Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

    یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا

    کیف :یوکرین نےروس سے اہم شہر واپس چھین لیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دارالحکومت کئیف کے قریبی شہر ارپن کو روس سے واپس چھین لیا ہے جو 24 فروری کے حملے کے بعد روسی فوجیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے روئٹرز کے مطابق شہر کے میئر اولیکسینڈر مارکشائن نے بیان جاری کیا ’آج ہمارے پاس ایک اچھی خبر ہے، ارپن کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔‘ ایک سینیئر امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ’سرزمین واپس لینے کی جدوجہد جاری ہے اور مشرقی شہر ٹروسٹیانیٹس، جنوبی سمے ہمارے پاس واپس آ چکے ہیں۔‘

    دوسری جانب آج استنبول میں آمنے سامنے بات چیت کا سلسلہ بحال ہونے جا رہا ہے جو کہ 10 مارچ کو وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے کسی ٹھوس پیش رفت کا امکان کم ظاہر کیا گیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ، وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو روسی حملے کے بعد اس کو پیچھے دھکیلے جانے کی علامات ہیں۔ اسی طرح ابھی تک کسی فریق نے روس کے علاقائی مطالبات بشمول کریمیا کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے، جس پر روس نے 2014 میں قبضہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔

    اسی طرح دوسرا علاقہ دونبس کا ہے جس کے بارے میں روس کا مطالبہ ہے کہ اس کو علیحدگی پسندوں کے حوالے کیا جائے۔ یوکرینی وزارت داخلہ کے مشیر وادیم ڈینائسنکوف کا کہنا ہے کہ ’میرا نہیں خیال کہ کلیدی معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے گی۔‘ اس صورت حال میں روس کے زیرنگیں جانے والے یوکرینی شہروں میں پھنسے لوگوں کے لیے کسی ریلیف کا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا، جن میں مارپول خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔

    ماریوپول کے میئر کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 60 ہزار کے قریب لوگ اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور روس ان کو نکلنے نہیں دے رہا۔ روسی فوج کی جانب سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا علیحدگی پسندوں کے قبضے میں آنے والے علاقوں کا دائرہ بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے اسے ابھی تک ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے جس سے ظاہر ہو کہ روس نے دارالحکومت کو قبضے میں لینے کا ارادہ ترک کر دیا ہو۔

    کیئف کے میئر ویٹالی کلٹسکوف نے کہا ہے کہ 100 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں جبکہ 82 کثیرمنزلہ عمارتوں کو ملیامیٹ کیا جا چکا ہے تاہم اس کے باوجود ہمارا شہر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ ان کے مطابق ’ہم روسی فوج کے خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کے افسانے کو تباہ کر دیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کی مضبوط ترین فوجوں میں سے ایک کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ اس کو اپنے اہداف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

  • مغربی پابندیاں:روسی فضائی حدود سے باہر طویل دورانیے کی پرواز،دنیا مشکلات کا شکارہوگئی

    مغربی پابندیاں:روسی فضائی حدود سے باہر طویل دورانیے کی پرواز،دنیا مشکلات کا شکارہوگئی

    ماسکو:مغربی پابندیاں:روسی فضائی حدود سے باہر طویل دورانیے کی پرواز،دنیا مشکلات کا شکارہوگئی،اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ کی بین الاقوامی فضائی کمپنی کیتھی پیسیفک ایئر ویز نے اپنی نیو یارک سے ہانگ کانگ کے لیے پرواز کا نیا روٹ جاری کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

    بلومبرگ میڈیا کے مطابق روس کی فضائی حدود سے دور رہتے ہوئے بین الاقوامی فضائی کمپنیاں نئے راستے اختیار کر رہی ہیں۔ نیو یارک سے ہانگ کانگ کے لیے پرواز کا دورانیہ 17 گھنٹے ہوگا جو دنیا میں سب سے طویل دورانیے کی کمرشل پرواز ہو گی۔

    کیتھی پیسیفک ایئر ویز کے نئے روٹ کے منصوبے کے مطابق پرواز نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کرتے ہوئے برطانیہ، جنوبی یورپ اور وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے ہانگ کانگ پہنچے گی۔یہ پرواز نیو یارک سے ہانگ کانگ تک 16 ہزار 618 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

    خیال رہے کہ پروازوں کی معلومات دینے والی معروف ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سنگاپور ایئر لائنز کی نیو یارک سروس 15 ہزار 349 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے 17 گھنٹے کے وقت میں طے کرتی ہے۔

