قصور
ایک ماہ ایک دن گزرنے اور اغواء کار ملزمہ گرفتار ہونے کے باوجود بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور سے اغواء ہونے والے بچے کا سراغ نا مل سکا،والدین سخت پریشان
تفصیلات کے مطابق قصور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال سے 30 اگست کو دن کے اجالے میں نامعلوم اغواء کار عورت عبدالرحمان ولد قاری حفیظ اللہ سکنہ کوٹ فتح دین کا شادی کے سال 15 سال بعد پیدا ہونے والا ایک دن کا بچہ اغواء کرکے لے گئے جسے قصور تھانہ صدر پولیس نے دن رات ایک کرکے دو ہفتوں بعد گرفتار کر لیا جو کہ ابھی بھی قصور پولیس کی تحویل میں ہے تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ بچے کو اغوا ہوئے ایک ماہ ہو چکا جبکہ ملزمہ کو گرفتار ہوئے دو ہفتے مگر ابھی تک پولیس بچے کو بازیاب کروانے میں مکمل ناکام ہے جس پر اہلیان قصور اور بچے کے والدین سخت پریشان ہیں کہ ملزمہ پولیس کے ہتھے چڑھنے کے باوجود بھی خاموش کیوں ہے اور بار بار اپنے بیان کیوں بدل رہی ہے واضع رہے قصور شہر سے اس طرح ہسپتال سے اغواء ہونے والے بچے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اگر یہ حل نا ہوا تو بچوں کے اغواء ہونے کا ایک خطرناک سلسلہ چل نکلنے کا خدشہ ہے
Tag: baaghi
-

ایک ماہ بعد بھی بچہ بازیاب نا ہو سکا
-

گورنمنٹ کا بھٹہ خشت بند کرنے کا فیصلہ
قصور
محکمہ ماحولیات کی طرف سے 7 اکتوبر سے بھٹہ خشت بند کرنے کی ہدایت،دو ماہ بھٹہ خشت بند رکھے جائینگے تاکہ سموگ میں کمی واقع ہو سکے
بھٹہ مالکان کی عوام کو چھری پھیرنے کی تیاری
تفصیلات کے مطابق سابقہ سالوں کی طرح اس سال بھی سموگ سے بچنے کیلئے محکمہ ماحولیات پنجاب نے بھٹہ مالکان کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کی رو سے 7 اکتوبر سے 7 دسمبر تک بھٹہ خشت بند رکھے جائینگے تاکہ سموگ کم سے کم پیدا ہو اور لوگوں کی صحت متاثر نا ہو مگر دوسری طرف بھٹہ خشت مالکان جو کہ پہلے ہی لوگوں کو چھری پھیر رہے ہیں،نے لوگوں کو مذید چھری پھیرنے کا عہد کر لیا ہے واضع رہے اینٹ اول کا سرکاری ریٹ 7500 روپیہ مقرر ہے مگر بھٹہ خشت مالکان 10500 روپیہ دے رہے ہیں جبکہ اینٹ کا کرایہ الگ سے ہے
اس بابت لوگ سخت پریشان ہیں کہ اب چلتے بھٹوں سے اینٹ 3 ہزار روپیہ مہنگی مل رہی ہے جب بھٹے بند ہو گئے تو بھٹہ خشت مالکان مذید مہنگی کر دینگے جسے کنٹرول کرنا گورنمنٹ کے بس کی بات نہیں -

