Baaghi TV

Author: +9251

  • عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، مصدق ملک

    عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، مصدق ملک

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، ملک کو برباد کرنے والے ہی خود کو مسیحا سمجھتے ہیں، جو بھی قانون و آئین توڑے گا پکڑا جائے گا، کسی کو تفتیش کیلئے بلایا جا رہا ہے تو اسے صفائی دینے کیلئے پیش ہونا چاہئے، چار سالوں میں گردشی قرضہ 11 سو ارب روپے سے 25 سو ارب روپے تک اور بجلی کی قیمت ساڑھے 14 روپے سے 24 روپے فی یونٹ تک پہنچا گئے، بلین ٹری سونامی کرپشن کا منصوبہ تھا، بجلی کی قیمت کی ری بیسنگ اڑھائی سال پہلے ہو جاتی تو فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم نہ بنتی، موجودہ حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ نہ لے کر عوام کو ریلیف دے رہی ہے، سیلاب متاثرین کیلئے 70 ارب روپے کی فوری منظوری دی گئی ہے، پچھلے سال کے مقابلہ میں رواں سال موسم سرما میں گیس کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کو برباد کرنے والے خود کومسیحا سمجھتے ہیں، 2013ء میں جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تھی تو 13 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول تھی، ملک میں بجلی اور گیس کا بحران عروج پر تھا، مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے 11 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی اور قطر سے سستی گیس کے معاہدے کئے، اس وقت 2 ارب مکعب فٹ یومیہ گیس کی کمی تھی، ہم نے 1.2 ارب مکعب فٹ ایل این جی کی ری گیسیفیکیشن کے منصوبے لگائے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ دور میں 8 سے 9 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھایا اور روزگار کے مواقع پیدا کئے، محمد نواز شریف سی پیک کی صورت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں لائے، عمران خان چار سال چور چور کا راگ الاپتے رہے، بجلی کی پیداوار کیلئے کچھ بھی نہ کیا، عمران خان بتائیں کیا اس نے اپنے دور میں ایک میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی؟،

    پی ٹی آئی والے بتائیں کیا انہوں نے اپنے دور میں ایک کلومیٹر سڑک بنائی؟، پی ٹی آئی نے گذشتہ چار سال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دور کے ترقیاتی منصوبوں کے فیتے کاٹے، بلین ٹری سونامی کرپشن کا منصوبہ تھا، جو کروڑوں درخت لگائے تھے وہ کہاں گئے؟، ہمیں مہنگی بجلی پیدا کرنے کا الزام دیا جاتا تھا لیکن 2018ء میں بجلی کی پیداواری لاگت 10 روپے 40 پیسے فی یونٹ تھی جسے پی ٹی آئی نے چار سال میں 15 روپے 40 پیسے فی یونٹ تک پہنچا دیا، اسی طرح ہمارے دور میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 14 روپے 50 پیسے تھی جسے سابق دور میں 23 سے 24 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیا، ہمارے دور میں گردشی قرضہ 11 سو ارب روپے تھا،

    عمران خان دور میں گردشی قرضہ 25 سو ارب روپے کی سطح تک پہنچا، عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہ کیا، ان کے دور میں بجلی کے واجبات کی وصولی کم ہو گئی لیکن چوری میں اضافہ ہوا، جب دنیا میں سستی ترین گیس مل رہی تھی تو سابق دور میں کیوں نہ لی گئی؟ شوکت ترین نے آئی ایم ایف معاہدہ ناکام بنانے کیلئے صوبائی وزراء خزانہ کو خط لکھنے کا کہا، یہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوشش تھی لیکن موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو مکمل کیا ہے، قطر اور متحدہ عرب امارات نے تین تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے، صرف آئل ریفائنری میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو گی،

