Baaghi TV

Tag: Pakistan news

  • دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں ہے، اسےرکنا چاہیئے۔امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے17 فروری بروز جمعہ کو جاری بیان میں کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کےحملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کراچی پولیس آفس پر دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں، اسے رکنا چاہیے۔ اس موقع پر نیڈ پرائس نے دہشت گردی میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں متاثرہ علاقے میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، متاثرہ علاقے میں جانے سے گریز کریں، دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔

    کراچی دہشت گردی: ملتان کا رینجرز سب انسپکٹر اور لاڑکانہ کا پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے میں دو پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

  • بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان: سیلاب متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب کو گزرے 6 ماہ ہونے کو آرہے ہیں لیکن بلوچستان حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی جامع پلان سامنے نہ لاسکی جس کے باعث متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔بلوچستان میں گزشتہ سال جون سے اگست کے دوران مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ 700 سے زائد صحت مراکز حکومتی توجہ کے منتظرصوبے میں مجموعی طور پر تین لاکھ 46ہزار مکانات متاثر ہوئے جن میں ڈھائی لاکھ مکانات مکمل طور پر گرگئے تھے جب کہ 96ہزار سے زائد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

    سیلاب سے متاثرہ مکانات کی مرمت کیلئے اخراجات کا تخمینہ 200 ارب روپے کے لگ بھگ بتایاجاتا ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے تخمینہ لگائے جانے کے بعد 2 ماہ کا عرصہ بیت گیا لیکن حکومت متاثرین کی بحالی کیلئے کوئی واضح روڈ میپ نہیں دے سکی ہے جس کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کا مالی بحران ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت کو وفاق سے سیلاب متاثرین کیلئے رقم نہیں ملی جب کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو ملنے والی رقم کی عدم فراہمی سے صوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

  • کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس (کے پی او) پر حملے سے متعلق تفتیش جاری ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے وقت تین چوکیوں میں سے کسی میں بھی کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس سے ملحقہ پولیس لائن صدرکوارٹرز میں داخلےکا کوئی سکیورٹی گیٹ نہیں، پولیس لائن کے کوارٹرز میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد مبینہ طور پرکے پی او میں عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، کل حملےکے وقت تینوں چوکیوں پر کل کوئی نہیں تھا،کے پی او کی عقبی دیوار پر خاردار تار ٹوٹی ہوئی دیکھی گئی ہے،کے پی او کی مرکزی شاہراہ پرسی سی ٹی وی کیمرا نہیں صرف اطراف میں ہیں۔ دہشت گرد جس کار میں آئے تھے وہ صدر تھانے میں موجود ہے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرلیےگئے ہیں۔

    کراچی: شاہراہ سے متصل صدر پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ

    یاد رہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ عمارت کا معائنہ کیا گیا ہے

  • کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی:پولیس ہیڈ آفس پردہشتگرد حملےسےچند گھنٹے قبل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نےسینٹرل پولیس آفس کے واچ ٹاور پرخود جاکرمورچےاورعقبی ایمرجنسی گیٹ کی سکیورٹی چیک کی اور ہدایات جاری کیں۔سی پی اوذرائع کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سندھ پولیس کے ہیڈ آفس کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن اکیلے ہی سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کی طرف پہنچ گئے۔

    آئی جی سندھ نے ریلوے لائن کی طرف کے ایمرجنسی داخلی دروازے کو چیک کیا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد وہ سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کا معائنہ کرتے ہوئے عمارت کے واچ ٹاور تک پہنچ گئے۔

    غلام نبی میمن نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر ریلوے لائن کی طرف کے عقبی حصے کو دیکھا اور وہاں پر سکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے واچ ٹاور پر مزید اسنائپرز تعینات کرنے کا حکم دیا۔ سی پی او ذرائع کے مطابق اس دوران سینٹرل پولیس آفس کے انتظامی پولیس افسران بھی پہنچ گئے اور انہوں نے آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق سکیورٹی سخت کرادی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے جمعہ کو پولیس دفاتر کیلئے سخت سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم حملہ آوروں نے سندھ پولیس ہیڈ آفس کی بجائے شام کو کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملہ کیا۔

  • کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی: بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔باپ کے قاتل کو 14 سال سے زائد عرصے کے بعد بیٹی نے تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا، ملزم کی گرفتاری کراچی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی جبکہ کراچی منتقلی کے لیے قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔

    ملزم کو 2009 میں عدالت نے مفرور قرار دیا تھا اور 2022 میں ملزم کاقومی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بھی بلاک کردیا گیا تھا۔26 اگست 2008 میں میٹھادر تھانے کی حدود میں واقع اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی بلڈنگ نمبر 2 کی دسویں منلز پر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ریجنل چیف محمد احمد امجد کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔

    رینجل چیف کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مقدمہ نمبر 2008/298 مقتول ریجنل چیف کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) اور عینی شاہد محمد عارف کی مدعیت میں میٹھادر تھانے میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے سینئر منیجر سید تقی شاہ کو نامزد کیا گیا تھا پولیس نے جائے وقوع سے گولیوں کے خول، پستول اور عینی شاہدین کے بیان قلمبند کرنے کے بعد ریجنل چیف کے قتل میں ملوث ملزم کی تلاش شروع کردی تھی۔

