Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • نیٹوروس کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے ڈرتا ہے،صدر ولادیمیر زلینسکی

    نیٹوروس کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے ڈرتا ہے،صدر ولادیمیر زلینسکی

    کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زلینسکی نے کہا ہے کہ نیٹوروس کیخلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے ڈرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوکرینی صدر ولادیمیر زلینسکی نے بیان میں کہا کہ نیٹو روس کے خلاف کسی بھی کارروائی سے ڈرتا ہے یوکرین اب نیٹو کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا روس یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ملک کا صدربننا نہیں چاہتے جوکسی بھی چیز کے لئے دوسرے ملک کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کربھیک مانگے۔

    صدر ولادیمیر زلینسکی کا کہنا تھا کہ وہ روس کی جانب سے دوآزاد ریاستوں کو تسلیم کرنے کے معاملے پربھی سمجھوتے کے لئے تیارہیں یوکرینی صدرنے کہا کہ روسی حملے کے خلاف بھرپورمزاحمت کرتے رہیں گے۔ عالمی برادری اس معاملے پرعملی کردارادا کرے۔

    قبل ازیں یوکرینی صدر نے کہا تھا کہ مغربی اقوام یوکرینی شہریوں کی ہلاکت کی برابر کی ذمہ دار ہیں الجزیرہ کے مطابق یوکرین کے صدر ولودمیر زلینسکی روسی حملے کیخلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر مغربی اتحادیوں سے سخت نالاں ہیں اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا-

    زلینسکی نے کہا تھا کہ روسی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کا محض روس ہی ذمہ دار نہیں بلکہ مغربی اقوام بھی ہیں جو بیٹھ کے تماشہ دیکھ رہی ہیں اور صلاحیت ہونے کے باوجود کوئی جوابی کارروائی نہیں کررہیں۔

    یورپی کمیشن نے یورپ کو روسی ایندھن سے آزاد بنانے کے منصوبے کا خاکہ تجویزکردیا


    اس سے قبل زلینسکی کئی بار مغربی طاقتوں سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ یوکرین کی فضائی حدود کو نو-فلائی زون قرار دیا جائے تاکہ روسی حملوں سے بچا جاسکے اگر ہمیں جان بچانے کی خاطر جہاز بھی نہیں دیئے جارہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم سب کے سب مارے جائیں۔

    دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کے شہریوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے آج پھر عارضی سیز فائر کا اعلان کیا گیا ہے۔

    امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق شہریوں کے انخلا کے لیے عارضی طور پر سیز فائر کررہے ہیں، روس کی جانب سے سیز فائر کے بعد یوکرین کے شہر سومی سے انخلا شروع ہوچکا ہے، شہریوں کا پہلا قافلہ یوکرین کے مرکزی شہر پول ٹووا پہنچ گیا ہے 1100 غیر ملکی طلبا پول ٹووا سے مغربی شہر لیویف ٹرین کے ذریعے جائیں گے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق روس کے حملوں سے اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین میں 4 ہزار کے قریب روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، یاد رہے روس نے ستمبر تک غیر ملکی کرنسیوں کی فروخت روک دی تھی۔

    یوکرینی صدر زیلینسکی کا برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے، ہم اپنی سرزمین کے لیے لڑتے رہیں گے، چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، زیلینسکی کا کہنا تھا کہ ہم جنگلوں، کھیتوں، ساحلوں، گلیوں میں لڑیں گے، انہوں نے دوبارہ یوکرین پر نو فلائی زون کے اطلاق کا مطالبہ بھی دہرا دیا، انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیاں خوش آئند ہیں لیکن یہ کافی نہیں، اس جنگ میں 15 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں شدید بارشیں اورسیلاب ،19 افراد ہلاک

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان نے سب کچھ بتادیا

    یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان نے سب کچھ بتادیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس نے ساری افواج داخل کردی ہیں :پینٹاگان کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں یوکرین کی سرحد پر اکٹھا ہونیوالی تمام روسی فوج یوکرین میں داخل ہو چکی ہے۔

