Baaghi TV

Tag: Pakistan news

  • خیمے میں گھناؤنا کام کرنیوالے 8 ملزمان سمیت چار منشیات فروش بھی گرفتار

    خیمے میں گھناؤنا کام کرنیوالے 8 ملزمان سمیت چار منشیات فروش بھی گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    منشیات فروشوں کے خلاف ساندہ پولیس نے گرینڈ آپریشن کیا اور اس دوران بدنام زمانہ 4 منشیات فروش عابد۔عثمان۔خرم اور عظیم کو گرفتارکر لیا، ملزمان نے چوک چوراہوں ،نہر کنارے۔ تعلیمی اداروں کے اردگرد منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا، منشیات فروش نئی نسل کو منشیات کے کیپسول بھی فروخت کرتے تھے ملزمان کے قبضہ سے مجموعی طور پر 04 کلو 730 گرام چرس برآمد کی گئی ہے،ملزم خرم کے قبضہ سے 3000 سے زائد منشیات کے کیپسول برآمد ہوئے ہیں، ملزم عابد کے قبضہ سے 1560 گرام۔عثمان 550 گرام۔خرم 1100 گرام۔عظیم کے قبضہ سے1520 گرام چرس برآمد کی گئی ہے، ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں

    دوسری جانب سٹے بازوں کے خلاف کریک ڈاؤن 8 قمار باز گرفتارکر لئے گئے، نواں کوٹ پولیس نے کارروائی کی، ملزمان بکرمنڈی کے نزدیک خیمے میں جواء کھیل رہے تھے بدنام زمانہ 8 قمار باز شریف۔ارشد۔اکرم۔ اشرف۔ جہانگیر۔ وارث۔ ندیم اور فیاض گرفتار کئے گئے،ملزمان کے قبضہ سے موبائل فونز اور داؤ پر لگی ہزاروں روپے نقدی و دیگر سامان برآمد کر لیا گیا،ایس پی اقبال ٹاؤن کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھیں گے

  • ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ سپریم کورٹ کا نیب سے سوال

    ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ سپریم کورٹ کا نیب سے سوال

    سپریم کورٹ نے چائنہ کٹنگ، غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث افراد کی ضمانت منسوخی سے متعلق نیب اپیل مسترد کرتے ہوئے خارج کردی

    دوران سماعت سپریم کورٹ نے کہا کہ 2017 کا کیس ہے ، عدالت نے 2019 میں 3 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا ،6 سال گزرنے کے باوجود ٹرائل مکمل نہ ہو سکا ،نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ گواہ کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر ہو رہی تھی ،جسٹس اطہر من اللہ نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ نیب کا کام ہے اگر دوسری طرف سے تاخیر ہو رہی ہو تو عدالت سے رجوع کرے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں تاخیر کے دوران نیب کا قصور نہیں تھا توعدالت کو مطمئن کریں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک گواہ پیش نہیں ہو رہا تھا تو دیگر کے بیان ریکارڈ کئے جاتے، جو کام نیب نے خود نہیں کیا سپریم کورٹ سے کرانا چاہتی ہے

  • نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیشرفت ،ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر

    نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیشرفت ،ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر

    کراچی:ہائی پروفائل نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگر کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اپیل کی درخواست نقیب اللہ کے بھائی شیر عالم نے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزمان کو بری کیا۔

    نقیب اللہ قتل کیس کا عدالت نے سنایا فیصلہ

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 23 جنوری 2023 کو سنایا تھا، جس میں عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کردیا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پراسیکیوشن الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی عدالت نے دیگر تمام ملزمان کو بھی بری کردیا راؤ انوار سمیت ڈی ایس پی قمر احمد، سب انسپکٹر انار خان، انسپکٹر امان اللہ مروت سمیت دیگر سترہ ملزمان نامزد تھے۔

    سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خلاف غلط کیس بنایا گیا تھا، آج عدالت نے انصاف کردیا۔

