Baaghi TV

Author: +9251

  • راجو شری واستو کی طبعیت میں بہتری آنے لگی

    راجو شری واستو کی طبعیت میں بہتری آنے لگی

    معروف بھارتی کامیڈین راجو شری واستو جن کو ایکسرائز کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑا، انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا اس کے بعد ان کی طبیعت میں کافی خرابی آئی. کیونکہ راجو کے دماغ میں سوجن ہونا شروع ہو گئی تھی ڈاکٹروں نے ان کی طبیعت کی بحالی کی تمام تر کوشیں کیں طبیعت اس حد تک خراب ہوئی کہ ان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا. اب خبریں ہیں کہ راجو کی طبیعت میں بہتری آنے لگی ہے لیکن ان کو وینٹی لینٹر سے نہیں اتارا گیا. راجو کے بھائی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ خبر وہی سچ ہے جو ہم بتارہے ہیں. راجو کے بھائی نے کہا کہ میں کل سے ایک خبر سن رہا ہوں جس کے مطابق راجو کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے ایسا کچھ نہیں ہے . ہم تو دعا گو ہیں کہ ایسا ہو لیکن

    تاحال ایسا نہیں ہوا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ انکی طبیعت میں پہلے سے بہتری آرہی ہے لیکن وہ مسلسل وینٹی لیٹر پر ہی ہیں. راجو مسلسل بے ہوشی کی حالت میں ہیں ڈاکٹرز پوری کوشش کررہے ہیں انکی طبیعت کی بحالی کی. ہمارے لئے یقینا وہ خوشی کا دن ہو گا جب ان کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا جائیگا اور وہ ہم سب سے بات کریں گے لیکن فی الحال اس حوالے سے ایسی کوئی بات نہیں ہے. راجو نے کہا کہ راجو کے پوری دنیا میں مداح موجود ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے بھائی کی صحت یابی کے لئے دعا کی جائے.

  • پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ ہمیں بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ہم حکومتی کمپنیوں کو نہیں چلا پا رہے، منافع بخش حکومتی کمپنیاں بھی خسارے کی طرف جا رہی ہیں، حکومتی کمپنیز منافع بخش رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ نجکاری کی جائے۔

    عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ قطر نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، قطر کی حکومتی کمپنیاں کراچی اور اسلام آباد ایئر پورٹس کا انتظام چلائیں گی.

    اس سے قبل تقریب سے خطاب کے دوران وزیر مملکت نے کہا کہ قائد اعظم نے ہمیشہ قومی اتحاد کی بات کی، قائد اعظم نے قومیت کے بجائے پاکستانیت کی بات کی لیکن پاکستان بننے کے بعد نسلی امتیاز پروان چڑھتا گیا، قائد کا پیغام بھولنے سے قومی ترقی رک گئی، ہم اپنی اپنی مسجدیں بنانے میں مصروف ہو گئے۔

    عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہونے کے باوجود ہم بہت نیچے ہیں، نوجوانوں نے ملازمت کی تلاش چھوڑ دی ہے، پڑھے لکھے نوجوان گھروں میں بیٹھے ہیں، معاشی لحاظ سے یہ صورتحال پریشان کن ہے، نوجوانوں میں مایوسی ہوگی تو وہ کیا کریں گے؟پائیدار ترقی کے لئے ہمیں محروم طبقوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

    ملک کی معاشی صورت حال کے حوالے سے عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، کوئی بھی ملک آئی ایم ایف کے پاس تب جاتا ہے جب اس کے پاس پیسے نہ ہوں، ہمیں حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا، حالات سمجھیں گے تب ہی ان کا مقابلہ کرسکیں گے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ ہمیں بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں، ہماری درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر کم اور تجارتی خسارہ بہت زیادہ ہے، ہمیں اپنے وسائل کے مطابق زندگی گزارنا ہو گی، آپ ایکسپورٹس نہیں کر سکتے تو امپورٹ بھی کم کر دیں۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم ہے اتنی زیادہ درآمدات برداشت نہیں کرسکتے، سب سے زیادہ درآمدات ایندھن کی ہیں، ہم صبح 8 بجے مارکیٹس کیوں نہیں کھول سکتے؟ دن 12 بجےمارکیٹس کھلیں گی تو بجلی زیادہ استعمال ہوگی۔