    29 جنوری 2009 کو کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر نے واقعے سے متعلق اپنی مکمل تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی جس پرعدالت نے ملزم کو مفرور قرار دے دیا تھا جبکہ 29 جنوری 2010 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج جنوبی 4 نے ملزم کے تاحیات ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کیس کو ملزم کی گرفتاری سے مشروط کر دیا تھا۔

    29 اکتوبر 2010 کو معززعدالت نے ایف آئی اے اور نادرا حکام کو حکم دیا تھا کہ ملزم کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے جس پر نادر احکام نے 24 نومبر2022 کو ملزم کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے متعلق اخبارات میں اشتہار جاری کرایا تھا۔

    ڈسٹرکٹ سٹی انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق ملزم سید تقی شاہ ریجنل چیف محمد احمد امجد کو قتل کرنے کے بعد یو اے ای فرار ہوگیا تھا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اور ریجنل چیف کے قتل کے 14 سال سے زائد عرصے کے بعد یو اے ای میں ہی ملازمت کرنے والی مقتول کی بیٹی ماہم امجد نے اپنے والد کے قتل میں ملوث ملزم کو شناخت کرلیا۔

    مقتول کی بیٹی نے ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کو 18 نومبر 2022 کو ایک درخواست ارسال کی جس میں مقتول کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد کا قتل یو اے ای میں مقیم ہے جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس پی انویسٹی سٹی کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

    ایس پی انویسٹی سٹی نے ملزم کی سفری (ٹریولنگ) ہسٹری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ملزم 24 اکتوبر 2008 کو لاہورسے یو اے ای فرار ہوا جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جس پر ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    25 جنوری 2023 کو انٹرپول کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ریڈ نوٹس جاری کیے جانے کی صورت میں ملزم سید تقی شاہ کو یو اے ای میں گرفتار کرلیا اور انٹرپول نے درخواست کی ہے کہ گرفتار ملزم کی حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات 30 دنوں کے اندر ارسال کیے جائیں جس پر پولیس حکام نے 3 روز میں حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے یواے ای میں گرفتار ملزم جلد کراچی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، پولیس حکام کے مطابق ملزم سید تقی شاہ نے مبینہ کرپشن کی انکوائری کرنے پر ریجنل چیف محمد احمد امجد کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی:کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں ’متاثرہ علاقے‘ میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کردی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ “امریکی سفارت خانہ کراچی کے (علاقے) صدر میں سینٹرل پولیس آفس پر حملے کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور مقامی حکام وقوعہ پر موجود ہیں”۔

    امریکی سفارتخانہ نے نے مزید کہا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، (متاثرہ) علاقے میں (جانے) سے گریز کریں، اور دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔”
    جرمنی کا اظہارِ مذمت

    دوسری جانب جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹز نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جانیں گنوانے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ جرمنی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    یاد رہےکہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی:جمعہ کو کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے بتایا کہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک دہشتگردچوتھی منزل پر اور 2 چھت پر ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک نے خود کو اڑایا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو مبینہ دہشت گردوں کی شناخت کفایت اللہ اور زالا نور کے نام سےہوئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکا کرنے والا دہشت گرد زالا نور ، شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا۔تیسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    دوسری طرف بم ڈسپوزل اسکواڈ(بی ڈی ایس) نے کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے کی رپورٹ مرتب کرلی۔

    جمعہ کی شام کو کراچی پولیس آفس پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔

    بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے جسم پر نصب 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دستی بم ناکارہ حالت میں ملے، ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے پھینکےگئے دستی بم پھٹ نہیں سکے، دہشت گردوں سے برآمد خودکش جیکٹس 8 سے 10 کلو وزنی تھیں۔بی ڈی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور سے چوتھے فلور تک سرچنگ کی گئی، خودکش جیکٹس میکینیکل طرز پر بنائی گئی تھیں،جیکٹس میں الیکٹرونک سسٹم نہیں تھا۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید جبکہ 3 دہشتگرد ہلاک

    کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کے بعد عمارت کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے جہاں اس حملے میں تین دہشت گرد مارے گئے۔ جبکہ ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور عمارت پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل کو سیکیورٹی کی وجہ سے بند کیا تھا تاکہ آپریشن کو بلا کسی تعطل جاری رکھا جا سکے اور لوگوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ جبکہ اس حملہ میں اب تک چار اہلکار شہید اور 23 لوگ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں علاوہ ازیں تین دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے.