    پیٹاگان کے ترجمان جان کیربی نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں روسی افواج یوکرین میں کوئی قابل ذکر پیش قدمی نہیں کرسکی ہیں سوائے ملک کے جنوبی حصے کے ان علاقوں کے جن پر روس قابض ہوچکا ہے۔یوکرین کے کئی شہروں پر شدید بمباری کی جارہی ہے اور شہری مقامات اور رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر زمینی افواج کے ذریعے بھرپور حملہ خارج از امکان نہیں ہے البتہ اس وقت اس نوعیت کے حملے کے اشارے نہیں ملے ہیں۔

    جان کیربی نے یاد دلایا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے اواخر میں یورپ کے مختلف حصوں میں 500 امریکی فوجی تعینات کیے جانے کے احکامات دیے تھے جس کا مقصد یورپ میں تعینات فوجیوں کو تقویت پہنچانا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکا اپنے 12 ہزار فوجی یورپ میں تعینات کرچکا ہے اور یہ تعداد مذکورہ براعظم میں عمومی طور پر تعینات فوجیوں کے علاوہ ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ روسی حملے کا مقابلہ کرنے کیلیے اسے مزید عسکری سپورٹ فراہم کی جائے۔ البتہ امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک یوکرین کو بھیجی گئی تمام عسکری امداد اور کمک کے باوجود براہ راست یوکرین روس تنازع میں کودنے سے گریز کررہے ہیں۔ ان ممالک کو اندیشہ ہے کہ ایسا کرنے سے تیسری عالمی جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے اور مغربی حکام گزشتہ دنوں اس امر سے متنبہ بھی کرچکے ہیں۔

    یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ماسکو اور مغربی ممالک بالخصوص یورپ کے درمیان غیرمعمولی تناؤ پیدا ہوا ہے ان ممالک نے روس کے خلاف 5530 پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

    ان پابندیوں کا ہدف روسی بینکوں کے علاوہ تجارتی ادارے، سیاستدان اور بڑے دولتمند افراد شامل ہیں، حتٰی کہ خود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ان کے وزیر خارجہ اور کریملن کے ترجمان بھی ان پابندیوں کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔

  • یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے

    یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے

    کیف:یوکرینی صدر بھی اپنی قوم کے کپتان ثابت ہوئے:تمام پراپیگنڈے دم توڑگئے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کیف سے باہر نہیں گئے، اور اپنے دفتر میں موجود ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایک ویڈیو بیان میں صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ میں نہ تو خوف زدہ ہیں اور نہ کسی کو خوف زدہ کر رہا ہوں، میں کیف میں ہی رہوں گا۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ان کے سرکاری اکاؤنٹس پر جاری ہوئی، اور چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوئی، اس میں وہ اپنی قیام گاہ کے بارے میں انکشاف کرتے نظر آتے ہیں۔

    اس سے قبل کئی افواہوں اور رپورٹوں میں کہا جا رہا تھا کہ یوکرینی صدر دارالحکومت کیف سے باہر جا چکے ہیں، تاہم زیلنسکی نے کہا میں یہاں شارع بینکوفا میں ہوں جہاں صدارتی دفتر ہے، اور میں روپوش نہیں اور نہ کسی سے خوف زدہ ہوں۔

    زیلنسکی نے روسی فوج پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے انسانی گزر گاہوں کے ذریعے یوکرینی شہریوں کے انخلا کو ناکام بنایا، یہ انخلا دو طرفہ بات چیت کے بعد طے ہوا تھا، زیلنسکی نے سوال کیا کہ کیا انسانی گزر گاہوں کے حوالے سے سمجھوتے پر عمل درامد ہوا؟ نہیں، اس کے بدلے روسی ٹینکوں، میزائل لانچروں اور روسی بارودی سرنگیں مسلط کی گئیں۔

  • روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے گئے

    خارکیف :روس کے خلاف بغاوت :یوکرین کیلیے خزانے کے منہ کھول دیے ،اطلاعات کے مطاابق روس کے خلاف لڑائی کی وجہ سے روس مخالف قوتوں کی طرف سے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‌، روس سے جنگ میں تباہی پر ورلڈبینک نے یوکرین کے لیے بڑا امدادی پیکیج منظور کر لیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے یوکرین کے لیے 489 ملین ڈالرز کا سپورٹ پیکیج منظور کیا ہے۔پیکیج میں یوکرین کے لیے 350 ملین کا ضمنی قرض اور 139 ملین ڈالرز گانٹیز شامل ہے۔ پیکیج کا مقصد روس سے جنگ میں تباہ کاریوں پر یوکرین کی امداد کرنا ہے۔

    اس حوالے سے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سپورٹ پیکیج سے یوکرین کے لوگوں کو خدمات فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

    واضح رہے کہ ایک جانب عالمی برداری روس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے تو دوسری جانب امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک یوکرین کی مکمل سپورٹ کر رہے ہیں۔امریکا کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 350 ملین ڈالرز فوجی امادا کی منطوری دے دی ہے.

