Baaghi TV

Tag: یو اے ای

  • حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

    اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

    اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔

    وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

    اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔

  • یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    یو اے ای نے بھی ایران پر خفیہ حملے کیے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خاموشی سے حصہ لیتے ہوئے ایرانی اہداف پر فوجی حملے کیے ہیں –

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا اور اسرائیل کے بعد تیسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ لیا ہےان خفیہ حملوں میں خلیج فارس میں واقع ایران کے لاوان جزیرے پر ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، تاہم متحدہ عرب امارات نے عوامی سطح پر اب تک ان حملوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاوان جزیرے پر یہ حملہ اپریل کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بند ی کا اعلان کیا تھااگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملہ جنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہوا یا بعد میں، لیکن ایران نے اس وقت اعتراف کیا تھا کہ ایک نامعلوم د شمن نے اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔

    اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا، البتہ حکام نے اپنے پرانے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کے حملوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ امارات نے ایران کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے، جس پر اماراتی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا،ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری اس جنگ میں متحدہ عرب امارات کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اماراتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت 2200 سے زائد ڈرون دا غے ہیں، جس کے باعث یہ خطے کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہےاگرچہ زیادہ تر حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔

  • یو اے ا ی سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبریں  بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں،وزارت داخلہ

    یو اے ا ی سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبریں بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں،وزارت داخلہ

    وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پاکستانیوں کی مخصوص بے دخلی سے متعلق خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں بدنیتی اور جعلی مہم کا حصہ ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ اس نوعیت کی خبریں بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہیں، جن کا مقصد غلط فہمیاں پیدا کرنا اور مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچانا ہے متحدہ عرب امارات سمیت کسی بھی دوست ملک سے پاکستانی شہریوں کی کسی خاص طبقے یا گروہ کی بنیاد پر بے دخلی نہیں کی جا رہی، اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو وہ متعلقہ ملک کے قوانین، ویزا شرائط، غیر قانونی دستاویزات یا قیام کی مدت ختم ہونے جیسے معاملات کے تحت معمول کی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک کے ویزوں اور ملازمت کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور اس حوالے سے کسی قسم کی امتیازی پالیسی موجود نہیں،سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہیں اور جعلی خبریں من گھڑت ہیں جنہیں مخصوص مقاصد کے تحت پھیلایا جا رہا ہے، بیرونِ ملک کسی بھی پاکستانی شہری کو درپیش مسئلے کو متعلقہ ملک کے ساتھ دفترِ خارجہ کے ذریعے ہر کیس کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ سفارتی معاونت فراہم کی جا سکے

  • یو اے ای کا  ایران کے  2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ  کرنے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز کو تباہ کردیا ہے-

    جمعے کو متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2026 کو یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے لانچ کیے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور 3 ڈرونز (یو اے ویز) کو تباہ کیا ہےایران کے یو اے ای پر اس حملے کے دوران 3 افراد زخمی بھی ہوئے، متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک فضائی دفاعی نظام مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور 2 ہزار 263 ڈرونز کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 230 تک پہنچ چکی ہے، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں زخمیوں میں اماراتی، پاکستانی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیئن، فلپائنی، ایرانی، بھارتی، بنگلادیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈین، لبنانی، افغانی، بحرینی، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، انڈونیشین، تیونسی، مراکشی اور روسی شہری شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ہلاک افراد کی مجموعی تعداد 3 ہوگئی ہے، جن میں ایک مراکشی شہری بھی شامل ہے، جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت خدمات انجام دے رہا تھا جب کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے ان میں پاکستانی، نیپالی، بنگلادیشی، فلسطینی، بھار تی اور مصری شہری شامل ہیں ملک کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی، خود مختاری اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    ایران کی کسی بھی قسم کی دھمکیاں اور مداخلت کو قابل قبول نہیں، یو اے ای

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی قابلِ قبول نہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اماراتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آزاد فیصلہ سازی کے خلاف کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر رد کرتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی شراکت داریاں مکمل طور پر اس کی خودمختار پالیسی کا حصہ ہیں اور کسی بھی فریق کو ان تعلقات کو دھمکی، مداخلت یا اشتعال انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں، ملک کی سلامتی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوام کے تحفظ کو براہِ راست یا بالواسطہ نشانہ بنانے والی کوئی بھی زبان غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہے متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ دباؤ یا الزامات کی کوئی بھی کوشش امارات کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

