Baaghi TV

Tag: baaghi

  • عالمی بینک کے ساتھ معاہدہ،وزارتِ اقتصادی امور نے اعلامیہ جاری کر دیا

    عالمی بینک کے ساتھ معاہدہ،وزارتِ اقتصادی امور نے اعلامیہ جاری کر دیا

    عالمی بینک کے ساتھ معاہدہ/ وزارتِ اقتصادی امور کا اعلامیہ

    پاکستان کا عالمی بینک کیساتھ 304 ملین ڈالرز پنجاب میں ریسورس اور ڈیجٹل کی ترقی و بہتری کیلئے معاہدہ،معاہدے پر دستخط کی تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی،تقریب میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور خسرو بختیار کی شرکت

    خسرو بختیار نے اپنے بیان میں کہا کہپروگرام کے تحت پنجاب میں فسکل رسک منیجمنٹ، ریونیو کی بہتری اور اخراجات کی منیجمنٹ میں مدد ملے گی
    ہماری حکومت کا مقصد فسکل منیجمنٹ کو بہتر بنانا ہے،عالمی بینک کے تعاون کیلئے شکرگزار ہیں،

    کنٹری ڈرایکٹر عالمی بینک نے اس موقع پر کہا کہ عالمی بینک پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے تعاون جاری رکھے گا،

  • گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” نہ کرسکی

    گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” نہ کرسکی

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی سردار تنویر الیاس خان کا بیان
    گیارہ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک” جلسی” کرسکی
    لاہور میں پی ڈی ایم ملک بھر سے صرف چند ہزار لوگ اکٹھے کرپائے،یہ لوگ 35 سالہ دورِ اقتدار میں ایک ایسا اسپتال نہ بنا سکےجہاں اپنا علاج کروا سکیں،اشرافیہ کو طعنہ دینے والے خود باہر علاج کے لیے جاتے ہیں،یہ ہمیشہ معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے رہے ہیں،کرونا کے مریضوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،عوام کے سامنے ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے،عوام اپوزیشن کے کسی جھانسے میں نہیں آئیں گے،

  • خافظ طاہر اشرفی کی گورنر پنجاب سے ملاقات،اے پی ایس کے شہداء کو خراج عقیدت

    خافظ طاہر اشرفی کی گورنر پنجاب سے ملاقات،اے پی ایس کے شہداء کو خراج عقیدت

    گورنر پنجاب سے وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی کی ملاقات
    چوہدری محمد سرور اور حافظ طاہراشرفی کا اے پی ایس کے شہداء کو خراج عقیدت،دہشت گردی کے مکمل خاتمے کےلیےملک میں اتحاد و یکجہتی پر زور دیا

    چوہدری محمد سرور نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم ایک پیج پر ہے.
    پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین افواج اور جذبہ ایمانی موجود ہے. دہشتگردی کے خلاف 22 کروڑ پاکستانی افواج پاکستان سمیت دیگرسیکورٹی فورسز کے ساتھ ہیں. نریندر مودی امن کا قاتل اور دنیا کا سب سے بڑا دہشت کرد ہے. پاکستان میں امن استحکام بھارت سے ہضم نہیں ہورہا. دہشت گردی کے پاکستان جیسی قربانیوں کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں ملتی. سانحہ اے پی ایس کے شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جائیگا. پوری قوم شہداء کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے.

    حافظ طاہراشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ امن دشمنوں کے عزائم کو کس صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے. سانحہ اے پی ایس کے شہداء قوم کے ہیرو زہیں. پاکستان کی امن کی خواہش کو دشمن ہماری کمزور نہ سمجھے. بھارت کی وجہ سے خطے میں امن کو خطرات لاحق ہیں.

  • وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنا لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو مہنگا پڑگیا

    وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنا لیڈی ہیلتھ وزیٹر کو مہنگا پڑگیا

    وزیراعظم پورٹل سے رجوع کرنے پر لیڈی ہلیتھ وزیٹر کی سزا۔لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فیصل زمان کا نوٹس ۔ عدالت نے پرنسپل نرسنگ سکول 28 جنوری کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ۔
    عدالت نے کرونا کی بنا پر درخواست گزار کی روکی گئی 5 ماہ کی تنخواہیں فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا ۔

    مسٹر جسٹس فیصل زمان نے ضائمہ کومل کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار کی طرف سے زبیر خالد ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔وکیل درخواستگزار نے کہا کہ درخواستگزار کو دوران ڈیوٹی کرونا ہو گیا ۔درخواستگزار ائسولئشن میں چلی گئی ۔پرنسپل نرسنگ سکول نے درخواست گزار کی چھٹی نامنظور کرتے ہوئے ڈیوٹی پر انے کے احکامات جاری کیے ۔درخواستگزار نے وزیراعظم پورٹل پر کمپلینٹ کر دی ۔

    پرنسپل نرسنگ سکول نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے درخواستگزار کو ریگولر ملازم سے کنٹریکٹ پر کر دیا ۔درخواستگزار کی جولائی سے تنخواہیں روک لیں ۔تم نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کرنے کی جرات کیسے کی۔پرنسپل کی درخواست گزار کو دھمکی ۔عدالت اسکو کنٹریکٹ پر کرنے کا حکم کالعدم قرار دے استدعا ۔عدالت اسکو تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دے استدعا

  • بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔عثمان بزدار

    بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔عثمان بزدار

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی برسی پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ 16دسمبر کا دن آرمی پبلک سکول کے شہداء کی عظیم قربانیوں کی یاد ہمیشہ تازہ کرتارہے گا۔قوم آرمی پبلک سکول کے بچوں اوراساتذہ کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔بچو ں نے اپنے قیمتی لہو سے محفوظ اورپرامن پاکستان کی تاریخ لکھی۔

    عثمان بزدار نے مزید کہا کہ محفوظ اور پر امن پاکستان کی بنیادوں میں بچوں کا خون شامل ہے
    ننھے پھولوں نے عظیم مقصد کیلئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شہداء کی عظیم قربانیوں کے طفیل دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم کا مثالی اتحاد اوراتفاق سامنے آیا۔شہید بچوں کی عظیم قربانیوں نے قوم کو نیا حوصلہ اورعزم دیا۔سفاک دشمن کو شکست ہوئی اور پاکستان امن کا گہوارہ بنا۔شہید بچے اور اساتذہ پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
    ہم شہدائے اے پی ایس کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

    عثمان بزدار نے مزید کہا کہعظیم شہداء کے خون کا ایک ایک قطرہ اس مٹی پر قر ض ہے۔
    قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان میں دہشت گردی اورانتہا پسندی کی قعطاً گنجائش نہیں۔
    برداشت اورمیانہ روی پر مبنی معاشرے کے قیام کاعظیم مقصد ضرور حاصل کریں گے۔
    پوری قوم آج آرمی پبلک سکول پشاورکے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کررہی ہے۔ہمیں آج اسی اتحاد کو برقرار رکھنے کے عزم کی تجدید کرنا ہے جس کی خاطر معصوم بچوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

  • 75 لاکھ کا سٹریٹ لائٹس ٹھیکہ منسوخ

    75 لاکھ کا سٹریٹ لائٹس ٹھیکہ منسوخ

    قصور
    الہ آباد میں75 لاکھ روپے کا سٹریٹ لائٹس کا ٹھیکہ منسوخ کر کے PCC کروانے کے ٹینڈرز منظور بیس ٹھیکیداروں نے اوپن ٹینڈر میں حصہ لیا لیکن تین ٹھیکیداروں نے بالترتیب 26, 23 اور 21 فیصد نقصان پر ٹینڈر اپنے نام کروا لئے مقامی شہریوں کا چیف آفیسر میونسپل کمیٹی کو خراج تحسین
    تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی الہ آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاستدانوں کی چٹوں پر ٹھیکے دینے کی بجائے اوپن ٹینڈر کروائے گئے 75 لاکھ کا شہر میں سٹریٹ لائٹس کا منصوبہ کینسل کر کے PCC کے نئے ٹینڈرز کروائے گئے جس میں بیس ٹھیکیداروں نے حصہ لیا لیکن تین ٹھیکیداروں محمد بخش بھٹی، محمد رفیق گورنمنٹ کنٹریکٹر اور جہانیاں بلڈرز نے سرکاری ریٹ سے بالترتیب 26.23 اور 21 فیصد نقصان پر ٹینڈرز اپنے نام کروا لئے مقامی شہریوں نے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سہیل گوندل اور سب انجینئر شہباز احمد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری ٹھیکے سیاستدانوں کی چٹوں پر دینے کی بجائے اوپن ٹینڈر کروائے اور سرکاری خزانہ کی تقریباً بیس لاکھ روپے کی بچت کی

