Baaghi TV

Author: +9251

  • قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا،شہباز گل کیس کا تحریری فیصلہ

    قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا،شہباز گل کیس کا تحریری فیصلہ

    سیشن کورٹ اسلام آباد بغاو ت مقدمے میں شہبازگل کی ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا .فیصلے میں کہا گیاکہ ملزم شہباز گل پارٹی لیڈر ہیں اور متنازعہ بیان کسی اندرونی اجلاس میں نہیں دیا، شہباز گل کا بیان قابل احترام ادارے پاک فوج میں نظم و ضبط خراب کرنے کے لیے کافی ہے،شہباز گل کا بیان عوامی مفاد میں ہے نہ ہی ملکی سالمیت کے حق میں،قانون ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کی رعایت نہیں دیتا، بادی النظر میں شہباز گل ناقابل ضمانت جرم کرنے کے مرتکب ہوئے، ریکارڈ پر شہباز گل کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں،

    اداروں کے خلاف بیان دینے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گِل کی ضمانت مسترد کردی گئی۔

    اسلام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج ظفر اقبال نے بغاوت کے مقدمے میں نامزد شہباز گِل کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے گزشتہ روز درخواست پر فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل پر اداروں میں بغاوت پر اکسانے کا الزام ہے جبکہ وہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    ایڈیشنل سیشن کورٹ کے جج نے 11 بجے محفوظ فیصلہ سنایا ہے، عدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاک آرمی کے افسران کیخلاف منظم طریقے سے ملزم نے بات کی اور ان کے الفاظ میں پاک فوج کے خلاف بغاوت کے لیے اکسایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ملزم نے پاک فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی جس سے سپاہی سے لیکر بریگیڈئیر رینک تک افسران کے جذبات مجروح ہوئے، بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ شہباز گل کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟ اگر کوئی غلط فہمی ہے تو شہباز گل معافی مانگنے کیلیے تیار ہیں۔

    شہباز گل کے وکیل نے عدالت میں بغاوت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز گل نے بغاوت کے متعلق کبھی سوچا ہی نہیں۔ ان کے انٹرویو کے ٹرانسکرپٹ کے مختلف جگہوں سے پوائنٹ اٹھا کر مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جس کو بغاوت کہا گیا وہ بغاوت ہے کہاں؟شہباز گل پڑھا لکھا شخص ہے۔ انہوں نے فوج کو ہمارے سر کا تاج کہا ہے۔

    وکیل نے شہباز گل کا آفیشل ٹوئیٹر عدالت کو دکھایا۔ انہوں نے کہاکہ شہباز گل نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ کسی بھی جھوٹی خبر پر یقین نہ کریں۔ٹوئیٹس سے واضح ہے کہ انہوں نے فوج کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا.

    کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کے متنازع بیان اور اینکر کے سوال کی ویڈیو بھی چلائی گئی تھی۔

  • سیلابی صورتحال میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی

    سیلابی صورتحال میں حکومت کی ناقص منصوبہ بندی

    مون سون سیزن کی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے گلوبل وارمنگ، ماحولیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کی سنگینی کو عیاں کردیا ہے۔

    ماحولیات کے ماہرین عرصہ دراز سے ان خطرات سے آگاہ کرتے چلے آرہے ہیں، اس موضوع پرعالمی سیمینارز اور کانفرنسز بھی ہوتی رہتی ہیں،کرہ ارض کو بچانے کے لیے عہد و پیماں بھی ہوتے ہیں، اربوں ڈالرز کے فنڈز بھی مختص کیے جاتے ہیں لیکن اس ساری مشق کے نتائج زیادہ اچھے نہیں نکل رہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے میں دنیا کے امیر اور صنعتی ملکوں کا حصہ زیادہ ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ پسماندہ اور غریب ملکوں کے حکمرانوں اور ریاستی عہدیداروں نے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور امیر ملکوں سے ملنے والے فنڈز کا درست استعمال نہیں کیا بلکہ ریاستی مشینری اور حکمران قیادت کی ذہنی پسماندگی، دولت کی ہوس، اقربا پروری، دوست نوازی اور بے حسی نے غریب ملکوں کے وسائل کو لوٹا،اپنے ملکوں کو دوسروں کے لیے چرا گاہ بنایا، ماحولیاتی آلودگی روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ، جس کے نتیجے میں قدرتی آفات ہر سال بڑھتی چلی جارہی ہیں۔