    گذشتہ روز ایران کی مسلح افواج نے متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اماراتی وزارتِ دفاع کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا تھا ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی افواج نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات پر کوئی حملہ نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا، ایران اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم اگر امارات کی سرزمین سے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امارات پر الزام عائد کیا کہ اس کی سرزمین خطے میں بیرونی فوجی موجودگی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے۔

  • ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران نے پیر کو متحدہ عرب امارات پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور یہ واقعات دراصل امریکا کی ’فوجی مہم جوئی‘ کا نتیجہ ہیں ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب بھی ایران نے کوئی کارروائی کی ہے، اس کی ذمہ داری کھل کر قبول کی ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    تاہم، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ ایرانی فوجی عہدیدار نے وارننگ دی ہے کہ اگر امارات نے کوئی ’غیر دانشمندانہ‘ قدم اٹھایا تو اس کے تمام مفادات ایران کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ملک پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فجیرہ کی ریا ست میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی اور تین بھارتی شہری زخمی ہو گئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے فائر کیے گئے 12 بیلسٹک میزائلوں، 3 کروز میزائلوں اور 4 ڈرونز کو فضا میں ہی روکا۔

    یہ حملے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی پہلی بڑی خلاف ورزی ہیں یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اپنی نگرانی میں نکالنے کا اعلان کیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود میں ایسی کسی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا۔

  • ‘میں کبھی دبئی  نہیں جاؤں گی ‘یہ بہت تاریک جگہ ہے،یوکرینی ماڈل ماریہ کووالچک

    ‘میں کبھی دبئی نہیں جاؤں گی ‘یہ بہت تاریک جگہ ہے،یوکرینی ماڈل ماریہ کووالچک

    ماریہ کوولچک کہتی ہیں، ‘میں کبھی دبئی واپس نہیں جاؤں گی ‘یہ بہت تاریک جگہ ہے دبئی کی چمکتی ہوئی فلک بوس عمارتوں کے پیچھے، عیش و عشرت اور زیادتی پر مبنی ایک اثر انگیز مرکز ایک اور حقیقت ہے۔

    ماریہ کووالچک کے اس بیان کی خبریں ماضی میں سامنے آئی تھیں، جس میں انہوں نے دبئی کے بارے میں اپنے منفی تجربات اور تاثرات کا ذکر کیا تھا۔
    ان کے مطابق، دبئی ایک "تاریک جگہ” ہے، جس سے ان کی مراد وہاں کی چمک دمک کے پیچھے چھپی ہوئی ممکنہ مشکلات، پابندیاں یا ذاتی ناخوشگوار تجربات ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات اکثر دبئی کے بارے میں ہونے والی مباحثوں میں سامنے آتے ہیں جہاں ایک طرف اس کی ترقی اور رہائش کا ذکر ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف وہاں کی سخت قوانین اور ذاتی آزادیوں پر بحث بھی کی جاتی ہے۔

    مشرق وسطیٰ کی جنت کی کیوریٹڈ امیج طویل عرصے سے جبر اور بدسلوکی کے الزامات سے متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر متشدد، توہین آمیز کارروائیوں کے بارے میں جن میں امیر تارکین وطن اور شیخ شامل ہیں۔

    ماریہ، جو کہ یوکرائن کی ایک سابق اونلی فینز ماڈل ہیں، کہتی ہیں کہ انھوں نے خود ہی اس کا تجربہ کیا گزشتہ مارچ میں، 21 سالہ نوجوان ماڈل دبئی میں ایک سڑک کے کنارے بے ہوش پائی گئیں جس میں وہ شدید زخمی تھیں جس پر اماراتی حکام نے ایک ‘محفوظ پناہ گاہ’ کی اپنی شبیہہ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ایک تعمیراتی جگہ سے گر گئی تھی ماریہ اس اکاؤنٹ سے اختلاف کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس پر حملہ کیا گیا تھا۔

    اب ناروے میں رہنے والی ایک میک اپ آرٹسٹ، سابقہ ​​ماڈل نے ڈیلی میل سے گفتگو میں کہا کہ وہ اپنے ایک چینل کے لیے فوٹو شوٹ کے لیے دبئی پہنچی تھی، اس کے لیے ایک مختصر سفر کے سوا کچھ نہیں تھا۔تاہم اس نے گھر جانے کی اپنی پرواز چھوٹ دی اور اس نے ایک ایسے شخص سے مدد قبول کی جس سے وہ گزشتہ روز ملی تھی۔