    کیتھی پیسیفک ایئر ویز کی ترجمان نے بتایا ہے کہ کمپنی کی ایئر بس اے 350 نئے روٹ پر پرواز کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    گزشتہ دنوں ایئر نیوزی لینڈ نے بھی آک لینڈ اور نیو یارک کے درمیان 17 گھنٹے 35 منٹ دورانیے کی پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اِن پروازوں کا آغاز 17 ستمبر سے کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ یوکرین پر حملے کی پاداش میں عالمی طاقتوں نے روس پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن میں روس پر فضائی حدود کی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ اِن پابندیوں کے بعد ایشیا کی متعدد ایئر لائنز روس کی فضائی حدود سے دور رہتے ہوئے پروازیں آپریٹ کر رہی ہیں

  • روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

    روس ، یوکرین جنگ : کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن ملک کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک

    کیف: کِک باکسنگ کا عالمی چیمپئن رہنے والا یوکرینی باکسر میکسم کیگل روسی فوج سے جنگ کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روس کی یوکرین پر حملے کے بعد ملک کا دفاع کرنے کے لیےکِک باکسنگ کے عالمی چیمپئن میکسم کیگل نے یوکرینی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور فوجیوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہا تھا میکسم کیگل نے سنہ 2014 میں ورلڈ کک باکسنگ چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

    روس یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے:انٹیلی جنس چیف

    رپورٹ کے مطابق یوکرینی شہر مروپل میں روسی فوج سے جنگ کے دوران مذکورہ کھلاڑی فوج کے ہمراہ لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا باکسر کی عمر 30 سال تھی –

    یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں یوکرینی دارالحکومت کے قریب ارپن نامی ٹاؤن میں روسی بمباری کے باعث 33 سالہ اداکار پاشا لی ہلاک ہوئے تھے انہوں نے روسی حملے کے پہلے دن ہی ملک کی دفاع کے لیے عارضی طور پر یوکرینی ڈیفنس فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    خیال رہے کہ یوکرینی حکومت نے اعلان کررکھا ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں عام شہری فوج میں شامل ہوسکتا ہے، فوج رضاکارانہ طور پر عوام کو اسلحہ فراہم کرے گی تاکہ اپنے ملک کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

    مغرب روس کو تنہاکرکےختم کرناچاہتا ہے:دوسری جنگ عظیم کی طرزکی سازش ہے: روسی وزیر…

    دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق روسی ایوانِ صدر کریملن نے کہا ہے کہ صدر جوبائیڈن کا یہ بیان کہ پوٹن حکومت میں نہیں رہ سکتے، خطرناک ہے کریملن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جوبائیڈن کا بیان بظاہر یہ تجویز کرتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو اقتدار سے ہٹا دیا جانا چاہئے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن کا یہ ایک ایسا بیان ہے جو یقینی طور پر تشویش ناک ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماسکو اب امریکی صدر کے بیانات کو قریب سے ٹریک کرے گا۔

    جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت

    واضح رہے کہ پولینڈ میں ایک تقریر کے اختتام پر جوبائیڈن نے کہا تھا خدا کیلئے یہ شخص (پیوٹن) اقتدار میں نہیں رہ سکتا، جس کی وسیع پیمانے پر تشریح یہ کی گئی تھی کہ پیوٹن کو حکومت کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کے اس بیان پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ جوبائیڈن کا مطلب پیوٹن کو اقتدار سے ہٹانا نہیں تھا بلکہ طاقت کو بیرونِ ملک استعمال کرنے کی مذمت کرنا تھا۔

    وس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

  • روس یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے:انٹیلی جنس چیف

    روس یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے:انٹیلی جنس چیف

    خارکیف:روس یوکرین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہےاور اس کے قوی ثبوت موجود ہیں ، ادھر اس حوالے سے یوکرین کے انٹیلی جنس سربراہ کائرلوبدانوونے کہا ہے کہ روسی حملے کا مقصد یوکرین کوشمالی اورجنوبی کوریا کی طرح دوحصوں میں تقسیم کرنا تھا۔

    تاہم وہ دارالحکومت کیف اوردیگربڑے شہروں پرکنٹرول حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اپنے اس ارادے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔

    غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یوکرین کے مشرق میں واقع روس نوازخود ساختہ لیوہانسک عوامی جمہوریہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی روس میں شمولیت کے لیے ریفرینڈم کروانے والے ہیں۔