    ترجمان سندھ رینجرز نے کہا کہ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور عمارت کی کلیئرنس کا عمل جاری ہے۔ گورنر سندھ کرام ٹیسوری نے بھی آپریشن کامیابی سے مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ آپریشن منٹوں میں بھی ختم کرسکتے تھے لیکن ہماری حکمت عملی یہی تھی کہ چونکہ ملک میں اپکستان سپر لیگ ہو رہی ہے تو اگر ہم ان دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کر لیتے تو ان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیتے اور ان کے اسپانسرز اور سہولت کاروں کو عیاں کرتے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کراچی کے اندر اور پاکستان کے اندر بدامنی پھیلا کر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے کہ جیسے پاکستان میں بہت زیادہ دہشت گردی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز نے دہشت گردوں کو ناکام کردیا ہے اور ہماری رینجرز اور پولیس نے انہیں ناکام بنا دیا ہے، انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہمارے پولیس کے دو جوان شہید ہو گئے اور رینجرز کے کرنل سمیت چھ جوان زخمی ہیں۔ اس سے قبل کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی تھی اور بتایا کہ میرے دفتر پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ ابھی جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پانچ منزلہ عمارت کی تین منزلیں کلیئر کرا لی گئی ہیں البتہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملہ شام 7 بجکر 10 منٹ پر کیا گیا جس میں دو دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے فوج سے مدد طلب کی ہے، ہم وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور ہماری اولین ترجیح صورتحال کو کنٹرول میں لانا ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز نے بیان میں کہا کہ کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی اطلاع پر رینجرز کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    انہوں نے کہا کہ رینجرز نے پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے اور ابتدائی طور پر 8 سے 10 مسلح دہشت گردوں کی جانب سے حملہ اور ان کی وہاں موجود گی کی اطلاع پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں دو لاشیں اور تین زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں پولیس اہلکار لطیف، رینجرز اہلکار عبدالرحیم اور ایک ایدھی رضاکار بھی شامل ہے۔

  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی کا دورہ پاکستان

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی کا دورہ پاکستان

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی کا دورہ پاکستان

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے 15 سے 16 فروری 2023 تک پاکستان کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل نے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اور سیکرٹری خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران بات چیت میں پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے اور بالخصوص موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اس کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل گروسی نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین سے بھی ملاقاتیں کیں، جنہوں نے انہیں نیوکلیئر سکیورٹی اور ریگولیٹری نظام کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں نیشنل ریڈی ایشن ایمرجنسی کوآرڈینیشن سینٹر کا بھی افتتاح کیا۔ پاکستان کے پاس سول نیوکلیئر پاور پلانٹس کے محفوظ آپریشنز کا پانچ دہائیوں کا تجربہ ہے جو آئی اے ای اے کے رائج کردہ معیارات اور رہنما اصولوں کے مطابق ہیں۔

    آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے چشمہ نیوکلیئر پاور جنریٹنگ سٹیشن، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی، پاکستان سینٹر آف ایکسی لینس آن نیوکلیئر سکیورٹی، نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی کا بھی دورہ کیا اور صحت عامہ، صنعت، زراعت، خوراک کی حفاظت، بجلی کی پیداوار کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کا مشاہدہ کیا۔

    ڈائریکٹر جنرل گروسی نے نوری اور سی این پی جی ایس میں بالترتیب سائبر نائف اور فیول ڈرائی سٹوریج کی سہولیات کا افتتاح کیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان ‘امید کی کرن’ اقدام کے تحت کینسر کے علاج کے لیے آئی اے ای اے کے علاقائی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے گا۔ نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی کے دورے کے دوران، نے ZODIAC لیب کا افتتاح کیا اور انسٹی ٹیوٹ کو زراعت اور بائیو ٹیکنالوجی میں آئی اے ای اے کے تعاون کے مرکز کے طور پر نامزد کیا۔ پاکستان سینٹر آف ایکسی لینس آن نیوکلیئر سیکیورٹی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی کا دورہ کرتے ہوئے، ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے نے جوہری تحفظ اور سلامتی سے متعلق ان مراکز کے اعلیٰ معیارات کی تعریف کی۔

    یہ مراکز آئی اے ای اے کے زیراہتمام بین الاقوامی تربیت دے رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل گروسی نے اسلام آباد میں “کلائمیٹ چینج مِٹیگیشن اینڈ دی رول آف نیوکلیئر انرجی” کے موضوع پر ایک سیمینار میں کلیدی خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے میں توانائی کے صاف ذریعہ کے طور پر جوہری توانائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس دورے کا اختتام وزارت خارجہ میں سیکرٹری خارجہ کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل گروسی کے اعزاز میں عشائیہ کے ساتھ ہوا۔ ترجمان کے مطابق پاکستان 1957 سے آئی اے ای اے کا بانی رکن ہونے کے ناطے عالمی ایجنسی کے ساتھ بامعنی اور باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات رکھتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی
    دوسری درخواست ضمانت، عمران خان کو عدالت نے پیر کو طلب کرلیا
    ترکیہ کے صدر اردوان اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان ملاقات
    کراچی کنگز کو ہوم گراؤنڈ پر مسلسل دوسری شکست، اسلام آباد 4 وکٹوں سے کامیاب
    آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے رکن کے طور پر، پاکستان ایجنسی کی فیصلہ سازی کے عمل میں بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس طرح کے دورے پاکستان،آئی اے ای اے کے باہمی تعلق کی ایک باقاعدہ خصوصیت ہیں۔ آئی اے ای اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے اپنے دور میں دو بار پاکستان کا دورہ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا دورہ کوویڈ-19 کی وبا کی وجہ سے زیر التوا تھا۔