    عمران خان نے چین، قطر اور امریکہ سمیت سب ممالک پر الزامات لگائے، کشمیر پر ثالثی امریکہ کو دی پھر اسی امریکہ پر سازش کا الزام بھی لگا دیا، سابق دور میں ملک کو معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر پہنچا دیا گیا، عمران خان کی انا نے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی تباہ کی اور یہی انا آج ان کی بربادی کا سبب بن رہی ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ قانون ان لوگوں کو پکڑے گا جو بغاوت پر اکساتے ہیں، قانون شکنی اور آئین شکنی کرنے والا پکڑا جائے گا، کسی کو تفتیش کیلئے بلایا جا رہا ہے تو اسے صفائی دینے کیلئے پیش ہونا چاہئے لیکن اگر کسی کے غیر ظاہر شدہ اکائونٹس سے 78 کروڑ روپے نکلے ہیں تو اسے بتانا چاہئے کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس نے وصول کی،

    ایٹمی پروگرام کے مخالف ڈیوڈ فینٹن کو اپنا لابسٹ مقرر کرنے، ملک ریاض سے 450 کنال زمین لے کر 250 ملین ڈالر اسے دینے اور عارف نقوی سے 3 ملین پائونڈ لے کر اسے 250 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، ملک ریاض کے کیس میں تحقیقات ہو رہی ہیں، یہ بات نہیںچلے گی کہ کوئی سمجھے کہ میں طاقتور یا مقبول ہوں اس لئے مجھے کوئی نہیں پکڑ سکتا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیس کنکشن پر پابندی سابق حکومت کے دور میں لگائی گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ ایک قانون بھی وہ بنائے گئے، ہم نئی پالیسی لا رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر گیس کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ درآمد بھی بڑھائیں، وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو یہ تمام معاملات حل کرنے کی ہدایت کی ہے، رواں سال موسم سرما میں پچھلے سال کے مقابلہ میں گیس کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت کی ری بیسنگ اڑھائی سال پہلے کر دی جاتی تو فیول ایڈجسٹمنٹ نہ بنتی، موجودہ حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ نہ لے کر لوگوں کو ریلیف دے رہی ہے، سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی کابینہ نے 70 ارب روپے کی منظوری دی ہے، وزیراعظم خود بھی متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کے دکھ درد کو بانٹا جا سکے، سابق حکومت جاتے جاتے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر دیں لیکن اس کیلئے کوئی فنڈز مختص نہ کئے اور اس فیصلہ سے ماہانہ 110 سے 120 ارب روپے کا خزانہ کو نقصان ہوا

  • ملک پر امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے والوں کا مقابلہ کروں گا، عمران خان

    ملک پر امپورٹڈ حکومت مسلط کرنے والوں کا مقابلہ کروں گا، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگوں کو خرید کر ہماری حکومت گرائی گئی، ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا جو بھی ان کے پیچھے ہیں اور جب تک زندگی ہے مقابلہ کروں گا۔

    چشتیاں میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب تھا،نوجوان مدینے کی ریاست کا مطالعہ کریں، ملک میں قانون، انصاف نہیں بڑے، بڑے مجرم اقتدارمیں بیٹھے ہیں،جب تک مجرم اوپر بیٹھے ہیں ملک کیسے بدلے گا،ہمیں اپنے حالات کو خود بدلنا ہو گا، جو لوگ پیسے لیکر یا خوف کی وجہ سے ضمیر بیچتے ہیں میری نظرمیں یہ شرک ہے، ہمیں اپنے نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پرچلنا چاہیے،مدینہ کی ریاست والے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق چلے،مدینہ کی ریاست نے پوری دنیا پرامامت کی،افسوس سے کہتا ہوں ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پرنہیں چل رہے۔

