ واشنگٹن، یوکرین کو سیکیورٹی گارنٹیز فراہم نہیں کرے گا۔

    باغی ٹی وی : یوکرینی حکومت کے مطابق،وہ امریکہ کے ساتھ ایک فریم ورک معدنی وسائل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے،جس کے تحت کیف، اپنی معدنیات کی آمدنی کا کچھ حصہ ایک مشترکہ امریکی فنڈ میں دے گایہ معاہدہ یوکرین کو امریکی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ ٹرمپ نے روس-امریکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا ہے، جن میں یوکرین کو شامل نہیں کیا گیا۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ "ہم یورپ کو کہیں گے کہ وہ سیکیورٹی گارنٹیز فراہم کرے، امریکہ نہیں، زیلنسکی نے کہا کہ "یہ معاہدہ مستقبل میں سیکیورٹی گارنٹیز کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن ہمیں اس پر مزید وضاحت درکار ہے۔”

    موٹر وے پر تیزرفتاری پر جرمانے کیساتھ گاڑی بند ،ڈرائیور پر مقدمہ درج کیا جائے گا

    ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ زیلنسکی واشنگٹن میں ایک "بہت بڑا معاہدہ” کرنے آ رہے ہیں، لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے دورے کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا بعد میں، ٹرمپ نے دوبارہ زیلنسکی کے جمعہ کے روز دورہ کرنے کی تصدیق کر دی، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین تنازعے پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے تحت روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اعلان کیا کہ "امریکی اور روسی سفارتکار استنبول میں ملاقات کریں گے، اس دوران، روس کے میزائل اور ڈرون حملے یوکرین پر جاری ہیں، جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے بڑا تنازعہ بن چکا ہے۔

    غیر ملکی مہمانوں کی آمد،سخت سیکیورٹی انتظامات