    عائشہ غوث نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کیلئے شرح منافع پر ٹیکس لگانا ہو گا، گزشتہ حکومت نےاہم ترین اصلاحات کوتاخیرکا نشانہ بنایا، ہم نے وہ اصلاحات کیں تو ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اختلافات سے بالاتر ہوکر ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • یہ کہنا درست نہیں کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر سکا۔ احسن اقبال

    یہ کہنا درست نہیں کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر سکا۔ احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر سکا۔

    ’’نجی سرمایہ کاری اور سی پیک سے فوائد اٹھانا‘‘ کے موضوع پر رپورٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ پاکستانی قوم کرپشن کی وجہ سے ترقی نہیں کرسکی، غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اتنی ہی کرپٹ ہے، جتنی دنیا کی دوسری اقوام۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 75 سال پورے ہونے کے موقع پر ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے اہداف پورے کیے یا نہیں؟۔ کیا وجہ ہے کہ دوسرے ممالک ہم سے آگے نکل گئے؟۔ بحیثیت قوم بیماری کی تشخیص درست کی جائے تو علاج بھی درست ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے یقینی ،محاذ آرائی، پولرائزیشن ہو گئی تو قیامت تک بیرونی سرمایہ نہیں آ سکتی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے مزید کہا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک میں ترقی نہیں ہو سکتی۔ معیشت میں استحکام آتا ہے تو درآمدات بڑھنے سے ادائیگیوں میں استحکام نہیں رہتا۔ سی پیک 2013ء میں کاغذ کا ٹکڑا تھا ۔ چینی حکومت اور سرمایہ کاروں نے پاکستان میں اس وقت سرمایہ کاری کی جب مقامی سرمایہ کار ،سرمایہ کاری پر تیار نہ تھا۔

    انہوں نے کہا کہ 75 سال میں پاکستانی معیشت رولر کوسٹر میں چلتی رہی ہے۔ ہم نے درآمدات پر توجہ دی ،برآمدات پر توجہ نہیں دی۔ یورپ ،امریکا سمیت کسی ملک سے سرمایہ کاری پاکستان میں آنے کو تیار نہ تھی۔پانچ سال میں چین سے 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ چین اپنی مارکیٹوں تک رسائی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنے کو بھی تیار ہے ۔

    توانائی بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تھر کول سے 400 سال کے لیے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تھر کول پاکستان کا سب سے سستا انرجی پیدا کرنے والا منصوبہ ہے ۔ چین نے تھر کول میں آکر سرمایہ کاری کی۔ 2013ء میں انفرا اسٹرکچر اور انرجی کے مسائل کا سامنا تھا ۔ سی پیک صرف بجلی اور انفرا اسٹرکچر کا منصوبہ نہیں، سی پیک اسٹریٹیجک منصوبہ ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان چین میں سالانہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات کرتے ہیں۔ چینی حکومت پاکستانی برآمد کنندگان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ گزشتہ 4 سال ضائع کردیے۔ ہمیں غلطیوں سے سیکھنا ہو تاکہ مزید غلطیاں نہ کریں۔چینی کمپینوں اور سرمایہ کاروں کے ویزا مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مل کر کام کریں گے تو یقیناً سی پیک گیم چینجر ثابت ہو گا۔

  • کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کا پل گرگیا

    کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کا پل گرگیا

    کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کے لئے بنا پل گرنے سے بلوچستان کا ملک بھر سے ریل رابطہ مزید ایک ماہ کے بند ہوگیا۔

    بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے جہاں جانی نقصان ہوا، وہیں سرکاری و غیر سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ مختلف مقامات پر ریلوے ٹریکس پر پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ریلوے آپریشن متاثر ہے، اور اب کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک پر پل بھی گرگیا ہے، جس کے باعث بلوچستان کا ملک بھر سے ریل رابطہ مزید ایک ماہ کے لئے کٹ گیا۔

    ریلوے ترجمان کے مطابق مچھ اسٹیشن کے قریب واقع پل کا ایک حصہ ٹوٹ گیا ہے، اور ڈویژنل سپرنٹینڈنٹ نثار خان کو پل کی جلد از جلد بحالی کا حکم دے دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پل کی بحالی تک پشاوراور کراچی سے کوئٹہ جانیوالی ٹرینیں سبی تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور ہنگامی بنیادوں پر کام این ایل سی کے حوالے کیا جائے گا۔

    دوسری جانب بولان میں بی بی نانی کے مقام پر سیلاب کے باعٹ سوئی گیس کی 12 انچ قطر کی لائن بہہ گئی ہے، کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق گیس بحالی کے لئے ٹیمیں بولان روانہ کردی گئی ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سیلابی صورتحال کو قومی ایمرجنسی قرار دے دیا۔

    اپنے ایک بیان میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں غیر معمولی تباہی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی جذبہ دکھانا ہوگا، متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے پوری قوم خاص طور پر بیرون ملک پاکستانیوں کے عطیات کی ضرورت ہے اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے خطیر رقم درکار ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں کے ساتھ مل کر بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور وسائل کو موبلائز کیا جا رہا ہے، تیز بارشوں اور شدید سیلابی ریلوں کی وجہ سے ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام کی مدد سے متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے عمل کو تیز بنایا جا سکتا ہے، وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کروانے کی تفصیلات پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں جس کے لیے اندرون و بیرون ملک پاکستانی عطیات اکاؤنٹ (Prime Minister Relief Fund Account 2022 Account No. ‘G-12164) میں جمع کروا سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مصیبت میں گھرے اہل وطن ہماری مدد کے منتظر ہیں، آئیں ہم سب سہارا بنیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی وائر ٹرانسفر، منی سروس بیوروز، منی ٹرانسفر آپریٹرز اور ایکسچینج ہاؤسز کے ذریعے بھی عطیات بھجوا سکتے ہیں، عطیات تمام کمرشل بینکوں میں نقد بھی جمع کروائی جا سکتی ہے جبکہ بینکوں کے ڈراپ باکس میں کراس چیک، موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایمز، اے بی ایف ٹی، راست کے ذریعے بھی جمع کروائے جاسکتے ہیں۔

  • رنبیر کپور کو اپنے دئیے بیان پر معافی مانگنی پڑگئی

    رنبیر کپور کو اپنے دئیے بیان پر معافی مانگنی پڑگئی

    بالی وڈ اداکار رنبیر کپور اپنے والد رشی کپور کی طرح بولتےہوئے نہیں سوچتے یہ نہیں خیال کرتے کہ جو وہ آج بول رہے ہیں اس کے کل کیا اثرات ہوں گے. رنبیر کپور اور عالیہ بھٹ نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو دیا اس میں رنیبر سے ایک سوال ہوا تو انہوں نے عالیہ بھٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ” کوئی پھیل گیا ہے” رنبیر کپور کو اپنے اس بیان پر کافی زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا. ان کے اس مذاق کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ رنبیر کپور کی فلموں کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ بھی چلایا گیا. رنبیر کپو ر نے جب دیکھا کہ بات ہاتھ سے نکل گئی ہے تو ان کو گھٹنے ٹیکنا پڑے اور معاف مانگ لی. رنبیر کپور نے کہا کہ میرا حس مزاح بہت اچھا نہیں ہیں مجھے محسوس نہیں‌ہواکہ میں کیا بول

    رہا ہوں. میری بیوی میرے مزاج کو سمجھتی ہیں اور ان کو پتہ ہے کہ میں مزاق کررہا تھا اور میں ان کو مذاق میں چھیڑتا رہتا ہوں لیکن میرے مداحوں کو جو ذہنی اذیت ہوئی ہے میں اس پر ان سے معافی مانگتا ہوں یقینا سب ہم سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے منہ سے نکلے الفاظوں کو غور سے سنتے ہیں اس لئے ہمیں سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے. یوں رنیبر کپور نے معافی مانگ کر اپنے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تنقید کو بریک لگا دی.

