Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا

    یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا

    یوکرین کے صدر ولا دیمیر زیلنسکی نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ روسی فوج نے ہزاروں شہریوں کا قتل عام کیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں طیارہ شکن میزائل سسٹم، اینٹی ٹینک، اینٹی شپ اور جنگی ساز و سامان مہیا کیے جائیں۔

    یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ اگر جنگی ساز و سامان کی فراہمی میں کوئی قانون رکاوٹ بنتا ہے تو اس پر نظر ثانی کریں کیوں کہ اس کے بغیر روس کو جارحیت سے روکنا ممکن نہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یوکرین کے وزیر دفاع کی اینٹی ایئر کرافٹ کی فراہمی کے مطالبے کو پورا کرنے سے جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے معذرت کرلی تھی۔

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خطے میں موجودہ جنگی صورت حال اور ملکی قومی سلامتی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

    روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    واضح رہے کہ چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے دھمکی دی ہے کہ یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے پیر کی صبح اپنے تازہ ترین بیان میں چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حلف نے باور کرایا کہ روسی افواج یوکرین کے جنوب مشرق میں محصور ساحلی شہر ماریوپول ، دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملہ کریں گی۔

    ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں رمضان نے مزید کہا تھا کہ پہلے ہم لوجاسک اور دونیسک پر مکمل کنٹرول حاصل کریں گے۔ پھر اس کے بعد کیف اور دیگر تمام شہروں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

  • یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے، چیچن سربراہ

    چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے دھمکی دی ہے کہ یوکرینی شہرماریوپول پر حملہ کرکےکیف میں داخل ہو جائیں گے-

    باغی ٹی وی :آج پیر کی صبح اپنے تازہ ترین بیان میں چیچن سربراہ رمضان قدیروف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حلف نے باور کرایا کہ روسی افواج یوکرین کے جنوب مشرق میں محصور ساحلی شہر ماریوپول ، دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملہ کریں گی۔

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

    ٹیلی گرام پر جاری ویڈیو پیغام میں رمضان نے مزید کہا کہ پہلے ہم لوجاسک اور دونیسک پر مکمل کنٹرول حاصل کریں گے۔ پھر اس کے بعد کیف اور دیگر تمام شہروں کا کنٹرول سنبھالیں گے۔

    قدیروف گذشتہ ماہ مارچ کے وسط میں ایک تصویر میں تقریبا 30 مسلح افراد کے بیچ نظر آئے تھے اس تصویر کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ یوکرین کے شہر ماریوپول کی ہے۔

    روس کے ہمنوا رمضان قدیروف جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی کئی ریکارڈ شدہ وڈیوز جاری کر چکے ہیں ان وڈیوز میں وہ اپنے فوجیوں کی "کیف کے نازیوں” کے سامنے بہادری کو سراہتے ہیں۔

    روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آغاز 24 فروری کو ہوا تھا۔ بحیرہ آزوف پر واقع ماریوپول شہر روس کا تزویراتی ہدف ہے۔ بالخصوص اس پر قبضہ کر لینے سے مشرق میں روس کے ہمنوا علاحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو جنوب میں جزیرہ نما قرم کے ساتھ مربوط کیا جا سکے گا۔ روس نے 2014ء میں قرم کو اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا۔

    واضح رہے کہ تقریبا دو ماہ قبل یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے چیچن سربراہ رمضان قدیروف کئی بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر یوکرین میں لڑائی میں چیچن فورسز کی شرکت کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے حساس علاقوں کے انتظام وانصرام کے ذمے دار ادارے (اسٹیٹ ایجنسی فارمینجنگ دی ایکسکلوژن زون) نے چرنوبل جوہری پلانٹ پرقبضہ کرنے والی روسی افواج پر تحقیقی لیبارٹریوں سے خطرناک تابکار مواد چرانے کا الزام عاید کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ مواد انھیں ممکنہ طور پرہلاک کر سکتا ہے۔

