Baaghi TV

Tag: یوکرین

  • یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ    جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    واشنگتن:لندن:برلن ::برطانوی حکومت نے روس کی پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق جلد ہی کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے ہم ابھی بھی روس اور یوکرین کے مابین تناؤ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے حق میں اور اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

    وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یوکرین کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہے گا۔

     

    روس پر پابندی کے لئے برطانیہ اپنے آئین کے نئے قوانین کا بھی استعمال کرے گا۔برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں روس کی پانچ بینکوں کی برطانوی شاخوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

    پابندی کا شکار بننے والی بینکوں میں روشیا ، آئی ایس بینک ، جنرل بینک ، پروم سیویز بینک اور بلیک سی بینک شامل ہیں۔بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں اس بحران سے پر امن طریقے سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

     

     

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے گزشتہ روز یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختیار ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندی لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کی جانب سے یوکرائن کے صوبوں کو آزاد ریاست تسلیم کرکے اپنی فوجیں بھیجنے کے اقدامات پر اُس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

     

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان معاشی مفادات کو ہدف بنائیں گی جو روسی جنگی مشینری کی مدد کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو روس باغیوں کے زیرانتظام دونوں ریاستوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرے گا۔

    بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

    لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مشرقی یوکرائنی صوبوں ڈونیسک اور لوہانسک کو نئی آزاد ریاستیں قرار دے کر روسی افواج کو بطور امن فوج ان دونوں علاقوں کو روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے روسی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غیرمعقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ روس جارحیت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

    امریکا اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا آج روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس پر پابندیوں کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ روس سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

    آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔

    بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔

  • ائیر فرانس نے  یوکرین کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں

    ائیر فرانس نے یوکرین کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں

    روس یوکرین تنازع، ائیر فرانس نے بھی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر یوکرین کی تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔

    باغی ٹی وی : ایئر فرانس کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیرس اور کیف کے درمیان کل ہونے والی متوقع پروازوں کو دو طرفہ تعلقات کی بنیاد پر منسوخ کردیا گیا ہے مذکورہ فیصلہ خطے کی علاقائی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر حفظ ماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے اور صورتحال پر نظر ثانی کی جائے گی۔

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اتوار کو متوقع پروازوں کی منسوخی تاحال زیرِ بحث نہیں ہے واضح رہے کہ ایئر فرانس ہفتے میں 2 دن منگل اور اتوار کو پیرس سے کیف پروازیں چلائی جاتی ہیں۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    ایئر فرانس سے پہلے، جرمن کیریئر Lufthansa نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پیر سے مہینے کے آخر تک کیف اور اوڈیسا کے لیے پروازیں معطل کر رہے ہیں جبکہ ایئر انڈیا نے بھی اعلان کیا کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو بچانے کے لیے اگلے ہفتے کیف سے تین پروازیں چلائیں گے، جس میں اضافی پروازوں کا منصوبہ بھی شامل ہے-

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    یاد رہے کہ یوکرین کی غیر معمولی صورتحال پر فرانس نے 19 فروری کو اپنے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت کی تھی جبکہ سیاحت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزیف بوریل نے کہا ہے کہ روس پر پابندیوں کا پیکج تیار کرلیا گیا ہے اور اب صرف روس کا یوکرین پر پہلے حملے کا انتظار ہے۔

    واضح رہے کہ روسی صدر پوٹن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں انہوں ںے روس کی پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ روس کے عوام ان کے اقدام کی حمایت کریں گے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

  • روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی صدر ولادییمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین کے دوعلاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعدعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق روسی صدر پوٹن کے اہم خطاب کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت ڈھائی فیصد سے زائد بڑھ گئی برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 96 ڈالر سے زائد ہوگئی۔

    روسی صدر نے اپنی سیکیورٹی کونسل سے خطاب میں کہا تھا کہ مشرقی یوکرین قدیم روسی سرزمین ہے ماڈرن یوکرین روس نے تخلیق کیا ہے یوکرین روسی تاریخ کا ایک لازمی باب ہے سوویت ریاستوں کو یونین سے نکلنے دنیا بھی پاگل پن تھا یو ایس ایس آر کا خاتمہ کمیونسٹوں کے ضمیر پر بوجھ ہے۔