    ‘اس نے مدد کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ میں اس کے کمرے میں رہ سکتی ہوں جب تک کہ مجھے گھر جانے کا طریقہ معلوم ہو لہذا میں ہوٹل کے اس کمرے میں دو مردوں کے ساتھ پہنچی ایک روسی، ایک بیلاروسی اور دو لڑکیاں’پہلے سب کچھ نسبتا معمول تھا. ہم اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آگے کیا کرنا ہے، میں گھر کیسے واپس جا سکتی ہوں۔’

    لیکن صورتحال اس وقت تیزی سے بگڑ گئی جب اس گروپ نے شراب اور منشیات کا ذخیرہ تیار کیا جس کے نتیجے میں دبئی میں آسانی سے عمر قید کی سزا ہو سکتی تھی ‘کچھ دیر بعد، انہوں نے جشن شروع کر دیا. شراب اور غیر قانونی مادے تھے اور انہوں نے مجھے شامل کرنے کی کوشش کی میں شرکت نہیں کرنا چاہتی تھایاور ان کا رویہ تیزی سے جارحانہ ہو گیا۔ یہ ظاہر تھا کہ وہ مجھے زیر اثر چاہتے ہیں لہذا میں ان کے ساتھ جنسی چیزیں کروں گا۔

    ‘انہوں نے میرے ساتھ ایک شے کی طرح برتاؤ کیا۔ کہنے لگے تم ہماری ہو، ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں ماریہ کا کہنا ہے کہ مبینہ مجرم اس کا پاسپورٹ اور فون سمیت اس کا ذاتی سامان لے گئے ‘ایک لڑکی نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا۔ پھر اسی لڑکی نے میرے سارے کپڑے چرا لیے اور میرا لباس پہن کر چلی گئی۔

    ماڈٌ نے بتایا کہ انہوں نے مجھے شراب پینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ جب بھی میں نے انکار کیا وہ زیادہ جارحانہ ہو گئے میں نے فرار ہونے کی کوشش کی، ہوٹل کے کمرے کی بالکونی سے مدد کے لیے چیختے ہوئے، اس سے پہلے کہ مرد اسے پیچھے گھسیٹ کر اندر لے جائیں جب مرد باہر تھے، میں نے دوسری بار فرار ہونے کی کوشش کی، صرف روکا گیا اور پکڑا گیا۔

    ’’اندر ایک لڑکی مجھے دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی میں بھاگی،وہ چلائی کہ میں بچ گئی ہوں۔ اس وقت، میں اپنی زندگی کے لیے گھبراہٹ اور خوفزدہ تھی ‘میں صرف وہ جگہ چھوڑنا چاہتی تھی باہر رات اور اندھیرا تھا – سب کچھ دھندلا تھا۔ میں ابھی بھاگی تھی’اگلی چیز جو مجھے یاد ہے وہ میرے سر پر ایک تیز دھچکا ہے۔ پھر میں نے مختصراً ایک ٹیکسی ڈرائیور کو دیکھا جسے میں نے بے ہوش ہونے سے پہلے مدد کے لیے پکارا۔ اس کے بعد، میں ہسپتال میں اٹھی.’

    ماریہ اس آزمائش کو بیان کرتی ہے جو اس کے بعد اس کی زندگی کے بدترین لمحات میں سے ایک ہے، جسمانی اور جذباتی طور پر، جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے کہ دبئی کے حکام اس کی کہانی کو بدنام کرنے کے لیے اپنی طاقت میں سب کچھ کرتے نظر آئے اس کے بعد اسے ایمرجنسی روم لے جایا گیا جیسا کہ اپریل 2025 میں ڈیلی میل کی طرف سے دیکھی گئی ایک میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے، اسے تباہ کن زخموں کی فہرست کا سامنا کرنا پڑا، جس میں اس کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں ایک ٹوٹا ہوا ورٹیبرا اور اس کے اعضاء میں متعدد فریکچر شامل ہیں۔