  • آر پی او شیخوپورہ کی قصور پولیس لائن میں بریفننگ

    آر پی او شیخوپورہ کی قصور پولیس لائن میں بریفننگ

    قصور
    شہریوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت ،کرائم کا خاتمہ اور عوامی خدمت پولیس کی پہچان ہونی چاہیے ۔ آر پی اوشیخوپورہ ریجن کا قصور میں خطاب
    تفصیلات کے مطابق آر پی او شیخوپورہ ریجن ڈاکٹر انعام نے قصور میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت ،کرائم کا خاتمہ ،عوام کےساتھ خوش اخلاقی اور عوامی خدمت پولیس کی پہچان ہونی چاہیے کیونکہ اللہ کو راضی کرنا ہے تو مخلوق خدا کی خدمت کرو ، مظلوموں کی داد رسی کرکے دعائیں لیں جو بہت بڑی عبادت ہے، صرف پیسے لینے والا اہلکار کرپٹ نہیں بلکہ مظلوم کو انصاف نہ فراہم کرنے والا بھی کرپٹ ہے کیونکہ ہم اسی کام کی تنخواہ لیتے ہیں،اس لیے ہمیں مظلوموں کا ساتھ دینا ہو گا اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بہادری اور دلیری سے لڑتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا
    پولیس لائن قصور میں منعقدہ پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پرڈی پی اوقصورعمران کشور، ایس پی انویسٹی گیشن علی بن طارق،ایڈیشنل ایس پی اویس ملک، ڈی ایس پی محمد یعقوب اعوان ،ڈی ایس پی صدراشفاق حسین کاظمی،ڈی ایس پی چونیاںخالد اسلم ،ڈی ایس پی پتوکی محمد اکرام خاں،ایس ایچ اوز ، ایلیٹ فورس کے جوان ،فرنٹ ڈیسک سٹاف ،ٹریفک سٹاف اوردیگر پولیس افسران و ملازمان بھی موجود تھے ۔پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے آر پی اوشیخوپورہ ریجن نے کہا کہ کرپٹ پولیس آفیسر اورجو جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے ہیں ان کو ہمیں اپنی صفوں سے باہر نکا ل دینا ہو گا کیونگہ یہ محکمہ پولیس کی بدنامی کا با عث ہیں ، پولیس کی وردی درحقیقت اللہ کی طرف سے دی گئی امانت ہے اور اس امانت کے متعلق جو بھی ذمہ داریاں ہیں وہ تمام ذمہ داری پوری کرنا ہوں گی تاکہ صحیح معنوں میں لوگوں کی خدمت کر سکیں

  • فلور ملز کو گندم کی ترسیل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ سیکرٹری خوراک پنجاب

    فلور ملز کو گندم کی ترسیل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ سیکرٹری خوراک پنجاب

    فلور ملز کو گندم کی ترسیل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ سیکرٹری خوراک پنجاب

    سیکرٹری خوراک پنجاب شہریار سلطان نے کہا ہے کہ گندم اور آٹے کی اوپن مارکیٹ میں دستیابی اور سہولت بازاروں میں سستے داموں فراہمی جاری رکھنے کیلئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں گندم کی فلور ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر ترسیل یقینی بنائی جا رہی ہے جبکہ حکومت اور فلور ملز کے پاس گندم کا وافر سٹاک موجود ہے۔ ایک محکمانہ جائزہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال گندم کی سرکاری سطح پر خرید کا نیا طریقہ کار بھی وضع ہو رہا ہے۔ مارچ اپریل تک صوبے کی ضرورت کے مطابق گندم سٹاک کرنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ شہریار سلطان نے کہا کہ گندم کوٹہ میں اضافے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 8 رکنی نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کوٹہ کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر خوراک کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی میں محکمہ خوراک ، محکمہ خزانہ اور محکمہ زراعت سے افسران شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گندم ترسیل کے عمل کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • پاک بحریہ نے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا

