Baaghi TV

ایران کی توانائی تنصیبات کو یو اے ای نے نشانہ بنایا، وال اسٹریٹ جرنل کاانکشاف

واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حالیہ تنازع کے دوران ایران پر متعدد فضائی حملے کیے، جن میں امریکا اور اسرائیل کی بالواسطہ شمولیت بھی رہی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئے۔ اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد تک جاری رہے ان کارروائیوں میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا رہا تاکہ حملے زیادہ مؤثر بنائے جا سکیں، مبینہ طور پر ایران کے اندر کئی اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب قشم اور ابو موسیٰ جزائر، بندر عباس کا علاقہ، خلیج فارس میں لاوان آئل ریفائنری اور اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس شامل ہیں ان حملوں کو ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی تیل اور گیس تنصیبات پر ہونے والے پہلے حملوں کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسالوئیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی تھی۔ جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات، ایران، اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اس میں متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔

More posts