    ایک ایڈیٹوریل کے مطابق: پاکستان بھی ایسے ہی ملکوں میں شامل ہے جہاں نیچر کو بڑی بے رحمی سے تباہ کیا گیا اور یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا ہے۔ پاکستان گلوبل وارمنگ کے اثرات اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے لیکن اس سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکمرانوں کا رویہ اور کردار غفلت،کوتاہی، کم فہمی اور بے حسی پر مبنی ہے۔ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب نے ملک کے انتظامی ڈھانچے کی قلعی کھول دی ہے۔

    آبادیاں، کمرشل عمارتیں، زرعی زمینیں پانی کی یلغار نے تباہ کردیں لیکن پورا ریاستی نظام بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں مرکزی، صوبائی اور شہری اداروں کی بھرمار ہے، لاکھوں کی تعداد میں افسر اور اہلکار ہیں، پاکستان کے ٹیکس پیئرز کے پیسوں سے انھیں اربوں روپے تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں دیے جارہے ہیں، لیکن ان کی کارکردگی حالیہ سیلاب اور بارشوں نے سب پر عیاں کردی ہے۔

    آج کے جدید سائنسی دور میں آندھی،طوفان ، بارش، سیلاب وغیرہ کا مقابلہ کرنا خاصا آسان ہوچکا ہے ، کیونکہ موسم اور سیزنزکی ساری صورتحال پہلے ہی معلوم ہوجاتی ہے، اب تو آنے والے کئی برسوں کا ریکارڈ بآسانی مرتب کیا جا سکتا ہے، کتنی گرمی پڑے گی، کتنی سردی پڑے گی، کتنی بارش ہوگی، پہاڑوں سے پانی کا بہاؤ کس قدر بڑھے اور دریاؤں کی کیا صورتحال ہوگی۔

    یہ سب کچھ ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہا ہے،ہم بھی ان سے یہ جدید نظام لے کر ان مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے اسپارکو، محکمہ موسمیات اور دیگر سائنسی اداروں کے نظام کو باہم مربوط کر کے ریکارڈ مرتب کیا جاسکتا ہے اور اسٹرٹیجی بھی بنائی جاسکتی ہے ۔ انٹرنیٹ اور موبائل پر یہ ساری معلومات دستیاب ہیں، تو پھر ہمارے سرکاری ادارے اور انتظامی محکمے پیشگی حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کرتے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے سے سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

    زمین بردگی کا شکار ہو رہی ہے، جس سے زمین کا رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ موسموں کے مزاج بدل گئے ہیں، گرمی میں سردی اور سردی میں گرمی کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے۔ یہ حقائق ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ آبی، زمینی اور فضائی آلودگی اور تیزی سے ناپید ہونے والے جنگلات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا نہ کی تو ہمیں مستقبل میں ماحولیاتی تغیر کے منفی اثرات کے طور پر ہولناک تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ جو خطرہ ہمارے سرپر منڈلا رہا ہے اور جس طرح تباہی ہمارے در پر دستک دے رہی ہے۔

    ہمیں اس کا ابھی انفرادی سطح پر ادراک نہیں اور نہ ہم اس طرف کوئی توجہ ہی دے رہے ہیں۔ کرہ ارض پر زندگی کی بقا کے لیے جنگلات کی اہمیت اسی طرح ہے جیسے انسان آکسیجن، پانی اور خوراک کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور ان سب کے حصول کے لیے زمین اور ماحول بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ تشویشناک حد تک کم ہے ، ہم جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اس خطے میں ہیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے ۔

    بیوروکریسی ذہنی پسماندگی کا شکار ہے،جس کی وجہ سے سرکاری اداروں کی کارکردگی زوال پذیر ہوتے ہوتے صفر تک پہنچ چکی ہے۔سرکاری افسر جدید نظریات کو قبول کرنے سے گھبراتے ہیں، یہی حال پاکستان کی سیاسی قیادت کا ہے۔ اوسط درجے کی ذہانت غیرمعمولی کارنامہ سرانجام دینے سے قاصر ہوتی ہے، ایسے افسر اور سیاستدان ذاتی مفادات کے لیے کچھ بھی کرنے پر تیار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی رک رہی ہے نہ سرکاری اور وقف املاک کی الاٹمنٹ رک رہی ہے۔

    غیرقانونی عمارتیں بھی اسی لیے قائم ہوتی ہیں کیونکہ ایسی عمارتوں کی منظوری دینے والے سرکاری افسروں کا کوئی احتساب نہیں ہوتا ہے، اسی وجہ سے ہمارے اداروں کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے کیونکہ نکھٹو اور کند ذہن سرکاری افسر اور حکمران اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ بھارت کے شہر نوائیڈا میں دوکثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کو 9سال کی قانونی جنگ کے بعد گزشتہ روز گرایا گیا ہے۔