    اس بابت یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس کے زیرقبضہ کسی بھی یوکرینی خطے میں کسی بھی قسم کے ریفرینڈم کو کالعدم اوربے بنیاد قراردیا جائے گا۔

    یوکرینی ریڈ کراس کے رضا کاروں نے بھی خبر رساں ایجنسی کوبتایا ہے کہ جنوبی یوکرین میں جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کوزبردستی روس کے زیرتسلط علاقوں میں فرارپرمجبورکیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ یوکرین پرروسی حملے کوایک ماہ سے زائد ہوچکا ہے۔

    جب کہ لڑائی کا مرکزسمجھے جانے والے مغربی شہرلیویومیں مزید شدت آگئی ہے، روس کی جانب سے آج اس پر راکٹوں سے ایک بار پھر شدید حملہ کیا گیا ہے۔

    چیرنیہیوشہرکے میئر کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں نے اس جنوبی شہرکو چاروں طرف سے گھیرلیا ہے۔

    دوسری طرف یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغرب سے ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے ملک کو طیارے، ٹینک اور میزائل دفاعی نظام فراہم کریں۔

    ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھاری ہتھیار جو یورپ میں آزادی کا دفاع کر سکتے ہیں، ذخیروں میں خاک جمع کر رہے ہیں۔

    یوکرینی صدر زیلینسکی نے شکایت کی کہ روسی طیارے کو مشین گنوں سے نہیں مارا جا سکتا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ “نیٹو کیا کر رہا ہے؟ کیا اسے روس چلا رہا ہے؟ وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ 31 دن ہو گئے ہیں۔ ہم نیٹو سے صرف 1 فیصد مانگ رہے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں”۔

    سلوواکیہ کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر متبادل فراہم کیا جائے تو ان کا ملک سوویت ساختہ ایس-300 ایئرڈیفنس میزائلوں کے ہتھیار یوکرین بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

  • مغرب روس کو تنہاکرکےختم کرناچاہتا ہے:دوسری جنگ عظیم کی طرزکی سازش ہے: روسی وزیر خارجہ

    مغرب روس کو تنہاکرکےختم کرناچاہتا ہے:دوسری جنگ عظیم کی طرزکی سازش ہے: روسی وزیر خارجہ

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ روس کو تنہا نہیں کیا جا سکے گا۔ دنیا کی ہر جگہ پر کثیر تعداد میں ہمارے دوست، اتحادی اور ساجھے دار موجود ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ماسکو میں منعقدہ گورچاکوف ڈپلومیٹ وقف کےاجلاس سے خطاب کے دوران روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک روس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں مغرب اور اس کے اتحادیوں نے روس کے خلاف ہائبرڈ جنگ کا اعلان کردیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہٹلر دور میں مستعمل اصطلاح ٹوٹل وار کو اس وقت مغرب روس کے خلاف استعمال کررہا ہے۔مغربی ممالک نے روس کے خلاف ٹوٹل اور ہائبرڈ جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مقاصد کوئی ڈھکے چھُپے نہیں ہیں۔ انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر روس کی اقتصادیات اور بحیثیت ایک کُل کے روس کو ختم کرنے کی خواہش کا اعلان کر دیا ہے۔

    انہوں نے روس کی عالمی تنہائی کے امر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ روس کو تنہا نہیں کیا جا سکے گا۔ دنیا کی ہر جگہ پر کثیر تعداد میں ہمارے دوست، اتحادی اور ساجھے دار موجود ہیں۔ مغربی ممالک اقوام متحدہ کے فیصلوں کا رُخ موڑنے کے لئے اُکساوا پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ مغرب کے علاوہ دیگر عالمی ممالک کی اکثریت کسی یک طرفہ کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اسی وجہ سے مغرب شدید دباؤ میں آیا ہوا ہے۔ یوکرین کی جوہری اسلحہ بنانے کی خواہش ہمارے لئے اندیشوں کا سبب بن رہی ہے۔ اسی طرح یوکرین کے عسکری حیاتیاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پینٹاگون کی طرف سے ملک میں کم از کم تین درجن لیبارٹریاں قائم کرنے پر بھی ہمیں تشویش ہے۔

  • روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    واشنگٹن : روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر نے کہا ہے کہ آج میں یہ اعلان کرسکتا ہوں کہ دستیاب معلومات کے تحت امریکی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ روسی افواج کے ممبران نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ احتیاط کے ساتھ عوامی اور خفیہ ذرائع سے حاصل معلومات کو جانچنے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔جیسا کہ ہر مبینہ جرم پر ایک قانونی عدالت جس کا دائرہ کار اس جرم پر ہو وہ حتمی طور پر ذمہ دار ہے کہ مخصوص مقدمات میں صحتِ جرم کا تعین کرے۔

    گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے تبصرہ کرتے ہوئے روسی صدر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات اعلیٰ سرکاری عہدیدار کو زیب نہیں دیتے جس سے روس اور امریکہ کے تعلقات ختم ہونے کے دہانے پر آگئے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ بلنکن کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے گھر کی عمارتیں، سکول، ہسپتال، اہم تنصیبات، سولین گاڑیوں، خریداری کے مراکزاور ایمبولینسوں کو تباہ کیا ہے جس سے ہزاروں معصوم سولین مارے گئے ہیں یا زخمی ہیں۔انہوں نے روس پر ایسی عمارتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جو واضح طور پر شہری عمارتوں کے طور پر پہچانی جا سکتی تھیں۔

    بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ پیوٹن کی افواج نے یہی طرز عمل گروزنی، چیچنیا، الیپو اور شام میں بھی اپنایا تھا جہاں انگوں نے لوگوں کی ہمت توڑنے کے لیے شہروں میں بمباری تیز کر دی تھی۔

    ہیومن رائٹس واچ کے اسلحہ ڈویژن کی سینئر ریسرچر بونی ڈوچرٹی نے گذشتہ ہفتے کانگرس میں اپنا تحریری بیان جمع کروایا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ روس نے کلسٹر بم استعمال کیے ہیں اور وسیع علاقے پر اثر کرنے والے دھماکہ خیز ہتھیار استعمال کیے جن کے یوکرین میں سولین اور سول تعمیرات پر تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا ہے کہ براہ راست اور دیر پا اثرات کے دستاویزی خاکے دیکھتے ہوئے گنجان آباد علاقوں میں وسیع علاقے پر اثر کرنے والے ہتھیاروں کا استعمال اس پریشانی کو بڑھاوا دیتا ہے کہ ایسے حملے اندھا دھند اور غیر متناسب طور پر کیے گئے جو کہ غیر قانونی تھے۔ وہ افراد جنھوں نے ایسے حملے مجرمانہ نیت سے کیے وہ جنگی جرائم کے ذمہ داری ہیں۔

  • جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت

    جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت

    برسلز:جی سیون ممالک کا روس پر مکمل معاشی پابندیوں کے حوالےسے مشاورت ،اطلاعات کے مطابق جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے روس کے خلاف اقتصادی اور مالی پابندیوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا۔

    بیان میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم روس پر زور دیتے ہیں کہ وہ یوکرین کے تمام علاقوں سے اپنی فوجی افواج اور ساز و سامان واپس لے۔

    ہسپتالوں اور سکولوں سمیت شہروں کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کو حملے سے قبل آبادی کے انخلاء کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہیے تھا۔

    جارحیت کے معماروں اور حامیوں بشمول روسی صدر پوتن اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت کو ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائیگی اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    بیان میں روس کو خبردار کیا گیا کہ ایسی تمام سرگرمیوں سے روس کو باز رہنا چاہیے جس سے جوہری تنصیبات کو خطرہ لاحق ہو۔ کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں یا متعلقہ مواد کا استعمال نہ کیا جائے۔

    رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے گی اور خوراک کے بحران کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔یاد رہے، جی سیون گروپ جرمنی، امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی اور جاپان، اور یورپی یونین پر مشتمل ہے۔

  • روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کو جی 20 کی بڑی معیشتوں کے گروپ سے نکال دینا چاہیے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بائیڈن نے برسلز میں جاری عالمی رہنماؤں کی ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ روس کو جی 20 نکال دینا چاہیے تاہم، یہ جی 20 پر منحصر ہےلیکن اگر انڈونیشیا اور دیگر ممالک روس کو ہٹانے پر متفق نہیں ہیں تو ان کے خیال میں یوکرین کو اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینیوں کو امن حاصل کرنے اور روسی بمباری کو روکنے کی ضرورت ہے جس نے لاکھوں افراد کو پولینڈ جیسے ملک میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا ہے جہاں امریکی صدر جو بائیڈن دورہ کر کے بحران کا مشاہدہ کرنے والے ہیں۔

    جمعرات کو برسلز میں نئی ​​فوجی اور انسانی امداد کے اعلان کرنے کے بعد مغربی رہنماؤں نے روس کے حملے کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے روس پر پابندیوں کو نئے اہداف تک بڑھادیا۔

