Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی

    امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی

    ماسکو :امریکہ کے بعد روس نے بھی مشرق وسطی سےاپنے حامی جنگجووں کویوکرین پہنچنے کی ہدایت کردی،اطلاعات کے مطابق روسی صدر نے یوکرین کیساتھ روس کی جنگ میں شریک ہونے کے لیے مشرق وسطیٰ سے ہزاروں جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں جنگجوؤں کو یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی خاطر روس لانے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

    روسی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں 16 ہزار رضاکار مشرقی یوکرین سے علیحدہ ہونے والے علاقے ڈونباس میں روسی حمایت یافتہ افواج کیساتھ لڑنے کے لیے تیار تھے۔

    اس تناظر میں روسی صدر پیوتن کا کہنا تھا کہ اگر آپ انہیں دیکھیں جو اپنی مرضی سے بغیر کسی پیسے کے، ڈونباس کے شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہیں، تو ہمیں بھی انہیں وہ کچھ دینا چاہیے جو وہ چاہتے ہیں اور متنازعہ علاقے تک پہنچنے کے لیے ان کی مدد کرنا ہوگی۔

    روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے بھی یہ تجویز پیش کی ہے کہ مغربی ساخت کے نیزے اور اسٹنگر میزائلز جو روسی فوج نے یوکرین میں اپنے قبضے میں لیے تھے انہیں ڈونباس فورسز کے حوالے کردیا جائے۔ اس بارے میں روسی صدر نے کہا،” میں ہتھیاروں کی باقاعدہ تقسیم، خاص طور پر مغربی ساختہ جو روسی فوج کے ہاتھ لگ چُکے ہیں، انہیں لوگانسک اور ڈونیٹسک کی عسکری یونٹس یا دستوں کے حوالے کرنے کے امکانات کی حمایت کرتا ہوں۔

    روس اور یوکرین کا تنازعہ نہایت سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اس کا خصوصی فوجی آپریشن یوکرین کی طرف سے روسی زبان بولنے والوں کی نسل کشی کے خلاف ایک مضبوط ردعمل ہے۔

    روس کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے مشرق میں روسی بولنے والوں کو نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم کیف اور مغرب کی طرف سے اس روسی بیان کو بے بنیاد جنگی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے رد کیا جا رہا ہے۔

    روسی وزیر دفاع شوئیگو نے کہا ہے کہ روس کی مغربی سرحد پر مغربی فوجی یونٹس کی تعیناتی میں اضافے کے بعد سے روسی فوج اپنی مغربی سرحد کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔

  • روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    کیف:روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر کی روس کی جنگ کے خلاف مدد کی اپیل میں ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یوکرین پہنچنے والے افراد کے مجموعی جنگی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    ستائیس فروری کو یوکرینی وزیر خارجہ دیمیترو کُولیبا نے اپنے ملکی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا ایم پیغام ٹویٹر پر جاری کیا تھا کہ یوکرین کے دفاع کے لیے غیر ملکی افراد روسی فوج کشی کے خلاف عملی طور شریک ہوں۔

    اس پیغام کی ہزاروں افراد نے مثبت جواب دیا ہے۔ پانچ مارچ سے یوکرینی صدر کے اس پیغام کے جاری ہونے کے بعد سے جنگ میں شریک ہونے والے رضاکاروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ویب سائیٹ بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے مختلف شہروں میں کئی غیر ملکی جنگجوؤں کے پہنچنے کا بتایا گیا ہے اس ویب سائیٹ میں جنگ میں شریک ہونے کی درخواست کا مکمل طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    یوکرینی حکومت نے ایسے رضاکاروں کی ممکنہ فوج کا نام ‘انٹرنیشنل ڈیفینس لیجیئن‘ تجویز کیا ہے۔ جنگ میں شامل ہونے کے خواہشمند رضاکار اس مناسبت سے مکمل تعداد کو بیان نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں غیر ملکی افراد نے یوکرینی دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