    یہ دونوں 40 منزلہ عمارتیں ہیں، ان عمارتوں کو دھماکا خیز مواد کی مدد سے صرف 9سیکنڈ میں گرایا گیا ، اصل بات یہ ہے کہ ان عمارتوں کو گرانے سے پہلے قریبی عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مکمل اقدامات کیے گئے تھے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 103میٹر بلند جڑواں عمارتیں گرانے سے پہلے قریبی عمارتوں کے رہائشیوں کو 5گھنٹے کے لیے گھروں سے باہر رکھا گیا، عمارتیں گرانے کے وقت اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بند کر دی گئی ،دونوں عمارتوں کا 80ہزار ٹن ملبہ اگلے 3ماہ میں ٹھکانے لگایا جائے گا۔ بھارت میں غیر قانونی تعمیرات گرانے کی یہ اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

    تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی پر بھارتی سپریم کورٹ نے پچھلے سال دونوں عمارتیں گرانے کا حکم دیا تھا، یہ بھارت میں گرائی جانے والی سب سے بلند عمارتیں ہیں جن میں فلیٹ خریدنے والوں کو 12فیصد سود سمیت مکمل رقم واپس کی جا چکی ہے۔

    بھارت نے دہلی کوآلودگی سے پاک کرنے کے لیے آیندہ تین سالوں میں 600ملین ڈالرخرچ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے، جس کے لیے شہر کی زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ کو برقی توانائی فراہم کی جائے گی۔ڈائیلاگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کمیشن کی وائس چیئرمین جیسمین شاہ کا کہنا ہے کہ دہلی کا شمارعالمی درجہ بندی میں آلودہ شہروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے2025 تک اپنی 80فیصد بسوں کو الیکٹرک بنانے کے ساتھ ہی مزید چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔جیسمین شاہ نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک چوتھائی حصے کے طور پر شمسی توانائی پرانحصار کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں دہلی میں رجسٹرڈ گاڑیوں میں سے12فیصد الیکٹرک گاڑیاں ہیں۔

    چین میں شدید گرمی کی طویل لہر اور سنگین خشک سالی سے کاروباری سرگرمیاں اور لوگوں کی روز مرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ چینی خبررساں ادارے نے محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا کہ ملک کے متعدد علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ1961میں اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھے جانے کے آغاز سے اب تک یہ گرمی کی شدید ترین لہر ہے جس کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گرمی کی جاری لہر کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق سیچوان صوبے اور پن بجلی پر انحصار کرنے والے ملک کے دیگر اندرونی علاقوں میں بجلی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی حکام نے بعض کارخانوں کو وسط اگست سے بند کروا رکھا ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ ہوبئے اور جیانگشی صوبوں میں دریائے یانگزے کے ساتھ ساتھ واقع فارمنگ کی صنعتیں خشک سالی سے شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ادھر اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے متعدد اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جن میں بارش برسانے کے لیے راکٹس چھوڑنا بھی شامل ہے۔

    سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو ابھی سے بہتر منصوبہ بندی کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہو گا ورنہ ہر مشکل وقت میں شہری یونہی پریشان حال اور حکمران چندہ اور امداد مانگ کر عوامی خدمت کے بلند بانگ دعوے کرتے رہیں گے۔

  • عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری

    عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری

    عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت سے ایک روز قبل ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران ضابطہ اخلاق کا سرکلر جاری کردیا ہے۔

    سرکلر کے مطابق کورٹ روم نمبر ون میں انٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی، پندرہ کورٹ رپورٹرز کو کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہو گی جبکہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے پانچ پانچ وکلاء کو اجازت ہو گی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی لیگل ٹیم کے 15 وکلاء کمرہ عدالت میں موجود ہو سکیں گے، جبکہ اٹارنی جنرل آفس اور ایڈوکیٹ جنرل آفس سے 15 لاء افسران کو اجازت ہو گی۔

    سرکل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئر مین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی لیگل ٹیم ، وکلاء باڈیز ، اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل آفس آج لسٹیں جمع کرائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو بھی 15 صحافیوں کی لسٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، لسٹوں کی فراہمی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری کرے گا۔

    کورٹ ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو سیکورٹی انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیںِ جبکہ معمول کے کیسز کی سماعت کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے سماعت کا وقت ڈھائی بجے رکھا گیا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ کل دن اڑھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا۔

    واضح‌ رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ تاہم وہ زاتی حثیت میں کل عدالت میں پیش ہوں گے.