    انہوں نے کہا کہ 30 سال ملک لوٹنے والے بیرونی سازش کے تحت چور دروازے سے اقتدارمیں آئے، نواز شریف سزا یافتہ اور عدالتی مفرور ہیں، زرداری کی کرپشن پر عالمی سطح پر کتابیں لکھی گئیں، کیا یہ چور ہمارے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں، شہباز گل پر جیل میں ٹارچر کیا گیا، میں نے کہا جس نے شہباز گل پر ٹارچر کیا ان کو کٹہرے میں لائیں، میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کردیا گیا،ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، قانون کی بالادستی کے لیے وکلا کا بھی امتحان ہے، اللہ نے انسان کودنیا میں انصاف کے لیے بھیجا ہے،یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دوراستے ہوتے ہیں ایک راہ حق، دوسرا تباہی کا ہوتا ہے، لوگوں کو خرید کر ان لوگوں نے ہماری حکومت گرائی ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کیا گیا جو بھی ان کے پیچھے ہیں اور جب تک زندگی ہے مقابلہ کروں گا، آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے جیل کاٹی، یہ مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں یہ چھوٹی چیز ہے جان بھی دینے کو تیارہوں، باہرکی ڈکٹٹیشن سے ہم نے آزاد ہونا ہے، جس ملک میں طاقتور اور غریب کے لیے یکساں قانون نہ ہو تباہ ہو جاتے ہیں، چارماہ پہلے ملک ترقی کر رہا تھا ، اب تباہ ہورہا ہے کون ذمہ دارہے؟ اب یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے مجھے ڈس کوالیفائی کیا جائے، چشتیاں کے وکلا کوکہتا ہوں میری کال کا انتظارکریں۔

  • چودھری پرویز الٰہی سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی ملاقات

    چودھری پرویز الٰہی سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے ملاقات کی.
    اس موقع پر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ علماء کرام ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ، علماء کرام کی ملک وقوم کے لئے گراں قدر خدمات کو سراہتے ہیں ،علماء کرام نے ہمیشہ اہم موقعوں پر قوم کی رہنمائی کی ہے-

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ہم نے سرکاری دفاتر، وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور دیگر اہم سرکاری مقامات کو آیت مبارکہ سے مزین کر دیا ہے،پنجاب کے تمام سرکاری دفاتر میں دوپہر1:00 بجے سے:00 2بجے تک نماز ظہر کا وقفہ لازمی ہوگا،سود کے حوالے سے بھی ہم نے قانون سازی کی، نجی طورپر سودی کاروبارکرنے والوں کیلئے پانچ سال کی سزا مقرر کی ہے-

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ الحمدللہ ہم نکاح نامے میں ختم نبوتﷺ کا حلف نامہ شامل کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی بدولت اب ہماری بچیوں کا مستقبل محفوظ ہے- انشاء اللہ آئندہ کسی بچی اور خاندان کے ساتھ دھوکہ نہیں ہوسکے گا- اللہ تعالیٰ نے ہمیں دین کی خدمت کی سعادت دی ہے جو ہم کرتے رہیں گے-

    ملاقات کے موقع پر پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی، ایم پی اے حافظ عمار یاسر،راسخ الٰہی،یوسف جمیل،سابق صوبائی وزیر عبدالغفور میو،ڈاکٹر فیاض رانجھا، سابق پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر او رمتعلقہ حکام بھی موجود تھے

  • پشاور جلسے میں سرکاری وسائل کا استعمال،عمران خان اور وزیراعلی کے پی کے کی الیکشن کمیشن طلبی

    پشاور جلسے میں سرکاری وسائل کا استعمال،عمران خان اور وزیراعلی کے پی کے کی الیکشن کمیشن طلبی

    پشاور کے حلقہ این اے 31 میں ضمنی الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کو وضاحت کیلئے پشاور طلب کر لیا.

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسرپشاور شہاب الدین نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نیازی کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے ،نوٹس کے مطابق کزشتہ روز پشاور کے جلسہ میں سرکاری وسائل استعمال کئے گئے جبکہ جلسہ میں وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان سمیت اہم عہدوں پر فائز شخصیات نے شرکت بھی کی.

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسرپشاور شہاب الدین نے نوٹس میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان 9 ستمبر کی صبح خود یا بذریعہ وکیل ملک پلازہ کوہاٹ روڈ پشاور میں واقع دفتر پیش ہو کر وضاحت بیان کریں.

    ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسرپشاورنے پی ٹی آئیکے کزشتہ روز منعقد ہونے والے جلسے میں شرکت کرنے پر وزیراعلی کے پی کے محمود خان ،وزیر خزانہ تیمور جھگڑا،وزیر ماحولیات اشتیاق ارمڑ،وزیر محنت شوکت علی یوسفزئی،وزیر برائے اعلی تعلیم کامران خان بنگش،وزیر زکواۃ انور زیب خان،وزیر ریلیف محمد اقبال ،وزیراعلی کے مشیر خلیق الرحمان،اور معاون خصوصی برائے وزیراعلی وزیر زادہ،کو بھی خود یا وکیل کے ذریعے 9 ستمبر کی صبح 10 بجے اپنے دفتر وضاحت کیلئے طلب کیا ہے.

  • وزیراعظم آزاد کشمیر نشے میں دھت ہو کر سٹیج پر تقریر کرتا رہا

    وزیراعظم آزاد کشمیر نشے میں دھت ہو کر سٹیج پر تقریر کرتا رہا

    وزیراعظم آزاد کشمیر نشے میں دھت ہو کر سٹیج پر تقریر کرتا رہا.

    مسلم لیگی کارکن عدنان ملک نے ایک ویڈیو شیئر کتے ہوئے دعوی کیا کہ: وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نشے میں دھت ہو کر سٹیج پر تقریر کر رہا ہے اور اس نشئی کے لیے باغ اسٹیڈیم کو اکھاڑا گیا ہے.

    ایک صارف نے کہا: پوری قوم اس تبدیلی کا سلیکٹرز کو قصور وار سمجھتی ہے مگر ان کا کوٸی قصور نہیں یہ ساری تبدیلی ثاقب نثار اور اس کے ٹولے کی مسلط کی ہوٸی تبدیلی ہے قوم کو چاہیے جو بھی بدعاٸیں دینی ہیں اس ثاقب نثار اور اس کے ٹولے کو دیں.

    ایک اور صارف نے کہا: کیا ایسا قانون نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بھی اسٹیڈیم میں جلسہ کرنا ممنوع ہو چھوٹا ہو یا بڑا بعد میں بچوں کیلیے بچا کھچا بلکل برباد کر جاتے ہیں بدبخت.

    ایک ناقد نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: یہ ہے وہ اعلیٰ معیار اور میرٹ جس پر عمران خان قومی قیادت کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں. اور شراب پی کر اللہ رسول کا نام لے رہا ہے.

    ایک صحافی نے تبصرہ کیا کہ: وزیر اعظم آزاد کشمیر صاحب دعائیں کرینگے اور وہ دعائیں عوام کو فائدہ بھی دینگی.

    علاوہ ازیں صحافی مرتظی سولنگی نے بھی اس حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران کے وزرا اعلی کے انتخاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا انتخاب ایسا ہے،

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    یہ ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے اور اس حوالے سے سب سے زیادہ وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس سمیت سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی کافی تنقید کررہے ہیں اور کہہ رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایسے لوگوں کو وزیر اعلی بنایا، ایک صارف نے تو اتنا تک کہہ دیا نشئی خان نے نشئی لوگوں کو عوام پر مسلط کیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • فیٹف کی وجہ سے وہ قوانین لاگو کیے جو دنیا میں نہیں،عائشہ غوث پاشا

    فیٹف کی وجہ سے وہ قوانین لاگو کیے جو دنیا میں نہیں،عائشہ غوث پاشا

    وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ فیٹف کی وجہ سے وہ قوانین بھی لاگو کرنا پڑے جو دنیا میں نہیں، فیٹف کی وجہ سے رولزمیں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    یہ بات انہوں نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو بتائی۔اس سے قبل اجلاس شروع ہوا تو کمیٹی کے ارکان نے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کی عدم موجودگی پر اظہارِ برہمی کیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم کس سے سوال کریں؟ کون ہمیں جواب دے گا؟،اس دوران وزیرِ مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کمیٹی کے اجلاس میں پہنچ گئیں۔سینیٹر طلحہٰ محمود نے کہا کہ جب آپ اپوزیشن میں تھے تو وزراء کے نہ آنے پر غصہ ہوتے تھے۔

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت بند ہو رہی ہے، 3 کروڑ روپے بجلی کا بل آ رہا ہے، کس کے کہنے پر لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی؟ مشینری کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور کتوں کی خوراک آ رہی ہے۔

    اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

    سینیٹر محسن عزیز نے فاروق ایچ نائیک سے کہا کہ آپ نے ملک کو لوٹ سیل پر لگا دیا ہے۔فاروق نائیک نے جواب دیا کہ ہم نے نہیں آپ نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

    کمیٹی نے سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری ڈکلیئریشن معطل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈکلیئریشن جاری کرنا سی اے اے کا کام نہیں۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فیٹف ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے سنجیدہ ہے۔کمیٹی نے سول ایوی ایشن ڈکلیئریشن سے متعلق 15 دن میں تفصیلات طلب کر لیں۔

  • پشاور جلسے پر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال،  سیلاب زدگان ترستے رہے

    پشاور جلسے پر سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال، سیلاب زدگان ترستے رہے

    تحریک انصاف کے پشاور جلسے میں سرکاری وسائل کے استعمال کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جبکہ سیلاب زدگان ترس رہے ہیں.

    تحریک انصاف نے پشاور جلسے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کیا جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی گاڑی کے ذریعے تحریک انصاف کے جھنڈے لگائے جا رہے ہیں۔ رنگ روڈ سے گزرنے والے شہریوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی ہے جس پر صارفین سخت تنقید کررہے ہیں.

    اور صارفین کا کہنا پے کہ لوگ سیلاب میں مر رہے ہیں لیکن خیبر پختونخواہ حکومت سو رہی لیکن عمران خان کے پشاور جلسے کیلئے سرکاری گاڑیاں استعمال کی جارہی لیکن انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ غریب عوام کیلئے یہ وسائل بروئے کار لائیں. ایک شخص نے تو اتنے تک کہا کہ انکی بے حسی بازی لے گئی اور سارا سرکاری فنڈ حکومت نیازی لے گئی، جو عیاشی اور جلسوں پر ضائع کیا گیا ہے.

    ایک صارف نے کہا کہ: پشاور میں اپوزیشن کے جلسے کو رُکوانے کیلئے حکومتی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا اور جگہ جگہ رکاوٹیں لگائی تھی لیکن عمران نیازی کے پشاور جلسہ کیلئے سرکاری گاڑی ان کے پارٹی کے جھنڈے لگاتی رہی.

    سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے لکھا: پشاور جلسے کی ایک اور واضح ویڈیو دیکھ لیجیے۔ جلسہ گاہ مکمل خالی۔ پشاور سمیت پورےKP کےعوام کی عدم شرکت؛ عدم دلچسپی؛ باوجود اسکے کہ تمام تر صوبائی وسائل اس جلسے کے انعقاد کیلئے جھونک دیے گئے۔ لیکن لوگوں نے مسترد کر دیا۔ صاف واضح ہے عوام اب عمران خان کی سیاست میں دلچسپی نہیں لے رہے۔


    ایک اور ٹوئیٹ میں غریدہ نے لکھا: پشاور جلسہ؛ عمران خان کی تقریر سے قبل ہی لوگوں نے واپس جانا شروع کر دیا۔ تقریر کا انتظار ہی نہ کیا۔ خان کی تقریر شروع ہوتے ہی مزید لوگ بھی جلسہ گاہ سے نکلنا شروع ہو گئے۔


    انہوں نے مزید لکھا: پشاور میں عوام کی عمران خان جلسے میں عدم شرکت، عدم دلچسپی۔ مصدقہ رپورٹس کےمطابق بمشکل 7, 8ہزار لوگ موجود ہیں.

  • سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا

    سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا

    سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا۔

    احتساب عدالت میں جج محمد بشیر جعلی اکاؤنٹس سے جڑے کڈنی ہلز ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو ریلیف دے دیا۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون طارق محمود سمیت سات ملزمان کو نیب ترمیمی بل کے تحت ریلیف ملا اور عدالت نے نیب سیکنڈ ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا۔

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے درخواستوں پر فیصلہ سنایا اور کہا کہ نیب ترمیمی بل کے تحت ریفرنس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ واضح رہے کہ ریفرنس میں اعجاز ہارون، ندیم مانڈوی والا ، طارق محمود سمیت سات ملزمان نامزد تھے، جنہوں نے نیب ریفرنس کو چیلنج کررکھا تھا، احتساب عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔

    یاد رہے کہ احتساب عدالت نے کڈنی ہلز ریفرنس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تھی، تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں کڈنی ہلز ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دوران سماعت پیپلزپارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا سمیت دیگرملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی.