کار سرکار میں مداخلت،انتظامیہ بے خبر
قصور
کار خیر میں مداخلت،نالیاں مٹی ڈال کر بند کر دیں ،لوگ سخت پریشان انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی علاقے تلونڈی میں با اثر افراد نے محلے کی نکاسی آب کے لئے گورنمنٹ کی جانب سے بنائی جانے والی نالیاں زبردستی مٹی ڈال کر بند کر دیں جس سے اہل محلہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں موضع تلونڈی بالمقابل ٹیلی فون ایکسچینج محلہ میں گورنمنٹ کی جانب سے تین سال پہلے لاکھوں روپے کی لاگت سے نکاسی آب کے لئے بنائی گئی نالیاں گن پوائنٹ پر زبردستی مٹی ڈال کر بند کر دیں گئی ہیں جس پر اہل محلہ سراپا احتجاج ہیں
لوگوں نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر اور سیاسی شخصیات سے نالیاں کھلوانے کی اپیل کرتے ہوئے اہل محلہ ظفر شاہ ۔مستری دانش ۔منشاء گاڈی ۔معراج دین ۔صدیق رحمانی اور ماسٹر سلیم وغیرہ نے ارباب اختیار اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اگر یہ کھالیاں نہ کھلوائی گئیں تو ھم احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائینگے لوگوں نے اپنے گھروں اور گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی نہ ہونے پر بورنگ کر کے نیچے زمین میں گندا پانی ڈالنا شروع کردیا ہے جس سے عوام کو زمینی پانی کے گندا ہونے سے ہپاٹائٹس سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں -

سیمنٹ کی بھی بلیک مارکیٹنگ
قصور
تحصیل پتوکی میں سیمنٹ کی بلیک میں فروخت جاری شہری پریشان،انتظامیہ بے بس
تفصیلات کے مطابق پتوکی شہر اور گردونواح میں سمینٹ کے دوکان داروں نے مصنوعی قلت پیدا کر کے سمینٹ کی بوریوں کی قیمت میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے جس سے پورے شہر میں سمینٹ نایاب ھو گیا جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لوگوں نے اسٹنٹ کمشنر پتوکی آصف علی ڈوگر سے فوری نوٹس لیکر زمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے -

قصور میں پولیس گردی کا شکار گھرانے کی فریاد
قصور کیں پولیس گردی جاری،کوئی پرسان حال نہیں لوگ مجبور ہو کر خاموش ہو گئے
تفصیلات کے مطابق چوکی گگڑ تھانہ تھ شیخم کی غنڈا گردی عروج پر پہنچ گئی ہے
چوری کے الزام میں ملک سجاد کی گرفتاری کے بادجود ملک سجاد ملک ریاض کے گھر رات کی تاریکی میں پولیس نے غنڈا گردی کی
دوتان ریڈ چوکی انچارچ ASI شفقت کا عورتوں پر تشدد اور غلیظ قسم کی گالیاں بھی دیں
پولیس اپنے جوانوں کی مدد سے مال مویشی گاڑی میں ڈال کر لے گئے
شہریوں نے اپنے تحفظ کیلئے ریسکیو ایمرجیسی 15 پر بار بار کال کی مگر مظلوم عورتوں کی مدد کیلئے کوئی نہ آیا
عوام کا کہنا ہے کہ تھانہ تھ شیخم کے ایس ایچ او علی اکبر بار بار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا ہے اور لوگوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے
قوم کی بیٹیوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہم چوکی انچارچ شفقت اور تھانہ تھ شیخم کے ایس ایچ او علی اکبر کا ناجائز اختیارات استعمال کرنے پہ ڈی پی او قصور اور وزیراعلی پنجاب سے انصاف کی اپیل کرتے ہیں -