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل لارجر بینچ نے کی تھی۔

  • معاشی چیلنجز کے باعث پاکستان کو توانائی کے نقصانات کم اور ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنا ہوگا. آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ معاشی چیلنجز کے باعث پاکستان کو توانائی کے نقصانات کم اور ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنا ہوگا۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو چیلنجز درپیش ہیں، لہٰذا پاکستان کو توانائی کے نقصانات کم کرنا ہوں گے اور ٹیکس آمدنی بڑھانا ہوگی۔ بین لاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزے کی منظوری سے متعلق اعلامیہ گزشتہ روز جاری کردیا تھا، جس کے مطابق قرض پروگرام میں جون 2023ء تک توسیع کی منظوری دے دی گئی ہے جب کہ پاکستان کے لیے قرض پروگرام 6 ارب ڈالر سے بڑھا کر ساڑھے چھ ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کے اجراء کی منظوری دے دی
    بھارت اور پی ٹی آئی نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی مخالفت کی، مفتاح اسماعیل

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز کی قسط منظور کرلی گئی ہے۔ پاکستان کو مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ یقینی بنانا ہو گا،کاروباری ماحول بہتر بنا کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ بہتر اقدام ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی شعبے میں تحفظ اور حکومتی ملکیتی اداروں کی کارکردگی کوبہتربنانا ہوگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دی تھی۔ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کو تقریباً ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی اور قرض کی یہ رقم آئی ایم ایف کی جانب سے اسی ہفتے پاکستان کو منتقل کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی معیشت کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بات وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان کے ذریعے کہی ہے۔


    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام معیشت کی سمت کے تعین میں معاون ہو گا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مضبوط معیشت کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔

  • عمران خان نے منظم سازش کے ذریعے ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے معیشت پر کاری وار کیا

    عمران خان نے منظم سازش کے ذریعے ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے معیشت پر کاری وار کیا

    تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی جانب سے ایک منظم سازش کے ذریعے ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے معیشت پر ایک ایسا کاری وار کیا ہے جس کی بنیاد پر ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا اور پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری کی سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے ساتھ ٹیلیفونک آڈیو لیک نے عمران خان کے ریاست کے خلاف عزائم کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔لیکن ٹیلیفونک گفتگو کے دوران محسن لغاری کے شوکت ترین سے اس سوال سے کہ ‘کیا آئی۔ایم۔ایف کو خط لکھ کر معاہدہ منسوخ کرانے کا اقدام ریاست کے لئے نقصان کا باعث نہیں ہو گا؟’

    شکیل انجم کہتے ہیں کہ: ملک میں امید کی ایک شمع روشن کر دی ہے لیکن تحریک انصاف کی اس قیادت کےلئے ایک سوال چھوڑا ہے جو ملک کی سلامتی کو عمران خان کی منفی نظریات سے بالاتر سمجھتے ہیں کہ انہیں عمران خان کی اندھی پیروی کرنی چاہیۓ؟۔ کیا عمران خان کو اس حقیقت کاعلم نہیں کہ ان کی خواہش کے مطابق آئی۔ایم۔ایف سے معاہدہ ختم ہو جانے کی صورت میں اس ملک کے دیوالیہ ہونے کے بعد کیا حشر ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں اشیاء خورونوش کی قلت تو متوقع ہے لیکن آنے والے وقتوں میں ڈالر کی اڑان دسترس سے نکل جائے گی۔۔ اور عمران خان کی خواہش کے مطابق ملک میں سلامتی کے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی۔۔ اور تحریک انصاف کا پاکستان کو سری لنکا کا ’’درجہ‘‘ دلانے کا مشن پورا ہو جائے گا۔

    شکیل انجمکے مطابق: عمران خان کی جانب سے کیا جانے والا ایک کے بعد دوسرا حملہ اور ہر حملہ ریاست اور ملک کی سلامتی کے خلاف کیوں؟ اس کا جواب تحریک انصاف کے ایک جذباتی نوجوان نے اپنے قائد عمران خان کے مشن کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو۔‘‘ کیونکہ عمران خان کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے۔ ملک رہے نہ رہے، انہیں اس کی پرواہ نہیں۔

    عمران خان کے ریاستی اداروں پر حملوں کو اب سیاسی اور سماجی حلقے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔یہ تاثر عام ہو رہا ہے عمران خان کا طرز سیاست صرف ریاست کو کمزور اور ملک کو معاشی بدحالی کے ذریعے غیر مستحکم اور دیوالیہ کرنا ہے۔ اصل مقصد اس مرحلے پر تحریک انصاف کے قائد کے وژن کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر فوری الیکشن کرانے کے لئے انتہائی دباؤ ڈالا جائے۔۔