    صدر جو بائیڈن نے محکمہ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ یوکرین کو امریکی اسٹاک سے 350 ملین ڈالر مالیت کے اضافی ہتھیار فراہم کیے جائیں کیوں کہ یوکرین روسی حملے کو پسپا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

    دیگر ممالک نے بھی یوکرین کو فوجی سامان دینے کا وعدہ کیا ہے کیوں کہ یوکرین کی روسی فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔ بیلجیم نے 2,000 مشین گن اور 3,800 ٹن ایندھن دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    فرانس نے روس کے حملے کے خلاف یوکرین کو دفاعی فوجی ساز و سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ جارحانہ ہتھیار بھیجنے کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔

  • خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے

    کیف: خارکیف میں روسی جنرل ہلاک: مذاکرات ناکام:حالات مزید بگڑنے لگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔

    دوسری طرف روسی حملے کے بعد سے یوکرینی مہاجرین مسلسل اپنی اور بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سرحدی ممالک مالدووا، پولینڈ اور رومانیہ کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ یوکرینی شہروں تاتاربوناری، اوڈیسا کے علاوہ سرحدی شہر گالاٹی سے بڑے پیمانے پر ہجرت جاری ہے۔ روس نے اپنے خلاف پابندیوں کو ایرانی جوہری مذاکرات سے کیوں جوڑا؟ ان شہروں سے بے شمار لوگ پاپیادہ روانہ ہیں اور کئی افراد اپنی کاروں پر راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں موسم ابھی بھی سرد ہے اور درجہ حرارت دو ڈگری سیلسیئس ہے جب کہ تیز ہوا نے اس موسم کو اور سرد کر رکھا ہے۔ سردی کی وجہ سے بڑی عمر کے مہاجرین کو شدید گہری پریشانی کا سامنا ہے۔

    مغرب کی سمت جانے والے مہاجرین ہزاروں یوکرینی مہاجرین روزانہ کی بنیاد سے جنگی حالات سے پریشان ہو کر ہمسایہ ممالک پہچنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں بہت سارے اپنی موٹر گاڑیوں پر سوار ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی یوکرینی شہروں کے پچھتر فیصد لوگ مغرب کی سمت رومانیہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ رومانیہ کی وزارتِ داخلہ نے ڈھائی ہزار کے قریب یوکرینی مہاجرین کے پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی مہنگی کاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ کاریں یوکرین کے متمول افراد کی ہیں۔ یہ امیر افراد زیادہ تر بحیرہ اسود کے کنارے پر واقع خوبصورت بندرگاہی شہر اوڈیسا میں رہتے ہیں۔

    رومانیہ کی سرحد پر کئی رضاکار یوکرینی مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ایک رضاکار لڑکی ماریانا کا کہنا ہے کہ یہاں شدید سردی میں بے شمار مہاجرین کو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور ان کے پاس آگے کہیں جانے کی ٹرانسپورٹ بھی نہیں۔ ماریانا اس صورت حال پر خاصی برہم اور پریشان ہیں کہ کئی بڑی بڑی کاروں میں صرف دو افراد بیٹھ کر پولینڈ اور مالدووا پہنچ رہے ہیں اور اور وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ اور افراد کو اپنے ساتھ بٹھا کر آگے مہاجرین کے مرکز تک لے جائیں۔

    بظاہر رومانیہ کی سرحد پر انتظامات بہتر دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو سرحد عبور کرنے میں تاخیر نہیں ہو رہی۔ اس سرحدی مقام پر مالدووا کی سرحد بھی ملتی ہے اور اس جانب بھی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد داخل ہونے کی خواہشمند ہے۔