    عدالت کی جانب سے ملزمان کو فرد جرم کی کاپی فراہم کی گئی تھی جبکہ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا، جبکہ رواں سال 2021 جنوری میں کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں سلیم مانڈوی والا کو ملزم نامزد کیا گیا تھا، دیگر ملزمان میں اعجاز ہارون، ندیم حکیم مانڈوی والا، عبدالقادر شیوانی، عبدالقیوم، عبدالغنی مجید اور مبینہ بے نامی طارق محمود شامل ہیں۔

    جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں نیب کے ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سےملیں، اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں، سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو بیچنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی، انھوں نے پہلے ایک بے نامی کے نام پر پلاٹ خریدا، بعد میں پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیر خریدے، کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔

    احتساب عدالت میں پیش کردہ نیب ریفرنس کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے، سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئر خریدے، یہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔

  • عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کیخلاف نااہلی ریفرنس پر سماعت ہوئی جس میں عمران خان کا 58 تحائف 3 کروڑ میں خرید کر 4 تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ میں بیچنے کا اعتراف

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے توشہ خانہ نااہلی ریفرنس میں الیکشن کمیشن سے حتمی مہلت ختم ہونے پر جواب جمع کروایا، عمران خان نے جواب میں کچھ تحائف گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا اعتراف کرلیا، لیکن ساتھ ہی یہ تاویل پیش کی کہ وہ تحائف جون 2019 کے بعد لئے یا فروخت کئے تھے۔

    عمران خان نے 60 صفحات پر مشتمل جواب میں بتایا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو ساڑھے 3 سال کے دوران 58 تحائف ملے۔ عمران کان نے جواب میں کہا کہ توشہ خانہ سے جو تحائف خریدے ان کے بدلے 3 کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی ، اور ان تحائف میں سے چار تحائف 5 کروڑ 80 لاکھ سے زائد میں فروخت کئے، اور یہ رقم اثاثوں میں ظاہر شدہ ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 63 کی کارروائی میں 62 ون ایف کا کیس نہیں سن سکتا۔ درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا تھا عمران خان نے توشہ خانہ تحائف اور ان کی رقم چھپانے کا اعتراف کر لیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرنا ہے تو الگ درخواست دائر کریں۔ کمیشن نے فریقین کے وکلا سے 19 ستمبر کو حتمی دلائل طلب کر لئے۔

    جبکہ عمران خان کے وکلا بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر نے ریفرنس میں کہا ہے کہ آرٹیکل 63(2) کے تحت نااہلی کا کیس بنتا ہے، جبکہ ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی مانگی گئی ہے۔ ممبر کے پی نے کہا کہ آئینی طور پر یہ ریفرنس نہیں بلکہ نااہلی کا سوال ہے۔

    علی ظفر نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن آرٹیکل 63 کی کارروائی میں 62 ون ایف کا کیس نہیں سن سکتا، آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق عدالت ہی کر سکتی ہے کمیشن نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرنا ہے تو الگ درخواست دائر کریں۔

    اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے رہنماء محسن رانجھا نے دعوی کیا تھا کہ: "آج توشہ خانہ کیس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہوگی۔ تاہم ابھی تک سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا جواب جو کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق پیر کے روز مورخہ 5 ستمبر 2022 کو پہنچانا تھا نہیں پہنچایا ہے.