    تحریک انصاف کی قیادت کو قوی یقین ہے کہ پی۔ٹی۔آئی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔جس کے بعد آئین کی ان شقوں میں ترامیم سے "حقیقی آزادی” حاصل کرنے کا غیر محسوس طور پر آغاز کردیا جائے گا۔۔ اور رفتہ رفتہ "حقیقی آزادی” کا مطلب اور مقصد لوگوں کی سمجھ میں آنےلگےگا لیکن تب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔۔ کہتے ہیں یہ وہ مقاصد ہے جنہیں قبول کرنا اس ملک کے راسخ العقیدہ عوام کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔۔ یہیں سے عمران خان کے زوال کی ابتداء ہو گی۔

    چاروں صوبوں میں بارشوں نے تباہی مچا دی۔ گلیاں، بازار، سڑکیں، میدان اور صحرا بپھرے ہوئے دریاؤں اور ندی نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ پانی کا تیز بہاؤ کچے مکانوں اور اونچی عمارتوں کو عمران خان کی ’’سونامی‘‘ کی طرح بہا لے جا رہا ہے۔ اور عمران خان کی "سونامی” اسی طوفانی شدت سے ریاستی اداروں کو غرقاب کر رہی ہے۔۔جس کی تباہی سے عدلیہ، مقننہ، افواج اور شعبہ صحافت بھی محفوظ نہیں۔

    ایک المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف نے ملک کی بڑی سیاسی پارٹی ہونے کے باوجود عملی طور پر بڑا ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔۔سیلاب میں بہتے سینکڑوں بچوں، عورتوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھنے کے باوجود عمران خان یا پارٹی کے کسی راہنما کا دل نہیں پسیجا۔۔قائد تحریک اگر واقعی عوام کی تکلیف محسوس کرتے ہوتے تو اپنے لاکھوں کارکنوں کو سیلاب زدہ علاقوں میں مشکلات میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کا حکم دیتے یا ان کے لئے پارٹی کی سطح پر فنڈ ریزنگ کرنے کی ترغیب دیتے۔۔

    لیکن انہوں نے پانیوں میں ڈوبے بے سہارا پاکستانیوں کی مدد کرنے کی بجائے عین اسی روز جب ہزاروں لوگ ڈوب رہے تھے، نیویارک میں مقیم پاکستانی کمیونیٹی کو ایک وڈیو پیغام میں "حقیقی آزادی” کے لئے دل کھول کر فنڈنگ کرنے کی ہدائت کی لیکن سیلاب میں گھرے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے فنڈ ریزنگ میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔۔محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو اس بات کا علم نہیں کہ سیلاب میں جانبحق ہونے والوں میں 359 بچے شامل ہیں۔

  • عمران خان کی ٹیلی تھون،بڑے بڑے دعوے،من پسند کالیں، کئی سوال اٹھ گئے

    عمران خان کی ٹیلی تھون،بڑے بڑے دعوے،من پسند کالیں، کئی سوال اٹھ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ٹیلی تھون ٹرانسمیشن میں 5 ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ دوسی جانب لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہ عمران کان کی ٹیلی تھون میں کال کرتے رہے تاکہ عطیہ دینے کے ساتھ عمران خان سے پوچھ سکیں کہ ان کی جماعت کی جانب سے جو تازہ ترین کال لیک ہو ئی ہے اور اس میں ملک کے مفادات کے خلاف بات کی گئی اس کے بارے میں بھی عمران خان کیا کہتے ہیں؟ ،،تاہم لوکوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کالز عمران خان تک نہیں پہنچائی گئیں.

    لوگوں کا کہنا تھا کہ عمران خان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ ٹیلی تھون سے حاصل کردہ فنڈز وزیراعظم کے فلڈ ریلیف ٍفنڈ میں جمع کرائیں گے؟ کیا عمران خان ٹیلی تھون میں حاصل کردہ رقم کے پی کے میں جہاں ان کی حکومت ہے وہاں خرچ کریں گے یا صوبہ سندھ میں؟

    کال کرنے والوں کا مزیڈ کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے یہ بھی پوچھنا چاہتے تھے کہ کیا یہ فنڈز پی ٹی آئی کے پارٹی فنڈ میں رکھے جائیں گے؟. لوگوں کا مذید کہنا تھا کہ ابھی بھی عمران خان ملک میں کتنے جلسے کرنا چاہتے ہیں؟ اور ایک طرف عمران خان سیلاب ذدگان کیلئے عطیات اکٹھے کر رہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے خلاف باتیں کر رہے ہیں جو سازش کے زمرے میں اتا ہے.