    پوٹن نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کو روس پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے رہنما بغیر کسی ذمہ داری روس سے تمام اچھی چیزیں چاہتے تھے انہوں نے یوکرین پر ماضی میں روسی گیس چوری کرنے کا الزام بھی لگایا۔

    روسی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے پاس کبھی بھی حقیقی ریاست کا درجہ نہیں تھا یوکرین مستحکم ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے قابل نہیں تھا یوکرین کو ہمیشہ امریکا جیسے غیرملکی ممالک پر انحصار کرنا پڑا یوکرین ‘کٹھ پتلی حکومت’ کے ساتھ امریکی کالونی ہے یوکرین کے حکام قوم پرستی اور بدعنوانی میں مبتلا ہو چکے ہیں یوکرین اپنے جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    انہوں نے کہا ہے کہ امریکا اور نیٹو نے بے شرمی سے یوکرین کو جنگ کے تھیٹر میں بدل دیا یوکرین میں موجود امریکی ڈرون مسلسل روس کی جاسوسی کر رہے ہیں یوکرین حالیہ مہینوں میں مغربی ہتھیاروں سے بھر گیا یوکرین کو تباہی پھیلانے والے ہتھیار ملنے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ روسی صدر پوٹن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں انہوں ںے روس کی پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ روس کے عوام ان کے اقدام کی حمایت کریں گے۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    یوکرین کی صورت حال پرغور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : روس کی جانب سے یوکرین کی دو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد سے یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ہنگامی اجلاس امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے مطالبےپرطلب کیا گیا ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں یو این سیکریٹری جنرل نے روسی فیصلے کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے انتونیو گوتریس کی جانب سے روسی اقدام کو یو این چارٹر کے اصولوں سے متصادم قرار دینے کا امکان ہے۔

    روسی ہم منصب کے فیصلے کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں سے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہےصدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور امریکی شہریوں کی جانب سے مالی معاونت نہیں کی جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق اس حکم کے تحت ایسے افراد پر پابندی لگائی جائے گی جو یوکرین کے ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نےروس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد آزاد ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کو تسلیم کرنا قابل مذمت ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ روس کا قدم یوکرین کی خود مختاری ،سلامتی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی ہوگی انہوں نے اسے ایک انتہائی سیاہ علامت قرار دیا ہے۔

    یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد وہ اپنے ردعمل میں یوکرین کے ساتھ اتحاد اور عزم کا اظہار کریں گے یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کی جانب سے اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت روس کے پاس ہے۔

    سوئس سیکرٹس: مزید بین الاقوامی رہنماؤں اور اہلخانہ کے خفیہ اکاؤنٹس سامنے آگئے

  • ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    روس اور یوکرین کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے پیوٹن نے قوم سے تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ طویل خطاب کیاجس میں انہوں نے سوویت یونین ٹوٹنے، یوکرین کے معاملات، نیٹو اور امریکا کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔

    آخر میں پیوٹن نے اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔

    پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی-
    https://twitter.com/RT_com/status/1495852705792905222?s=20&t=rUqyYDefT5D_3jdtx2tInQ
    اطلاعات کے مطابق دوسری جانب روسی صدر کی جانب سے خطے کی آزادی کو تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد ڈوناسٹک میں جشن کا سماں ہے شہریوں کی جانب سے آتش بازی کر کے جشن منایا جا ہا ہے-


    قبل ازیں پوٹن نے کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان بیلاروس میں 2015 کو طے پانے والے معاہدہ اب تنازع کے حل کے لیے قابل عمل رہا ہے یہ معاہدہ فرانس اور جرمنی کی موجودگی میں یوکرین نے طے کیا تھا جو اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکا ہے اور ان حالات میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ یوکرین کے تنازع کو جواز بناکر روس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں بصورت دیگر اپنا دفاع کا حق رکھتے ہیں وہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی دو ریاستوں لوہانسک اور ڈوناسٹک کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور سلسلے میں صلاح مشورے جاری ہیں اس حوالے سے صدر پیوٹن نے سب سے پہلے اپنی سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا۔