    لندن میں یورپی سکیورٹی کے معاملات پر نگاہ رکھنے والے ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ایڈ آرنلڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے والے رضاکاروں کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں لیکن محتاط اندازوں کے مطابق یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ذرائع کے مطابق کئی جاپانی بھی جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیار ہیں اور پانچ سو بیلاروس کے شہریوں نے بھی رضاکار بننے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

    ایڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں شریک سابقہ فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دنوں میں اتنے فائر کیے ہیں جتنے وہ افغانستان میں قیام کے دوران نہیں کر سکے تھے۔ بعض جرمن میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک ہزار جرمن شہری یوکرین کا سفر اختیار کر چکے ہیں۔

    ان رضاکاروں یا یوکرینی صدر کی اپیل پر جرمن شہریوں کے مثبت ردِعمل بارے برلن سے وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کے سفر کے بارے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ اسی طرح سے جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان میکسمیلین کارل نے بھی بدھ نو مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کا سفر اختیار کرنے والے ایک ہزار افراد سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شینگن علاقے میں شہری آزادانہ طور پر سفر اختیار کر سکتے ہیں اور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن افراد نے امکانی طور پر ایسا کیا ہے وہ یقینی طور پر یوکرینی نژاد جرمن افراد ہو سکتے ہیں۔

    میکسمیلن کارل نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی کے ادارے انتہائی دائیں بازو کے جرمن حلقوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسے افراد کی روانگی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

    گزشتہ چند ایام کے دوران کچھ یورپی ممالک اور بالٹک ریاستوں جیسا کہ لیتھوانیا اور لٹویا، نے ایسی ہنگامی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت یوکرین کی جنگ میں شرکت کے خواہشمندوں کے لیے قانونی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔

  • ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    ہمارامستقبل بچالیں:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط

    اسلام آباد:آپ سے ایک عرض ہے:یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کا پاکستان کے بڑوں کوخط،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے نتیجے میں تعلیم سے محروم ہونے والے طلبا نے اپنا مستقبل بچانے کے لیے پاکستان کے بڑوں کو خط لکھا ہے

    ذرائع کے مطابق یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کی طرف سے یہ خط وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ، چیف جسٹس آف پاکستان سمت ملک کی دیگرمقتدرشخصیات کو لکھا گیاہے

     

     

    اس خط میں کہا گیاہےکہ پاکستانی طلبا جو کہ یوکرین میں زیرتعلیم تھے،یہ پاکستانی طلبا جن کے والدین نے اپنی جمع پونجی سے اپنے بچوں‌کوتعلیم حاصل کنرے کے لیے بھیجا،والدین نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیالیکن افسوس کے ساتھ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کی وجہ سے حالات بہت خراب ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی طلبا یوکرین سے واپس آگئے ہیں

     

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”472263″ /]

    ان طالعلموں کی طرف سے خط میں عرض کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے ان بچوں کی بقیہ تعلیم وتربیت کا انتظام کرے اور ان کا مستقبل بچا لے

    ان پاکستانی طلبا نے خط میں درخواست کی ہے کہ یوکرین سے واپس آنے والے پاکستانی طلبا کو پاکستانی یونیورسٹیز میں داخلہ دے کر انکی باقی تعلیم مکمل کرنے میں تعاون کریں اور اپنا بھرپورکرداربھی ادا کریں

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یوکرین میں مقیم پاکستانی طلبہ کی تعداد قریب تین ہزار تھی جبکہ پاکستانی برادری سمیت شہریوں کی کل تعداد قریب سات ہزار تھی۔

    یعنی یوکرین میں کچھ تو خاص تھا کہ پاکستانی طلبا بہتر تعلیم کے لیے اس ملک کی طرف بھی رُخ کر رہے تھے۔ان میں سے اکثر پاکستانی طالب علم پاکستان واپس آچکے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کی پاکستان واپسی کے لیے حکومت کوشاں ہیں

  • روسی فوج کے حملے میں یوکرینی ایئر بیس تباہ

    روسی فوج کے حملے میں یوکرینی ایئر بیس تباہ

    روسی فوج کے حملے میں یوکرینی ایئر بیس تباہ

    یوکرینی صدر نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں اپنے ملک کے لوگوں کو ہمت اور حوصلے اور بہادری کی داد دی اور کہا کہ ہم یہ جنگ ضرور جیتیں گے