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی ٹیلی تھون میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی امریکن شاہد خان نے ایک بلین ڈالر کا ڈونیشن دیا ہے ۔ دو دن کے بعد شاہد خان خود لائیو آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بلین ڈالر تو ان کے ٹوٹل اثاثہ جات کا حجم نہیں ہے۔ آج اسی طرح کے بڑے بڑے اعلانات ہو رہے ہیں۔ بعد میں پتہ چلے گا کہ انہوں نے دو ہزار ڈالر دیے تھے جن کی بابت 22 ملین ڈالر کہا جا رہا ہے۔

    تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ 2010 کے سیلاب میں قوم کو متاثرین کی مدد کرتے ہوئے دیکھا ہے اب بھی مشکل گھڑی میں پوری قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے اور ان کی بھرپور مدد کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ جو بھی فنڈز ملیں گے اسے ثانیہ نشتر کی سربراہی میں خرچ کیا جائے گا ہمارا مقصد ہے کہ جتنے بھی فنڈز جمع ہوں گے سیلاب متاثرین پر خرچ کئے جائیں.

  • صدر مملکت عارف علوی کو غیر ملکی کے نامزد سفراء نے سفارتی اسناد پیش کیں

    صدر مملکت عارف علوی کو غیر ملکی کے نامزد سفراء نے سفارتی اسناد پیش کیں

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو جرمنی، سپین، بلجیئم ، لیبیا، کینیا اور ایتھوپیا کے نامزد سفیروں نے ایوان صدر میں منعقد ایک تقریب میں اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت سے پاکستان میں جرمنی کے سفیر الفریڈ گریناس، سپین کے سفیر جوز انتونیا دی اورے پرل، بیلجیئم کے سفیر چارلس ڈیگلون، لیبیا کے سفیر معمر زیدو عبدالمطلب، کینیا کے ہائی کمشنر میری نیمبورا کماؤ اور ایتھوپیا کے سفیر جمال بکر عبداللہ نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جرمنی کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے، ہوا، شمسی توانائی اور ہائیڈل پاور پراجیکٹس میں مہارت رکھنے والی جرمن کمپنیاں ان شعبوں میں موجود مواقع اور مراعات سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن سرمایہ کار سی پیک کے تحت پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں، دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کے پیش نظر تجارت کی موجودہ سطح کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے منفی اثرات کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہے۔

    صدر مملکت سے پاکستان میں سپین کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے مابین اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، صدر مملکت نے جی ایس پی پلس سکیم پر پاکستان کیلئے سپین کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور سپین کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت سے بیلجیئم کے نامزد سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ تجارتی وفود کے تبادلوں، تجارتی میلوں میں شرکت اور مشترکہ منصوبوں سے تجارتی تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، پاکستان اور بیلجیئم کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم کو 1.35 ارب ڈالر کی موجودہ سطح سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، پورٹ ہینڈلنگ اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بامعنی تعاون کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں صدر مملکت عارف علوی سے پاکستان میں لیبیا کے نئے سفیر نے بھی ملاقات کی۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان اور لیبیا کے مابین تجارتی تعلقات کو وسعت دینے، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ 11 سال کے وقفے کے بعد تعینات ہونے والے نئے سفیر برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔ صدر مملکت سے پاکستان میں کینیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کینیا کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کینیا افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی اور دوسرا بڑا درآمدی شراکت دار ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے تجارت، معیشت، دفاع اور بارڈر مینجمنٹ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور ہم آہنگی کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    صدر مملکت سے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے ایتھوپیا کی جانب سے اسلام آباد میں سفارتی مشن کھولنے کے فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلے سے تعلقات میں بہتری آئے گی، دوستی اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہوا بازی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔ صدر مملکت نے کراچی اور عدیس ابابا کے مابین 2 ہفتہ وار براہ راست پروازوں کا بھی خیرمقدم کیا

  • بھارت اور پی ٹی آئی نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی مخالفت کی، مفتاح اسماعیل

    بھارت اور پی ٹی آئی نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی مخالفت کی، مفتاح اسماعیل