    کیس 5 سال تک چلتا رہا جس کا فیصلہ 14 جنوری 2023 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ملیر شاہ لطیف ٹاؤن میں 13 جنوری 2018 کو سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوارنے نقیب اللّٰہ نامی نوجوان کو دیگر3 افراد کے ہمراہ مبینہ جعلی پولیس مقابلےمیں مارا تھا،تاہم اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پرشدید ردعمل سامنے آیا جس کی وجہ دہشتگرد قراردیے جانے والے نقیب اللہ کا سوشل میڈیا پروفائل تھا جس کے مطابق وہ ایک لبرل اور فن کا دلداہ نوجوان تھا، مختلف فنکاروں کے ساتھ تصویریں کھنچوانے والا نقیب اللہ ماڈل بننے کا خواہشمند تھا۔

    عدالت نےنقیب اللہ محسود قتل کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا جہاں راؤانوارنےخود کو سرنڈر کردیا تھا، بعد ازاں انہیں کراچی منتقل کردیا گیاتھا سندھ حکومت نے بھی آئی جی سندھ کو انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا فیصلہ سنائے جانے سے قبل سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار، ڈی ایس پی قمر اور ملزمان عدالت پہنچے تھے۔

    اس معاملے پرچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔

    معاملے پر تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوارکومعطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں ایس ایس پی کےعہدے سے ہٹاتے ہوئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کردیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج کیا گیا ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 25 جنوری 2019 کو راؤ انوار پر فردجرم عائد کرتے ہوئے نقیب اللہ محسود کیخلاف دہشت گردی، اسلحہ و بارود رکھنےکے الزام میں دائر5 مقدمات خارج کرتےہوئے الزامات کو گمراہ کن قراردیا تھا-

    اس موقع پر انسداد دہشتگردی عدالت میں سیکیورٹی سخت رہی جبکہ غیرمتعلقہ افراد اور میڈیا کےعدالتی احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی اس کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگرملزمان پر25 مارچ 2019 کو فردجرم عائد کی گئی تھی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، مقدمے میں ملزمان کے خلاف 60 گواہان تھےعدالت نے مدعی مقدمہ اور ملزمان کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 14 جنوری کوفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    کامسیٹس یونیورسٹی میں طلبا سے غیر اخلاقی سوالات پوچھنے والا لیکچراربرطرف

  • طورخم سرحد پر افغان فورسز کیجانب سے ایف سی چیک پوسٹ پر فائرنگ

    طورخم سرحد پر افغان فورسز کیجانب سے ایف سی چیک پوسٹ پر فائرنگ

    خیبر: طورخم سرحد پر افغان فورسز کی جانب سے ایف سی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایف سی ذرائع کے مطابق ایف سی اہلکاروں کی جانب سے بھی جوابی فائرنگ کی گئی ہے، فائرنگ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستان آنے والے افغان مریض کے ساتھی کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھیں، افغان شہری کو واپس بھیجنے پر افغان فورسز کے اہلکار مشتعل ہوگئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان فورسز نے طورخم سرحدی گزرگاہ کو احتجاجاً بند کردیا تھا سرحدی گزرگاہ کی بندش سے پیدل آمدورفت سمیت تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ افغان مریضوں کو پاکستان آمد کےلیے سفری دستاویزات سے استثنیٰ حاصل ہے۔ افغان مریض کےساتھ آنے والےرشتہ دارکےلیے سفری دستاویزات لازمی ہیں۔

  • کامسیٹس یونیورسٹی میں طلبا سے غیر اخلاقی سوالات پوچھنے والا لیکچراربرطرف

    کامسیٹس یونیورسٹی میں طلبا سے غیر اخلاقی سوالات پوچھنے والا لیکچراربرطرف

    اسلام آباد: کامسیٹس یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سوال کا معاملہ،وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی امین الحق نے نوٹس لے لیا-

    باغی ٹی وی :کامسیٹس یونیورسٹی میں انگریزی کے پرچہ میں دو بہن بھائیوں میں غیر فطری تعلق کا سوال پوچھا گیا جس پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی امین الحق نے نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی سربراہ کو سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی ہے-

    امین الحق کا کہنا ہے کہ یہ پرچہ گزشتہ سال 4 دسمبرکولیا گیا تھا جس میں شامل سوال انتہائی غیراخلاقی اورنصابی قانون کےبرخلاف ہے۔

    انکوائری میں وزیٹنگ لیکچرارخیر البشر کو پرچے میں سوال شامل کرنے کا ذمہ دار قرار ٹھہراتے ہوئے نوکری سے فارغ کردیا گیافیکلٹی ممبر نے وہ سوال گوگل سے ’چوری‘ کیا تھا۔

    ریکٹر نے پرچے کے اگلے ہی روز اجلاس طلب کرکے فیکلٹی ممبرسے اس طرح کا متنازع سوال پوچھنے کی وضاحت طلب کی تھی جس پر لیکچرارنے اپنی غلطی تسلیم کی اور یونیورسٹی نے انہیں برطرف کردیا۔

    کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے پروگرام BEE کے پہلے سمسٹر کے امتحان میں پوچھا گیا نامناسب سوال انگلش کمپوزیشن کے پیپر میں طلبہ سے پوچھا گیا،نامناسب سوال پر طلبہ کو 300 الفاظ پر مشتمل چار پیراگراف لکھنے کا کہا گیا-

    اس امتحان کے بعد فیکلٹی ممبر کو 5 جنوری کو برطرف کردیا گیا تھا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے 19 جنوری کو معاملے کا نوٹس لیا جس کے بعد یونیورسٹی کی جانب 2 فروری کو جواب جمع کروادیا گیا تھا۔

  • وزیراعظم شہبازشریف  کا کلر کہار بس حادثے پر اظہار افسوس

    وزیراعظم شہبازشریف کا کلر کہار بس حادثے پر اظہار افسوس

    چکوال میں کلرکہار کے قریب بس حادثے کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: موٹروے پولیس کے مطابق بس اسلام آباد سے لاہور جارہی تھی کہ کلرکہار کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، بس میں باراتی سوار تھے۔

    چکوال: موٹروے سالٹ رینج میں خوفناک حادثہ

    ریسکیو ذرائع کے مطابق بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہوکر دوسرے ٹریک پر چڑھ گئی اور دوسرے ٹریک سے آنے والی 3 گاڑیوں سے بھی ٹکرائی ، جاں بحق ہونے والوں میں 6 خواتین بھی شامل ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر چکوال قرۃ العین ملک کے مطابق حادثے میں 64 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں واقعے میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نےکلر کہار بس حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ بریک فیل ہونے سے حادثے پر دلی دکھ ہے۔

    شہباز شریف نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی جبکہ جاں بحق افراد کی مغفرت اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا ہے۔

    سیاسی جماعت کے کنونشن میں دوران چیکنگ سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزم گرفتار

  • کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

    کوئٹہ: گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون ماہل بلوچ کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے کہا کہ کوئٹہ سے گرفتارمبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا مبینہ خود کش حملہ آورخاتون کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا گرفتار خاتون خودکش بمبار عوام میں تباہی مچا سکتی تھی، بلوچستان کو امن مہیا کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے-

    کوئٹہ:گرفتارخودکش حملہ آور خاتون سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات

    وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگونے کہا کہ مبینہ خود کش حملہ آورخاتون کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،خواتین کو گرفتار کرنا اچھا نہیں لگتا لیکن قانون سب کیلئے برابر ہے،گرفتار کیے گئے افراد کو تمام قانونی سہولیات حاصل ہوں گی،ماضی میں بھی ایسے واقعات ہیں جہاں خاتون خود کش بمبار نےبے گناہ افراد کو نشانہ بنایا-

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حساس اداروں اور سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے لیڈیز پارک بلاک 4 سے خاتون خودکُش بمبار کو گرفتار کیا تھا،سی ٹی ڈی نے گرفتار خاتون سے خودکُش جیکٹ برآمد کی تھی،دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہی ہیں-

    نادرا کی درخواست پرگوگل پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دی گئیں

    گرفتار خودکش حملہ آور ماہل بلوچ کے شوہر بیباگاربلوچ اور اس کا بھائی بی ایل ایف کمانڈروں کے قریب ترین ساتھیوں میں شامل ہیں خودکش حملہ آور خاتون ماہل بلوچ کے شوہر بیباگار بلوچ عرف ندیم کا تعلق بھی بلوچستان لبریشن فرنٹ کے عسکری ونگ سے ہے، ماہل پر دباؤڈالا گیا کہ بی ایل ایف کے عسکری ونگ کو سپورٹ کرے۔

    2016میں بیباگار اور اس کا بھائی نوکب آپس میں پیسے اور ہتھیاروں کے تنازع پرلڑائی میں مارے گئے، خودکش حملہ آور خاتون کے سسر محمد حسین کا تعلق بی این ایم کی مرکزی کمیٹی سے ہے۔

    ماہل بلوچ کو استعمال کرکے زور دیا گیاکہ وہ بی ایل ایف کے عسکری ونگ کو سپورٹ کرے، ماہل بلوچ کی بہن کی شادی بھی ڈاکٹر اللہ نذر کے بھتیجے یوسف سے ہوئی جو بلوچ حقوق کی تنظیم کا چیئرمین ہے۔

    "تیمور جھگڑا حساب دو” پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کیخلاف ٹاپ ٹرینڈ

    سوشل میڈیا پر دہشتگرد تنظیم بی ایل ایف کا خودکش حملہ آور خاتون ماہل کو مسنگ پرسن بنانے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا تھا جو بے نقاب کردیا گیا، آزادی کی نام نہاد تنظیمیں ملک دشمنی میں خواتین کوگھناؤنے اورخطرناک کھیل کا حصہ بنارہی ہیں۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • چکوال: موٹروے سالٹ رینج میں خوفناک حادثہ،14 افراد جاں بحق،64 زخمی

    چکوال: موٹروے سالٹ رینج میں خوفناک حادثہ،14 افراد جاں بحق،64 زخمی

    اسلام آباد سے لاہور بارات لے جانے والی جانے والی بس کو کلرکہار سالٹ رینج میں حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں 7 خواتین سمیت 14 افراد جانبحق ہو گئے جبکہ 64 افراد زخمی ہوگئے

    حادثے کا شکار ہونے والی بدقسمت بس 86 باراتیوں کو جن میں بچے ،بوڑھے،جوان اور خواتین بھی شامل تھے صبح 9 بجے لاہور فردوس مارکیٹ سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئی جو بارات کو لیکر بعد از دوپہر 4 بجے اسلام آباد شادی حال میں پہنچی ،بدقسمت بس شام 7 بجے کے قریب اسلام آباد سے لاہور کیلئے موٹروے ایم 2 پر داخل ہوئی جس کی موٹروے پولیس کی جانب سے ویڈیو بھی بنائی گئی لیکن 52 مسافر کی گنجائش والی بس میں 86 افراد کا سوار ہونا کسی نے نہیں دیکھا ،اس کے علاوہ ہر مسافر بس کو کلرکہار سروس ایریا میں چیکنگ پوائنٹ پر باقاعدہ چیک کیا جاتا ٹ اور گاڑی کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد سالٹ رینج میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے اور ڈرائیور کو مکمل بریف کیا جاتا ہے کہ کس طرح اور کتنے وقت میں سالٹ رینج مکمل کرنی ہے لیکِن اس بس کو مسافروں کے مطابق نہ کلرکہار بریفننگ پوائنٹ پر روکا گیا اور نہ مسافروں کی جانج پڑتال کی جو گنجائش سے زیادہ تھی

    جیسے ہی بس سالٹ رینج میں داخل ہوئی اوور سپیڈ کی وجہ سے بے قابو ہو گئ اور حفاظتی دیوار توڑتے ہوئے مخالف سمت سے آتی ہوئی 2 کار اور ایک شاہ زور سے ٹکرا کر کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 7 خواتین سمیت 14 افراد موقع پر ہی جانبحق اور 64 افراد زخمی ہو گئے جن کو ٹراماسنٹر کلرکہار میں منتقل کردیا گیا زخمی ہونے والے افراد میں سے 18 زخمیوں کو جنکی حالت تشویشناک تھی راولپنڈی اور لاہور منتقل کردیا گیا جبکہ جانبحق ہونے والے افراد کو قانونی کارروائی کے بعد وارثان کے حوالے کر دیا گیا

    جبکہ اس حادثہ کو ریسکیو کرنے کیلئے ڈاکٹرعتیق احمد خان ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر چکوال کی نگرانی میں 18 ریسکیورز اور ریسکیو وہیکل سمیت 7 ایمرجنسی گاڑیاں نے حصہ لیا ٹراماسنٹر کلرکہار کے سٹاف کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہسپتال چکوال سے بھی اضافی سٹاف طلب کیا گیا حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر چکوال میڈم قراۃ العین ،سی ای ہیلتھ چکوال ڈاکٹر عبد الرزاق ،اسسٹنٹ کمشنر کلرکہار زوہیب ممتاز ،ڈی ڈی او ہیلتھ کلرکہار ڈاکٹر کامران ملک ،ایس ایچ او کلرکہار عرفان ،سی او ایم سی کلرکہار یاسر قیوم موقع پر پہنچ گئے اور اپنی نگرانی میں زخمی اور جانبحق افراد کو ٹراماسنٹر کلرکہار منتقل کروایا
    جبکہ کلرکہار کے مقامی افراد نے جیسے ہی حادثے کی اطلاع سنی تو کلرکہار ٹراماسنٹر کا رخ کیا اور اپنی مدد کے تحت ہر ممکن امداد کی کوشش کی جبکہ کلرکہار کی فضا اس حادثے کے بعد سوگوار ہے

  • "تیمور جھگڑا حساب دو” پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کیخلاف ٹاپ ٹرینڈ

    "تیمور جھگڑا حساب دو” پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کیخلاف ٹاپ ٹرینڈ

    "تیمور جھگڑا حساب دو” پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کیخلاف ٹاپ ٹرینڈ

    سوشل میڈیا پر سابق صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا کے خلاف حساب دو مہم شروع ہوگئی ہے جبکہ مختلف ڈاکٹرز تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر حساب دو کے نام سے مہم چلائی جارہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر محکمہ صحت میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے تذکرے کیے گئے ہیں۔


    صارفین کے مطابق سابق صوبائی وزیر صحت کے حامیوں نے بھی مہم کے خلاف محاز سنبھال لیا ہے جبکہ تیمور جھگڑا نے بھی ڈاکٹروں کی مہم کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ؛ میرے دور میں اچھا کام ہوا ہے اور اانہوں نے مزید لکھا کہ ہماری کارکردگی کی تو موجودہ نگران وزیر بھی تعریف کررہے ہیں.
    مزید یہ بھی پرھیں؛
    پی ایس ایل؛ ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی سلطانز کیخلاف بیٹنگ جاری
    متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان "جامع اقتصادی شراکت داری” معاہدے کو ایک سال مکمل
    1999 کےزلزلے میں پیدا ہونیوالا نوجوان 2023 کے زلزلے میں جاں بحق ہو گیا
    پی سی بی چیئرمین کی ناعاقبت اندیشی:-تجزیہ:شہزاد قریشی
    غریب عوام کے مفت علاج کے نظام کی تجدید نو پر خصوصی توجہ دیں. وزیر اعظم
    اسلام آباد یونائیٹڈ کو بھی شکست؛ پی ایس ایل 8میں ملتان سلطانز نے فتح کی ہیٹرک ٹرک کرلی
    https://twitter.com/idrikki541/status/1627259507582595072
    جبکہ ایک صارف نے کہا بس تیمور جھگڑا حساب دو اور بات ختم اتنی سی بات ہے اس کے ساتھ انہوں ہیش ٹیگ تیمور جھگڑا حساب دو بھی لکھا ہوا تھا. صحافی فخر کاکاخیل نے لکھا کہ؛ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر صحت تیمور جھگڑا صاحب بھول گئے کہ اب وہ وزیر نہیں رہے۔ مبینہ آڈیو میں ان کے ساتھی ڈاکٹروں کی سرزنش کرہے ہیں کہ کیوں ان کے حق میں ٹرینڈ نہیں چلائے جا رہے, ان کے سکرین شاٹس کیوں نہیں بھیجے جا رہے۔