    روسی فوج نے کیف کے علاقے میں راکٹ حملہ کیا ہے جس سے یوکرینی ایئربیس تباہ ہو گیا ہے راکٹ حملے سے کیف کےعلاقے میں گولہ بارود کے ڈپو کو ہدف بنایا گیا ،روس کی جارحیت 17 ویں روز بھی جاری ہے روسی بمباری سے کیف کے ایک گروسری سٹور میں آگ لگ گئی ہے

    یوٹیوب نے روس کے سرکاری فنڈ سے چلنے والے میڈیا چینلز بلاک کرنے کا اعلان کر دیا،یوٹیوب یورپ میں روس کے چینلز آر ٹی اور سپوتنک کو بلاک کر چکا ہے،

    روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج اب تک3ہزار 491 یوکرینی ملٹری انفراسٹرکچر تباہ کر چکی ہے، یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ماریوپول میں مسجد پر گولہ باری کی گئی جس کی وجہ سے 80شہری زخمی ہو گئے ہیں ،برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی افواج کا بڑا حصہ کیف سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ہتھیاروں کے کنٹرول پر بات کرنے کے لیے تیار ہے،امریکہ اور روس مسلسل رابطے میں ہیں،امریکہ اور نیٹو کوبھیجی گئی روسی تجاویز اب بدل چکی ہیں،ر

    روس نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین نے مختلف ممالک کے 7 ہزار کے قریب افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ 70 بحری جہاز بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں پولینڈ، مالڈووا اور رومانیہ کے مغرب میں کیف حکام کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک راہداری بنائی جا رہی ہے روسی سفارت خانے نے کہا کہ ہم نے جن دس راستوں کی تجویز پیش کی ہے ان میں سے یوکرین کے باشندوں نے صرف دو پر اتفاق کیا ہے، جن میں کیف اورماریوپول شامل ہیں کیف میں حکام نے مزید چار شہروں ازیم، اینرگوڈار، ولوناخا اور زائیٹومیر کی سمتوں میں چار راستوں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے روس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 23,127 افراد نے روس میں پناہ لی ہے اور ان میں سے 26,19,026 پہلے ہی یوکرین کی تقریباً 2,000 بستیوں میں رہ رہے ہیںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 3,562 بچوں سمیت 34,555 لوگوں کو یوکرین کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ لوگانسک اور ڈونسک کی جانب سے، یوکرین کی شراکت داری کے بغیر 2،23،000 سے زیادہ لوگوں کو فوجی کارروائی کے بعد سے نکالا گیا ہے جن میں سے 50,258 بچے شامل تھے۔

    روس کے ساتھ برسرپیکار یوکرین کی مدد کے لیے امریکا، برطانیہ اور دیگر نیٹو ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے امریکا نے یوکرین کو اینٹی ڈرون فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جلد ہی یوکرین کے حوالے کر دیا جائے گا امریکی حکومتی ذمے داران کے مطابق وزارتِ دفاع پینٹاگون نے نئے ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم کا سہارا لیا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ اعلان روس کے اس الزام کے بعد کیا کہ یوکرین اور امریکہ حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔تاہم جوبائیڈن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی افواج یوکرین میں نہیں لڑیں گی اور تیسری عالمی جنگ سے بچاؤ کیلئے روس کو اشتعال دلانے سے گریز کیا جائے گا امریکی صدر نے روس کے ساتھ معمول کے تجارتی تعلقات ختم کرنے اور اس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا

    یوکرینی فوج نے فرانسیسی مجسمے کو روسی حملے سے بچانے کے لیے تقریباََ 1200 سے زائد ریت کے تھیلے ارد گرد رکھ دیے – ڈیوک ڈی ریشیلیو کے فن تعمیر اور فن کی قومی اہمیت کی یادگار، جو اوڈیسا کو ایک جدید شہر میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ایک فرانسیسی رئیس تھا۔