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہر ملک نے ووٹ دیا، صرف بھارت نے نہیں دیا، یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بھارت اور پی ٹی آئی نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کی مخالفت کی۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ان لوگوں نےاوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے، شوکت ترین سے جھگڑا نے کہا کہ ہم بلیک میل کر رہے ہیں، ایک آدمی جھوٹ بول رہا ہے، ٹیپ سامنے آگئی تو چپ رہنا چاہیے، نچلے درجے کی سیاست کر رہے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اسد عمر خود تو 9 ماہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کرسکے، میں یہ نہیں کہتا کہ بھارت اور پی ٹی آئی کا ایک ہی ایجنڈا ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کیا یہ دو دن بعد خط نہیں لکھ سکتے تھے، یہ میرے پاس آئے اور کہا کہ آئی ایم ایف کو خط نہیں لکھا، میں نے چیک کروایا تو ایک گھنٹے بعد خط آئی ایم ایف کے پاس آچکا تھا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ تیمور جھگڑا نے مجھ سے کہا کہ جو رقم دی ہے وہ تنخواہوں کیلئے کم ہے، جھگڑا صاحب آئے ان کو میں نے کہا کہ سیاست پر کوئی بات نہیں کروں گا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گلگت بلتستان اور کشمیر ہم سے پوچھ کر پوسٹ کریئٹ کرتے ہیں، ہائیڈل کے پیسے عمران خان کے زمانے کے تھے، میں نےآئی ایم ایف سے جو پروگرام کیا ہے اس میں غلطی ہے تو بتائیں، آپ بلیک میل اور پروگرام کو ڈی ریل کرنے کا کہہ رہے ہیں، شرم نہیں آتی، کیا عمران خان چاہتا ہے ملک دیوالیہ ہوجائے؟

    وزیر خزانہ نے کہا کہ شوکت ترین مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں، اگر شوکت ترین یہ سب کچھ نہیں کرتے تو خط نہیں آتا، لمحہ فکریہ ہے آپ نے پروگرام کو ڈی ریل کرنے کا سوچا، پی ٹی آئی والے قوم سے معافی مانگیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں نے اور شہباز شریف نے ملک کو بچانے کیلئے تنقید برداشت کی، آئی ایم ایف نے 4 بلین انویسٹمنٹ لانے کا کہا، ہم 5 بلین لائے، سعودی عرب، قطر، یو اے ای سے سرمایہ کاری کروائی جبکہ چین سے ڈھائی ارب ڈالر کی ڈپازٹ کروائی، یقین ہے نواز شریف اور اسحاق ڈار مجھ سے خوش ہیں، ہم نے سب کچھ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا سیلاب نہیں آیا، 28 ارب روپے این ڈی ایم اے کو دیے ہیں، آئی ایم ایف نے آج بھی پاکستانیوں سے ہمدردی کی ہے۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یقیناً اس پروگرام کی شرائط میں نرمی ہوگی، جو مسائل ہوں گے ان سے نمٹیں گے، آئی ایم ایف سے بات کریں گے، تین چار ملین ٹن گندم امپورٹ کرلیں گے، دالیں اور سبزیاں بھی امپورٹ کرلیں گے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کل سے روپیہ مستحکم ہوگا، پورا پاکستان ڈوب گیا ہے اور منگلا ڈیم نہیں بھرا، ہم نے امپورٹ پر کنٹرول رکھا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک سے بات ہوئی، گورنر اسٹیٹ بینک کو کہا ہے جن بینکوں نے کرنسی سے متعلق غلطی کی ہے ان پر جرمانہ کریں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کوئی دو رائے نہیں کہ ملک میں بہت مہنگائی ہے، قوم کے سامنے شرمندہ ہوں کہ مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکے، ٹماٹر تین سے چار سو روپے کلو ہوگیا ہے، سبزیاں امپورٹ کریں گے، تاکہ قیمتوں میں ٹھہراؤ آئے، مہنگائی نے لوگوں کی کمرتوڑ دی ہے۔

  • نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے،حکومتی اتحادی جماعتوں کا اعلامیہ

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں ملک میں تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد ملک میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لئے ’نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔


    اجلاس میں سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی جبکہ لواحقین سے دلی رنج وغم اورافسوس کا اظہار کیاگیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ 60 سال میں ایسی تباہی نہیں ہوئی جو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملک بھر بالخصوص صوبہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف کے لئے ہنگامی اقدامات ، سیلاب زدہ علاقوں کے مسلسل دوروںاور بلاتعطل معاونت کی فراہمی کی انتھک کوششوں کو سراہا۔ وفاق کی جانب سے فوری طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لئے ’این۔ڈی۔ایم۔اے‘ کو 5 ارب روپے کے اجرائ، صوبہ سندھ کے لئے 15 ارب، صوبہ بلوچستان کو 10 ارب کی خصوصی گرانٹ کے علاوہ ہر جاں بحق فرد کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے دینے ، زخمیوں، مکانات سمیت دیگر نقصانات پر زرتلافی کی ادائیگی پر خراج تحسین پیش کیاگیا۔ اجلاس نے اس امداد کے علاوہ فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ ہر شخص کو 25000 ہزار روپے نقد رقم کی فراہمی کے وزیراعظم کے اقدام کی پرزور تحسین کی گئی۔

