Baaghi TV

Author: +9251

  • نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس: وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر ملزمان پرفرد جرم کےنکتے پردلائل طلب

    نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس: وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر ملزمان پرفرد جرم کےنکتے پردلائل طلب

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نوری آباد پاور پلانٹ پراجیکٹ ميں مبینہ منی لانڈرنگ کے ریفرنس میں مراد علی شاہ اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کے نکتے پر 28 ستمبر کو دلائل طلب کرلئے ہیں۔

    اسلام آباد کی احتساب عدالت میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور دیگرملزمان کے خلاف نوری آباد پاور پلانٹ پراجیکٹ میں مبینہ منی لانڈرنگ کے ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کے نکتے پر 28 ستمبر کو دلائل طلب کرلئے ہیں.

    ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو وکیل صفائی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ساتھ ہی مؤقف اپنایا کہ نئے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی۔ نیب پراسیکیوٹر وسيم جاويد نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا وہ دلائل دينےکیلئےتیارہیں۔ احتساب عدالت کے جج سید اصغرعلی نے حکم دیا کہ فریقین کے وکلا 28 ستمبر کو آئندہ سماعت پردلائل دیں۔

    نیب ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں اور درج ہے کہ کرپشن کی 12 میں سے 5 شقوں کے تحت مراد علی شاہ کو مجرم ٹہرایا گیا ہے۔مرادعلی شاہ سمیت تمام 17 ملزمان پر کرپشن کی سیکشن نائین اے ایک،چار، چھ،گیارہ اور بارہ کے تحت الزامات عائد ہیں۔ ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اومنی گروپ سے متعلق نوری آباد میں پاورپلانٹس لگانے کا منصوبہ بغیر فیزیبلٹی منظور کرایا گیا اور قومی خزانےکے8 ارب روپے جھونک دیئے گئے۔

    مرادعلی شاہ نےکابینہ کے سامنے اس منصوبے کو عوامی فلاح کا قرار دیا تھا۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے بطور وزیر توانائی و خزانہ اختیارات کا غلط استعمال کیا اوراومنی گروپ کے ہی کنسلٹنٹ خورشید جمالی کے مشورے پر منصوبوں کا آغاز ہوا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی آڑ میں 8 ارب روپے کے علاوہ 2 کمپنیوں کو 3 ارب روپے کا قرض مراد علی شاہ نے جاری کروایا۔ ریفرنس میں نوری آباد پلانٹ کو کےالیکٹرک گرڈ سےملانےکیلئے ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ بھی غیرشفاف بولی سےدینے کاالزام عائد کیا گیا۔

    اس کےعلاوہ 2 ملزمان عارف علی اور آصف محمود اس کیس میں پہلے ہی 2.5 ارب روپے کی پلی بارگین کرچکے ہیں جبکہ خورشید جمالی نے پلی بارگین کی درخواست واپس لے لی تھی۔ نیب نے ریفرنس میں مراد علی شاہ کے علاوہ اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید سمیت 17 ملزمان نامزد کرکےان کا ٹرائل کرنے اور سخت سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

    دستاویزات کےمطابق پرائیویٹ کنٹریکٹرامجدحسین وعدہ معاف گواہ بن چکےہیں۔ انھوں نے نیب کو بتایا ہے کہ ٹیکنومین کائناٹکس نامی کمپنی کو بولی کے عمل میں ہیرا پھیری سے نوازا جاتا رہا۔ بولی کا عمل مکمل کرنے والی کمیٹی کے رکن اورممبر نیپرا محمود الحسن جانتے تھے کہ مراد علی شاہ سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوری آباد پلانٹس کو صرف 7کلومیٹرکی لائن سے ہیسکو کیساتھ ملایا جا سکتا تھا لیکن 85 کلومیٹر کی لائن کا ٹھیکا دےکر کےالیکٹرک سے ملایا گیا۔ نیب کی جانب سے ٹیکنو مین کائناٹکس نامی کمپنی کو مرادعلی شاہ کی منظور نظر بتایا گیا ہے۔ جےآئی ٹی رپورٹ میں اسی کمپنی کیجانب سے33 ملین ڈالر منی لانڈرنگ سےدبئی بھیجنے کا انکشاف بھی موجود ہے۔فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے والے اسی کمپنی کے2 ڈائریکٹرزاعتراف جرم کے بعد 2.5 ارب روپےکی پلی بارگین کرچکے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں. خواجہ محمد آصف

    پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں. خواجہ محمد آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی جماعت اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کا کوئی رہنما عمران خان کا دفاع کرنے کو تیار نہیں ہے.