    اس کی بائیں ٹانگ بری طرح سے ٹوٹی ہوئی تھی، ٹبیا اور فبولا کے ساتھ ٹوٹا ہوا تھا، جبکہ دونوں کالر کی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اس کے دائیں جانب کی چوٹیں خاص طور پر شدید تھیں، جس میں اس کی کھوپڑی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے دائیں پاؤں اور ٹخنے کو فریکچر کی ایک پیچیدہ سیریز میں کچل دیا گیا جس سے کئی ہڈیاں متاثر ہوئیں، جب کہ اس کے بائیں ٹخنے میں اتنا شدید فریکچر رہ گیا تھا کہ ہڈی جلد میں چھید گئی جب وہ آٹھ دن کے کوما سے بیدار ہوئی تو وہ کہتی ہیں کہ اس کے ہاتھ بستر سے بندھے ہوئے تھے۔

    ‘ماریہ نے بتایا کہ میں بیدار ہوئی بستر پر پڑی، اور میرا دماغ فوراً خوفناک خیالات میں ڈوب گیا۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ‘مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون ہوں، کہاں ہوں۔ میں کافی دیر تک اپنا نام بھی نہیں بتا سکی جب میں ویڈیو کال کے ذریعے اسے دیکھنے میں کامیاب ہوئی تو میں نے اپنی ماں کو پہچانا بھی نہیں’حقیقت سے بالکل بھی رابطہ نہیں تھا۔ میں سو نہیں سکی، میں سارا دن اور ساری رات جاگتی رہی بستر سے بندھی ہوئی، آنکھیں کھلی کی کھلی رہی۔’

    اس وقت کے دوران، وہ کہتی ہیں کہ ہسپتال کے عملے نے اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش میں اسے جھوٹی شناخت کے تحت ریکارڈ کیا کہ وہ وہاں موجود تھی حالانکہ ان کے پاس میرا پاسپورٹ تھا، لیکن انھوں نے مجھے جھوٹی شناخت کے تحت چیک ان کیا، میں وہاں ایک مختلف نام سے پڑا تھا، مجھے کسی قسم کی آنتوں میں انفیکشن یا کسی اور چیز کی تشخیص ہوئی تھی۔’

    ‘میری ماں نے کافی دیر تک مجھے ڈھونڈا لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ میں کہاں ہوں۔ آخر کار ایک دوست کی بیوی، جو دبئی میں رہتی ہے، مل گئی اور مجھے ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی۔ انہوں نے میری انگلی پر ٹیٹو سے مجھے پہچانا دبئی پولیس نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ اکیلے ایک محدود تعمیراتی جگہ میں داخل ہونے اور اونچائی سے گرنے کے بعد جان لیوا چوٹیں برداشت کر چکی ہیں۔

    تاہم ماریہ اس نتیجے کو مسترد کرتی ہے اور حکام کی جانب سے اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو ‘خوفناک’ قرار دیتی ہے ‘وہ بہت جارحانہ تھے، رات کو مجھ سے پوچھ گچھ کرنے آئے تھے۔ انہوں نے میرا پاسپورٹ لے لیا، میرا فون لے لیا، اور اسے غیر مسدود کرنے کی کوشش کی ‘آج تک انہوں نے مجھے میرا فون واپس نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے صرف اس صورت میں واپس دیں گے جب میں اسے لینے کے لیے دبئی واپس آؤں، جو ظاہر ہے کہ میں نہیں کروں گی وہ کہتی ہیں کہ انہیں چار ماہ کے لیے ملک چھوڑنے سے روکا گیا تھا جب کہ تحقیقات جاری تھیں-

    اگرچہ چاروں مشتبہ افراد کو تھوڑی دیر کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، لیکن انھیں ایک دن کے اندر رہا کر دیا گیا،ماریہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘جب تفتیش جاری تھی، ہمیں کہا گیا، "ہم تمام کیمروں کو دیکھیں گے” وغیرہ، لیکن اس میں تاخیر ہوتی رہی جب تک کہ انہوں نے یہ دعویٰ نہ کر دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو مٹا دیا گیا ہے۔

    ‘کیمروں سے بھرے ملک میں جہاں سی سی ٹی وی گھنٹوں میں دستیاب ہونا چاہیے، کسی نہ کسی طرح میرے معاملے میں ہوٹل کے سی سی ٹی وی نے "کام نہیں کیا،” اور باہر کے کیمرے کی فوٹیج مٹا دی گئی تھی،’آج تک، وہ چار لوگ جنہوں نے میرے ساتھ یہ کیا وہ ابھی تک آزاد ہیں اور انہیں کسی نتیجے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ حکام نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے صرف کیس بند کر دیا۔’

  • یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    روس نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس متحد رہے گا-

    روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یو اے ای کے اخراج کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کسی پرائس وار کا امکان نہیں کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں پہلے ہی سپلائی کی کمی موجود ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں کی جنگ کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی تیل کی قلت موجود ہے اس وقت صنعت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ رہا جبکہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور لاجسٹک رکاوٹیں ہیں، روس 2016 میں قائم ہونے والے اوپیک پلس اتحاد کا حصہ بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے-

  • متحدہ عرب امارات کی امریکا کو ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنانے کی دھمکی

    متحدہ عرب امارات کی امریکا کو ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنانے کی دھمکی

    متحدہ عرب امارات نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اسے مالیاتی تحفظ کے لیے ایک حفاظتی نظام فراہم کیا جائے۔

    یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے نہ صرف اس کے زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ وہ سرمایہ کار بھی خوفزدہ ہو سکتے ہیں جو اسے ایک مستحکم اور محفوظ سرمایہ کاری مرکز سمجھتے تھے۔

    اماراتی حکام نے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں زور دیا کہ اگرچہ یو اے ای اب تک اس تنازع کے سب سے بڑے معاشی اثرات سے بچا ہوا ہے لیکن مستقبل میں اسے کسی معاشی سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاامہ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو اور ٹریژری حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کرنسی سوئپ لائن کا تصور پیش کیا۔

    اماراتی حکام نے امریکی فریق کو بتایا کہ اگر ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو وہ تیل کی فروخت اور دیگر مالی لین دین کے لیے چینی یوآن یا دیگر کرنسیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے اماراتی حکام نے امریکا کو آگاہ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات ابھی ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

    امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کے کرنسی سوئپ معاہدے عام طور پر فیڈرل ریزرو کے ذریعے کیے جاتے ہیں، تاہم فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے لیے یو اے ای کے ساتھ ایسا معاہدہ منظور کرنا ممکنہ طور پر مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ سہولت عموماً صرف ان ممالک کو دی جاتی ہے جنہیں امریکی معیشت کے لیے خطرہ بننے والے مالیاتی بحران کا سامنا ہو۔

    فیڈرل ریزرو کے پاس برطانیہ، کینیڈا، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل کرنسی سوئپ معاہدے موجود ہیں، جبکہ شدید مالیاتی بحران جیسے 2020 کی کووڈ-19 وبا کے دوران اس نے میکسیکو، جنوبی کوریا اور برازیل سمیت نو دیگر مرکزی بینکوں کو بھی یہ سہولت فراہم کی تھی، تاہم یو اے ای کے امریکا کے ساتھ مالیاتی روابط ان روایتی شراکت داروں کے مقابلے میں نسبتاً کمزور سمجھے جاتے ہیں۔

    یو اے ای کی کرنسی درہم امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک (پیگڈ) ہے اور ملک کے پاس تقریباً 270 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث سرمایہ کے انخلاء، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق یو اے ای کے مضبوط مالیاتی اور بیرونی ذخائر اسے اس بحران کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، تاہم طویل جنگ کی صورت میں تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان بڑے خطرات کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں یہ جنگ یو اے ای کو امریکا کے مزید قریب لے آئی ہے، جبکہ ماضی میں ایران کے ساتھ سفارتی اور مالیاتی روابط قائم کرنے کی کوششوں سے دور کر رہی ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

    امریکی ٹریژری حکام نے حال ہی میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں کے موقع پر خلیجی ممالک کو انفراسٹرکچر اور بحالی کے منصوبوں پر بات چیت کی دعوت دی، جسے ضرورت پڑنے پر امریکی حمایت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں میں شریک وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی فوری معاشی بحالی کے امکانات کم ہیں۔

  • پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کی تصدیق کردی ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو 23 اپریل کو یو اے ای کو مزید ڈیڑھ ڈالر ادا کرنے ہیں، یو اے ای کو مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا، بیرونی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ رول اوور کردیے جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی میں باقاعدہ معاہدہ طے پاگیا اور دستخط بھی ہوگئے ۔

    واشنگٹن میں منعقد تقریب کے دوران سعودی فنڈ کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے،وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے-

    یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی،جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان طے پایا جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