پٹوار خانے کا غیر سرکاری منشی مالک بن بیٹھا
قصور
سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کا ماہر غیر سرکاری منشی وحید جس نے خود کو پٹواری ظاہر کرکے سرکاری حلقہ پٹوار راجہ جنگ پر ناجائز قبضہ کر لیا ہے، نے سرکاری ریکارڈ میں ہیر پھیر اور کرپشن کے سارے ریکارڈز توڑ دیئے عوام رل گئی لوگوں کا حکام بالا سے مبینہ بدعنوانی پر کاروائی کا مطالبہ
تفضیلات کے مطابق بدنام زمانہ منشی وحید جو خود کو سینیئر پٹواری ظاہر کرتا ہے اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کا بے تاج بادشاہ بھی جانا جاتا ہے، نے حلقہ پٹوار راجہ جنگ پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے سرعام سائیلین کے کاموں میں مختلف رکاوٹیں ڈال کر بھاری رشوت وصولی شروع کر رکھی ہے جبکہ سرکاری پٹوار خانہ قانونی طور پر حکومت کیطرف سے مقرر کردہ پٹواری کی تحویل میں ہوتا ہے اور کوئی پرائیوٹ فرد ریکارڈ کو استمال نہیں کر سکتا مگر متعلقہ منشی نے اپنے ماتحت مزید پرائیویٹ افراد بھرتی کر رکھے ہیں جو سائلین سے فردیں، انتقالات، گرداریاں اور وراثتی انتقالات کے عیوض مختلف اعتراضات لگا کر عوام کو تنگ کرکے من پسند رشوت وصول کرتے نظر آتے ہیں حکومت کیطرف سے مقرر کردہ پٹواری صرف دستخط کرنے آتا ہے بلکہ پرائیویٹ منشی خود ہر پٹواری کے دستخط کرنے کا بھی ماہر مانا جاتا ہے مذکورہ منشی نے حاصل کردہ رشوت سے قیمتی گاڑیاں اور بے تحاشہ جائیدادیں بنا رکھیں ہیں متاثرہ افراد اور سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈائیریکٹر بورڈ آف ریونیو،ڈی سی قصور، اے ڈی سی آر، اے سی، اور حکام بالا سے مبینہ بدعنوانی پر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سرکاری ریکارڈ کسی زمہ دار پٹواری کی تحویل میں دیا جائے جس میں کسی غیر سرکاری افراد کی مداخلت نہ ہو اور عوام کو مزید پریشانی نہ ہو -

غریب عوام کھانے پینے کو بھی ترسنے لگی
قصور
دیگر شہروں کی طرح ضلع قصور میں بھی آٹے کا بحران شروع ،زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں آسمان پر ،دیگر ضروریات زندگی ،کھانے پینے کی اشیاء خوردونوش ،سبزیوں، دودھ دہی، دالوں، آٹے، پھلوں،چینی، چائے پتی کی قیمتوں میں عدم استحکام اور غریب کی پہنچ سے دور کھانے پینے کی کوئی بھی اشیاء سرکاری نرخوں پر ملنا نایاب ہو چکا غریب عوام زندگی کے عذاب میں مبتلاتفصیلات کے مطابق دیگر شہروں کی طرح ضلع قصور میں بھی آٹے کا بہران شدت اختیار کرنے لگا، زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں راتوں رات انسانوں کی پہنچ سے دور ہو کر آسمان پر پہنچ گئئ ہیں اسی طرح دیگر ضروریات زندگی کی کھانے پینے کی تمام تر اشیاء سبزی، دالیں، دودھ دہی، چینی، چائے پتی، پھلوں کی قیمتوں میں آئے دن عدم استحکام اور مسلسل اضافے کے باعث دن بدن قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں پیاز، ٹماٹر، لہسن ، ادرک، لیمن دیگر مثالہ جات، کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے غریب کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے ہر دوکاندار اور ریڑھی بان مارکیٹ کمیٹی کی نام نہاد سرکاری لسٹ کونظر اندز کر کے من مانی قیمتں وصول کررہا ہے مارکیٹ عملہ کی ڈیوٹی غفلت سے موسمی سبزیاں،پھل بھی غریب کی دسترس سے دور ہوگئیں ہیں یومیہ دیہاڈیدار مزدور اپنے بچوں کو دال روٹی مہیا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غریب آدمی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں جسکی وجہ سے آشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ھے۔بے بس مجبور عوام مہنگی داموں خریدنے پر مجبور ہیں "صحافتی” سروے پر متاثرین شہریوں، عوامی، فلاحی، سماجی سربراہان، سول سوسائٹی حلقوں، ڈسڑکٹ بار کے سینئر ووکلا نے حکام بالا، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈیوٹی مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیکر خود ساختہ مہنگائی کو روکا جائے اور سرکاری نرخوں پر سبزیاں فروخت نہ کرنے والے دوکانداروں کے خلاف سخت سے کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کو بھی جینے کا بنیادی حق میسر ہو سکے
-