    اجلاس نے سیلاب زدہ علاقوں میں مظلوم اہل وطن کی دادرسی اور دیکھ بھال کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، مرکزی اور صوبائی اداروں، آرمی، نیوی، فضائیہ سمیت ہنگامی امداد کی فراہمی میں برسرپیکار تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سیلاب میں گھرے عوام کی دن رات مدد کے قومی جذبے کو سلام پیش کیا۔ اجلاس نے قدرتی آفت سے نبردآزما ہونے میں انٹرنیشنل پارٹنرز، بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، ترقیاتی اداروں بالخصوص دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ سیلاب زدگان کی امداداور بحالی کے عمل میں وہ بھرپور معاونت کریں گے۔

    اجلاس نے سیلاب متاثرین سے مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس پختہ عزم کا اظہار کیاکہ اتحادی جماعتوں کی حکومت اپنے سیلاب متاثرہ بھائیوں، بہنوں اور بچوں کی دوبارہ اُن کے گھروں میں آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھے گی ، انہیں تنہانہیں چھوڑے گی اور ان کی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔ اِن شاءاللہ

    اجلاس نے اس تجویز کی تائید کی کہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی سطح پر تعمیر نو کا جامع پلان مرتب کیاجائے۔ وفاقی حکومت کی راہنمائی میں صوبائی حکومتوں اور اداروں کی مشاورت سے نقصانات کے حتمی تخمینے کا کام شفاف انداز میں مکمل کیاجائے اورساتھ ہی ساتھ متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے وقت کے واضح تعین کے ساتھ موثرمنصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے اس تجویز کی بھی تائید کی کہ موسمی تغیرات سے لاحق خطرات اور موجودہ حالات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے لئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ پیشگی تیاری یقینی بنانے کی حتی المقدور کوشش کی جاسکے۔ دریاﺅں اور آبی گزرگاہوں میں غیرقانونی تعمیرات کو ختم کرنے کے علاوہ انتظامی مشینری کی صلاحیت اور استدادکار بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے۔

    اجلاس نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے وزیراعظم ریلیف فنڈ2022قائم کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اندرون وبیرون ملک سے عطیات جمع کرنے کے لئے بھرپور مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس ضمن میں حکومتی، جماعتی اور انفرادی سطح پر تحریک چلائی جائے گی تاکہ مخیر حضرات، اداروں، انٹرنیشنل پارٹنرز اور دوست ممالک کے تعاون سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔

  • جب دیا مرزا کی ماں نے اسے جوتا نہ لیکر دیا

    جب دیا مرزا کی ماں نے اسے جوتا نہ لیکر دیا

    بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کا ایک جذباتی انٹرویو کلپ بہت زیادہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کا بچپن کیسا گزرا. دیا نے بتایا کہ جب وہ ساڑھے پانچ برس کی تھیں تو ان کے ماں باپ میں‌علیحدگی ہو گئی جب نو سال کی ہوئیں تو ان کے باپ کا انتقال ہو گیا. میرے والدین کی شادی محبت کی تھی اسکے باوجود ان میں علیحدگی ہوئی میں بہت حیران تھی. میں نے ایک بار ماں سے پوچھا کہ آپ دونوں میں علیحدگی کیوں ہوئی تو ماں نے کہا کہ ضروری نہیں‌ کہ دو پیار کرنے والے ایک چھت کے نیچے ایک ساتھ بھی رہ سکیں. مجھے تب ان کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن آج میں اس بات کو سمجھ سکتی ہوں کہ انہوں نے بالکل ٹھیک کہا تھا. دیا نے بتایا کہ میری ماں نے

    ایکبار پھر لو میرج کی اور اس بار جس سے شادی کی وہ مسلمان تھا ، میں دادی کے ساتھ مجلسوں میں جاتی عید مناتی ہمارے گھر میں ہندو مسلم دونوں‌قسم کے تہوار منائے جاتے میری ماں بنگالن تھیں.دیا نے مزید کہا کہ ایک بار اپنی کو بولا مجھے ایک جوتی اچھی لگی ہے لے دو ماں بہت بولی کہ چھوٹی سی ہو اتنی مہنگی جوتی نہیں‌لیکر دے سکتی. ماں کی ڈانٹ کے بعد طے کیا کہ کبھی کسی سے کچھ نہیں‌مانگنا ، اور پھر خدا نے مجھے اس قابل کیا کہ میں نے اپنا گھر اور گاڑی دونوں خریدے. دیا نے کہا کہ میرے دوسرے باپ نے مجھے ہیروئین بننے میں‌مدد کی انوپم کھیر نے پہلی فلم آفر کی وہاں سے بس سلسلہ چل نکلا.