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    روس کی افواج نے 24 فروری کو یوکرین پرحملے کے پہلے دن ہی چرنوبل میں واقع اس ناکارہ پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے 31 مارچ کووہاں سے پسپائی اختیارکرنے سے پہلے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک انتہائی تابکار زون پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

    یوکرینی ایجنسی نے اتوارکے روز فیس بُک پرایک بیان میں کہا ہے کہ روسی فوجیوں نے علاقے میں دو لیبارٹریوں کو لوٹ لیا ہے۔روسی فوجی ایکو سینٹر ریسرچ بیس کے ذخیرہ کرنے والے حصے میں داخل ہوئے تھے اورانھوں نے 133انتہائی تابکار مادے چوری کرلیے تھے اگراس مواد سے غیرپیشہ ورانہ انداز میں نمٹا جائے تو اس کا معمولی سا ذرّہ بھی مہلک ہے۔

    یوکرین: ریلوے اسٹیشن پر روس کا مبینہ راکٹ حملہ، 5 بچوں سمیت 50 افراد ہلاک

    اسی ہفتے کے اوائل میں یوکرین کے وزیرتوانائی جرمن گلاشچینکو نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں نے خود کو جوہری تابکاری کی ’’چونکا دینے والی‘‘مقدار سے روشناس کرایا اب اس کے بعد ان میں سے کچھ کے پاس زندہ رہنے کے لیے ایک سال سے بھی کم وقت ہوسکتا ہے اور واضح طور پر وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکیں گے،بلکہ بیماریوں سے ان کی سست روی سے موت واقع ہوسکتی ہے

    گلاشچینکو نے جمعہ کواخراج زون کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ انھوں (روسی فوجیوں) نے تابکاری سے آلودہ ننگی مٹی کھودی، محفوظ کرنے کے لیے تھیلوں میں تابکار ریت جمع کی اور اسی دھول میں سانس لیا تھا ہر روسی فوجی چرنوبل کا ایک ٹکڑا زندہ یا مردہ گھر لے جائے گا روسی فوجی سازوسامان بھی اس تابکار مادے سے آلودہ ہوا ہے مگر روسی فوجیوں کی اس خطرناک مواد سے لاعلمی حیران کن ہے۔

    یادرہے کہ چرنوبل پاور اسٹیشن 1986ء میں بدترین جوہری تباہی سے دوچار ہوا تھا اوردنیا میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا جوہری حادثہ تھا۔

    یوکرینی صدرولادیمیر زیلنسکی کی گریمی ایوارڈز کی تقریب میں شرکت

  • روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    روس کا یوکرین کے گولہ بارود کے ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 45 واں روز ہے۔ روسی افواج نے یوکرین کے بنیادی عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ اس دوران روسی افواج کی نگاہیں ڈونباس کے خطے پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ دفاع کے اعلان کے مطابق یوکرین میں بولٹاوا کے علاقے اور میرہورڈ فضائی اڈے میں گولہ بارود کے متعدد ڈپو تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایک دن کے اندر یوکرین کی 85 عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

     

    روسی وزارتِ دفاع کے مطابق اِس کے علاوہ انتہائی درست نشانے پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے دنیبرو بٹروویسک کے علاقے میں بھی گولہ بارود کا ایک ڈپو تباہ کر دیا گیا۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کے اعلان کے مطابق روسی افواج نے یوکرین کے شہر ماریوپول میں سینکڑوں یورپی اجرتی جنگجوؤں کا محاصرہ کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس نے اُن اُجرتی جنگجوؤں کی باہمی گفتگو بھی ریکارڈ کرلی جو 6 زبانوں میں جاری تھی۔

     

    اس سے قبل روسی فضائیہ نے اعلان کیا تھا کہ یوکرین میں 54 فوجی ٹھکانوں کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران یوکرین کے جنوب میں اوڈیسا میں میزائلوں اور گولہ بارود کے ایک گودام کو میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    یوکرین میں 6 ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری روسی فوجی آپریشن کے نتیجے میں اب تک 40 لاکھ افراد بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ یوکرین کی ایک چوتھائی آبادی دیگر ممالک میں پناہ کے حصول کے لیے نقل مکانی بھی کر چکی ہے۔

  • یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے،امریکی جنرل

    یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے،امریکی جنرل

    امریکی جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ دفاع کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے امریکی کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں روس کی جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے یوکرین کی مدد کرنے والے امریکہ اور دیگر ممالک بھی اس جنگ میں کچھ عرصے تک شامل رہیں گے۔

    جنرل مارک ملی نے مشورہ دیا ہے کہ امریکہ کو مشرقی یورپ میں اپنے مستقل اڈے قائم کرنے چاہئیں لیکن فوج کو مستقل طور پر کسی ایک جگہ تعینات کرنے کی بجائے انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرتے رہنا چاہیے۔

    امریکا اوریورپی یونین کا روس پرمزید پابندیاں لگانے کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ بالٹک ریاستیں، رومانیہ اور پولینڈ اس طرح کے اڈوں کی ادائیگی کے لیے بھی راضی ہیں۔

    قبل ازیں یوکرینی صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے ایک تلخ خطاب میں اقوام متحدہ کو ’فوری طور پر روس کے خلاف کارروائی کرنے‘ یا ’خود کو مکمل طور پر تحلیل‘ کرنے کا چیلنج کیا، خطاب میں انہوں نے بچوں سمیت دیگر لاشوں کی دل دہلا دینے والی فوٹیجز بھی دکھائیں۔

    بوچا اور یوکرین کے دیگر شہروں میں روس کی کارروائیوں کو ’دہشت گردی‘ اور شدت پسند داعش کے تشدد سے تشبیہ دیتے ہوئے ویلادیمیر زیلنسکی نے سلامتی کونسل کے 15 اراکین سے مطالبہ کیا کہ روس جارحیت اور جنگ کے حوالے سے اپنے فیصلے روک نہیں سکتا لہذا اسے بے دخل کیا جائے۔

    سلامتی کونسل کا مقصد عالمی سطح پر امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے روس سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین میں سے ایک ہے اور اسے قراردادیں اور عالمی سطح پر مذاکرات روکنے کا حق حاصل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے تنظیم سے خارج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ سلامتی کونسل کی جانب سے کسی بھی ووٹ یا سفارش کو ویٹو کر دے گا۔

    روس نے امریکا و برطانیہ سمیت متعدد ممالک پر ویزہ پابندیاں عائد کردیں

    بات جاری رکھتے ہوئے ویلادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی آپشن موجود نہیں ہے تو اس کا متبادل یہ ہی ہے کہ کونسل کو تحلیل کردیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین و حضرات کیا آپ اقوام متحدہ تحلیل کرنے کو تیار ہیں، اگر آپ کا جواب انکار میں ہے تو آپ کو جلد کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

    کیف شہر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ویلادیمیر زیلنسکی نے ان مظالم کی ایک دستاویز پیش کی جو ان کے مطابق روسی فوجیوں نے یوکرین کے دارالحکومت سے باہر ایک قصبے بوچا میں شہریوں کے خلاف کیے تھےبوچا پر روسی فوجیوں نے قبضہ کر لیا تھا لیکن جب وہ حال ہی میں واپس چلے گئے تو یوکرینی حکام اور اے ایف پی سمیت دیگر آزاد بین الاقوامی صحافیوں، نے ایسے لوگوں کی لاشیں دیکھیں جو عام لباس میں ملبوس تھے، اور ان میں سے کچھ کے ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

    بھارت نے روس سے روسی کرنسی میں تجارت کی تو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا

    زیلنسکی نے ایک 90 سیکنڈ کی ایک گرافک کلپ نشر کی جو ان کے مطابق بوچا، ماریو پول کی جنوبی بندرگاہ کے قصبوں کی تصاویر تھیں فوٹیج میں بچوں سمیت دیگر کی لاشیں دیکھائی گئیں، میدان میں متعدد لاشیں موجود تھیں اور ان کے ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے، یہ لاشیں ایک دیوار کے ساتھ پڑی ہوئی تھیں۔