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ،میڈیکل سٹور مالکان کی چاندی
قصور
پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ اضافہ ادویات کی قیمتوں میں ،ایک بار پھر اضافے سے لوگ مر جائینگے ،میڈیکل سٹورز و ہول سیل ڈیلروں کی چاندی،پرسنٹیج سیل کیساتھ بڑھ گئی لوگ لٹ گئے
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں جتنا ادویات میں اضافہ موجودہ دور حکومت میں ہوا ہے اتنا کسی دور حکومت میں نہیں ہوا ہے جس سے عام لوگ شدید ترین پریشان ہو گئے ہیں کیونکہ سبزیوں و پھلوں و دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتیں کم و زیادہ ہوتی رہتی ہیں جبکہ ادویات کی قیمتیں ایک بار بڑھ کر دوبارہ کم نہیں ہوتیں
آئے روز ادویات کی قیمتوں سے فارماسیوٹیکل کمپنیوں،ہول سیل ڈیلروں اور میڈیکل سٹورز مالکان کو خاصا منافع ہو رہا ہے کیونکہ ہول سیل ڈیلروں کا 10 فیصد جبکہ میڈیکل سٹوروں کا 15 فیصد نفع مقرر ہے جس سے ان کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مری صرف عوام ہی ہے اب ایک بار پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا گیا ہے جس سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ موجودہ دور حکومت میں مہنگائی اور خاص کر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں -

لوگوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں کو چھیڑنے والا گروہ
قصور
تحصیل چونیاں کے نواحی علاقے میں گھر میں گھس کر فائرنگ کا نوٹس لے لیا گیا
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تھانہ کنگن پور کی حدود گاؤں فتح محمد کلاں میں گھر میں گھس کر بچوں اور دیگر گھر والوں پر فائرنگ کا معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ کنگن پور نصراللہ بھٹی کا فوری ایکشن جس پر 425/20 مقدمہ نمبری درج کر کے ایک ملزم گرفتار کو کر لیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے اس کے جانور تحویل میں لے لیئے ہیں
ایس ایچ او تھانہ کنگن پور نصر اللہ بھٹی کا کہنا تھا کہ بچوں پر فائرنگ کی اجازت دنیا کے کسی قانون میں نہیں ہے تھانہ کنگن پور پولیس میرٹ پر مظلوم کی داد رسی کیلیئے کوشاں ھے کسی سیاسی دباؤ یا سفارش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا نامزد ملزمان کا فتح محمد کلاں کے غریب لوگوں کے گھروں میں گھسنا اور عورتوں کو چھیڑنا آئے روز کا معمول بن چکا ہے
لوگوں نے کہا کہ ایس ایچ او تھانہ کنگن پور نصراللہ بھٹی کا کسی دباؤ کو قبول کیئے بغیر مظلوم کی داد رسی انتہائی قابل ستائش عمل ھے -

دل کے مریضوں کے ساتھ ناانصافی
قصور
محکمہ ڈاک دکھی انسانیت کی خدمت کی بجائے مذید دکھی کرنے لگا،دل کے مریضوں کی ادویات خورد برد
تفصیلات کے مطابق قصور ڈاکخانہ کے ملازمین کی ریکارڈنگ منظر عام پر آ گئی ہے
ڈاکخانہ ملازمین دل کے مریضوں کو کارڈیالوجی ہسپتال سے آنے والی سرکاری میڈیسن میں خرد برد کر رہے ہیں جس سے دل کے مریض پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکخانہ کا عملہ ایک ہزار روپے کی وصولی لے کر مریضوں تک ادویات پہنچانے کا مطالبہ کر رہا ہے
ڈاکخانہ کی طرف سے دل کی دوائی بروقت نہیں دی جاتی جس سے کٸی مریض شدید بیمار ہو چکے ہے یا موت کی وادی میں جا چکے ہیں حالانکہ ڈاکخانہ میں دل کے مریضوں کی دوائی وافر مقدار میں پڑی ہے لیکن خالد اور انور نامی ڈاکخانہ کے ملازم مریضوں کو لوٹ رہے ہیں
ایک دل کے مریض کی طرف سے ڈاکخانہ ملازم کی کال ریکارڈنگ بھی وائرل کی گئی ہے جس میں اہلکار نذرانے کا مطالبہ کر رہا ہے
لوگوں نے وزیراعلی پنجاب اور محکمہ ڈاکخانہ سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے