Baaghi TV

Tag: یو اے ای

  • برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ  پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

    اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

    اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

    تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

    اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

    اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

  • ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حالیہ تنازع کے دوران ایران پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں امریکا اور اسرائیل کی بالواسطہ شمولیت بھی رہی۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئے۔ اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد تک جاری رہے ان کارروائیوں میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا رہا تاکہ حملے زیادہ مؤثر بنائے جا سکیں، مبینہ طور پر ایران کے اندر کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب قشم اور ابو موسیٰ جزائر، بندر عباس کا علاقہ، خلیج فارس میں لاوان آئل ریفائنری اور اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں ان حملوں کو ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس تنصیبات پر ہونے والے پہلے حملوں کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی تھی۔ جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات، ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔

  • یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    100 سے زائد ایسے محنت کش نوجوان اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جن کے پاس نہ تو ان کی نوکریاں بچی ہیں، نہ وہ اپنا سامان ساتھ لا سکے اور نہ ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نکال پائے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں دن رات ایک کر کے جمع کی تھی، انسانی حقوق کی عا لمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایسے 103 پاکستانیوں کی امیگریشن دستاویزات، ویزا اسٹیٹس کے اسکرین شاٹس اور پروازوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے جنہیں وہاں سے نکالا گیا، اور ان میں سے 24 افراد کا ذاتی انٹرویو بھی کیا گیا ہے انٹرویو دینے والے ہر شخص نے بتایا کہ فلائٹ میں بٹھانے سے پہلے انہیں اپنا ذاتی سامان اٹھانے یا بینکوں میں موجود اپنی بچت کی رقم نکالنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی اور انہیں درجنوں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی تنظیم ’مجلس وحدت المسلمین‘ کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈیٹا بیس کے مطابق، 28 فروری کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، اس کے بعد سے اب تک خلیجی ملک یو اے ای سے کم از کم 7 ہزار 500 پاکستانیوں کو نکالا جا چکا ہےتنظیم کے ترجمان محسن عابدی نے رائٹرز کو صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس موجود فہرست میں ساڑھے سات ہزار نام ہیں لیکن حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران لوگوں کو ملک بدر کیے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے، کیونکہ ایران نے جواب میں یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے پورے خلیج کے علاقے میں سخت تناؤ پھیل گیا،ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کی حکومت نے کس قانون یا معیار کے تحت ان پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چنا۔

    رائٹرز کے مطابق، اس حوالے سے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے جب سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا، دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے کسی بھی شخص کو مسلک یا فرقے کی بنیاد پر نہیں نکالا بلکہ جن لوگوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے انہوں نے یو اے ای کے مقامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تفصیلات دیے بغیر صرف اتنا کہا کہ اس سال ملک بدری کے اعداد و شمار معمول کے مطابق ہی ہیں تاہم، حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک مختلف حقیقت بیان کی۔

    رائٹرز کے مطابق، انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد یو اے ای سے ہزاروں کی تعداد میں واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں کی آمد کے بعد صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے سفارتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو یو اے ای کے سامنے کھل کر نہیں اٹھایا۔

    اس صورتحال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ڈپٹی مڈل ایسٹ ڈائریکٹر مائیکل پیج نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانی رہائشیوں کی بے دخلی کی رپورٹیں انتہائی تشویشناک ہیں اور ہماری تنظیم ان سنگین الزامات کی مکمل انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانیز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں رہائش پذیر اور برسرِروزگار ہیں جو سالانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ پاکستان خود بھی ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے ایک ثالث کے طور پر کوششیں کر رہا ہے۔

  • اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے اسلام آباد میں ریجنل ایمبیسیڈرزکانفرنس کے موقع پر ملاقات کی،ملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے،جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہییں۔

    اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ وہاں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارا ت کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا، انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، ہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانا ئی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

    اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

    اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔

    وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

    اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔

  • یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں –

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہےان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بند ی کا اعلان کیا تھااگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم د شمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

    اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا،ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون دا غے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہےاگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

  • یو اے ا ی سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبریں  بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں،وزارت داخلہ

    یو اے ا ی سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبریں بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں،وزارت داخلہ

    وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ اس نوعیت کی خبریں بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہیں، جن کا مقصد غلط فہمیاں پیدا کرنا اور مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچانا ہے متحدہ عرب امارات سمیت کسی بھی دوست ملک سے پاکستانی شہریوں کی کسی خاص طبقے یا گروہ کی بنیاد پر بے دخلی نہیں کی جا رہی، اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو وہ متعلقہ ملک کے قوانین، ویزا شرائط، غیر قانونی دستاویزات یا قیام کی مدت ختم ہونے جیسے معاملات کے تحت معمول کی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک کے ویزوں اور ملازمت کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور اس حوالے سے کسی قسم کی امتیازی پالیسی موجود نہیں،سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہیں اور جعلی خبریں من گھڑت ہیں جنہیں مخصوص مقاصد کے تحت پھیلایا جا رہا ہے، بیرونِ ملک کسی بھی پاکستانی شہری کو درپیش مسئلے کو متعلقہ ملک کے ساتھ دفترِ خارجہ کے ذریعے ہر کیس کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ سفارتی معاونت فراہم کی جا سکے

  • یو اے ای کا  ایران کے  2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ  کرنے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کردیا ہے-

    جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2026 کو یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے لانچ کیے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز (یو اے ویز) کو تباہ کیا ہےایران کے یو اے ای پر اس حملے کے دوران 3 افراد زخمی بھی ہوئے، متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک فضائی دفاعی نظام مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2 ہزار 263 ڈرونز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 230 تک پہنچ چکی ہے، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں زخمیوں میں اماراتی، پاکستانی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیئن، فلپائنی، ایرانی، بھارتی، بنگلادیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈین، لبنانی، افغانی، بحرینی، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، انڈونیشین، تیونسی، مراکشی اور روسی شہری شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ہلاک افراد کی مجموعی تعداد 3 ہوگئی ہے، جن میں ایک مراکشی شہری بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت خدمات انجام دے رہا تھا جب کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے ان میں پاکستانی، نیپالی، بنگلادیشی، فلسطینی، بھار تی اور مصری شہری شامل ہیں ملک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی، خود مختاری اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