    ابھی تک مالدووا اور رومانیہ میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کا جذبہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ان سرحدوں پر بے شمار رضا کار مہاجرین کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ وہ ان مہاجرین کو ہر طرح کی معلومات اور مدد فراہم کرتے ہیں

  • ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا

    نیویارک :ہمارے شہری اور طالب علم یوکرین میں‌ پھنسے ہوئے ہیں‌ اور ہماری کوئی بات نہیں سُن رہا:بھارت چیخ اٹھا ،اطلاعات کے مطابق یوکرین-روس جنگ پر اقوام متحدہ سلامتی کونس کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا، "ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے ایک محفوظ راہداری نہیں مل سکی ہے۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ٹی ایس ترومورتی نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کو راضی کرنے کی بہترین کوششوں کے باوجود سومی میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں بنائی جاسکی۔

    یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ترومورتی نے کہا کہ ہندوستان نے یوکرین سے تمام بے گناہ شہریوں اور اپنے شہریوں کے لیے محفوظ اور بلاتعطل راستے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ دونوں طرف سے ہماری درخواستوں کے باوجود، سومی میں پھنسے ہوئے ہمارے طلباء کے لیے محفوظ راہداری نہیں دی گئی ہے۔ سفیر نے کہاکہ "ہم نے یوکرین سے 20,000 سے زیادہ ہندوستانیوں کی بحفاظت واپسی کی سہولت فراہم کرنے کا انتظام کیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے دوسرے ممالک کے شہریوں کو جنگ زدہ ملک سے انخلاء میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے یوکرین اور اس کے پڑوسی ممالک کو انسانی امداد بھیجی ہے اور ان میں ادویات، خیمے، پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک، دیگر امدادی سامان شامل ہیں۔

  • روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    کیف: روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر500 کلوگرام وزنی بم گرایا جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کی وزارت اطلاعات نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کل رات روسی پائلٹوں نے ایک اورجرم کرتے ہوئے سمی شہر میں رہائشی عمارت پر500 کلوگرام وزنی بم گرایا جس کے نتیجے میں 2بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہوگئے۔

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا


    یوکرین کی وزارت خارجہ نے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر 500 کلوگرام کے ایک اوربم کی تصویرشیئرکرتے ہوئے کہا یہ بم بھی رہائشی عمارت پرگرایا گیا تھا جوپھٹ نہ سکا تاہم دیگرعلاقوں میں پھینکے گئے اس طرح کے بموں سے بڑی تعداد میں مرد، خواتین اوربچے ہلاک ہوئے۔


    انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو روسی وحشیوں سے بچانے میں ہماری مدد کریں! ان حملوں کو روکنے میں ہماری مدد کریں۔ ہمیں جنگی طیارے فراہم کریں۔

    روسی طیاروں نے یوکرین میں رہائشی عمارتوں پر500 کلووزنی جوبم گرائے وہ ’فادر آف آل بم ‘ (ایف اے بی 500 )کہلاتے ہیں۔

    یوکرین شرائط پوری کرے ،فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا،روس

    قبل ازیں یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا یوکرین کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔

    دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی

  • روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    ماسکو: یوکرین پرحملے کے بعد روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین پرحملے کے صرف 10 کے اندرروس عالمی پابندیوں کے حوالے سے دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔

    عالمی پابندیوں کا ریکارڈ رکھنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کے بعد روس پر2ہزار778 پابندیاں عائد کیں جبکہ روس پرعائد مجموعی پابندیوں کی تعداد 5 ہزار530 ہوگئی ہے۔

    نیٹ فلکس نے روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    سخت عالمی پابندیوں کاسامنے کرنےوالےممالک میں ایران دوسرے اورشمالی کوریا تیسرے نمبرپرہےیوکرین پرحملے کے نتیجے میں روس پرامریکا سمیت دیگرممالک نے سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں ہیں امریکا روس سے تیل کی خرید وفروخت پرپابندی عائد کرنے پر بھی غورکررہا ہے۔

