قصور میں گداگروں کا راج
ضلع کچہری، آفس ٹائم اور بعد میں شہر، بس سٹینڈوں پر گداگروں کی بھرمار وکلاء چیمبرز اور باقی سرکاری ،پرائیویٹ دفاتروں اور دکاندارں سے کم بھیک ملنے پر بدتمیزی اور بدعاوں پر اتر آتے ہیں گداگری کی آڑ میں منشیات فروشی، جسم فروشی، چوری،ڈکیتیوں میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق ضلعی کچہری میں گداگروں کی بھرمار وکلاء چیمبرز اور باقی سرکاری،پرائیویٹ دفاترز،بس سٹینڈوں اور دوکانداروں سے کم بھیک ملنے پر آپے سے باہر ہو کر بدتمیزی اور بدعاوں پر اتر آتے ہیں
گداگری کی آڑ میں منشیات فروشی، جسم فروشی، چوریوں ،ڈکئتیوں میں اضافے سے شہری غیر محفوظ آفس ٹائم کے بعد رات گئے تک پیشہ ور جرائم پیشہ گداگر شہر کا رخ کر لیتے ہیں کچہری میں پریشان سائلان، ملازمین، دوکاندارں اور خریداری کے لیے آئے شہریوں کے لئے عذاب بن گئے پولیس اور دیگر متعلقہ محکمے خاموش تماشائی، یہ گداگر زبردستی شہریوں سے بھیک لیتے نہیں بلکہ جبرا وصول کرتے نظر آتے ہیں جبکہ شہر میں پہلے ہی بیشمار بھیک مانگنے والے موجود ہیں اور پچھلے کئی روز سے درجنوں کی تعداد میں بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور نوجوان لڑکیوں نے بھیک مانگنے والوں کے لبادے اوڑھے پہلےکچہری اور بعد میں شہر کا رخ کر لیتے ہیں مذکورہ گداگروں نے شہریوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتروں اور دوکانوں میں گھس کر دکاندار اور خریداروں کے لیئے شہریوں سے زبردستی بھیک مانگ کر انہیں پریشان کرتے ہیں انجمن تاجران،عوامی، سیاسی و سماجی حلقوں کی تنظیموں کے عہدیداروں اراکین اعلیٰ حکام نے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
Tag: baaghi
-

بھیک نا دینے پر بددعائیں اور بدتمیزی
-

ہائی وولٹیج سے کروڑوں کا نقصان
قصور
لیسکو واپڈا سول ایریا کی نا اہلی 2 ہفتوں کے دوران 3 بار 500 سے 700 سے بھی زائد وولٹیج آنے پر تحصیل آفس، تھانہ صدر، اراضی ریکارڈ کمپیوٹر سروس سنٹر، گارڈین و فیملی کورٹس، اور تحصیل روڈ پر وکلاء چیمبرز، فوٹو کاپی شاپس، اشٹامپ فروش، وثیقہ نویس کے دفاترز کی الیکٹرونکس اشیاء کمپیوٹرز، پنکھے، ٹیوب لائٹس، یو پی ایس جل کر تباہ ہوگئیں متاثرین کا حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق واپڈا آفس روڈ اور تحصیل روڈ کے سنگم چوک میں نصب شدہ ٹرانسفارمر جس سے تحصیل آفس، تھانہ صدر، اراضی رکارڈ کمپیوٹر سروس سنٹر، گارڈین و فیملی کورٹس، فوٹو کاپی شاپس، وکلاء چیمبرز، اشٹامپ فروش، وثیقہ نویس کے دفاترز و دیگر دوکانداروں کو بجلی سپلائی ہوتی ہے سے گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران لیسکو واپڈا کی بار بار نا اہلی سے 224 وولٹیج کی بجائے 500 سے 700 وولٹیج آنے سے الیکٹرونکس آشیاء کمپیوٹرز، پنکھے، ٹیوب لائٹس، یو پی ایس جل کر تباہ ہوگئیں جب بھی متعلقہ ایس ڈی او، ایکس ای این آفس کال کی جاتی ہے تو متعلقہ آفیسرز کال اٹینڈ نہیں کرتے متاثرین نے نقصانات کے ازالہ کیلئے چیرمین واپڈا، ایس ای، ایکس ای این، ایس ڈی او، مقامی انتظامیہ دیگر حکام بالا سے کاروائی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے -