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ’ اب دنیا دیکھ سکتی ہے کہ روسی فوج نے بوچا میں کیا کیا ہے ان لوگوں کو ان کے گھروں میں گرینیڈ مار کر قتل کیا گیا، سڑکوں پر اپنی کاروں میں موجود شہریوں کو ٹینکس سے دبایا گیا، صرف اپنی خوشی کے لیے لوگوں کے گلے اور اعضا کاٹ دیئے-

    یوکرینی افواج کا روسی آئل ڈپو پر حملہ، روس کا شدید ردِعمل

  • روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری:اسپین نے بھی امریکی اطاعت کردکھائی

    روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری:اسپین نے بھی امریکی اطاعت کردکھائی

    اسپین کی حکومت نے دارالحکومت میڈرڈ سے تقریباً 25 روسی سفارت کاروں اور سفارت خانے کے عملے کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
    ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے منگل کے روز کہا کہ یوکرین میں روسی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کے جواب میں یورپی یونین کے دیگر ممالک میں شامل ہوں گے۔

    جوز مینوئل الباریس نے مزید اقدامات کو مسترد کیے بغیر کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد کہا، ہم نے اسپین میں روسی سفارت خانے سے روسی سفارت کاروں اور عملے کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے ملک کے مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    وزیر نے مزید کہا کہ سفارت کاروں کی بیدخلی بھی “گزشتہ دنوں میں یوکرین میں کی گئی خوفناک کارروائیوں کا ردعمل تھا.

    خاص طور پر بوچا میں اور جو آج ماریوپول سے رپورٹ ہوئے ہیں۔” یوکرین کے شہر بوچا میں اجتماعی قبروں اور شہریوں کے قتل کی دریافت کا حوالہ دیتے ہوئے

    اٹلی، سویڈن اور ڈنمارک گزشتہ ہفتے ہی اپنے ملک سے روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    الباریس نے کہا کہ ان کی حکومت کو توقع ہے کہ روس جواب میں اتنی ہی تعداد میں ہسپانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دے گا۔

    تاہم، انہوں نے کہا کہ اسپین روسی سفیر کو ملک بدر نہیں کرے گا کیونکہ میڈرڈ ماسکو میں اپنا سفیر رکھنا چاہتا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ بات چیت کے لیے سفارتی راستے کھلے چھوڑنا چاہتا ہے۔

  • یوکرینی افواج کا روسی آئل ڈپو پر حملہ، روس کا شدید ردِعمل

    یوکرینی افواج کا روسی آئل ڈپو پر حملہ، روس کا شدید ردِعمل

    ماسکو:یوکرینی افواج کا روسی آئل ڈپو پر حملہ، روس کا شدید ردِعمل ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں لڑائی روکنے کے لیے جمعے کو کیف اور ماسکو کے درمیان مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، روسی حکام نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے گن شپ ہیلی کاپٹر نے سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے روس میں موجود آئل ڈپو پر حملہ کیا۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق روس کے علاقے بیلگوروڈ کے گورنر کا کہنا ہے کہ روسی سرزمین پر دو گن شپ ہیلی کاپٹرز کے حملے سے آگ لگ گئی اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

    اس تناظر میں کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کی سرزمین پر یہ واقعہ یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان جمعے کو ویڈیو لنک پر دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یقینی طور پر یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے آرام دہ کہا جا سکے۔

    واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات منگل کو ترکی میں روسی اور یوکرینی وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہو رہے ہیں۔

    یوکرین نے روسی وفد کے ساتھ ملاقات میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ نیٹو میں شمولیت کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ اُس نے اپنی غیرجانبدار فوجی پوزیشن کے لیے متعدد غیرملکی ممالک سے ضمانت دلوانے کی بھی پیشکش کی تاہم، روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جزیرہ نما کریمیا پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ مشرقی یوکرین میں علاقے کو وسعت دینے کے بارے میں ماسکو کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    دوسری جانب انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس نے کہا ہے کہ ریلیف آپریشن کے لیے ابھی بھی پیچیدہ لاجسٹکس پر کام کیا جارہا ہے تاکہ ماریوپول میں ہنگامی امداد پہنچائی جا سکے اور شہریوں کو شہر سے باہر لے جایا جا سکے۔