    یوکرین نے شہریوں کے محفوظ انخلا کی روسی پیشکش مسترد کر دی

    واضح رہے کہ نیٹ فلیکس نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کا جائزہ لیتے ہوئے روس میں مستقبل کے تمام منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے گوگل نے روسی پلیٹ فارمز رشیا ٹوڈے چینل اور اسپٹنک نیوز ایجنسی کے یوٹیوب چینلوں کو یورپ میں بلاک کردیا تھا جبکہ اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی اشتہار پر پابندی عائد کررکھی ہے-

    11 سالہ یوکرینی بچہ تنہا ایک ہزارکلومیٹر سفر کر کے سلواکیہ پہنچ گیا

    علاوہ ازیں گوگل نے روسی افواج کو یوکرین میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے گوگل میپ سروس بھی بند کردی تھی جبکہ فیس بک بھی روسی سرکاری میڈیا کو اپنے پلیٹ فارم پر اشتہارات دینے سے روک چکی ہے اسسنیپ چیٹ نے پڑوسی ملک بیلا روس میں بھی اپنی ویب سائٹ پر تمام تجارتی اشتہارات پر پابندی لگا رکھی ہے۔

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

  • فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

    کیف: یوکرین کے فوجی جوڑے نے جنگی حالات میں شادی کرلی۔

    باغی ٹی وی : دارالحکومت کیف میں دوران ڈیوٹی فوجی جوڑے نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کیا، باراتیوں کا کردار دیگر فوجی ساتھیوں نے نبھایا جنگی حالات میں جوڑے نے فوجی یونیفارم کو ہی اپنا عروسی جوڑا بنایا اور ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے، دلہا اور دلہن نے نے ایک دوسرے کو ہار پہنائے اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    جوڑے کا اس وقت کا کہنا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اس لیے شادی کی، لیکن ان کا فرض ان کی اولین ترجیح ہے، اور وہ اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تیار ہیں فوجی جوڑے کی شادی کی ویڈیوکو اب تک 22 ہزار سے زائد لائیکس اور سینکڑوں نیک خواہشات موصول ہوچکی ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی یوکرین کے دارلحکومت کیف میں ایک جوڑے نے ایک ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھیں 21 سالہ یارینا اریوا اور اس کے 24 سالہ شوہر سوویا توسلاو کی شادی مئی 2022 میں ہونا تھی جس کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں اورشادی کے مقام کا انتخاب بھی ہو چکا تھا تاہم جب روس کے صدر کے احکامات جاری ہوئے اور دونوں نے اپنے ملک پر بمباری اور حملوں کی آوازیں سننا شروع کیں تو فیصلہ کیا کہ ابھی اسی وقت شادی کرلینی چاہیے تا کہ ایک ساتھ مل کر اس مشکل کا سامنا کریں-

    یوکرین پرحملے کے بعد روس کیخلاف احتجاج ،خواتین برہنہ سڑکوں پر نکل آئیں

    21 سالہ یارینا نے بتایا کہ جب آپ کی زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ ہو اور آپ اس طرح حملوں کی آوازیں سنیں جو چاروں طرف سے آرہی ہوں تو یہ انتہائی خوفناک ہے سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا تھا ہمارا ارادہ تھا کہ 6 مئی کو ایک دوسرے سے دریا کنارے شادی کریں گے لیکن روسی صدر کے جنگ کے اعلان کے بعد سب کچھ منٹوں میں بدل گیا۔ ہم نے شادی کے فوری بعد فیصلہ کیا کہ ملک کو اس مشکل صورتحال میں ہماری ضرورت ہے مستقبل میں شاید ہم ساتھ رہیں نا رہیں لیکن اپنے ملک کے لیے جان دیتے ہوئے ہم ساتھ مریں گے ہم ملک کے دفاع کی کوششوں میں شامل ہونے کے لیے مقامی علاقائی دفاعی مرکز پہنچےہمیں اس ملک کی حفاظت کرنی ہے، ہمیں ان لوگوں کی حفاظت کرنی ہے جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور جس زمین پر ہم رہتے ہیں۔یارینا نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم یہ لوگ ہمیں کون سا فریضہ سونپیں گے، ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں صرف ہتھیار دیں اور ہم جا کر لڑیں شاید ہم کسی اور چیز میں مدد کریں گے اس کا فیصلہ حکومتی لوگ کریں گے-

    یوکرین شرائط پوری کرے ،فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا،روس