    انہوں نے کہا کہ عمران خان بتائیں پاک آرمی میں میرٹ پر کب تعیناتی نہیں ہوئی اور جو بھی 4 یا 5 نام آتے ہیں وہ فوج کی قیادت بھیجتی ہے۔ ناکہ آپ کی طرح بی آر ٹی انکوائری دفن کر دی گئی، کیا یہ میرٹ ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو بیچ کر پیسے پاس رکھنا میرٹ ہے کیا ؟ کیا یہ میرٹ ہے کہ عدم اعتماد کا ذمہ دار امریکہ اور کبھی کسی ادارے کو ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں بہت آگے چلی گئی ہیں اور اب سب کچھ سامنے آئے گا۔ فارن فنڈنگ سے بھی معاملات بہت آگے جا چکے ہیں وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے توشہ خانہ پر درخواست دی اور 180 ملین پر تحقیقات مکمل کر لیں۔ شہباز شریف کے لندن جانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ میرے علم میں بھی نہیں ہے۔ عمران خان پہلے عدالتوں اور اداروں پر بات کرتے ہیں پھر وضاحتیں دیتے ہیں۔

    وزیر دفاع کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کیا ایجنسیز نے عمران خان کو ٹرانسفر پوسٹنگ میں کرپشن کا نہیں بتایا؟ اور عمران خان جواب دیں کہ کیا عثمان بزدار کو میرٹ پر وزیراعلی بنایا گیا ؟ کیا محمود خان اور مراد سعید کو میرٹ پر عہدے دیئے گئے؟ فرح خان جو ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرتی تھی کیا یہ میرٹ تھا؟ کیا فرح خان ٹرانسفر پوسٹنگ کرسکتی تھی؟

    انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کی تحقیقات رکوانے کے لیے عمران خان عدالت کیوں گئے تھے؟ اور کیا عمران خان کو نہیں معلوم تھا کہ سیمنٹ انڈسٹری کے لائسنس نہیں بک رہے تھے۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے خان صاحب کو کہا کہ بزدار پیسے لیتا ہے، راولپنڈی رنگ روڈ کا الائنمنٹ کیوں تبدیل کیا گیا؟عمران خان جواب دیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پارٹی فنڈ کو ذاتی استعمال پر عمران خان قوم کو جواب دیں اور عمران خان کو ہیروں والی بات کو ٹالنا نہیں چاہیے۔ عمران خان یہاں آئیں اورتمام سوالات کے جواب دیں اور عمران خان بتائیں کہ ان کی اہلیہ نے کسی سے جیولری لی ہے کہ نہیں؟ عمران خان امریکہ سے حقیقی آزادی چاہتے تھے وہاں لابیز رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔

  • پاکستان اس وقت آب و ہوا کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے. وفاقی وزیر شیری رحمان

    پاکستان اس وقت آب و ہوا کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے. وفاقی وزیر شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ہم ماحولیاتی آفات کے تباہ کن سال سے گزر رہے ہیں، خاص کر اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان اس وقت آب و ہوا کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اہم فیصلے اور اقدامات کیے جائیں۔

    عالمی کلین ایئر ڈے پر پیغام دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ آج پاکستان دنیا بھر کی ماحولیاتی ہنگامی صورت حال کی صف اول میں کھڑا ہے۔ ہوا کا معیار اور فضائی آلودگی ان اہم ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے۔ ہمارے شہروں اور گاؤں کو ہوا کی آلودگی کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت آب و ہوا کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے۔ ہم ماحولیاتی آفات کے تباہ کن سال سے گزر رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے فیصلے اور اقدامات کرنے کا وقت اب ہے۔