خونی سڑک پر ایک اور شحض جان ہار بیٹھا ،انتظامیہ لاشوں کے انتظار میں
قصور
پنجاب کی سب سے زیادہ خونی سڑک رائیونڈ روڈ پر ایک اور حادثہ،نوجوان زندگی کی بازی ہار گیا،انتظامیہ مذید لاشوں کے انتظار میں
تفصیلات کے مطابق پنجاب کی سب سے زیادہ حادثات پیدا کرنے والی خونی سڑک پر ایک اور حادثہ پیش آیا ہے جس میں ایک نوجوان محمد جمیل ولد محمد عمر سکنہ ڈھنگ شاہ دیپال پور روڈ قصور جان کی بازی ہار گیا متوفی اپنی موٹر سائیکل پر کھارا موڑ نزد روہی نالہ رائیونڈ روڈ پر جا رہا تھا کہ تیز رفتار ٹرالی نے ٹکر مار دی جس سے وہ موقع پر ہی جانبحق ہو گیا ان سارے حادثات کی وجہ سڑک کی کم چوڑائی اور ٹریفک کا زیادہ بہاؤ ہے واضح رہے لوگوں کی چیخ و پکار پر ضلعی انتظامیہ نے رواں سال 4 کروڑ بیس لاکھ فنڈ جاری کیا تھا جس میں سے بمشکل چار لاکھ لگا کر گڑھے پر کئے گئے ہیں باقی تمام سٹاپس جوہڑوں کا منظر پیش کر رہے ہیں جس سے آئے روز حادثات جنم لے رہے ہیں
1200 حادثات کے باوجود صوبائی و ضلعی انتظامیہ مذید لاشوں کے انتظار میں ہے -

انسداد پولیو مہم کا پہلا دن
قصور
تحصیل چونیاں میں انسداد پولیو مہم کا آج پہلا دن ہے
اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی تمام پولیو ورکرز کو فیلڈ میں متحرک رہنے اور مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لئے ہدایات جاری
پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کیا جائےتین روزہ پولیو مہم میں 01 لاکھ 62000 پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ پورا کیا جائے گا اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا کہنا ہے کہ پولیو ورکرز کی کارکردگی و حاضری کو خود سختی سے مانیٹر کروں گا ڈور مارکنگ فنگر مارکنگ اور ٹیلی شیٹس کا جائزہ لیا جائے گا تحصیل چونیاں کی عوام بھی پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں پولیو کے دو قطرے آپ کے بچوں کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں پولیو کےدوحفاظتی قطرے لازمی پلائیں -

دن رات نان سٹاپ وارداتیں
قصور شہر ڈاکوؤں کے نرغے میں,دن رات وارداتیں لوگ پریشان
تفصیلات کے مطابقعلی میڈیکل سٹور بالمقابل ڈی ایچ کیو ہسپتال چوک اسٹیل باغ پر رات ایک بجے کے قریب ڈکیتی کی واردات ہوئی جس میں
دو ماسک ماسک پہنے ڈاکو ہنڈا سی جی 125 موٹر سائیکل پر آئے پر اور میڈیکل سٹور پر کام والے لڑکوں کو گن پوئنٹ پر یرغمال بنا لیا اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے 30 ہزار کے قریب نقدی لے اُڑے
15 کال کرنے پر تھانہ اے ڈویژن پولیس نے موقعہ واردات پر شواہد اکھٹے کرتے ہوئے مصروفِ کاروائی ہے
واضع رہے کہ قصور شہر و گرد و نواح میں عرصہ سے ڈکیتی کی وارداتوں کا تسلسل جاری ہے
عوام الناس نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت صاحب سے لوٹ مار ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ڈاکوؤں کو فوری پابندِ سلاسل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے -

گھی سے لوگ بیمار ہونے لگے،کاروائی کا مطالبہ
قصور
گھی کے پیکٹ سے بدبو ،ذائقہ خراب لوگوں کے گلے خراب اور مختلف بیماریاں جنم لینے لگیں، بلیک مارکیٹنگ مافیا نے گھی اپنے گوداموں میں بغیر گولنگ کے سٹاک کیا ہوا تھا
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں کرن نامی گھی نے لوگوں کے گلے خراب اور مختلف بیماریاں بنانا شروع کر دی ہیں حالانکہ کہ گھی کی ایکسپائری ڈیٹ ابھی باقی ہے مگر پھر بھی گھی کے پیکٹ سے انتہائی گندی بدبو آ رہی ہے جس کی وجہ بلیک مارکیٹنگ مافیا کہ جانب سے گھی کم ریٹس پر خرید کر ساری گرمیاں اپنے گوداموں میں بغیر کولنگ کے رکھنا ہے اب ان مگر مچھوں نے گھی چھوٹے دکانداروں کو مہنگا ہونے پر بیچنا شروع کیا ہے مگر گھی کی خرابی کے شکوے چھوٹے دکانداروں کو مل رہے ہیں قصور میں کئی دکانداروں اور خریداروں نے اس گھی کی کوالٹی کی شکایت کی ہے حالانکہ اس سے قبل یہ گھی بلکل معیاری تھا
لوگوں نے فوڈ اتھارٹی سے گزارش کی ہے کہ اس گھی کو قصور کی دکانوں سے جمع کرکے تلف کیا جائے تاکہ لوگ بیماریوں سے بچ سکیں -