  • 15 سال کے بعد فواد خان کسی پاکستانی فلم (دا لیجنڈ آف مولا جٹ) میں‌نظر آرہے ہیں

    15 سال کے بعد فواد خان کسی پاکستانی فلم (دا لیجنڈ آف مولا جٹ) میں‌نظر آرہے ہیں

    لیجنڈ ڈائریکٹر شعیب منصور نے 2007 میں بنائی فلم خدا کے لئے اس فلم میں انہوں نے نوجوان فواد خان کو متعارف کروایا. فواد خان کا یہاں سے باقاعدہ طور پر اداکاری کا کیرئیر شروع ہوا. اس فلم میں گوکہ فواد خان کا کردار نہایت ہی مختصر تھا لیکن انہیں‌نوٹس ضرور کیا گیا. اس کے بعد فواد خان نے متعدد ڈرامے کئے ڈرامہ سیریل ہمسفر نے کامیابی کے نئے ریکارڈز قائم کئے اس ڈرامے کی دھوم ہمسایہ ملک بھارت میں بھی پہنچی وہاں کے بڑے بڑے فلمسازوں نے ماہرہ خان اور فواد خان کے کام کو نوٹس کیا اس کے بعد انہیں وہاں آنے کی دعوت دی اور بڑے بجٹ کی بڑی فلموں‌ میں کاسٹ کیا . اس کے بعدایسا محسوس ہواکہ فواد خان کی ترجیحات میں شاید بالی وڈ‌فلمیں ہی ہیں . فواد خان آخری بار 2007 میں پاکستانی فلم خدا کے لئے میں نظر

    آئے اس کے پندرہ سال کے بعد وہ کسی پاکستانی فلم میں دکھائی دے رہے ہیں. دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں فواد مولا جٹ کے کردار میں نظر آرہے ہیں ان کے مداح ان کو دیکھنےکےلئے کافی بے تاب دکھائی دے رہے ہیں . اہم بات یہ ہے کہ فواد خان ایک دہائی کے بعد ماہرہ خان کے ساتھ کسی پراجیکٹ میں‌نظر آرہے ہیںاس لئے بھی شائقین دا لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھنے کےلئے بے تاب ہیں. یاد رہے کہ دا لینجنڈ آف مولا جٹ میں نہ ڈانس ہے نہ ہی کوئی گانا ہے. بلال لاشاری کی فلموں میں عموما گانے کم ہی ہوتے ہیں.

  • عمران کی اولاد امریکن، برطانوی پارٹنر، بیوی سے جبکہ ہماری نسل کو غلامی کے نام پر وطن مخالف بنایا ہوا

    عمران کی اولاد امریکن، برطانوی پارٹنر، بیوی سے جبکہ ہماری نسل کو غلامی کے نام پر وطن مخالف بنایا ہوا

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اپنی اولاد امریکن، برطانوی پارٹنر، بیوی سے ہے جبکہ ہماری پوری ایک نسل کو غلامی کے نام پر پاکستان مخالف بنایا ہوا ہے۔

    سینئر اینکر احمد قریشی کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان خود وہ واحد سابق  پاکستانی وزیر اعظم ہیں جن کی اولاد امریکی، برطانوی پارٹنر اور بیوی سے ہیں جبکہ ہماری پوری ایک نسل کو خودداری اور غلامی کے نام پر پاکستان کے خلاف کر دیا ہے.