    پاک بحریہ نے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا

    پاک بحریہ کا جناح نیول بیس (پی این ایس درمان جاہ) اورماڑ ہ میں سماعتی مسائل کی اسکریننگ کے لیئے مفت میڈیکل کیمپ منعقد

    کراچی، ساحلی علاقوں میں آباد افراد کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے عزم خاص طور پر کرونا وائرس وبا کی صورتحال کے تناظر میں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے پاک بحریہ کی جانب سےروٹری انٹر نیشنل اور ساحل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے اشتراک سے سماعتی مسائل کی مفت اسکریننگ کے لیئے جناح نیول بیس (پی این ایس درمان جاہ) اورماڑہ میں میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا۔

    ای این ٹی اسپیشلسٹس اورماہرینِ سماعت کی ٹیم نے کیمپ میں دستیاب جدید تشخیصی آلات سے مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں مفت مشاورت فراہم کی۔ کیمپ میں کئی مریضوں کے لئے مفت سماعتی آلات فراہم کیے گئے اور ایک کثیر تعدادمیں مریض کیمپ سے مستفید ہوئے۔

    میڈیکل کیمپ میں آنے والے مریضوں کو کرونا وائرس وبا کے حوالے سے احتیاطی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مریضوں کو بیماریوں کی روک تھام اور رہائشی علاقوں کی صفائی سے متعلق آگہی بھی دی گئی۔

    پاک بحریہ ساحلی پٹی پر مقیم افراد کومستقل بنیادوں پر معیاری طبی علاج فراہم کرتی ہے۔ حالیہ میڈیکل کیمپ بھی پاک بحریہ کےاسی عزم کا ایک اور عملی مظاہرہ ہے۔

  • سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

    سیاست کا المیہ نظام نہیں مفاد پرستی ہے ہمارے نزدیک سیاست کو مفاد پرستوں کے قبضے سے آزادی دلا کر وولینٹئرز سیاسی لیڈر شپ کے حوالے کرنے کا عمل اہم ترین مشن کا درجہ رکھتا ہے۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ نظام اچھا ہو یا برا اسے چلانا بہرحال انسانوں نے ہی ہوتا ہے سیاست اور اختیار جن ہاتھوں میں ہو ان کا کردار اچھے یا برے نتائج پیدا کرتا ہے اچھے لیڈرز برے نظام میں بھی اچھا پرفارم کر لیتے ہیں جبکہ مفاد پرست لیڈرز اچھے نظام میں بھی اپنے مفاد کو ترجیح پر رکھنے کی وجہ سے برے نتائج دیتے ہیں لہذا ملک بچانے ، اسے مستحکم رکھنے اور عوامی حقوق یقینی بنانے کے لئے ملک کا اختیار بے لوث ، مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔
    بانیان پاکستان نے مسلمانوں کی آزادی عمل کے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے مشن کے لئے اپنا مستقبل ، اپنی جائیداد ، اپنا کیریئر ، اپنی خانگی زندگی سب کچھ نثار کردیا قائد اعظم محمد علی جناح ، محترمہ فاطمہ جناح ، نواب لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر سمیت دیگر ہیروز قربانی کی داستانیں رقم کر کے لازوال ہوگئے ہمارےان بے لوث ہیروز کے سیاسی منظر سے ہٹتے ہی مفاد پرست اقتدار پر قابض ہو گئے جنہوں نے اپنی ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو تختہ مشق بنا ڈالا بانیان پاکستان کے برعکس سول اور فوجی بیورو کریٹس غلام محمد ، سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی’ خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا ، اپنے اقتدار کی خاطر قومی یکجہتی کی جگہ انتشار کو پروان چڑھا کر نفرتوں کی جانب دھکیل دیا انکے خود غرض ، مفاد پرست اور اخلاقیات سے عاری طرز عمل نے ملک کے دو بازووں میں سے ایک کو کاٹ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    16 دسمبر 1971 کے سانحے کے اصل محرک بھی دراصل یہی مفاد پرست کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس گناہ عظیم کے باوجود وہ پوتر کے پوتر ہی ہیں۔
    ہوشیار اور طاقتور سول و فوجی بیورو کریٹس نے بہت صفائی سے پاکستان توڑنے کا سارا ملبہ سول سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو جیسے چھوٹے مجرم پرڈال کر خود کو اس الزام سے بری الذمہ کر لیا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض بھٹو سے منسوب ” ادھر ہم ادھر تم” کے تحقیق طلب بیان کی وجہ سے ٹوٹ گیا ؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کے ایک بیان کی بنیاد پر اچانک ملک دولخت ہوگئے ہوں؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملکوں کے ٹوٹنے میں سالہا سال کے منفی روئیے اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پس پردہ پنپنے والا نفرتوں کا لاوا پک کر اچانک پھٹ پڑتا ہے اور پھر ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔
    پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کاجرم بھٹو کی گلے منڈھ دیا جائے یا انڈین مداخلت کو جواز بنا کر دل کی تسلی کا سامان کرلیا جائے کیا کبھی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرتوں کے اندرونی اسباب کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک سول یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کے جبری اقتدار کی وجہ سے یکجا اور مستحکم نہیں رہ سکتے دونوں کے خمیر میں اپنے اقتدار کا مفاد رچا بسا ہوتا ہے جس سے حق داروں کے حقوق غصب ہوتے ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے شہریوں کے معیار زندگی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق میں عدم مساوات کو پاکستان ٹوٹنے کے عوامل سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو لاحق خطرات کو جواز بنا کر الگ وطن کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
    1970 کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے سپاہی اور مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کی زبان بن کر ابھرنے والے شیخ مجیب کی سیاسی بالا دستی کو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل یحیی خان نے تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا قوم کی محسنہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح محب وطن شیخ مجیب کو بھی غدار وطن کے منصب تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ایسا دوسری مرتبہ ہورہا تھا جب عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض ہونے والے محب وطن اور عوام کی رائے سے منتخب ہوکر ابھرنے والے سیاسی لیڈر غدار ٹھہرائے گئے۔
    کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سرزمین پر حصول پاکستان کی تحریک کی بناء پڑی ہو اسی سرزمین کے لوگ بلاوجہ اپنے حاصل کردہ وطن کو توڑنے کے گناہ میں شریک ہو جائیں؟
    ناانصافی اور محرومیاں نفرتوں کو جنم دیتی ہیں پھر ان پر آواز بلند کرنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں کیا مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کرنے اور انکا ساتھ دینے والے کرداروں کو ان پہلووں پر غور کرکے اپنے طرز عمل پر ندامت کا احساس ہو سکے گا؟
    کیا موجودہ پاکستان سے وہ عوامل جن کی وجہ سے پہلے ملک دولخت ہوا کا تدارک ہو گیا ہے ؟ کیا مفاد پرست عناصر سے ملک محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے تمام علاقوں کا معیار زندگی برابر ہو گیا ہے؟ کیا ملک سے ناانصافی اور محرومیاں ختم ہو گئی ہیں؟ کیا ملک کے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق انسانی احترام ، تعلیم ،علاج ،روزگار، تحفظ اور سیاسی مساوی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ایک مرتبہ پھر نانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور آئین میں دئے گئے حقوق مانگنے والوں کو غدار ٹھرایا جائے گا اور ان پر لشکر کشی کی جائے گی؟
    غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا صرف مشرقی پاکستان کے لوگ ہی غلط اور غدار تھے اور موجودہ پاکستان کے کرتا دھرتا درست اور محب وطن؟
    سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کر پائیں گے یا اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے #
    (خلیل احمد تھند )