    فضائی الودگی پر بات کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود، ہم فضائی آلودگی کو بہتر بنانے اور اخراج کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، وزارت ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کلین ایئر پروگرام کے ذریعے فضائی آلودگی کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر لڑنے میں مصروف ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پروگرام کا مقصد آلودگی پھیلانے والے اہم شعبوں بشمول صنعتوں، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی سرگرمیوں اور اقدامات کو مربوط کرنا ہے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی گیسز اخراج کو کم کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، کیوں کہ ہمارے لیے یہ ایک فیصلہ کن دہائی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے فیصلے اور اقدامات کرنے کا وقت اب ہے، 2050 نہیں۔

    وفاقی وزیر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا میں نیا معمول بن چکی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی کوئی سرحدیں نہیں، ایک ملک پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات دوسرے ممالک پر بھی پڑے گے۔ تمام ممالک کو اپنی ہوا کو صاف کرنے کے لیے مربوط اور اجتماعی عالمی کوششیں کرنی چاہئے۔ پاکستان ایک صاف ستھرے اور صحت مند مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہے۔

  • جہانگیر ترین کا بلوچستان کیلئے مزید 1 کروڑ امداد کا اعلان

    جہانگیر ترین کا بلوچستان کیلئے مزید 1 کروڑ امداد کا اعلان

    جہانگیر ترین نے بلوچستان کیلئے مزید 1 کروڑ امداد کا اعلان کردیا ہے.

    سیلاب زدہ علاقوں اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین سرگرم ہوگئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی کیلئے کام کیلئے جہانگیر ترین کی جانب سے بدھ 7 ستمبر کو بلوچستان حکومت سے رابطہ کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے سیلاب متاثرین کيلئے جہانگری ترین کی جانب سے مزید ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جہانگیر ترین کی جانب سے خيبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کيلئے بھی امداد کا اعلان کیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ صبغت اللہ سے بھی رابطہ کیا گیا۔ اپر دیر میں سیلاب اور حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کے کام کیلئے بھی سابق وفاقی وزیر نے 25 لاکھ روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا. اس موقع پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی بحالی میں سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ جہانگیر خان ایک پاکستانی کارباری کھلاڑی ہیں جو سیاست دان کے طور پر زیادہ مشہور ہيں ۔ ترین خان 2002 سے 2017 کے درمیان تین بار پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ ترین کو سابق وزیراعظم پاکستان اور چیئر مین تحریک انصاف عمران خان کا دایاں ہاتھ اور اہم ترین مشیر سمجھا جاتا تھا۔ مگر بعد میں انہوں نے عمران خان سے اپنی راہیں جدا کر لیں ۔ان کے بیٹے علی ترین بھی سیاست میں مصروف ہيں ۔

  • اشفاق احمد کی 18 ویں  برسی

    اشفاق احمد کی 18 ویں برسی

    گفتگو کا بادشاہ سمجھے جانے والے ڈرامہ رائٹر ، دانشور، ادیب ، تجزیہ نگار، براڈ کاسٹر ، سفر نامہ نگار اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے ہیں. علم و ادب کی یہ بہت بڑی ہستی قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آئی. پاکستان آنے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا یہاں بانو قدسیہ بھی پڑھتی تھیں وہ ان کی ہم جماعت تھی ان کی یہیں دوستی ہوئی اور یہ دوستی شادی میں بدل گئی. اشفاق احمد کا پہلا افسانہ 1953 میں آیا. اشفاق احمد کا شمار ان ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد ادب کے افق پر چمکے. 1968 میں وہ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر منتخب ہوئے 89 تک یہ سلسلہ چلا . ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزیر تعلیم کے مشیر بھی مقرر

    ہوئے. 1965 میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے یہاں انہوں نے ہفتہ وار پروگرام شروع کیا جو کہ 30 سال تک چلتا رہا. 70 کی دہائی کے شروع میں انہوں نے ایک محبت سو افسانے لکھا. طوطا کہانی اور من چلے کا سودا سے اشفاق احمد تصوف کی طرف مائل ہوئے. اشفاق احمد کو ڈرامہ کی کہانی لکھنے کے فن پر جو عبور حاصل تھا وہ کسی کسی کو نصیب ہوا ، اشفاق احمد پلاٹ سے زیادہ مکالموں پر زور دیتے ان کے کردار طویل گفتگو کرتے. اشفاق احمد نے پی ٹی وی پر زاویے کے نام سے پروگرام بھی کیا یہ پروگرام بہت زیادہ سراہا گیا. جگر کا عارضہ لاحق ہونے کے باعث آج ہی کے دن 2004 میں خالق حقیقی سے جا ملے .