    انہوں نے مزید کہا ہے کہ: ذاتی مسائل ایشو نہیں (سابق وزیر اعظم کا گھرانہ قابل احترام ہے) لیکن منافقت اور شدت پسندی کی نشاندہی اشد ضروری ہے. ان کا کہنا تھا کہ: یہ وہی ہمارا روایتی الجھا ہوا انسان ہے جو بولتا انگریزی میں ہے، تعریف افغان اور ایرانی شدت پسندوں اور القاعدہ کی کرتا ہے۔


    احمد قریشی کے مطابق: مرنے کی خواہش کا ذکر ہمیشہ مدینہ کی سرزمین پر کرتا ہے لیکن وہاں شفٹ نہیں ہوتا جبکہ بیوی اعلی برطانوی خاندان کی ہونی چاہئے جو قابل احترام ہیں، اور مغرب کی مثالیں ان کا حوالہ ہیں۔
    احمد قریشی کہتے ہیں کہ: مکان محل ہونا چاہئے لیکن مثالیں ریاست مدینہ اور پاکستانیوں کو خودداری کا درس دیتا ہے جبکہ پاکستان کو غلام ہونے کے طعنے دیتے ہے۔

    قریشی نے کہا: میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ پاکستانی سوچ کے کناروں پر جو شدت پسندی ہم سالوں سے دور سے دیکھ رہے تھے جسے زیادہ تر پاکستانیوں نے مسترد کیا ہوا تھا، ایک سیاستدان اور جماعت جو زبردستی اقتدار میں لائی گئی تھی نے اب اس شدت پسندی کو نئی نسل کیلئے نئی آڈیالوجی بنا ڈالا اور ہزاروں پاکستانیوں کو گمراہ کر دیا ہے۔

    اس بیان پر تحریک انصاف کے کارکن تنویر نے احمد قریشی پر الزام عائد کیا کہ: سوچ کی پستی کا یہ حال ہے کہ آپ کو برابری پر اچھے تعلقات اور غلامی میں فرق نظر نہیں آ رہا ہے.

    تاہم عمار مسعود کی رائے ہے کہ: عمران خان چونکہ ایک ’’لاڈلے سیاستدان‘‘ ہیں لہٰذا انکو اس سماج میں سات خون معاف ہیں۔ وہ چاہے آئین کو پیروں تلے روند دیں، چاہے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں، چاہے عدالتوں کا مذاق اڑائیں، چاہے الیکشن کمیشن کی توہین کریں، چاہے اسلام آباد کو نذر آتش کر دیں ان کو کوئی نہیں روکتا۔ مسئلہ ان سیاستدانوں کا ہےجو اس دھرتی کے باسی ہیں اور دہائیوں سے معتوب کہلائے گئے ہیں۔

    عمار کہتے ہیں کہ: میری دعا ہے کہ عمران خان کے بچے ان تمام آفتوں سے محفوظ رہیں لیکن خان صاحب کو سیاستدانوں کی اولادوں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ جتنی قربانیاں اس ملک کے لیے اس ملک کے سیاستدانوں کے بچوں نے دی ہیں، اس کی مثال کسی اور خطے میں نہیں ملتی۔ یہ انہی قربانیوں کا اعجاز ہے کہ آج بھی اس ملک میں جمہوریت نامی نظام سانسیں لے رہا ہے۔

  • گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر انتظام چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف بیج کا اجراء

    گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے زیر انتظام چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف بیج کا اجراء

    چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف بیج کا اجراء
    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے 25 اگست 2022 کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تعاون سے چائلڈ ڈومیسٹک لیبر کے خلاف ایک بیج کا آغاز کیا۔
    زیب جعفر پارلیمانی سیکرٹری وزارت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مہمان خصوصی تھیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے کنٹری ہیڈ مسٹر مارکس رک مہمان خصوصی تھے۔مسز ماریہ موعود صابری، نیشنل کمشنر پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے مہمانوں کا استقبال کیا اور انہیں بیج کے مقاصد سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ بیج بچوں کے حقوق، مزدوری کےبارے میں عمومی تصورات، ، بچوں کے لیے خطرات کا باعث بننے والے کام، اور چائلڈ لیبر کی اقسام کے بارے میں آگاہی پیدا کرے گا۔ بیج کی سرگرمیوں کے دوران، گائیڈز تعلیمی اداروں اور کمیونٹیز میں آگاہی مہم چلائیں گی اور آجروں کو مزدور بچوں کیساتھ زیادہ بہتر سلوک کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گی۔