    روس نے 24 فروری کو پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ تاحال جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں مغربی ممالک نے اس حملے کے جواب میں روس پر انتہائی سخت معاشی پابندیاں عائد کی ہیں

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

    روس کے یوکرین پر حملوں میں شدت،یوکرینی فوج کا یونٹ تباہ

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    روسی حملے کے بعد یورپ کے سب سے بڑے نیو کلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی

    یوکرین سے زندہ لوگوں کو لانا مشکل،لاش تو ویسے بھی جہاز میں زیادہ جگہ گھیرتی ہے،رکن اسمبلی کا بیان

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    جنگ کے بعد روسی،یوکرینی وزراء خارجہ کی کل ہو گی ملاقات

  • مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

    ماسکو : مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی رضاکار جو یوکرین میں روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے خواہش مند ہیں انہیں اس کی اجازت دی جائے گی اور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

    روس کی سکیورٹی کونسل کی میٹنگ ہوئی جس میں یوکرین سے جنگ اور دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں روسی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے 16 ہزار رضاکار روس فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کے محافظ دستے میں شامل اہلکار روس کیخلاف لڑنے کیلئے یوکرین چلا گیااجلاس میں روسی صدر نے کہا ہے کہ غیرملکی رضا کاروں کو روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    اس حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف لڑنے کیلئے تیار رضاکاروں میں شام سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جنہیں شہری علاقوں میں لڑائی کا تجربہ ہے۔

    دوسری جانب روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ شام اور مشرق وسطیٰ کے جنگجوؤں کویوکرین میں روس کیلئے لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    صدارتی محل کا کہنا ہے کہ یوکرین میں لڑنے کی خواہش کرنے والوں میں زیادہ ترمشرق وسطیٰ اور شامی شہری ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج جمہ 11 مارچ کو روس کے ان الزامات پر غور و خوض کر رہی ہے جن میں کہا گیا کہ ماسکو کو یوکرین میں ’’امریکی حیاتیاتی ہتھیاروں سے جڑی سرگرمیوں‘‘ کے نشانات ملے ہیں۔

    روس کی طرف سے عائد کردہ ان الزامات کی سختی سے تردید یوکرائنی صدر وولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے بھی کی گئی ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے بھی۔

    امریکا نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہروس ممکنہ طور پر یوکرین کے خلاف حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے میدان تیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی ترجمان اولیویا ڈالٹن کے مطابق،

    ”یہ اسی طرح کی من گھڑت کوشش ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ روس اسے کسی حیاتیاتی یا کیمیائی حملے کے جواز کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا روس کو سلامتی کونسل کے ذریعے جھوٹ کے پھیلاؤ کی اجازت نہیں دے گا۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے۔ روس کی طرف سے سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کی درخواست کا اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے کیا گیا جو اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر اول دیمتری پولیانسکی کی طرف سے جاری کی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ یوکرین امریکی مدد کے ساتھ ملک میں کیمیائی اور حیاتیاتی لیبارٹریاں چلا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے ایک اور نائب سفیر نے بدھ کے روز ان الزامات کو دہرایا تھا اور مغربی میڈیا پر زور دیا تھا کہ یوکرین میں موجود خفیہ حیاتیاتی لیباٹریوں کے بارے میں رپورٹ کرے۔

    بعد ازاں روسی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ٹوئیٹ میں ”یوکرینی سرزمین پر امریکا کی ملٹری بائیولوجیکل سرگرمیوں سے متعلق تجزیاتی دستاویزات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے کا جائزہ لے۔

    یوکرینی صدر وولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بذات خود ایک بری علامت ہے: ”اس سے مجھے بہت زیادہ پریشانی ہوئی ہے کیونکہ ہم اکثر اس بات کے قائل رہے ہیں کہ اگر آپ روس کے منصوبوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہ وہی ہوں گے جس کا الزام روس دوسروں پر لگائے۔‘‘