  • بلوچ طلبا کو اس عدالت سے مایوس واپس نہیں جانے دیں گے. عدالت

    بلوچ طلبا کو اس عدالت سے مایوس واپس نہیں جانے دیں گے. عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بلوچ طلبا کو اس عدالت سے مایوس واپس نہیں جانے دیں گے

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج بروز بدھ 7 ستمبر کو بلوچ طلبا ہراسانی کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کی نمائندہ ایمان مزاری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آج اس سے بھی زیادہ کوئی اور اہم معاملہ ہے؟ ایک صوبے کے طلبا شکایت لائے ہیں کہ ہراساں کیا جا رہا ہے، طلبا کہتے ہیں اپنے صوبے جائیں تو غائب ہو جاتے ہیں، جس پر ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے 30سے زائد بلوچ طلبا کے معاملے پر خط کا جواب نہیں دیا۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بلوچ طلبا کے معاملے پر کمیشن سربراہ چیئرمین سینیٹ سے بات کروں گا۔ بلوچ طلبا ہراسانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت ان بچوں کے پاس گئی ہے، 17 سالہ فیروز بلوچ بھی لاپتا ہے، یہ سب کون کررہا ہے۔ یہ ٹیسٹ کیس تھا سب جماعتوں کے لوگوں پر مشتمل کمیشن بنایا۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی سیاسی لیڈر نے چیئرمین سینیٹ کو کمیشن اجلاس بلانے کا کہا؟ کیا کسی سیاسی لیڈر نے اس مسئلے پر جلسے میں بات کی؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ طلبا کو اس عدالت سے مایوس واپس نہیں جانے دیں گے۔ طلبا یہ احساس لیکر جائیں گے کہ وہ ملک کے اہم ترین شہری ہیں۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل کو بلوچ طلبا پر قائم کمیشن کے ممبران سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی۔ اس دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بلوچ طلبا کا معاملہ تاحال حل نہ ہونے کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہرایا۔ اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نہ پارلیمنٹ میں آئے نہ انہوں نے پارلیمنٹ کو اہمیت دی۔ اگر وہ کوشش کرتے تو یہ معاملہ حل ہوسکتا تھا۔ اب عدالت نے یہ بوجھ ہم پر ڈالا ہے تو ہم اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیاسی جماعتوں نے بلوچ طلبا کو ترجیح بنایا ہوتا تو وہ آج یہاں نہ آتے، اگر بلوچ طلبہ کسی کی ترجیح ہوتے تو سیاسی جلسوں کے دوران اُن کے مسائل پر بات کی جاتی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ کمیشن کے ذریعے طلبہ کو یقین دلائیں کہ وہ اہم ہیں، بلوچ طلبا کو اس عدالت سے مایوس واپس نہیں جانے دیں گے۔ اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ جسٹس اطہر من اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس دوران کسی بلوچ طالب علم کو شکایت ہو تو اٹارنی جنرل سے رابطہ کرے۔

  • سدھارتھ مجھے خوش دیکھنا چاہتا تھا اسلئے ہمیشہ خوش رہوں گی شہناز گل

    سدھارتھ مجھے خوش دیکھنا چاہتا تھا اسلئے ہمیشہ خوش رہوں گی شہناز گل

    بگ باس 13 سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی شہناز گل جو سلمان خان کی فلم کسی کا بھائی کسی کی جان سے بالی وڈ میں ڈیبیو کررہی ہیں، وہ سوشل میڈیا پر چھائی رہتی ہیں کبھی وہ ہمیں‌گانا گاتی ہوئی نظر آرہی ہوتی ہیں اور کبھی وہ کچھ کہتی ہوئی سنائی دے رہی ہوتی ہیں. شہناز گل کو آڑھے ہاتھوں اس وقت لیا گیا جب ان کے کسی بھی سوشل میڈیا اکائونٹ پر ان کی طرف سے سدھارتھ شکلہ کی پہلی برسی پر کچھ نہ کہا گیا. تاہم شہناز گل نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے سدھارتھ شکلہ کا زکر کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ سدھارتھ مجھے ہمیشہ ہی ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا، اسے میں ہنستی ہوئی بہت اچھی لگتی تھی لہذا میں ہنستی مسکراتی ہی