    گائیڈز چائلڈ لیبر میں ملوث لڑکیوں کو ذاتی تحفظ اور کام کی جگہ پر حفاظت کو یقینی بنانے کا طریقے سکھا کر ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی۔ وہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین، سماجی تحفظ، اور فلاحی پروگراموں کے بارے میں بھی معلومات پھیلائیں گی۔بیج کا ابتدائی ہدف ان سرگرمیوں میں 5000 گائیڈز کو شامل کرنا ہے اور اس منصوبے سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 16,400 ہوگی۔

    تقریب کے دوران صدر پاکستان کی اہلیہ پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی چیف گائیڈ بیگم ثمینہ عارف علوی کا ویڈیو پیغام چلایا گیا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ گرل گائیڈز بیج کے پیغام کو اپنے ساتھیوں اور کمیونٹی میں بھی پھیلائیں گی۔
    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے کنٹری ہیڈ مسٹر مارکس رک نے دنیا اور بالخصوص پاکستان میں چائلڈ لیبر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گرل گائیڈز کی جانب سے بیج کا اجراء چائلڈ لیبر کے خاتمے کی جانب ایک قدم ثابت ہو گا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زیب جعفر پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت نے پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی جانب سے شروع کیے گئے بیج نصاب کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کوششیں، خواہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں، معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو سطح پر چائلڈ لیبر نہ صرف پاکستان میں ایک مسئلہ ہے بلکہ یہ تیسری دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں انتہائی قابل ستائش ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن اور آئی ایل او کی یہ کوشش ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائے گی اور وہ ہمارے معاشرے کا بہت مفید حصہ بن جائیں گے۔

    اس سے قبل پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے ملک بھر سے آئے 39 ٹرینرز کے لیے 2 روزہ تربیت کا انعقاد کیا گیا ۔ انھوں نے بیج کی سرگرمیوں کا عملی طور پر تجربہ کیا اور پاکستان میں گھریلو مزدوری کرنے والے بچوں کی صورتحال کے بارے میں جانا۔

  • شاعر احمد فراز کی آج 14ویں برسی منائی جارہی ہے

    شاعر احمد فراز کی آج 14ویں برسی منائی جارہی ہے

    اردو کے شہرہ آفاق اور نامور ترقی پسند شاعر احمد فراز کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 14 برس بیت گئے۔

    اردوکے شہرہ آفاق اور نامور شاعر احمد فراز نے 12 جنوری 1931 کو فارسی کے ممتاز شاعر سید محمد شاہ کے گھر آنکھ کھولی، شاعری انہیں ورثے میں ملی اور ان کے والد سید محمد شاہ کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا تھا ۔ انہوں نے تعلیم اسلامیہ ہائی سکول کوہاٹ، ایڈورڈز کالج اور پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی.

    انہوں نے تین زبانوں اردو، فارسی اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ دوران تعلیم ترقی پسند افکار اور تحریک سے متاثر ہوئے اور پھر ترقی پسندی کا دامن کبھی نہ چھوڑا ۔ شاعری سے لگاؤ تھا اور 1960ء کی دہائی میں وہ زیرتعلیم ہی تھے جب ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’تنہا تنہا‘‘ شائع ہوا ۔ اس کے بعد شہرت کی سیڑھی پر رکھا گیا قدم بڑھتا ہی گیا۔ شاعری میں رومانوی کے ساتھ ساتھ انقلابی رنگ کی وجہ سے وہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں میں بھی بہت مقبول ہو گئے۔