    صدر ولادیمیر پوٹن نے واضح طور پر کہا تھا کہ یوکرین روسی تاریخ کا ایک لازمی باب ہے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کو قدیم روسی سرزمین قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ماڈرن یوکرین روس نے تخلیق کیا ہے۔

    صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ سوویت ریاستوں کو یونین سے نکلنے دنیا بھی پاگل پن تھا یو ایس ایس آر کا خاتمہ کمیونسٹوں کے ضمیر پر بوجھ ہے روسی صدر نے یہ سب باتیں ایک ایسے وقت میں کیں کہ جب روس اوریوکرین کے درمیان موجود تنازع مزید شدت اختیار کرچکا ہے اور پوری دنیا کی نگاہوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    رپورٹس کے مطابق کریملن کی جانب سے بنا کسی جھجک کے دونوں مغربی ممالک کو بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے بہت انتظامی احکامات پر دستخط بھی کردیے جائیں گے اس ضمن میں کریملن کا یہ بھی کہناتھا کہ جرمنی اور فرانس نے یہ جاننے کے بعد مایوسی کا اظہار کیا ہے۔


    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے عزائم آشکار ہونے کے بعد یوکرین کے صدر نے ہنگامی بنیادوں پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہےیورپی یونین نے اس حوالے سے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ اگر روس نے مشرقی یوکرین کی علیحدگی پسند ریاستوں کو تسلیم کیا اور یا ان کے ساتھ الحاق کرنے کی کوشش کی تو معاشی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    واضح رہے کہ روس نواز باغیوں نے یوکرین کے مشرقی علاقے کی دو ریاستوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا اور وہاں سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جنگ کے خطرے کے پیش نظر ماسکو منتقل کر رہے تھےروس اگر علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے فوجی دستے ان علاقوں میں داخل ہوسکیں گے لیکن نتیجتاً سفارتی دروازوں کی بندش طویل ہو جائے گی اور جنگ کا امکان بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

    براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

  • روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ روسی حکومت نے یوکرین پر حملے کی صورت میں یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں یوکرین کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور آنے والے دنوں میں ممکنہ انسانی حقوق بحران سے خبردار کیا۔

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ کے نام لکھے جانے والے خط میں کہا گیا کہ امریکا کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز فوجی قبضے کے بعد مزاحمت کرنے والے یوکرینی باشندوں کو قتل اور گرفتار کرنے کے لئے ناموں کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں۔

    امریکی حکومت کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ ہمارے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز پر امن مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کریں گے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انٹیلی جنس رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن بیلا روس میں موجود ہوں گے۔

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    ادھر اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ بیلا روس اپنی سرزمین پر روسی جوہری میزائلوں کے تعینات کیے جانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔

    روس نے اتوار کے روز یوکرین کی شمالی سرحد کے نزدیک فوجی تربیتی مشقوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ان مشقوں کے دوران میں روسی افواج کا ایک بڑا مجموعہ پڑوسی ملک بیلا روس منتقل ہو گیا شمال میں بیلا روس کی سرحد یوکرین سے ملتی ہے۔

    بیلا روس میں روسی افواج کی موجودگی سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ ان افواج کو 3 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیف کی آبادی 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

    براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

    امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے مطابق روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے روس نے ہفتے کے روز بیلا روس میں روایتی مشقوں کے ساتھ جوہری تربیتی مشقوں کا بھی اجرا کیا۔ علاوہ ازیں سمندری مشقیں بحیرہ اسود کے ساحلوں کے نزدیک انجام دی جا رہی ہیں۔

    جبکہ ماسکو نے ہمسایہ ملک پر ممکنہ حملے کے منصوبے سے انکار کیا ہے مگر یوکرین سے یہ گارنٹی طلب کی ہے کہ وہ نیٹو میں شمولیت اختیار نہیں کرے گا اور مشرقی یورپ سے نیٹو کی افواج کو ہٹا لیا جائے گا ان مطالبات کو مغربی اتحاد نےمسترد کر دیا ہے-

    روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ…

  • یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے امکانات کی اطلاعات ہیں

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اغوا اور تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں خود ساختہ ڈونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ سے 60 ہزار سے زیادہ پناہ گزین گذشتہ ہفتے حکام کی طرف سے جاری کردہ انخلاء کے احکامات کے بعد روس میں داخل ہوئے ہیں

    ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی روسی صدور کی ملاقات کا ٹھوس منصوبہ نہیں .ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

    اس سے پہلے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    یوکرین تنازع بات چیت سے حل ہونے کی طرف اہم پیش رفت ہو گئی ہے ،امریکہ اور روس، یوکرین کے معاملہ پر سمٹ کے انعقاد پر متفق ہوگئے ہیں جس کی تصدیق وائٹ ہاوس کی جانب سے کی گئی ہے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین سمٹ کی تجاویز روس، امریکہ اور فرانس کے اعلی سفارت کار مرتب کریں گے، فرانسیسی صدر کا روسی صدر کے درمیان طویل ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں صدرور کے درمیان 2 گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ بھی اہم میٹنگ ہوئی جس میں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا قبل ازیں روس یوکرین کشیدگی پر ماسکو میں امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو روس میں حملوں سے متعلق وارننگ دی گئی ہے، یوکرین سرحد کے ساتھ روس کے شہریوں علاقوں میں حملہ کا خدشہ ہے،ا مریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، ریلوے اور میٹرو اسٹیشنز پر بھی حملے ہوسکتے ہیں،ماسکو اور سینٹ پیٹر زبرگ میں حملوں کو خطرہ ہے۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

  • براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

    براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

    کیف: یوکرین میں ایک براہِ راست ٹی وی شو کے دوران مقامی صحافی نے روس نواز سیاست دان نیسٹر شوفریخ پر حملہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین میں سیوک شسٹرز کے فریڈم آف اسپیچ ٹاک شو میں قانون ساز نیسٹر شوفریچ سمیت دیگر یوکرین کے سیاستدانوں کو مدعو کیا گیا تھا جس میں سابق صدر پیٹر پوروشینکو بھی شامل تھے۔

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    گفتگو میں نیسٹر سے روسی صدر اور کریملن کی مذمت کرنے کو کہا گیا جس پر نیسٹر نے انکار کردیا نیسٹر سے جب کہا گیا کہ پوٹن قاتل اور مجرم ہیں تو نیسٹر نے جواب میں کہا کہ یوکرین حکومت کو اس معاملے سے نمٹنے دیا جائے جس پر سابق صدر نے ناظرین کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا کہ ابھی اس وقت اسٹوڈیو میں پوٹن کا ایجنٹ موجود ہے۔

    روس آئندہ کچھ دنوں میں یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،امریکی صدر

    پیٹرو کے ان الفاظ کے بعد مجمع میں سے بٹوسوو نامی صحافی اٹھا اور نیسٹر کے پاس آکر اُن کے منہ پر مکہ دے مارا جس کے بعد دونوں گتھم گتھا ہوگئے نیسٹر نے حملہ آور کی گردن دبوچ لی تاہم اسٹوڈیو کے عملے نے دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا اور شو جاری رہا۔

    روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    واضح رہے کہ یوکرین کی مشرقی چیک پوسٹ پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی شیلنگ کے بعدحالات مزید کشیدہ ہوگئے، درجنوں راکٹ یوکرینی وزیر داخلہ کے فرنٹ لائن کے دورے کے دوران سو میٹر کی حدود میں گرے۔ روس نے جوہری جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا، روسی فضائیہ نے جنگی طیاروں سے ہائپر سانک کروز میزائل ہدف پر داغے، وزارت دفاع نے بیلسٹک میزائل بھی فائر کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔

    روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا…

    جرمنی اور فرانس نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ دیا، جرمن ایئر لائن لفتھانسا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اوڈیسا کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں۔

