متحدہ عرب امارات میں قیمتوں میں اضافے کے باوجودپاکستانی آموں کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی۔
تاجروں کے مطابق متحدہ عرب امارات میں اس موسمِ گرما پاکستانی آم گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد مہنگے فروخت ہو رہے ہیں پاکستان میں آم کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی سیزن کے تاخیر سے آغاز اور بڑھتے ہوئے فضائی و بحری مال برداری کے اخراجات نے قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنے ہیں اس کے باوجود پاکستانی آم اپنی منفرد مٹھاس، خوشبو اور ذائقے کے باعث مقامی اور غیرملکی صارفین میں بدستور مقبول ہیں۔
پاکستان سپر مارکیٹ ایل ایل سی کے ڈائریکٹر گل رئیس یاسین کے مطابق پاکستانی آموں کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے اور اب صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ مختلف قومیتوں کے خریدار بھی خاص طور پر سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول جیسی اقسام خریدنے آتے ہیں 3 سے 3.5 کلوگرام کے سندھڑی آم کا ڈبہ، جو گزشتہ برس 40 سے 45 درہم میں فروخت ہوتا تھا اب تقریباً 50 درہم میں دستیاب ہے جبکہ فضائی راستے سے درآمد کیے جانے والے چونسہ اور انور رٹول آموں کی قیمت 60 سے 65 درہم سے بڑھ کر تقریباً 70 درہم فی ڈبہ ہو گئی ہے۔
ابتدائی دنوں میں بحری جہازوں کی تاخیر اور کارگو مسائل کے باعث زیادہ تر آم فضائی راستے سے منگوانا پڑے جس سے قیمتیں بعض اوقات گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تک پہنچ گئیں بعد ازاں بحری ترسیل بحال ہونے سے قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی تاہم وہ اب بھی گزشتہ سال سے زیادہ ہیں۔
تاجروں کے مطابق پاکستانی آموں کا سیزن صرف دو سے اڑھائی ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اسی لیے صارفین قیمتوں میں اضافے کے باوجود انہیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول بدستور اماراتی مارکیٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقسام ہیں جبکہ گھروں، دفاتر اور تحائف کے طور پر بھی پاکستانی آموں کی مانگ برقرار ہے۔