    رہوں گی اور اپنا کام کرتی جائوں گی مجھےخوش رہ کر سدھارتھ کو خوش رکھنا ہے. شہناز گل نے یہ بھی کہا کہ مجھے بہت سارا کام کرنا ہے مجھے ابھی بہت آگے جانا ہے. انہوں نے کہا کہ میں جب تیار ہوتی ہوں تو مجھے اپنا آپ بہت اچھا لگتا ہے مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں سب سے بیسٹ ہوں. شہناز گل نے مزید یہ بھی کہا کہ پیار دیں پیار لیں. پیار بانٹیں گے تو خوشیاں ملیں گی اس لئے پیار کا دامن نہ چھوڑیں.

  • گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی. نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی. نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر


    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے باعث 18 افراد ہلاک جبکہ 17 زخمی

    آج ملک کے بیشتر حصوں میں موسم بنیادی طور پر گرم رہے گا جس میں خیبر پختون خواہ اور گلگت میں چند مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ 8 ستمبر کو ملک کے بیشتر حصوں میں بنیادی طور پر گرم موسم متوقع ہے جبکہ کےپی کے بالائی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر موسم جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان بھی ہے۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر کے مطابق: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متاثرین 17 زخمی ہوئے۔ تاہم اب تک مجموعی طور پر 1343 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 12720 زخمی ہو چکے ہیں۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوریڈی نیشن سنٹر کا کہنا ہے کہ: اب تک 383 آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 20 اڑان بھری گئی تھی اور 217 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا گیا جبکہ 30 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    اعلامیہ کے مطابق: اب تک سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں 147 ریلیف کیمپس اور سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان جمع کرنے اور آگے تقسیم کرنے کے لیے ملک بھر میں 278 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
    علاوہ ازیں عطیات کی مدد میں اب تک 4973 ٹن اشیائے خوردونوش کے ساتھ 925 ٹن غذائی اشیاء اور 2850229 ادویات جمع کی جا چکی ہیں جبکہ 4377.9 ٹن خوراک 887 ٹن غذائی اشیاء اور 2596769 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    علاوہ ازیں گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ: پاک فضائیہ نے فضائی پروازیں کرکے 1521 اہلکاروں کو ریسکیو کیا، 2763 خیمے، 106495 کھانے کے پیکٹ، 1161113 کلو گرام راشن، 134486 لیٹر 165 شہروں میں پانی فراہم کیا گیا۔ جبکہ لوگوں کو خوراک، خشک راشن اور طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    پی اے ایف ہیلی کاپٹرز سیلاب سے متاثرہ افراد کو بچانے اور ان علاقوں میں مدد فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں کیونکہ زمینی راستے سے اکثر علاقوں میں مکمل طور پر کٹ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس وقت پی اے ایف سندھ، نواب شاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہار، جیکب آباد، سہون، اور بلوچستان سمنگلی، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ۔ پنجاب میں راجن پور اور ڈی جی خان، جی بی، گلگت اسکردو، غذر، نلتر، گانچھے۔ کے پی کے، نوشہرہ، چارسدہ، خاصگی، سیدو شریف، شانگلہ،میں اپنی امدادی و آپریشن کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔
    سڑکوں کی مرمتی
    ملک کے مختلف حصوں میں سڑکوں اور راستوں کی صورتحال ابھی بھی مسدود ہے N-95 – (بحرین – لائکوٹ – لائیکوٹ – کالام)، N-55 ڈی آئی خان کے قریب پروآ میں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے، N-50 سگو میں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے وانگو پہاڑیوں کے 24 کلومیٹر حصے میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پل اور M-8 بند ہے۔

