Baaghi TV

Tag: یو اے ای

  • پاکستانی نژادکھلاڑی کوٹیم سے نکالنے پر اماراتی کرکٹ بورڈ کا وضاحتی بیان جاری

    پاکستانی نژادکھلاڑی کوٹیم سے نکالنے پر اماراتی کرکٹ بورڈ کا وضاحتی بیان جاری

    پاکستانی نژادکھلاڑی کوٹیم سے نکالنے پر اماراتی کرکٹ بورڈ نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے-

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کرکٹ ٹیم کے بیٹر محمد زوہیب کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر وطن واپس بھیج دیا گیا ہےایمریٹس کرکٹ بورڈ نے جاری بیان میں تصدیق کی کہ کھلاڑی کو ڈسپلنری وجوہات کی بنیاد پر اسکواڈ سے الگ کیا گیا ہے جبکہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    یو اے ای اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز آج نیوزی لینڈ کے خلاف چنئی میں کرے گی جو 2022 کے بعد ٹیم کا پہلا ورلڈ کپ میچ ہوگا زوہیب کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے بڑا نقصان سمجھی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ وارم اپ میچ میں یو اے ای ٹیم اٹلی کے خلاف صرف 81 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی، جس سے بیٹنگ لائن پر پہلے ہی دباؤ موجود تھا۔

    محمد زوہیب نے مئی 2025 میں یو اے ای کے لیے ڈیبیو کیا تھا اور اب تک 16 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں 303 رنز بنا چکے ہیں، جن کی اوسط 20.20 اور اسٹرائیک ریٹ 103.76 رہا ہے ٹیم مینجمنٹ پہلے ہی 21 سالہ آریانش شرما کو کپتان محمد وسیم کے ساتھ اوپننگ کے لیے فائنل کر چکی ہے۔

    میچ سے قبل یو اے ای کپتان محمد وسیم نے ٹیم اتحاد اور تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں بھارتی اور پاکستانی نژاد کھلاڑی شامل ہونے کے باوجود سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور صرف یو اے ای کے لیے کھیل رہے ہیں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف 2023 میں حاصل ہونے والی کامیابی کو ٹیم کے اعتماد کے لیے اہم قرار دیا۔

  • صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

    صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

    ابوظہبی :صدر مملکت آصف علی زرداری نے صدر یو اے ای شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور خاتون اول آصفہ بھٹو بھی موجود تھیں،پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر گفتگو ہوئی ،تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    ملاقات میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دینے کی نمایاں صلاحیت کو اجاگر کیا گیا، صدر مملکت نے صدریو اے ای شیخ محمد بن زید النہیان کے حالیہ دورہ پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا دونوں فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا،دونوں رہنماؤں نے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    بھارت:ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کا طیارہ تباہ

    قصور کی رہائشی بیوہ کے لاہور میں واقع پلاٹ پر قبضہ کی کوشش،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

  • صدر مملکت 4 روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچ گئے

    صدر مملکت 4 روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچ گئے

    ابوظہبی: صدر مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچے جہاں شیخ زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے وزیر انصاف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا آصف علی زرداری کے ہمراہ خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ 29 جنوری تک جاری رہے گا۔

    دورے کے دوران صدر مملکت متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ جن میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گاملاقاتوں میں تجارت، اقتصادی شراکت داری، دفاع، سلامتی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔

  • ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے  کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    ہماری سرزمین ایران پر حملے کیلیے کسی کو بھی استعمال کرنے نہیں دیں گے،متحدہ عرب امارات

    مریکا کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے لیے کسی خلیجی ملک کی سرزمین کے استعمال کے امکان پر متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی،موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے، جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری بیڑہ خلیج عمان کے قریب پہنچ گیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا،قبل ازیں امریکی صدر نے خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ہماری نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں، بس روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔

  • غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت:بحرین نے بھی امریکی دعوت قبول کر لی

    غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت:بحرین نے بھی امریکی دعوت قبول کر لی

    متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی۔

    بحرین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے دی گئی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کو شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے قبول کر لیا،مملکتِ بحرین کا یہ فیصلہ غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے بحرین کو امید ہے کہ بورڈ آف پیس اپنے اہداف حاصل کرے گا جن میں باہمی تعاون کا فروغ، خطے میں استحکام کی حمایت اور سب کے لیے ترقی و خوشحالی کا حصول شامل ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی جبکہ صدر ٹرمپ نے اس بورڈ میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    امریکا مختلف عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں اور رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی جبکہ بورڈ میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس بھی مقرر کی گئی ہے۔

  • یو اے ای صدر کا آئندہ ہفتے بھارت کے دورے کا امکان،بھارتی میڈیا

    یو اے ای صدر کا آئندہ ہفتے بھارت کے دورے کا امکان،بھارتی میڈیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر اگلے ہفتے بھارت کا اعلیٰ سطحی دورہ کر سکتے ہیں-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دورے میں دفاعی، اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر دفاعی تعاون میں.