پٹواری نے رشوت اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے
قصور
پٹواری منظور نے سرکاری حلقہ پٹوار خانہ مصطفے آباد میں پرائیویٹ افراد شہباز اور عثمان کو ٹھیکہ پر دے دیا مقرر کردہ ٹھیکیداروں اور ٹاوٹوں نے کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے عوام رل گئے حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ
تفضیلات کے مطابق پٹواری منظور نے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے سرکاری پٹوار خانہ اپنے منظور نظر پرائیویٹ افراد شہباز اور عثمان وغیرہ کو ٹھیکہ پر دے دیا ہے اور خود ٹھیکیداروں کے ماتحت یومیہ ملازمت کرنے لگا ہے قانونی طور پر حکومت کیطرف سے مقرر کردہ سرکاری ریکارڈ صرف پٹواری کی تحویل میں ہوتا ہے کوئی پرائیوٹ فرد ریکارڈ کو استمال نہیں کر سکتا مگر متعلقہ پٹواری نے کار سرکار کے ریکارڈ کو پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے حوالے کیا ہوا ہے جو پٹواری کی غیر موجودگی اور موجودگی میں بھاری رشوت کے بغیر فردیں، انتقالات، گرداریاں اور وراثتی انتقالات نہیں کرتے من پسند رشوت نہ ملنے پر مختلف اعتراضات لگا کر عوام کو پریشان کیا جاتا ہے سائل بالاآخر چکر پے چکر لگا کر تنگ آکر رشوت دینے پر مجبور ہو جاتا ہے حکومت کیطرف سے مقرر تعینات کردی منظور پٹواری صرف دستخط کرنے آتا ہے اور تو اور اس کے پرائیویٹ منشی خود پٹواری کے دستخط کرنے کے بھی ماہر ہیں مذکورہ ٹھیکیداروں نے حاصل کردہ رشوت سے شاہانہ اخراجات سے قیمتی گاڑیاں اور بے نامی جائیدادیں بنا رکھیں ہیں متاثرین افراد اور سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کسی زمہ دار پٹواری کی تحویل میں دیا جائے جس میں کسی غیر سرکاری افراد کی مداخلت نہ ہو -

شہر میں تجاوزات کی بھرمار
قصور
بابا بھلے شاہ کی نگری میں پورا شہر ناجائز تجاوزات اور ٹریفک کی بندش کی زد میں۔ ٹی ایم اے اور مقامی انتظامیہ خواب خرگوش، ہر روز ٹریفک کیوجہ سے عوام،خواتین سمیت سکول جانے والے طلباء و طالبات کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا
تفصیلات کے مطابق بابا بھلے شاہ کی نگری میں ناجائز تجاوزات کے وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے دوکانداروں نے تھڑے بنانے کے بعد فرنٹ کے کچھ حصوں کو ٹھیلے، ریڑھیاں کھڑی کروا کر ان سے جزوی کرایہ وصول کرتے ہیں جسکی وجہ سے بازاروں کی کشادگی ختم ہو گئی ہے جبکہ عوام،خواتین، طلباء، طالبات، بچوں،بوڑھوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے اور ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا بھی ہے جو مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج بن چکا ہے کسی حادثے کی صورت میں 1122 متاثرین کو ریسکیو کرنا مشکل ہو گیا ہے عملہ میونسپل کمیٹی ،مقامی دیگر انتظامیہ کاروائی سے گریزاں ہے جہاں شہریوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا ہے وہاں ٹریفک کی روانی بھی بہت بڑا مسلہ بن چکا ہے محدود بازاروں اور مین سڑک کے دونوں جانب ٹریفک کھڑی نظر آتی ہے ہیں زیادہ تر متاثرین علاقوں میں ریلوے روڈ، فوڈ سٹریٹ روڈ، ضلع کچہری، چوک مسجد نور، چوک ڈرائیور ہوٹل، نیابازار، چاندنی چوک، مین بازار کوٹ مراد خاں، موری گیٹ، حاجی فرید روڈ، ریلوے پھاٹک شامل ہیں۔عوامی،سماجی، فلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا نے مقامی انتظامیہ اور شہریوں نے اعلٰی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ -

جعلی دودھ کی پیداوار اور سپلائی جاری
قصور
مقامی انتظامیہ کی جعلی دودھ تلف کرنے کی کوشش کے باوجود مصنوعی جعلی زہریلے دودھ کی بدستور سرعام فروخت جاری جسکے استعمال سے بچوں اور بڑوں میں مہلک بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاموش زہر لاہور سمیت دیگر کئی شہروں میں بھی سرعام وافر سپلائی کیا جاتا ہےتفصیلات کے مطابق قصور اور مضافات میں مضر صحت مصنوعی زہریلا دودھ کا کاروبار عروج پر اس گھناونے کاروبار کو روکنے کے لئے مقامی انتظامیہ نے متعدد بار بھاری مقدار میں جعلی مصنوعی زہریلا دودھ تلف کیا اور موقع پر جرمانے بھی عائد کئے تاہم گوالوں کا مکرو دھندہ زور شور سے جاری ناجائز آمدن سے گوالے راتوں رات بے نامی جائیدادوں کے مالکان بن گئے ملزمان روپے کی خاطر مضر صحت جعلی مصنوعی زہریلا دودھ فروخت کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اس زہریلے دودھ کے استعمال سے کئی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں یہ خاموش قاتل زہریلا دودھ قصور شہر سمیت دوسرے کئی شہروں میں بھی سپلائی کیا جا رہا ہے اس دودھ نامی زہر کو ٹھنڈا کر نے کے نام پر ایک چلر بنایا جاتا ہے جو صرف باہر دکھاوے کے لئے ہوتا ہے مگر اندر مضر صحت مصنوعی جعلی زہریلا دودھ تیا ر کیا جاتا ہے جس میں سرف ، یوریا کھاد ، میٹھا سوڈا ، اور کوکنگ آئل کے علاوہ کارومولین استعمال کی جاتی ہے جس کو مردہ جسم محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ اس مصنوعی دودھ میں ڈال کر 5 کلو سے 40 کلو پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے اس زہریلے دودھ کے استعمال سے بچوں کی صحت پر زیادہ اثر ہوتا ہے جس سے معدہ،ہیپاٹائٹس، دل،جگر،گردوں کی مختلف امراض جنم لیتی ہیں یہ مکرو دھندہ پورے ضلع میں پھیلا ہوا ہے مقامی شہریوں، فلاحی،اصلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئرز وکلاء ایم یاسین فرخ ،یونس کیانی،چوہدری انور ہنجرا،ملک شفیق، ملک عمیر شوکت،حافظ رضوان، ملک بلال،میاں شہباز،ملک عبدالرشید، چوہدری سلیم ساجد ودیگر نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر، اے سی،ڈی پی او،محکمہ فوڈ اور متعلقہ انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناونے کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاے اور اسکی روک تھام کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو ضلع بھر میں مختلف مقامات پر چیک پوسٹوں پر خالص دودھ کی سپلائی اور فروخت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں
-

صحافی کا کوریج کرنا جرم بن گیا ،مقدمہ درج
قصور
پتوکی میڈیا کوریج کرنا صحافی کا جرم بن گیا،مقدمہ درج ،صحافی برادری سراپا احتجاج
تفصیلات کے مطابق پتوکی کے سینئر صحافی، رپورٹر 24 نیوز رضوان میو پر کار سرکار مداخلت پر دفع 186 کے تحت تھانہ سٹی پتوکی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
صحافی رضوان میو کے مطابق میں پرانی منڈی پتوکی میں میڈیا کوریج کر رہا تھا کہ پولیس چوکی انچارج سٹی پتوکی بلال عاشق ورک نے میڈیا کوریج کرنے پر مجھے روک دیا اور سنگین نتائج کی دهمكیاں دیں تاہم میں کوئی غیر قانونی و غیر اخلاقی کام نا کر رہا تھا
پتوکی ،قصور ،چھانگا مانگا ،بھائی پھیرو ،چونیاں کے صحافیوں کی رضوان میو رپورٹر 24 نیوز پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صحافی پر ناجائز اور بے بنیاد پرچہ ختم کیا جائے