    احمد فراز نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے بطور سکرپٹ رائٹر کیا اور اس کے بعد پشاور یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔ اس کے علاوہ آپ پاکستان نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ تاہم شاعری آپ کی اصل پہچان بنی۔

    شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

    احمد فراز کی مزاحمتی اور انقلابی شاعری تاثر، نغمگی اورہنر میں رومانوی کے ہم پلہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے والی سرکار کو ان کی شاعری ناگوار گزری تو انہیں گرفتار کر لیا ۔ حساس طبیعت شاعر نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی ۔ احمد فراز جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں کچھ عرصہ مختلف مغربی ممالک میں قیام پذیر رہے ۔

    اس دوران انہوں نے اپنی مشہور نظم ’’محاصرہ‘‘ لکھی۔ ملک میں سول حکومت قائم ہونے کے بعدآپ ایک اہم عہدے پر متمکن ہوئے۔ بہت سے نامور گلوکاروں نے ان کی شاعری کو چار چاند لگائے۔ مہدی حسن ، میڈم نور جہاں، لتا منگیشکر اور آنجہانی جگجیت سنگھ نے اپنی آواز سے سینچا اور خوب پذیرائی حاصل کی۔

    احمد فراز کی شاعری نے فلموں میں بھی جگہ پائی جبکہ انہیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا جن میں چھ غیرملکی ایوارڈز ہیں۔ انہیں ملنے والے اعزازات میں آدم جی ایوارڈ، اباسین ایوارڈ، فراق گورکھپوری ایوارڈ (انڈیا)، اکیڈمی آف اردو لٹریچر ایوارڈ (کینیڈا)، ٹاٹا ایوارڈ جمشید نگر (انڈیا)، اکادمی ادبیات پاکستان کا کمال فن ایوارڈ، شامل ہیں۔ 2004میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جسے انہوں نے مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف کی بنیاد پر 2006 میں واپس کر دیا۔

    احمد فراز نے اپنی زندگی میں کل تیرہ مجموعے لکھے ، جن میں میرے خواب ریزہ ریزہ، تنہا تنہا، شب خون، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ ،اے عشق جنوں پیشہ، درد آشوب، جاناں جاناں، پس انداز موسم، غزل بہانہ کروں ، بودلک، سب آوازیں میری ہیں اور نایافت شامل ہیں ۔

    ان کی شاعری کے تراجم مختلف غیر ملکی زبانوں میں ہوئے۔ اردو غزل کایہ سنہری باب 25اگست 2008 کو ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا آپ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

  • راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی ہے۔

    ممکنہ بارشوں کے پیش نظر کمشنر راولپنڈی نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناخوشگوار صورتحال میں چھوٹی بڑی مشینری کی دستیابی فوری یقینی بنائی جائے۔
    ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واسا سمیت ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں کو شہر کے نشیبی علاقوں میں متحرک رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، عملہ کو گلیوں اور سڑکوں سے پانی کی نکاسی کو جلد از جلد نکالنے کے احکامات جاری کیےگئے ہیں۔

    جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں جبکہ بچوں کو ندی نالوں خصوصاً نالہ لئی کے قریب ہرگز مت جانے دیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں بارش برسانے والا ایک اور سسٹم داخل ہوگیا جس کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سٹرکیں اور پل ٹوٹنے کے سبب صوبے کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
    ضلع چمن میں مسلسل بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی سے سڑکیں بند ہیں جبکہ شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوژئی کے دیہات کا چمن سے رابطہ منقطع ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے، جس سے نواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں بارش و سیلاب سے مزید 4 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ مختلف مقامات پر کچے مکانات گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل کاہان کا زمینی راستہ گزشتہ 18 دنوں سے منقطع ہے جس کے باعث مکین محصور ہو کر رہ گئے۔ ادھر قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں بارشوں کے باعث سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان ویسٹ زون موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے 130 پر کال کرکے سڑک کی صورتحال معلوم کریں۔ واضح رہے کہ شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