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہوگا، جس میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ فوجی سرگرمیاں شامل ہیں، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی آرمی چیف کے یو اے ای کے دورے سے ظاہر ہوا تھا.

    قبل ازیں رواں ماہ کے شروع میں بھارتی آرمی چیف نےامارات کا سرکاری دورہ کیا تھا جس میں دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی، دورہ دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اجاگر کرتا ہے، جس میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں اور مشترکہ تربیتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

    بھارت کے آرمی چیف جنرل اپیندر دھیویڈی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دو روزہ سرکاری دورے کے لیے روانہ ہوئے تھے، جو دوطرفہ فوجی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ دورہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔

  • پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے باضابطہ معاہدے پر اتفاق

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے باضابطہ معاہدے پر اتفاق

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی قیادت میں متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی-

    ملاقات میں پاک۔یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو مزید آسان بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان “پری امیگریشن کلیئرنس” کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا گیا اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان ہی میں مکمل کی جائے گی۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد مسافروں کو متحدہ عرب امارات پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ ڈومیسٹک مسافروں کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے مجموعی تجربے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ یو اے ای وفد نے اس منصوبے کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے، جبکہ کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو مرحلہ وار مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی۔

    یو اے ای وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔

  • سال 2026 ے آغاز کے ساتھ ہی یو اے ای میں کئی پالیسیوں میں تبدیلی

    سال 2026 ے آغاز کے ساتھ ہی یو اے ای میں کئی پالیسیوں میں تبدیلی

    سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات میں کئی پالیسیوں میں تبدیلی کر دی گئی۔

    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق امارات میں یکم جنوری سے آٹھ اہم قوانین اور ضابطے نافذ العمل کردیے گئے ہیں، ان کا تعلق تعلیم، عبادات، صحت، ماحول، سفری سہولیات، شہری نظم و ضبط اور ڈیجیٹل معیشت سے ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں جمعہ کو اسکول جلد بند ہوں گے، تعلیمی اوقات کار کم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ اور عملہ بروقت نماز ادا کر سکے، یہ فیصلہ تعلیمی تقاضوں اور مذہبی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے،جمعہ کی نماز کے اوقات پونے ایک بجے کر دیے گئے ہیں اور یو اے ای میں جمعہ کی نماز اور خطبے کے اوقات کو پورے ملک میں یکساں کر دیا گیا ہےاور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ خطبہ سننے کے لیے بروقت مساجد پہنچیں۔

    ہونڈا سوک کے نئے ماڈلز کی تعارفی قیمتوں کا اعلان ہو گیا

    یکم جنوری سے شوگر والے مشروبات پر فلیٹ 50 فیصد ٹیکس ختم کرکے شوگر کی مقدار کے مطابق ٹیکس عائد کیا جائے گا اس کے علاوہ دبئی ائیر پورٹ پر ریڈ کارپٹ سروس شروع کر دی گئی ہے، جو پہلے بزنس کلاس روانگی تک محدود تھی، اب ٹرمینل 3 پر آنے والے مسافروں کے لیے بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ مسافر اسمارٹ گیٹس سے تیزی سے امیگریشن کا عمل مکمل کر سکیں گے۔

    اس کے علاوہ 2026 سے ملک بھر میں سنگل یوز پلاسٹک اشیا جیسے کپ، پلیٹیں، کٹلری، اسٹرا اور اسٹائروفوم فوڈ کنٹینرز کی تیاری، درآمد اور فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے، دبئی میں پلاسٹک پر پابندی کے آخری مرحلے کے تحت مزید اشیا کو محدود کر دیا گیا ہے، ڈسکوری گارڈنز میں پارکونک کے تحت پیڈ پارکنگ متعارف کرائی جا رہی ہے، ہر رہائشی یونٹ کو ایک مفت پارکنگ پرمٹ جاری کیا جائے گا، سوشل میڈیا پر اشتہاری مواد سے آمدن حاصل کرنے والے کونٹینٹ کریئیٹرز اور انفلوئنسرز کو 31 جنوری 2026 تک یو اے ای میڈیا کو نسل سے ایڈورٹائزر لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔

    پاکستان ریلویز کے فریٹ سیکٹر کو ریکارڈ آمدن، چھ ماہ میں 17 ارب روپے حاصل کر لیے

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