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

  • یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    میونخ:یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس نے امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادیوں کو جوہری جنگی مشقیں شروع کرکے ایک وارننگ دی ہے تو دوسری طرف امریکہ ، نیٹو اور دیگر اتحادی بھی مقابلے کے لیے تیار نظرآتےہیں ، ادھر اسی اثنا میں جرمنی میں جاری میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکا اور نیٹو اتحادیوں نے روس کو اشتعال انگیزی کاذمہ دار قرار دے دیا، غیر معمولی پابندیوں کی دھمکی بھی دے ڈالی، چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ماسکو کے خدشات کو دور کرنے پر زور دیا۔

    جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس جاری، یوکرین کا معاملہ زیر بحث آیا تو یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ کیف ماسکو کے خلاف یورپ کی ڈھال ہے،یوکرین نے8 سال سے دنیا کی بڑی فوج کو روک رکھا ہے، روس کے ہرقسم کے اقدام کے لئے بھرپور تیار ہیں۔

    نیٹو کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کی کمی چاہتا ہے مگر اس اشتعال انگیزی سے نیٹو افواج کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ حملے کی صورت میں صرف معاشی پابندیاں ہی نہیں لگیں گی بلکہ نیٹو کے مشرقی دفاع کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

    چینی وزیر خارجہ نے امریکا اور یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا، میونخ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب میں کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک روس کے خدشات کا احترام کریں، کیا نیٹو کے مشرق کی جانب پھیلاؤ سے یورپ میں امن قائم ہو جائے گا۔

    یوکرین کو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے، محاذ کا نہیں میونخ سیکورٹی کانفرنس کی سائڈ لائنز میں جی سیون کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوا۔

    یوکرین کی مشرقی چیک پوسٹ پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی شیلنگ کے بعدحالات مزید کشیدہ ہوگئے، درجنوں راکٹ یوکرینی وزیر داخلہ کے فرنٹ لائن کے دورے کے دوران سو میٹر کی حدود میں گرے۔ روس نے جوہری جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا، روسی فضائیہ نے جنگی طیاروں سے ہائپر سانک کروز میزائل ہدف پر داغے، وزارت دفاع نے بیلسٹک میزائل بھی فائر کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔

    جرمنی اور فرانس نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ دیا، جرمن ایئر لائن لفتھانسا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اوڈیسا کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں۔

  • یوکرائن بحران:روس  نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں

    یوکرائن بحران:روس نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں

    ماسکو:یوکرائن بحران:روس نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق روس نے آج سے جوہری حملے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات شروع کر دیے جبکہ ایک ہائپرسونک میزائل کی بھی تجرباتی لانچنگ کی گئی ہے۔

    ایک ایسے وقت جب مغربی ممالک کی جانب سے روس کو مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ یوکرائن پر کسی بھی جارحیت سے باز رہے، روس نے جوہری میزائلوں کے تجربات کا آغاز کر دیا ہے۔

    میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر روسی فوج کسی بھی قسم کی پیش قدمی کرتی ہے تو نیٹو کی جانب سے مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی بڑھا دی جائے گی اور روس پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

    کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ قومی سرحدیں طاقت کے زور پر کسی بھی صورت تبدیل نہیں ہونا چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اقتصادی سطح پر اقدامات کی تیاری کرلی ہے جو فوری، شدید اور منظم ہوں گے۔ ان میں روس کے مالیاتی اداروں اور کلیدی صنعتوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے آج صدارتی محل کریملن سے روسی جوہری میزائلوں کی تجرباتی فوجی مشق کا آغاز کیا۔ اس موقع پر بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو بھی صدر پیوٹن کے ہمراہ موجود تھے۔

    ماسکو حکومت کے مطابق روسی فوج نے بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جبکہ ایک ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔ حکومتی ترجمان دیمیتری پیسکوف نے جوہری مشقوں کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے روسی تیاری کو جانچنا ہے۔

    اُدھر میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ نیٹو میں یوکرائن کی شمولیت ایجنڈے پر بھی نہیں لیکن روس اسے ایک اہم مسئلے کے طور پر ہوا دے رہا ہے، اس کے باوجود مغربی ممالک نے روس کے ساتھ سکیورٹی مطالبات کے حوالے سے بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