    خیال رہے، ماریوپول کے شہریوں کو گذشتہ کئی ہفتوں سے شدید لڑائی کی وجہ سے پانی، خوراک اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔

  • یوکرین میں روسی فوجیوں نے غلطی سے اپنا ہی طیارہ مار گرایا

    یوکرین میں روسی فوجیوں نے غلطی سے اپنا ہی طیارہ مار گرایا

    یوکرین میں روسی فوجیوں نے غلطی سے اپنا ہی طیارہ مار گرایا۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سر جیرمی فلیمنگ نے بیان میں کہا کہ یوکرین میں روسی فوج نے غلطی سے اپنا ہی طیارہ مار گرایا۔ یوکرین میں لڑنے والے روسی فوجیوں کے حوصلے پست ہیں اور وہ احکامات پرعمل نہیں کررہے ہے۔

    ترکی، روس اور یوکرین کے مابین مذاکرات شروع، صدر اردوان کا جنگ بندی پر زور

    برطانوی انٹلیجنس چیف نے مزید کہا کہ یوکرین میں روس کے لئے صورتحال انتہائی خراب ہے لیکن صدرپوٹن کے مشیرانہیں سچائی بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ روسی صدرنے یوکرین کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔

    انہوں نے کہا یوکرین میں روسی فوجی دلبرداشتہ ہیں ان کے پاس اسلحے کی کمی ہے اوروہ غصے اورمایوسی کے عالم میں اپنے ہی ہتھیار تباہ کررہے ہیں اوراحکامات ماننے سے انکارکررہے ہیں۔

    مغربی پابندیاں:روسی فضائی حدود سے باہر طویل دورانیے کی پرواز،دنیا مشکلات کا…

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روسی فوجی حملے کے بعد مختلف یورپی ممالک میں بطور مہاجر پناہ لینے والے یوکرینی شہریوں کی تعداد اب4 ملین سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

    یو این ایچ سی آر نے کہا کہ 24 فروری سے جاری جنگ کے باعث اب تک 40 لاکھ 19 ہزار سے زائد شہری یوکرین سے رخصت ہو چکے ہیں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد نے ہمسایہ ملک پولینڈ کا رخ کیا ہے۔ جن کی تعداد لگ بھگ 23لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔

    یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

    ادھر روس اور یوکرین کے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن اور یوکرینی صدر ولودو میر زیلینسکی کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان گفتگو میں یوکرینی فوج کی مدد کے لیے اضافی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا جوبائیڈن نے یوکرین کو 50 کروڑ ڈالر براہ راست امداد دینے کا اعلان بھی کیا-

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن سے مخصوص دفاعی حمایت، پابندیوں کے نئے پیکیج، میکرو فنانشل اور انسانی امداد کے بارے میں بات ہوئی۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام کی جانب سے کیے گئے دعوے کے مطابق یوکرین کے شہر ارپن میں روسی حملے میں 200 سے 300 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    جبکہ سلوواکیہ نے روس کے 35 سفارتکاروں کو ملک بدرکرنےکا اعلان کیا ہے روس نے یوکرین کےشہر ماریوپول میں شہریوں کے انخلا کے لیے آج سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

    روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

  • بیلجیئم کو روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا جواب دینا پڑے گا:روس کا سخت ردعمل

    بیلجیئم کو روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا جواب دینا پڑے گا:روس کا سخت ردعمل

    ماسکو:بیلجیئم کو روسی سفارتکاروں کی بے دخلی کا جواب دینا پڑے گا:روس کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق روس نے کہا ہے کہ وہ بیلجیئم کو روسی سفارتی عملے کو بے دخل کرنے کے فیصلے کا جواب دے گا۔

    بیلجیئم حکومت نے کل دارالحکومت برسلز میں روس کے سفارت خانے اور اینورس شہر میں روس کے قونصل خانے میں متعین 21 روسی سفارتکاروں کو جاسوسی کے الزام کے تحت ناپسندیدہ افراد قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔

    روس کے سفارت خانے نے اس فیصلے کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس کے سفیر الیگزینڈر ٹوکووین نے جاسوسی کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا ہے۔

    ٹوکووین نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے مابین تعاون کی روایت کے منافی ہونے کی وجہ سے روس اور بیلجیئم کے مابین تعلقات پر کاری ضرب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان مخاصمانہ تدابیر کا جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ بیلجیئم کی وزیر خارجہ صوفی ولمز نے گزشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اُنہوں نے ملک میں موجود 21 روسی سفارت کاروں کو بیلجیئم کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کی حامل جاسوس سرگرمیوں اور اثرانداز کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ شخصیات قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بیلجیئم کے علاوہ ہالینڈ نے 17 اور آئرلینڈ نے 4 روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

  • روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:یوکرینی صدرکاعمران خان کوفون

    روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:یوکرینی صدرکاعمران خان کوفون

    اسلام آباد:دنیا میں روس اوریوکرین کےدرمیان صرف عمران خان ہی صلح کرواسکتا ہے:اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے دنیا کوباورکرادیا ہے کہ اگردنیا میں کوئی روس اور یوکرین کے درمیان صلح کروا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف عمران خان ہیں،

    اسی مقصد کے لیے وزیراعظم کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ٹیلی فون کیا۔ ٹیلیفونک رابطے کے دوران عمران خان نے یوکرین کی صورتحال اور جنگ جاری رہنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی حمایت میں پاکستانی اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت میں پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے یوکرائنی حکام کی پاکستانی طلبہ، شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلاء میں مدد پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے دیگر ممالک کی جانب سے سفارتی حل کی سہولت کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔

    عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پر تنازعات کے باعث منفی معاشی اثرات کو مسلسل اجاگر کر رہے ہیں، معیشت پر اثرات تیل اور اشیاء خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ظاہر ہورہے ہیں، پاکستان نے یوکرین میں لوگوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے لیے سامان کے دو طیارے روانہ کیے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے تنازعے سے پیدا ہونے والی بگڑتی سلامتی اور انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے فوری طور پر دشمنی کے خاتمے پر زور دیا، رکن ممالک نے مذاکراتی عمل کی حمایت اور سہولت کاری فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستان جیسے غیرجانبدار ممالک سفارتی حل کے لیے کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • ترکی، روس اور یوکرین کے مابین مذاکرات شروع، صدر اردوان کا جنگ بندی پر زور

    ترکی، روس اور یوکرین کے مابین مذاکرات شروع، صدر اردوان کا جنگ بندی پر زور

    روس کے یوکرین پر حملے کے تناظر میں بات چیت کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے درمیان آج استنبول میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات آبنائے باسفورس کے کنارے تاریخی ڈولماباشے محل میں ہو رہے ہیں۔

    مذاکرات کے آغاز سے قبل فریقین کے وفود سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا نتیجہ خیز ہونا ضروری ہے۔

     

    ترک صدر نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روسی صدر پیوٹن ان کے اچھے دوست ہیں اور یہ بات چیت آگے بڑھی تو اس سے دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔صدر اردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی اس سربراہی ملاقات کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔

    ترک صدر نے کہا کہ وہ یوکرین اور روس دونوں کے خدشات کو جائز سمجھتے ہیں لیکن فریقین جنگ میں اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مذاکرات کے نتیجے میں ٹھوس نتائج کا حصول ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات پر بہت سی چیزوں کا انحصار ہے اور منصفانہ امن میں کوئی بھی فریق شکست خوردہ نہیں ہوتا جبکہ تنازع کا جاری رہنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔

    صدر رجب طیب اردوان نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس المیے کو روکنے کا فیصلہ دونوں ممالک کو کرنا ہوگا۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر اتفاقِ رائے اس کی پہلی ترجیح ہے تاہم یوکرین اور امریکا دونوں نے اس معاملے میں روس کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