    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پاکستان تحریک کے چیئرمین عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں جواب جمع کرانے کے لیے ستمبر تک ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی. تاہم پی ٹی آئی سربراہ کو مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی.
    توشہ خانہ ریفرنس میں کیا ہے؟
    ریفرنس کی کاپی کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور ڈیپینڈینٹس کے تمام تر اثاثے، چھپائے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کراتے۔
    دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ عمران خان نے ‘جانتے بوجھتے‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ کہ انھوں نے ‘قبول کیا ہے جیسا کہ مختلف میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کیے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے دستاویزات میں ان کی فروخت بھی چھپائی گئی۔

    دستاویز کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔
    عمران خان نے کون سے تحائف خریدے تھے؟
    حکومت کے ابتدائی دو ماہ کے دوران لیے گئے ان تحائف میں گراف کی گھڑی ہے جس کی مالیت آٹھ کروڑ 50 لاکھ لگائی گئی جبکہ اسی پیک میں شامل دیگر تحائف میں کف لنکس (56 لاکھ 70 ہزار) ، ایک قلم (15 لاکھ) اور ایک انگوٹھی (87 لاکھ 50 ہزار) بھی شامل تھے۔ ان چار اشیا کے لیے عمران خان نے دو کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کرائی اور یہ تحائف رکھے۔ اسی طرح رولیکس کی ایک گھڑی جس کی مالیت 38 لاکھ تھی، عمران خان نے یہ ساڑھے سات لاکھ کے عوض خریدی۔ رولیکس ہی کی ایک اور گھڑی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے لگائی گئی، سابق وزیراعظم نے تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدی۔

    اسی طرح ایک اور موقع پر گھڑی اور کف لنکس وغیرہ پر مشتمل ایک باکس کی کل مالیت 49 لاکھ تھی، جس کی نصف رقم ادا کی گئی جبکہ جیولری کا ایک سیٹ 90 لاکھ میں خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد مختص کی گئی تھی۔ دستاویر کے مطابق وہ گھڑی جس کے بارے میں یہ الزام ہے کہ اسے بیچ دیا گیا، وہ بھی الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج نہیں کی گئی۔
    خیال رہے کہ یہ گھڑی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے دوران تحفے کے طور پر لی تھی۔ اس کی مالیت 85 ملین بتائی گئی ہے جسے توشہ خانے سے 20 فیصد ادائیگی کے بعد لیا گیا۔

  • اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟ الیکشن کمیشن

    اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟ الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار کی نااہلی کیلئے دائر ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے لیکن دوران سماعت الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ اسحاق ڈار سینیٹ کے رکن بنے ہی نہیں تو نااہل کیسے کیا جائے؟.

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بدھ 7 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نادہندگی کے باعث اسحاق ڈار کی نااہلی کی استدعا کرنے والے درخواست گزار اظہر صدیق الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے۔ ان کے معاون وکیل کی جانب سے الیکشن کمیشن میں دلائل دیئے گئے۔

    اپنے دلائل میں ان کا کہنا تھا کہ درخواست پر اسحاق ڈار نے جواب جمع کرانا تھا، جس پر الیکشن میشن کے ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ جواب کو چھوڑیں آپ اپنی بات کریں، ہائیکورٹ میں اظہر صدیق کہتے ہیں کیس نہیں چلتا، یہاں سماعت مقرر کریں تو وہ پیش نہیں ہوتے۔

    خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ممبر ای سی پی نے کہا کہ جن نکات پر نااہلی کی استدعا کی گئی وہ درخواست میں ہیں۔ ممبر بلوچستان نے کہا اسحاق ڈار کامیاب امیدوار ضرور ہیں لیکن انہوں نے حلف نہیں اٹھایا،اور حلف اٹھائے بغیر کوئی بھی سینیٹ کا ممبر نہیں کہلا سکتا، اور جو ایوان کا رکن ہی نہیں الیکشن کمیشن اسے نااہل کیسے قرار دے؟۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے اسحاق ڈار کی نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ سنہ 2017 سے لندن میں مقیم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزان اسحاق ڈار نے جون میں بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں (جولائی) اپنی وطن واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فی الحال پاکستان واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اور کہا تھا کہ اگلے ماہ جولائی میں (میرا) پاکستان واپسی کا ارادہ تقریباً کنفرم ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ تاحال وطن واپس نہیں آئے ہیں.