  • سوناکشی سنہا چاولوں کی دیوانی نکلیں، کہتی ہیں جتنے مرضی رائس کھلا دو کھا لوں گی

    سوناکشی سنہا چاولوں کی دیوانی نکلیں، کہتی ہیں جتنے مرضی رائس کھلا دو کھا لوں گی

    شتروگن سنہا کی بیٹی بالی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا نے حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ کھانے پینے کی بہت شوقین ہیں. وہ پیزا بھی کھا لیتی ہیں، چائینز بھی کھا لیتی ہیں. تھائی فوڈ بھی مزے سے کھاتی ہیں. لیکن چاول واحد ایسی چیز ہیں جو وہ بہت زیادہ شوق سے اور بہت زیادہ کھاتی ہیں . انہوں نے کہا کہ میں سب کچھ شوق سے کھا لیتی ہوں لیکن جب بات ہو رائس کی تو میں سب کچھ چھوڑ کر رائس کی طرف ہوجاتی ہوں اور میرا دل ہی نہیں بھرتا چاہے مجھے جتنے مرضی رائس کھلا دو یہاں تک کہ اگر مجھے پلیٹ میں چاولوں کے دو بڑے پہاڑ ہی کیوں نا بنا دئیے جائیں میں کھا لوں گی. سوناکشی کے مطابق ان کی لسٹ میں چاولوں کو نہ نہیں ہے. انہیں جب بھی اور جتنے بھی رائس دئیے

    جائیں وہ کھا لیتی ہیں. یاد رہے کہ بالی وڈ فلموں میں اینٹری سے پہلے سوناکشی سنہا بہت موٹی تھیں ان کا وزن 90 کلو سے بھی زیادہ تھا انہوں نے دبنگ سلمان خان کے کہنے پر اپنا وزن کم کیا اس کے بعد انہی کے ساتھ فلم دبنگ میں بطور ہیروئین کام کیا. سوناکشی اس فلم میں اچھی خاصی سلم لگ رہی ہیں سوناکشی کو ان کی پہلی فلم سے ہی شائقین نے پسند کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انکا شمار بالی وڈ کی بہترین اداکارائوں میں ہونے لگا.

  • راکھی ساونت کے انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد 10 ملین ہو گئی

    راکھی ساونت کے انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد 10 ملین ہو گئی

    بالی وڈ اداکارہ اور رقاصہ راکھی ساونت کے انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد 10 ملین ہو گئی ہے اس خوشی کو انہوں نے منایا اپنے بوائے فرینڈ عادل کے ساتھ. راکھی ساونت نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو شئیر کی جس میں وہ اپنے بوائے فرینڈ عادل کے ساتھ 10 ملین فالورز ہونے کی خوشی میں کیک کاٹ رہی ہیں . اس موقع پر انہوں نے کہ میں‌اپنے فالورز کی شکر گزار ہوں. میں بہت خوش ہوں کہ میرے فالورز کی تعداد 10 ملین ہو گئی ہے لوگوں کے تو پچاس پچاس ملین ہیں اور میرے 10 ملین ہونے میں اتنے سال لگ گئے. راکھی کی اس بات پر ان کے سامنے کھڑے ایک کیمرہ مین نے کہا کہ جب آپ کا اور عادل کا گانا آئیگا تو آپ کے فالورز کی تعداد 20 ملین ہو جائیگی. یاد رہے کہ راکھی ساونت ڈرامہ کوئین کے نام سے جانی

    جاتی ہیں. انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میرے بوائے فرینڈ عادل نے مجھے ایسے کپڑے پہننے سے منع کیا ہے جس سے جسم کی نمائش ہو لہذا میں ان کی اس بات کو ضرور مانوں گی. انسٹاگرام پر اپنے فالورز کی تعداد 10 ملین ہونے پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں آج جو بھی ہوں اپنے مداحوں کی بدولت ہوں . میرے مداحوں نے ہمیشہ مجھے بہت زیادہ پیار دیا ہے جس کےلئے میں ان کی شکر گزار رہوں گی.