    قبل ازیں، واشنگٹن نے درجنوں روسی دفاعی کمپنیوں، پارلیمنٹ کے سینکڑوں ارکان اور ملک کے سب سے بڑے بینک کے چیف ایگزیکٹو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ہمارا مقصد ان مراعات اور فوائد کو ختم کرنا ہے جو روس نے کبھی بین الاقوامی اقتصادی نظام میں حصہ لینے والے کے طور پر حاصل کیےتھے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق روسی حملے جسے صدر ولادیمیر پوتن ایک خصوصی آپریشن کہتے ہیں، نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جبکہ 36 لاکھ افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

     

  • یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    برسلز:یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے ایک ماہ کے دوران روس کے 15 ہزار تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا موازنہ افغانستان کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں 10 سال میں تقریباً 15 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

     

    نیٹو کے ایک سینیئر فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندازہ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ان کے تقریباً 13 سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یوکرینی صدر روسی حملے کے بعد مسلسل متحرک ہیں اور دنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آج یوکرین کی حمایت میں باہر نکلیں۔

    نیٹو کے فوجی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روسی فوجیں اب دارالحکومت کیف میں آگے نہیں بڑھنا نہیں چاہتیں جبکہ کیف کے مشرقی علاقوں میں یوکرین کی فوجوں نے روسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی ترجیح ڈونباس کے علاقے لوہانسک، ڈونیسک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرینی فوجوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روکا جائے۔

     

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کو بحیرہ ازوف میں روس کے بحری جہاز بھی متحرک دکھائی دیے ہیں جن کے ذریعے مختلف سامانِ رسد فوجوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

    نیٹو کے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں ہوئی ہیں ، مغربی میڈیا جان بوجھ کرحقائق توڑمروڑ کر پیش کررہا ہے

    دوسری جانب مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ برسلز میں آج پہلی بار ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین کے رکن ممالک شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدد جو بائیڈن بھی اس میں شرکت کریں گے۔

  • روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ماسکو:روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی رہائش گاہ مولوٹوو کاک ٹیل (پیٹرول بم) سے حملے کی اطلاعات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کریملن بھی اب حملے کی زد میں ہے۔

    ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ماسکو میں قلعہ بند سرکاری عمارت کی دیواروں پر ایک شخص کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک ٹک ٹاک صارف نے چلتی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ایک شخص کی ویڈیو کلپ کو اپ لوڈ کیا، جس میں ایک نامعلوم حملہ آور کو روسی صدر کی رہائش گاہ پر مولوٹوو کاک ٹیل مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن اس عمارت میں رہتے اور دیگر سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد کریملن کی دیواروں کی بنیاد پر کم درجے کی آگ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حملے کو مقامی خبر رساں اداروں بشمول بیلاروسی میڈیا چینل نیکٹا لائیو نے بھی شیئر کیا۔

    دوسری جانب یوکرین میں ایک ٹک ٹاکر کو روسی فوج کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری ٹک ٹاکر کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد عمل میں آئی جس میں کیف میں ایک شاپنگ مال کے پاس کھڑی یوکرینی فوجی گاڑیوں کے بیڑے کو دکھایا گیا تھا۔

    جس کے فوراً بعد عمارت کو روسی فضائی حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اتوار کو ہونے والی اس فضائی کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا کہ یوکرینی شاپنگ مال کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    مذکورہ ٹک ٹاکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے یوکرینی فوج کا مقام دکھا کر “دشمن کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کیا”۔

    یوکرینی سیکیورٹی سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایک ٹک ٹاکر نے حال ہی میں کیف میں یوکرینی فوج کے مقام کے بارے میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا۔“بعد میں، شاپنگ سینٹر، جہاں ہمارے محافظ تھے، روسی قابضین کی طرف سے ایک طاقتور میزائل حملے کا نشانہ بنے۔

    “جانے انجانے میں اس شخص نے دشمن کے لیے سہولت کار کا کام کیا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔”

    بعد ازاں، ایک ویڈیو میں اس شخص نے معافی مانگتے ہوئے دوسرے یوکرین کے باشندوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی ٹک ٹاک ویڈیوز پوسٹ نہ کریں جو روسی افواج کو اسٹریٹجک معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بھی اس حوالے سے کہا کہ یوکرینی باشندوں کو “فوجی سازوسامان، چوکیوں، اسٹریٹجک اشیاء کی نقل و حرکت” سے متعلق کسی بھی چیز کی فلم بندی یا تصویر کھینچنے سے گریز کرنا چاہیے۔