    جمعرات کو اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی کا مزید کہنا تھا، ”میں ایک ذی شعور شخص ہوں، ایک ذی شعور ملک اور لوگوں کا صدر ہوں۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں۔۔۔ اور میری سر زمین پر کیمیائی یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی بھی ہتھیار تیار نہیں کیا گیا ہے۔ پوری دنیا یہ جانتی ہے۔‘‘

    اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات 10 مارچ کی شام اعلان کیا گیا کہ روسی درخواست پر یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دن دس بجے منعقد کی جائے گی تاہم بعد میں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا۔

    اقوم متحدہ کے تخفیف اسلحہ سے متعلق معاملات کے سربراہ ایزومی ناکامیتسو اور سیاسی معاملات کی سربراہ روزمیری ڈی کارلو سلامتی کونسل کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گی۔

  • اقوام متحدہ کا روس سے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کا روس سے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یوکرین پر تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ماریو پول میں بچوں کے اسپتال پر ہونے والے بم حملے کی مذمت کرتے ہیں اور انہوں نے بچوں کے اسپتال پر حملے کو “خوفناک” قرار دے دیا۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ


    انہوں نے کہا کہ شہری اس روس یوکرین جنگ کی سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں جن کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس لیے روس اب یہ خونریزی ختم کرے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے جنوبی شہر ماریوپول میں روسی افواج کے فضائی حملے میں ایک اسپتال میں بچوں کا وارڈ تباہ ہو گیا۔ جس میں کم از کم 17 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد عملے کے علاوہ حاملہ خواتین کی ہے جبکہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہی ماریوپول اور دیگر محصور علاقوں سے ہزاروں شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکلنے کے لیے سیز فائر کیا تھا، لیکن ماریوپول کی سٹی کونسل نے کہا کہ اسپتال کو کئی بار فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جو تباہ کن ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ماریوپول کمپلیکس کو سلسلہ وار دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے کھڑکیوں کے شیشے اُڑ گئے اور ایک عمارت کے سامنے کا بڑا حصہ اکھڑ گیا۔ جبکہ زمین ایک میل دور تک لرز گئی دھماکے والی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا کہ پولیس اور سپاہی متاثرین کو نکالنے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں، جس میں دیگر خواتین سمیت حاملہ خاتون کو بھی اسٹریچر پر لے جایا جارہا ہے۔

    ہم نے پابندیاں لگائیں تو مغرب کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا،روس کا انتباہ

  • روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے الٹا روس پرالزام لگادیا

    واشنگٹن : روس یوکرین میں کیمیکل ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، امریکہ نے یہ کہہ کرخطرے کی گھنٹیاں بجادیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کی اعانت کرتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین، یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے اس دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اب جب کہ روس نے یہ جھوٹے دعوے کیے ہیں، ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کرے، یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کرے گا۔‘ چھ مارچ کو ماسکو کی وزارت خارجہ نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ روسی افواج کو شواہد ملے ہیں کہ یوکرین کی حکومت فوج کی جانب سے چلائے گئے حیاتیاتی پروگرام کے نشانات کو مٹا رہے ہیں جس کی مالی اعانت مبینہ طور پر امریکہ نے فراہم کی تھی۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ ’یہ روسی غلط معلومات سراسر احمقانہ ہیں۔‘

    ادھر غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہےدوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب دنیا کی توجہ جمعرات کو ترکی کے جنوبی قصبے انطالیہ میں ہونے والی ایک میٹنگ پر مرکوز ہے جس میں ترکی، یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ مشرقی یورپ میں جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ روس اور یوکرین کے ساتھ سمندری سرحد کا اشتراک کرتے ہوئے ترکی نے طویل عرصے سے نیٹو کے لیے اپنی اہمیت کو بڑھا کر اور ساتھ ہی روس کی مخالفت نہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار اور متوازن ثالث کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ استنبول ثالثی کانفرنس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب دمتری کولیبا کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات 24 فروری کو یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت ہوگی

  • روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    روس نےامریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے

    روس سے تیل کی درآمد پر پابندی :امریکی ایوان میں بھاری اکثریت سے منظور

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہے

    دوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

    وکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کریملن جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلا رہا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی سرگرمیاں کر رہے ہیں روس یوکرین میں اپنے خوفناک اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں جھوٹے بہانے گھڑ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جین ساکی کہا ہے کہ ہم سب کو نظر رکھنی چاہیے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے یا ان کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے-

    دریں اثناء امریکی ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو "برہم اور مایوس” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی طاقت کو دوگنا کریں گے اور شہری ہلاکتوں کی پرواہ کیے بغیر یوکرین کی فوج کو کچلنے کی کوشش کریں گے وہ اور سی آئی اے کے تجزیہ کار نہیں جانتے تھے کہ پیوٹن یوکرین کے دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت کی جگہ ماسکو کی کٹھ پتلی قیادت کو کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔

    اسرائیلی صدر کا دورہ ترکی: استنبول میں ترک صدر کےخلاف احتجاجی مظاہرے

  • روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    کیف:یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے بچوں کے ہسپتال پر حملہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی کے مطابق یوکرین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بندرگاہی شہر ماریوپول میں بچوں کے اسپتال اور زچگی کے وارڈ پر بمباری کی ہے جس سے 17 افراد زخمی ہوئے ہیں کئی بچے ملبے تلے دب چکے ہیں، جن کا جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقے میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں اسپتال کی بری طرح سے تباہ شدہ عمارت کو دکھایا گیا ہے جبکہ انہوں نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ‘ظلم’ ہے۔

    حملےسے کچھ گھنٹے قبل یوکرینی وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں 3000 بچے خوراک یا ادویات تک رسائی سے محروم ہیں۔

    امریکہ بھی روس یوکرین جنگ میں کودنے کے قریب:روس سخت جواب دینےکے لیے تیار

    جبکہ روس کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز ہی ماریوپول اور دیگر محصور علاقوں سے ہزاروں شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکلنے کے لیے سیز فائر کیا تھا، لیکن ماریوپول کی سٹی کونسل نے کہا کہ اسپتال کو کئی بار فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جو تباہ کن ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماریوپول کمپلیکس کو سلسلہ وار دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے کھڑکیوں کے شیشے اُڑ گئے اور ایک عمارت کے سامنے کا بڑا حصہ اکھڑ گیا۔ جبکہ زمین ایک میل دور تک لرز گئی۔

    دھماکے والی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے کہ پولیس اور سپاہی متاثرین کو نکالنے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ رہے ہیں، جس میں دیگر خواتین سمیت حاملہ خاتون کو بھی اسٹریچر پر لے جایا جارہا ہے۔

    یوکرین میں 2500 سے زائد بھارتی طلباء کو بچانے والا پاکستانی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی ٹویٹر پر مبینہ حملے کی فوٹیج شیئر کی، جس میں عمارت کو تباہ حال دیکھا جا سکتا ہے۔ صدر نے لکھا کہ دنیا کب تک دہشت گردی کو نظر انداز کرتی رہے گی؟ ابھی آسمان بند کرو! قتل و غارت بند کرو! آپ کے پاس طاقت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ انسانیت کھو رہے ہیں۔

    تاہم روئٹرز نے کریملن کے ترجمان سے رابطہ کیا، جس نے اس حملے کی تردید کی اور کہا کہ روسی افواج شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہی۔

    راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا

    دوسری جانب روسی افواج نے مقبوضہ شہر خرسون سے 400 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ عالمی ریسکیو تنظیم ریڈ کراس نے ماریوپول شہر کے حالات کو قیامت خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہ سے متصل شہر میں گزشتہ 9 روز سے پانی اور بجلی منقطع ہے۔

  • اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف

    اسلام آباد :اپوزیش کےدعووں کےایک ہی دن بعد ارکان کی حمایت 202 سےکم ہوکر179 پرآگئی:خورشید شاہ کااعتراف،اطلاعات کے مطابق جس طرح عدم اعتماد کا وقت قریب سے قریب ترآرہا ہے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اعصابی جنگ بھی شدید سے شید تر ہورہی ہے ، اپوزیشن جس کا کل یہ دعویٰ تھاکہ اسے عدم اعتماد کے لیے 202 ارکان کی حمایت حاصل ہے صرف ایک دن کے بعد یہ تعداد 179 رہ گئی ہے جس کا اعتراف پی پی رہنما خورشید نے ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کیا

    ذرائع کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں اتحادیوں کے بغیر ہی 179 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔جو کہ کل 202 بتائی جارہی تھی
    دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اگرحکومت کو اپنے نمبرز پورے ہونے پر اتنا اعتماد ہے تو کل ہی اجلاس بلالے۔

    اس سے قبل پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے 172 ارکان چاہیے تھے ، یہ نمبر نہ صرف پورے کر چکے ہیں ، بلکہ اس سے اوپر جا چکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم، ق لیگ، جی ڈی اے اور بی اے پی سے ہمارے مثبت رابطے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے زیادہ تر تقاضے سندھ سے وابستہ ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے کردار کی ضرورت ہے، پیپلز پارٹی سے ایم کیو ایم کے بارے میں بات ہوئی ۔ اب پیپلز پارٹی ان تقاضوں میں رکاوٹ نہیں رہی

     

     

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک عدم اعتماد تو ناکام ہی ہونی ہے اور یہ ممکن ہے اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے لے- تحریک عدم اعتماد کے ڑراپ سین کا وقت آنے ہی والا ہے- ہمارے ایم این ایز کو آفرز کے حوالے سے وزیراعظم کو تمام معلومات ہیں- اپوزیشن کی ناکامی یقینی ہو چکی ہے- اگلے 48گھنٹوں میں بڑی خبر آجائے گی۔ علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا حکومت سے اتفاق ہوجائے گا۔ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے گی۔

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ ملک کواس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہمارے پاس اس وقت 184ممبران کی تعداد موجود ہے، اپوزیشن ہمت اورجرات کا مظاہرہ کرکے پہلے میڈیا میں ہی شو کر دیں، ہم اور میڈیا بھی ان کے ممبران کی تعداد کو دیکھ لیں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کل ہمارے رکن قومی اسمبلی نے بتایا مجھے 10 کروڑ تک آفر کی گئی، بیوپاریوں کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں، اپوزیشن سے الیکٹرول ریفارمز پربات کرنے کی پوری کوشش کی، اب ان سے الیکشن اصلاحات پر کوئی بات نہیں ہو گی۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وقار کا کبھی سودا نہیں کرسکتے، ان شااللہ عمران خان مزید مضبوط ہوکر اس سازش سے باہر نکلیں گے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی، ن لیگ کے درمیان ہونا ہے، سندھ کا این ایف سی کا پیسہ ننھے منے مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے لگایا گیا، سپیکرصاحب سے گزارش کررہے ہیں عدم اعتماد کو لمبا کرنے کے بجائے جلد اجلاس بلایا جائے۔ نواز شریف، زرداری کا ایک ہی ماڈل پیسے لگاؤ اور اقتدار میں آ کر لوٹو، یہ ماڈل سابق وزیراعظم اور سابق صدر نے سیاست میں متعارف کرایا۔

    فواد چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے بے نظیرسے ڈیزل کے پرمٹ لیے، بیرونی طاقتوں سے مولانا نے ڈائریکٹ پیسے لینا شروع کیے تھے، ندیم افضل چن کو کہا پیپلزپارٹی میں جانے سے بہتر راہول گاندھی کی کانگرس پارٹی جوائن کر لو، کوئی آدمی پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے کوتیارنہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لیگی صدر کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین کو برا کہا، کیا یورپی یونین شہبازشریف کی ’’پھوپھی‘‘ لگتی ہیں، شہبازشریف کو خارجہ پالیسی کا پتا ہی نہیں، وکی لیکس کے مطابق یہ تو امریکیوں کوکہتے تھے ڈرون حملے کرتے جاؤ، یہ بے شرم لوگ ہیں۔