Baaghi TV

Tag: یو اے ای

  • متحدہ عرب امارات میں  قیمت میں اضافے کے باوجودپاکستانی آم کی مانگ میں اضافہ

    متحدہ عرب امارات میں قیمت میں اضافے کے باوجودپاکستانی آم کی مانگ میں اضافہ

    متحدہ عرب امارات میں قیمتوں میں اضافے کے باوجودپاکستانی آموں کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی۔

    تاجروں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اس موسمِ گرما پاکستانی آم گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد مہنگے فروخت ہو رہے ہیں پاکستان میں آم کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی سیزن کے تاخیر سے آغاز اور بڑھتے ہوئے فضائی و بحری مال برداری کے اخراجات نے قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنے ہیں اس کے باوجود پاکستانی آم اپنی منفرد مٹھاس، خوشبو اور ذائقے کے باعث مقامی اور غیرملکی صارفین میں بدستور مقبول ہیں۔

    پاکستان سپر مارکیٹ ایل ایل سی کے ڈائریکٹر گل رئیس یاسین کے مطابق پاکستانی آموں کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے اور اب صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ مختلف قومیتوں کے خریدار بھی خاص طور پر سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول جیسی اقسام خریدنے آتے ہیں 3 سے 3.5 کلوگرام کے سندھڑی آم کا ڈبہ، جو گزشتہ برس 40 سے 45 درہم میں فروخت ہوتا تھا اب تقریباً 50 درہم میں دستیاب ہے جبکہ فضائی راستے سے درآمد کیے جانے والے چونسہ اور انور رٹول آموں کی قیمت 60 سے 65 درہم سے بڑھ کر تقریباً 70 درہم فی ڈبہ ہو گئی ہے۔

    ابتدائی دنوں میں بحری جہازوں کی تاخیر اور کارگو مسائل کے باعث زیادہ تر آم فضائی راستے سے منگوانا پڑے جس سے قیمتیں بعض اوقات گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تک پہنچ گئیں بعد ازاں بحری ترسیل بحال ہونے سے قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی تاہم وہ اب بھی گزشتہ سال سے زیادہ ہیں۔

    تاجروں کے مطابق پاکستانی آموں کا سیزن صرف دو سے اڑھائی ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اسی لیے صارفین قیمتوں میں اضافے کے باوجود انہیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول بدستور اماراتی مارکیٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقسام ہیں جبکہ گھروں، دفاتر اور تحائف کے طور پر بھی پاکستانی آموں کی مانگ برقرار ہے۔

  • متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    متحدہ عرب امارات میں آج یعنی یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

    اماراتی حکام کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.95 درہم سے کم ہو کر 3.40 درہم فی لیٹر، اسپیشل 95 کی قیمت 3.83 درہم سے گھٹ کر 3.29 درہم فی لیٹر جبکہ ای پلس 91 کی قیمت 3.76 درہم سے کم ہو کر 3.21 درہم فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے،اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی 4.33 درہم سے کم ہو کر 3.60 درہم فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی سے ان کے بجٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی، تاہم روزمرہ سفر نسبتاً آسان اور کم خرچ ہوجائے گا گزشتہ چند ماہ میں انہوں نے غیرضروری سفر کم کیے، خریداری اور دیگر کام ایک ہی چکر میں نمٹانے کی کوشش کی اور ایندھن کی بچت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیا،متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور تارکین وطن نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید کمی اور گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔

  • متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر

    متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی ہے،متحدہ عرب امارات (UAE) نے بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ تاریخی قدم اٹھایا ہے

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیصلے کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مکمل سہولیات تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوگی، جبکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا بھی اس پالیسی کا اہم حصہ ہے متحدہ عرب امارات اس اقدام کے ذریعے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے خطے میں ایک نئی مثال قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے،جس کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں-

    واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

  • ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بہترین فائٹر قرار دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے لیے "جنگجو” اور "ایک اچھا فائٹر” ہونے کے الفاظ استعمال کیے ٹرمپ نے اماراتی صدر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی حمایت میں کھڑے رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’محمد (امیر متحدہ عرب امارات) ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں،ٹرمپ نے شیخ محمد بن زاید کو ایک قابلِ احترام، باصلاحیت اور بہترین وژن رکھنے والا رہنما قرار دیا، انہوں نے اماراتی صدر کو ایک ایسا "جنگجو” کہا جو خطے کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرتا ہے-

    یہ غیر معمولی دعویٰ فرانس میں منعقد ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ کے موقع پر ایک پریس بریفنگ کے دوران سامنے آیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے مابین سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی دوسری جانب تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔

  • برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ  پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانوی نیوز چینل ‘اسکائی’ کا یو اے ای کے ساتھ پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان

    برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.

    اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس 24 گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.

    یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھےابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.

    اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.

    تاہم برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نےاندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کےاعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھےخاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالا ت اٹھائے جا رہے تھے.

    اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.

    اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.

  • ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

    واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حالیہ تنازع کے دوران ایران پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں امریکا اور اسرائیل کی بالواسطہ شمولیت بھی رہی۔

    امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئے۔ اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد تک جاری رہے ان کارروائیوں میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا رہا تاکہ حملے زیادہ مؤثر بنائے جا سکیں، مبینہ طور پر ایران کے اندر کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب قشم اور ابو موسیٰ جزائر، بندر عباس کا علاقہ، خلیج فارس میں لاوان آئل ریفائنری اور اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں ان حملوں کو ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس تنصیبات پر ہونے والے پہلے حملوں کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی تھی۔ جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات، ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔

  • یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کی اچانک ملک بدری

    100 سے زائد ایسے محنت کش نوجوان اچانک اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں جن کے پاس نہ تو ان کی نوکریاں بچی ہیں، نہ وہ اپنا سامان ساتھ لا سکے اور نہ ہی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی نکال پائے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں دن رات ایک کر کے جمع کی تھی، انسانی حقوق کی عا لمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھی اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایسے 103 پاکستانیوں کی امیگریشن دستاویزات، ویزا اسٹیٹس کے اسکرین شاٹس اور پروازوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے جنہیں وہاں سے نکالا گیا، اور ان میں سے 24 افراد کا ذاتی انٹرویو بھی کیا گیا ہے انٹرویو دینے والے ہر شخص نے بتایا کہ فلائٹ میں بٹھانے سے پہلے انہیں اپنا ذاتی سامان اٹھانے یا بینکوں میں موجود اپنی بچت کی رقم نکالنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی اور انہیں درجنوں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جہاز میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا۔

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی تنظیم ’مجلس وحدت المسلمین‘ کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈیٹا بیس کے مطابق، 28 فروری کو جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، اس کے بعد سے اب تک خلیجی ملک یو اے ای سے کم از کم 7 ہزار 500 پاکستانیوں کو نکالا جا چکا ہےتنظیم کے ترجمان محسن عابدی نے رائٹرز کو صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس موجود فہرست میں ساڑھے سات ہزار نام ہیں لیکن حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران لوگوں کو ملک بدر کیے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے، کیونکہ ایران نے جواب میں یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے پورے خلیج کے علاقے میں سخت تناؤ پھیل گیا،ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یو اے ای کی حکومت نے کس قانون یا معیار کے تحت ان پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چنا۔

    رائٹرز کے مطابق، اس حوالے سے یو اے ای کی وزارتِ خارجہ سے جب سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا، دوسری طرف پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے کسی بھی شخص کو مسلک یا فرقے کی بنیاد پر نہیں نکالا بلکہ جن لوگوں کو بھی واپس بھیجا گیا ہے انہوں نے یو اے ای کے مقامی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی تفصیلات دیے بغیر صرف اتنا کہا کہ اس سال ملک بدری کے اعداد و شمار معمول کے مطابق ہی ہیں تاہم، حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک مختلف حقیقت بیان کی۔

    رائٹرز کے مطابق، انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام آباد یو اے ای سے ہزاروں کی تعداد میں واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں کی آمد کے بعد صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے سفارتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو یو اے ای کے سامنے کھل کر نہیں اٹھایا۔

    اس صورتحال پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ڈپٹی مڈل ایسٹ ڈائریکٹر مائیکل پیج نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانی رہائشیوں کی بے دخلی کی رپورٹیں انتہائی تشویشناک ہیں اور ہماری تنظیم ان سنگین الزامات کی مکمل انویسٹی گیشن کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانیز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں رہائش پذیر اور برسرِروزگار ہیں جو سالانہ 6 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ پاکستان خود بھی ایران تنازع کو کم کرنے کے لیے ایک ثالث کے طور پر کوششیں کر رہا ہے۔

  • اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے اسلام آباد میں ریجنل ایمبیسیڈرزکانفرنس کے موقع پر ملاقات کی،ملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے،جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہییں۔

    اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ وہاں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    برکس اجلاس:یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا ،عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارا ت کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا، انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں، ہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانا ئی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